مرزا اطہر بیگ : ایک گفتگو (۲) —– نجیبہ عارف

0
  • 1
    Share

اس انٹرویو کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔


نجیبہ عارف: مرزا صاحب! آپ بچپن میں خود کو کیسا سمجھتے تھے؟ یعنی نوجوانی کی عمر تک؟ انسان کے بارے میں ایک تو دوسروں کی رائے یا نقطۂ نظر ہوتا ہے اور ایک، خود اس کی اپنے بارے میں perception ہوتی ہے۔ اپنے بارے میں آپ کی اپنی رائے کیا تھی؟
مرزا اطہر بیگ: میری perception میرا خیال ہے کہ ایک کافی low self esteem والی پوزیشن تھی۔ ذاتی طور پر ایک self rejection کی کیفیت تھی۔ ایک عدم قبولیت (non-acceptance) کہ لیں اس کو۔ یہ ساری منفی سوچیں بالکل رہی ہیں میرے ساتھ۔

نجیبہ عارف: اس کی کوئی خاص وجہ؟
مرزا اطہر بیگ: کوئی خاص نہیں۔

نجیبہ عارف: کبھی سوچا بھی نہیں؟
مرزا اطہر بیگ: اس کی وجہ بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ معاملات کسی اور سطح پر چلے جاتے ہیں۔

نجیبہ عارف: کس سطح پر؟
مرزا اطہر بیگ: مطلب یہ کہ وہ پھر بہت گہری سطح ہے۔ اتنا probe کرنا۔ ۔ ۔ شاید بہت ذاتی ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ ایک واضح عدم اطمینان، دنیا کے بارے میں اور دنیا کے تمام علائق کے بارے میں میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔ پھر میں نے اسے قبول کر لیا کیوں کہ ہر ایک کے ساتھ اپنے پرابلم ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ بندہ اپنے آپ کو بالکل correct کر لے۔ یہ جو پاپولر سائکالوجی کی ہدایات آتی رہتی ہیں نا کہ Positive Thinking ہونی چاہیے اور بندہ یوں کر لے اور ووں کر لے، یہ سب بنڈل بازی ہے۔ یہ حقیقت میں بالکل کام نہیں کرتیں۔ وہ جو انسان کی internal psycho-dynamics بن چکی ہوتی ہے، وہ کچھ زیادہ بدلتی نہیں ہے۔ ویسی ہی رہتی ہے۔ اتنا ہو سکتا ہے کہ آپ اس کو سمجھ لیں یا جان جائیں اور پھر اس کے ساتھ زندہ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن یہ بڑی اہم بات ہے کیوں کہ یہ جو احساس ہے یا کیفیت ہے۔ یہ آپ کی تخلیقیت پر بہت مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ان معنوں میں مثبت کہ یہ creativity کے پروسیس کو تیز کر دیتی ہے۔ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ اور پھر شدت (Intensity) بڑھ جاتی ہے انسان کی۔ مثلاً کچھ چیزوں کو جتنی زیادہ شدت سے آپ نے دیکھا ہے۔ ۔ ۔ چیزوں کو، یعنی میز، کرسی جیسی چیزوں کو بھی، ایسے شاید ایک مطمئن ذہن نہ دیکھ سکتا ہو۔ جو پوری طرح خود اطمینانی میں مبتلا ہو؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں! یہ بالکل صحیح ہے۔ وہ جو سارا lack ہے، dis-satisfaction ہے، fall کی کیفیت ہے، اس سے بچنا اسی طرح ممکن ہے کہ جب آپ کچھ لکھتے ہیں یا وہ جو چاہ رہے ہوتے ہیں وہ بنا لیتے ہیں تو پھر اس سے نکل آتے ہیں۔ میرا تو خیال یہی ہے کہ یہ ایک ebb and tide والا معاملہ ہے جو ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے۔ جب آپ کوئی چیز تخلیق کرتے ہیں تو بہت اونچے، چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد اس کا اثر ظاہر ہے کچھ وقت تک ہی رہتا ہے، پھر آپ دوبارہ نشیب میں اتر آتے ہیں۔ تو میرا مطلب ہے کہ یہ آپ کو براہ راست متاثر کرتا ہے لیکن یہ بھی کوئی عمومی فارمولا نہیں ہے۔ میں نے بعض ادیب دیکھے ہیں جو ہر معاملے میں بڑے خوش رہتے ہیں۔

نجیبہ عارف: اچھا، کوئی ایسا واقعہ یا کوئی ایسا حادثہ یا کوئی ایسی چیز آپ کو یاد ہے اپنی ابتدائی عمر کی، جس نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا ہو؟ خاص طور پر اوائل عمری میں؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں! مختلف عوامل رہے ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک انتہائی shocking قسم کے واقعے کی نشان دہی کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ ہیں بھی کچھ ایسے واقعات، جو جذباتی نوعیت کی صورت حال پیدا کرتے ہیں مثلاً انسانی رشتوں میں جو معاملات پیش آتے ہیں جیسے محبت کو لے لیجیے۔ لیکن صرف انہی کا کردار فیصلہ کن نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانی رشتوں میں، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں مرد اور عورت کا رشتہ بنیادی طور پر ایک مصنوعی رشتہ ہے اور شادی اس رشتے کو اور بھی consolidate کر دیتی ہے۔ یہ میرا نقطۂ نظر ہے اور مجھے یہ لگا کہ اہم بات یہ ہے کہ دو انسان اگر برابری اور آزادی کی سطح پر ایک دوسرے سے interact کرتے ہیں اس کے بعد اگر ان کے درمیان کوئی جذباتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے، تو اس میں غلط کیا ہے، لیکن یہ سوسائٹی تو اس طرح کی صورتِ حال کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتی اور نہ اس کی اجازت دیتی ہے۔ تو یہ بھی میرے لیے ایک سوال تھا بلکہ ’’غلام باغ‘‘ میں شاید اس کا کوئی ذکر بھی آجاتا ہے کبیر کے حوالے سے۔ کہ بھئی کیسے ہم یہ محبت کی شاعری، محبت کا ادب اور محبت پر مبنی فلمیں بنا رہے ہیں، یہاں تو اگر وہ دیکھ ہی لیں کسی لڑکی کو کسی لڑکے سے ملتے ہوئے تو کاٹ کر پھینک دیں گے اسے۔ تو یہ ہے اصل حقیقت۔ اگرچہ اس میں فرق آ گیا ہے، اب وہ زمانہ بھی نہیں رہا لیکن پھر بھی ابھی تک غیرت کے نام پر قتل ہو رہے ہیں۔ تو یہ جو ایک قسم کا distorted relation ہے اس کو بھی تو نظر آنا چاہیے ادب میں، لیکن ہمارے ہاں اسے بالکل مصنوعی بنا کر پیش کیا جاتا ہے فکشن میں۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔

نجیبہ عارف: مرزا صاحب، یہ بات تو میں آپ سے پوچھنا ہی چاہتی تھی کہ آپ کے ناولوں کے نسائی کردار بہت مختلف اور مضبوط شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ذہنی طور پر مرد ہی کی طرح توانا اور ٹھوس ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان سے زیادہ۔ آپ نے انھیں مرد کے مساوی تخلیق کیا ہے بلکہ وہ over powering ہیں۔ ان کے درمیان مرد عورت کا وہ روایتی رشتہ نہیں جس کی بنیاد جنس پر ہوتی ہے بلکہ ایک ذہنی رشتہ زیادہ نمایاں ہے جو بعض صورتوں میں جذباتی تعلق میں بھی بدل جاتا ہے لیکن ایک مختلف طرح سے۔ تو کیا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ شاید خواتین کے متعلق آپ کے تجربات دوسرے فکشن نگاروں سے مختلف رہے ہوں گے یا پھر آپ کو کسی ایسے نسائی کردار کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہو گی جس سے آپ برابری کی سطح پر رفاقت قائم کر سکیں، یا پھر کوئی ایسا کردار آپ کو زندگی میں نظر آیا ہو گا جس کی جھلک شعوری یا غیر شعوری طور پر آپ کے فکشن میں نظر آتی ہے۔ ورنہ ہمارے ادب اور معاشرے میں تو ابھی تک یہی معاملہ ہے کہ ’’ذہین ہو وہ ہمارے جیسا، حسین ہو وہ تمھارے جیسا‘‘۔ یعنی ذہانت کو مرد کی اور جسمانی حسن کو عورت کی خصوصیت یا ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے اس سے مختلف راستہ چُنا ہے۔ تو یہ wishful thinking ہے یا یہ آپ کا experience ہے؟
مرزا اطہر بیگ: wishful thinking کہہ لیں یا۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں، مسئلہ یہ ہے کہ جو کردار ہم تخلیق کرتے ہیں فکشن میں، وہ بالکل فرضی ہوتے ہیں۔ کم از کم میں نے تو کبھی ایسا نہیں کیا کہ زندگی سے یا اپنے تجربے سے کچھ کردار اٹھائے ہوں یا مجھے زندگی میں کچھ ایسے لوگ ملے ہوں جن کو میں نے ناول میں کردار کی صورت میں پیش کیا ہو۔ وہ پوری طرح میرے تخیل کی پیداوار ہوتے ہیں۔ شاید کوئی ایک آدھ ایسا کردار ہو گا جسے میں نے زندگی میں دیکھا ہو، جیسے ’’غلام باغ‘‘ میں جو بونا ہے اور وہ تھیٹر۔ یہ میرے تجربے میں رہا تھا۔ اس کی ایک اپنی کہانی ہے۔ تو یہ سارے کردار صرف اور صرف میرے تخیل میں پیدا ہوتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ ویسے ہیں جیسے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کرداروں کو ایسا ہونا چاہیے۔ یہی حال خواتین کرداروں کا ہے کہ وہ جو مضبوط نسائی کردار ہے، وہ ایسی ہی ہے جیسا میں اس کو دیکھنا چاہوں گا۔ اور وہ کوئی اتنی غیر حقیقی بھی نہیں ہے۔ ایسے ماڈل موجود ہیں جن سے میں ملا ہوں اور میں نے دیکھے بھی ہیں۔ شاید وہ ایک Idealized شکل میں ہو۔ ہوتا ہے نا وہ کہ male persona اور female persona دونوں ہوتے ہیں انسانی سائیکی میں۔ تو شاید وہ فی میل پرسونا ہے میری سائیکی کا۔

نجیبہ عارف: بہت دلچسپ بات ہے مرزا صاحب، یہ سوال میں نے لکھا ہوا تھا کہ آپ اپنے آپ میں صرف مرد کو دیکھتے ہیں یا عورت کو بھی ساتھ دیکھتے ہیں؟ یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی مرد اس بات کا اعتراف بھی کرے کہ اس کے اندر بھی کچھ نسائی خصوصیات موجود ہیں۔ حالاںکہ یہ فطری طور پر موجود ہوتی ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں! اگر ہم ژونگ کے اس نظریے کو نہ بھی لیں تو پھر بھی یہ ہے کہ میل اور فی میل anima اور animus جسے کہتے ہیں وہ ہر انسان میں موجود ہیں۔ اس میں تو شک و شبہے کی کوئی بات ہی نہیں اور پھر تخلیقی عمل میں تو یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ وہ جو female principle ہے وہ بعض اوقات آپ پر غالب آ جاتا ہے۔ تو ایسی الٹ پھیر اور جدوجہد جاری رہتی ہے۔ یہ جو مردانہ نرگسیت وغیرہ کے تصورات ہیں، میں کبھی ان سے مغلوب نہیں ہوا۔ آج تک کبھی نہیں۔ یہ میرے اندر ہے ہی نہیں۔ اسی لیے میرا خیال ہے وہ ایک قسم کے مثالی انسانی کردار میرے ہاں آ جاتے ہیں۔ خاص طور پر دو بڑے مرکزی کردار۔ ہیرو اور ہیروئن۔ مثلاً میرے افسانوں میں ایک کہانی ہے۔ ۔ ۔ ’’ ایک ناممکن کہانی‘‘۔ ۔ ۔ شاید زیادہ نوٹس نہیں کی لوگوں نے۔ ۔ ۔ تو اس میں جو عورت ہے وہ بالکل down to earth ہے۔ مطلب وہ miseryا ور وہ سب کچھ۔ اسی طرح ذیلی کردار بھی ہیں مختلف، اس میں وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ شاید آئندہ مجھے اور طرح بھی اپروچ کر کے دیکھنا چاہیے کیونکہ کیریکٹر جو ہے وہ بھی ظاہر ہے کہ فکشن کا بنیادی جزو ہے جس سے فکشن کی تعمیر ہوتی ہے۔ تو اس کو بدلا بھی جا سکتا ہے جس میں میرا خیال ہے کہ آپ ذاتی پسند نا پسند بدل بھی جاتی ہے۔ یعنی جب آپ نے کوئی عمارت بنانی ہو تو اس کے مطابق ہی سامان اکٹھا کرنے پڑے گا۔ اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

نجیبہ عارف: اچھا یہ بتائیے کہ آپ بحیثیت فرد خود کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کم گو بند بند شخصیت کے مالک ہیں یا کھلی ڈھلی دوستانہ شخصیت کے؟ آپ کے اپنے خیال میں آپ کی شخصیت کیسی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: میرا خیال ہے I am problematic۔

نجیبہ عارف: اپنے لیے یا دوسروں کے لیے؟
مرزا اطہر بیگ: دونوں کے لیے۔ Problematic and unpredictable یہ دونوں چیزیں ہیں۔

نجیبہ عارف: تو پھر آپ خود اپنے آپ کو کیسے tackle کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: یہ صورت حال پر منحصر ہے۔ اصل میں یہ ساری صورت حال جو ہے اس کو سمجھنے کے لیے، میرا ایک دوسرا پرابلم جو ہے اس کو ساتھ رکھا جائے تو پھر سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یعنی فلسفے سے میرا تعلق۔ میرے جو پاؤں ہیں وہ اسی پر ہیں، فلسفے میں۔ باقی جو فکشن ہے وہ بنیادی طور پر اسی ایک impulse کو ایک اور میدان میں دریافت کرنے کی ایک کوشش ہے جو اصل میں وہیں سے آتی ہے؛ فلسفے سے، لیکن بہرحال کہیں بھی میں نے اسے dominate نہیں ہونے دیا فکشن پر۔ لیکن یہ جو personality disorder ہے یا جو بھی ہے، اس کو وہ دوسرا جو اینگل ہے نا فلاسفی والا، وہ اس کو manage کر لیتا ہے۔ یہ سارے مختلف مسائل ہیں۔

نجیبہ عارف: یعنی آپ کا فلسفیانہ سیلف آپ کے جذباتی سیلف کو کنٹرول کر لیتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں جذباتی کہہ لیں یا ویسے ہی ایک انتشار سا، ایک بکھراؤ سا جو ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کی شادی کب ہوئی؟
مرزا اطہر بیگ: شادی۱۹۸۱ء میں ہوئی۔

نجیبہ عارف: آپ کی پسند سے ہوئی یا؟؟؟
مرزا اطہر بیگ: اتنی لمبی چوڑی پسند تو نہیں تھی۔ والدہ کی ایک کولیگ تھیں جو آتی تھیں ہمارے گھر اکثر۔ تو وہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ ٹیلی ویژن ان دنوں تفریح کا بہت بڑا اور واحد ذریعہ ہوتا تھا۔ یہ بھی آتی تھیں۔ وہاں ملاقات ہوئی تو پھر I liked her لیکن یہ کوئی ایسا لمبا چوڑا، بھرپور معاشقہ نہیں تھا۔ خیر تو پھر۔ ۔ ۔ اس سے پہلے تو میں عرصے تک انکار ہی کرتا رہا تھا شادی سے۔ وہ بھی گھر والوں کے لیے بڑا ایک مسئلہ تھا، ہوتا ہے نا ہمارے یہاں۔ ۔ ۔ تو وہ پھر آئیں ہمارے ہاں تو ہو گیا معاملہ۔ لاہور کی تھیں and it worked… میرے خیال میں۔ ۔ ۔ اچھا رہا۔ کیونکہ اس کے بھی جو خیالات تھے، رویہ تھا، مجموعی طور پر وہ سارا بھی بہت un orthodox ہی رہا ہے۔ تو مجھ جیسے انسان کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ پھر جب میں پنڈ دادن خان سے لاہور آ گیا تو پھر ہم شہر منتقل ہو گئے۔ اس کا سکول کا جاب تھا تو یہاں پر ہی ہو گیا اس کا تبادلہ۔ اس نے جاب جاری رکھا۔ پھر اسی زمانے میں، میں نے ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنے شروع کیے۔ یہ غالباً ۱۹۸۰ء کے زمانے کی بات ہے تو اس طرح ہے، یوں ہی چلتا رہا۔

نجیبہ عارف: بچے کتنے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: بچے دو ہیں۔ دو بیٹے ہیں۔ ایک تو US میں ہے۔ سان فرانسسکو میں سافٹ وئیر انجینئر ہے۔ اس نے Stony Brook University نیو یارک سے ہی کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس کیا تھا۔ بڑا بھی گیا تھا full bright سکالرشپ پر سٹینفرڈ میں۔ اس نے بھی کمپیوٹر سائنس میں MS کیا تھا۔ وہ آج کل میرے ساتھ ہی ہے۔ فاسٹ یونی ورسٹی میں پڑھا رہا ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کی بیگم کیا کر تی ہیں آج کل؟
مرزا اطہر بیگ: ان کا انتقال ہو گیا تھا تین سال پہلے۔ ۲۰۱۲ء میں۔ ان کو کینسر ہو گیا تھا۔ جگر کا کینسر۔

نجیبہ عارف: اوہو۔ افسوس ہوا۔ ۔ ۔ تو کیا آپ نے خوش گوار ازدواجی زندگی گزاری؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں مجموعی طور پر کہہ سکتے ہیں۔

نجیبہ عارف: کامیاب تو ٹھیک لیکن کیا Happy بھی تھی؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں مطلب! It was not an unhappy at least باقی نشیب و فراز تو آتے رہتے ہیں۔ لیکن بائی دی وے، پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں شادی کا ادارہ کوئی مثالی نوعیت کا نہیں ہے۔

نجیبہ عارف: تو کیا پھر کبھی محبت کا تجربہ بھی ہوا؟ Did you ever find the love of your life…..؟؟
مرزا اطہر بیگ: آپ کا مطلب ہے Extra marital؟؟

نجیبہ عارف: اصل میں، مَیں نے Extra marital کا لفظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا۔ اس کا ایک خاص context ہے۔ میں اس خاص قسم کی تعلق کی بات نہیں کر رہی۔ میں محبت کی بات کر رہی ہوں۔
مرزا اطہر بیگ: (بہت جھجکتے اور سوچتے ہوئے) ہاں۔ ۔ ۔ I think so کچھ ایسا تھا تو سہی لیکن بڑا complex اور بہت strange۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس کو کریدنا مناسب نہیں ہو گا۔ یہ بہت ذاتی بات ہو جائے گی۔ شاید کبھی میں اس کے بارے میں لکھوں لیکن یہ ہے کہ اس کو لکھنا بھی پتا نہیں مناسب ہو گا یا نہیں۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اصل میں دو تین چیزیں ہیں جو اگر میں چاہوں اور لکھوں تو بہت دلچسپ چیزیں بن جائیں گی لیکن وہ اتنی obvious ہو جائیں گی کہ جو لوگ ان سے متعلق ہیں وہ فوراً پہچانے جائیں گے۔ اس لیے میں گریز کرتا ہوں۔ یہ ایک تضاد بعض اوقات آ جاتا ہے لکھنے والوں میں۔ اس پر کسی نے لکھا بھی تھا۔ ۔ ۔ حنیف نے شاید۔ ۔ کہ آپ کی اپنی زندگی میں، یعنی لکھنے والے کی زندگی میں اگر کوئی ایسا رشتہ بنتا ہے جس پر لکھا جا سکتا ہے تو آپ اس کو لکھنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ وہ لوگ فوراً پہچانے جاتے ہیں۔ جیسے بعض چیزوں پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کے تمام واقعات اور کردار فرضی ہیں۔ لیکن وہ فرضی نہیں ہوں گے تو مسئلہ پیدا کریں گے۔

نجیبہ عارف: جی ہاں، ہر کوئی ممتاز مفتی تو نہیں بن سکتا جنھوں نے’’ علی پور کا ایلی‘‘ کے آخر میں ایک فہرست بنا دی تھی کرداروں کے اصلی ناموں کی!!
مرزا اطہر بیگ: ہاں، انھوں نے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑا حوصلہ ہے جی!

نجیبہ عارف: میں ذاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتی اس لیے تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی لیکن اثرات کے بارے میں ضرور جاننا چاہتی ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت بڑا تجربہ ہوتا ہے محبت کا۔ خاص طور پر ایسے مرحلے پر جب آپ اس کو سماجی اعتبار سے ظاہر یا حاصلؒ نہ کر سکتے ہوں تو یہ لکھنے والے کی شخصیت پر بھی اور اس کی تحریروں پر بھی اثر انداز تو ہوتا ہے؛ کامیاب ہو یا ناکام دونوں صورتوں میں!
مرزا اطہر بیگ: دیکھیے اس میں یہ ہے کہ جب میں اس تجربے سے گزرا تو اس وقت میں پہلے ہی لکھ رہا تھا اور ایک ادیب کے طور پر جانا جاتا تھا لہٰذا میرے لکھنے کے عمل کی تعمیر پر تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ لیکن ایک تجربے کے طور پر اور ایک انسانی امکان کے طور پر وہ یقیناً آپ کی ذات کو ثروت مند کرتا ہے۔ اس کو پھر آپ کہاں لے جاتے ہیں اور اس کا کیا بنتا ہے، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ لیکن ایک بات ہے۔ محبت دو افراد کے درمیان نہیں اصل میں چار افراد کے درمیان ہوتی ہے۔

نجیبہ عارف: اچھا؟ وہ کیسے؟
مرزا اطہر بیگ: وہ اس طرح کہ ہر شخص جو ہے یا دوسرا جو ہے وہ آپ کو ایک fantasized روپ میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ and he or she expects you to be something like this. آپ اس کو ایک فینٹسی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ تو دو real self ہوتے ہیں اور دو fantastic self ہوتے ہیں۔ جو ہم اصل میں چاہ رہے ہوتے ہیں یا یہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں ایسے لیا جائے۔ تو یہ جو دوسری دو entities ہیں نا یہ ہمیشہ مداخلت کر رہی ہوتی ہیں بلکہ ایک فیصلہ کن کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ دو لوگوں کے درمیان کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ چار لوگوں کے درمیان کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ ایک عجیب صورت حال ہوتی ہے اسے اتنا سادہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مجھے تو یہی feel ہوتا ہے۔ میں اس کو یقیناً کوئی عمومی فارمولا تو نہیں کہوں گا لیکن میں نے دیکھا یہی ہے کہ یہ جو real self والا معاملہ ہے؛ یہ اصل میں ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمیشہ یہ دو ہوتے ہیں۔ more than real اور less than real۔ اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔ کہ اگر love affair نہ بھی ہو تو پھر بھی ہر انسان کے ساتھ تین انسان ہیں۔ ایک وہ جو میں بننا چاہتا ہوں۔ The way I would like to be and the way I would like to be perceived اور دوسرا وہ ہے جو میں نہیں بننا چاہتا یا نہیں چاہتا کہ مجھے ویسا سمجھا جائے۔ اور تیسرا وہ ہے جو میں اصل میں ہوں۔ یہ تینوں جو ہیں، یہ multiple self بنتے ہیں۔ تو جب love affair آئے گا تو اس میں بھی ایک بندے کی یہ جو division ہے، یہ ختم نہیں ہو جاتی۔ یہ قائم رہتی ہے۔ آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ مجھے ایسا سمجھا جائے اور وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اُس کو ایسا سمجھا جائے تو It is very complex situation۔ خیر اب جو میں ناول لکھ رہا ہوں اس میں شاید اس کا کچھ ذکر ہو کسی سطح پر۔

نجیبہ عارف: اچھا تو اب آپ کی تحریروں کے بارے میں میں کچھ سوال کرنا چاہتی ہوں۔ یہ بتائیے کہ کہانی کہاں سے آتی ہے آپ کے اندر؟
مرزا اطہر بیگ: ہاںںںںں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ yes۔ ۔ ۔ اس کی Multiple وجوہ ہوتی ہیں۔ مختلف کہانیاں جو ہیں ان کے پیچھے مختلف پروسیس ہوتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ جو مختلف بات رہی ہے؛ تو بنیادی طور پر ایک sudden emergence ہوتی ہے۔ کوئی آئیڈیا ہے، کوئی جگہ ہے، کوئی شخص ہے، حتیٰ کہ کوئی خیال ہے، مختلف شکلوں میں۔ ۔ ۔ تو اس میں ایک undeniable possibility محسوس ہوتی ہے کہ یار یہ جو ہے نا this is it۔ یعنی it clicks۔ یہ کسی شعوری عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا کہ یار یہ کہانی لکھنی ہے تو کیسے لکھنی ہے۔ میں اس طرح کہانی لکھ ہی نہیں سکتا۔ میں نے ڈرامے ایسے لکھے ہیں جیسے مثلاً ۱۴ اگست پہ ڈراما لکھ دو جی، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کی theme چاہیے۔ تو پھر بندہ اس کو کرافٹ کر لیتا ہے۔ لیکن جو میری باقی چیزیں ہیں ساری؛ اس میں یہ ہے کہ it suddenly comes اور پھر وہ وہیں رہتی ہے۔ پھر وہ آپ کو وقتاً فوقتاً اپنا آپ محسوس کراتی ہے اور اگر اس کے اندر واقعی جان ہو تو وہ پھر grow کرتی ہے۔ وہ جو سنو بال ایفیکٹ ہوتا ہے نا۔ ۔ ۔ اور پھر آپ کو یقین کی کیفیت ملتی ہے کہ اچھا اب یہ کام چل پڑا ہے۔ لیکن اس کے بعد کا جو سارا کام ہے وہ اصل میں ریاضت ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جو ابتدا کا ایک جھماکا سایا ایک beginning creative یا اچانک خیال سا ہوتا ہے، وہ ایک حد تک ہی ڈیویلپ ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر آپ اس پر کام کرتے ہیں۔ اس کے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں کہ اچھا جی، اب یہاں سے یہاں کیسے جانا ہے۔ اگر یہ کردار اس بندے کے ساتھ ایسا رویہ رکھے گا تو اس کے نتیجے میں کیا ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو زیادہ تر کام، خاص طور پر اگر یہ ناول ہو تو، it is a process of solving situations… human situations۔ اس میں، میں تو ہمیشہ، اپنا جو impulse یا instinct ہے اس کو follow کرتا ہوں۔ مثلاً کوئی چیز چل پڑتی ہے تو پھر میں اسے وقت دیتا ہوں۔ ۔ ۔ brain stroming کرتا ہوں۔ یہ ایک شعوری عمل ہے۔

نجیبہ عارف: یہ سارا کام ذہنی ہوتا ہے یا کاغذ پر؟؟
مرزا اطہر بیگ: ذہنی ہے مگر کبھی کبھی کاغذ پر بھی کر لیتا ہوں۔ جب بھی میں لکھ رہا ہوتا ہوں نا۔ ۔ ۔ اب تو خیر میں ڈائریکٹ کمپیوٹر پر ہی لکھ لیتا ہوں؛ یہ اچھا ہو گیا ہے، صاف ہو گیا ہے، اس میں آسانی ہے۔ ۔ ۔ لیکن ساتھ ایک فولڈر میں نے اپنے پاس رکھا ہوتا ہے، جس میں، میں مسلسل چیزیں نوٹ کرتا رہتا ہوں جس میں odds and bits جو سارے آ رہے ہیں، وہ لکھتا رہتا ہوں۔ یعنی یہ یوں ہو گا تو یہ ایسے ہو گا، کچھ بھی یعنی، جو بھی اس سے متعلق ہو۔ لیکن اس کا جو حل ہے نا، وہ اسی طرح کے تخلیقی جھما کے بعد ہی آئے گا۔ کم از کم میرا تجربہ تو یہی ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ تقریباً ہر تخلیقی سیشن کے آغاز میں مجھے بالکل نہیں پتا ہوتا کہ یہ انجام کار کیا ہو گا اور تقریباً ہمیشہ ہی میں ایک حیرت اور سرپرائز کا شکار ہوتا ہوں کہ یہ کہاں سے آ گئی چیز۔ تو مجھے خود بھی اس کا سارا پتا نہیں ہوتا لیکن جب ایک کامیاب تخلیقی سیشن ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ عمل ہوتا ہے۔ دوسرا بعض اوقات یہ بھی ہے کہ کچھ چیزیں ایسی بھی ذہن میں آ جاتی ہیں جو حیران کن ہوتی ہیں اور یہ نہیں سمجھ آ رہی ہوتی کہ یہ کس طرح اس کے ساتھ جوڑیں گے۔ لیکن اس کے اندر کوئی ایسی strong impulse یا conviction ہوتی ہے جو بتاتی ہے کہ It will work۔ میں نے بعض اوقات دیکھا ہے کہ ایسا بھی ہوا کہ کچھ لکھنے کے دوران، وہی جس کو کہتے ہیں نا کہ writer block ہے؛ تو مہینوں تک وہ کیفیت جاری رہی۔ Then suddenly something came جس نے ان ساری چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر بٹھا دیا۔ یہ ایک مسلسل making and remaking والا عمل ہے۔ اس میں ایک kleidoscopic قسم کا پیٹرن بنتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پورا wild نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے چند terms and conditions رہتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہاں سے آپ نے مال روڈ تک جانا ہے تو جانا آپ نے وہیں ہے، لیکن اب یہاں سے جاتے ہیں یا وہاں سے جاتے ہیں، یا دیوار پھلانگ کر جاتے ہیں، یہ ہے جو یہاں آتا ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن یہ کیسے طے ہوتا ہے کہ یہاں سے مال روڈ تک جانا ہے؟ یعنی کہانی کا بنیادی ڈھانچہ کیسے بنتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: یہ یقیناً جو آپ کے ابتدائی فیصلے ہیںان کی کنوکشن میں یا ابتدائی تیقن میں شامل ہو گا تو بات بنے گی۔ اگر یہ ابتدائی تعین نہیں ہو گا، یعنی یہ ہو کہ مال نہیں جانا بھاٹی گیٹ جانا ہے، تو وہ پھر اور چیز بنے گی۔ وہ پھر نہیں بدلے گی۔

نجیبہ عارف: ایسے نہیں ہو سکتا کہ لکھنے والے نے پہلے تو سوچا ہو کہ مال روڈ جانا ہے اور پھر کردار بھائی گیٹ چلا جائے؟
مرزا اطہر بیگ: کم از کم یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بھاٹی گیٹ سے ہو کر مال پر چلا جائے۔ یہ ممکن ہے۔ لیکن وہ ایک جو strong sense of direction ہے؛ وہ ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ اس طرح کی نہیں ہوتی جیسے ایک جو typical thriller ہے، اس میں تو ڈائریکشن بڑی واضح ہوتی ہے مثلاً اگر ایک مجرم ہے تو اس کو پکڑنا ہے۔ اس کے مطابق ہی قاری بھی چلتا ہے۔ لیکن لٹریری فکشن میں آپ کا جو ultimate مقصد کہہ لیں یا جو اختتام ہے، وہ طے ہوتا ہے۔ لیکن اس کے درمیان جو ہوتا ہے اس میں آپ ادھر ادھر ہو سکتے ہیں، کہیں بھی جا سکتے ہیں بشرطیکہ آپ وہیں پہنچ جائیں جہاں پہنچنا تھا۔

نجیبہ عارف: یعنی آپ اختتام پہلے سے سوچ لیتے ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: نہیں، اس طرح قطعی طور پر اختتام تو نہیں لیکن وہ تاثر جو آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک feeling ہوتی ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کا مطلب ہے بات آخر سے شروع ہوتی ہے اور پھر آپ اسے بُنتے ہوئے پیچھے چلے جاتے ہیں یا شروع سے آغاز کرتے ہیں اور پھر پتا نہیں ہوتا کہ بات کہاں چلی جائے؟
مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی شروع میں تو آپ کے پاس ایک بڑی wide thematic sense ہوتی ہے۔ اسے آپ موضوع کہہ لیں یا تھیم کہہ لیں اور اس کے حوالے سے آپ کا کوئی نقطۂ نظر ہوتا ہے تو وہ جو اختتام ہوتا ہے، وہ اس کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ میں ایک ایسی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور یہ جو لوگ اس میں کام کر رہے ہیں انھیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ ویسی ہی دنیا تعمیر ہو جائے۔ وہ بہت ہی abstract سا ہوتا ہے اور فکر اور احساس کی سطح پر ہوتا ہے۔ وہ ابھی اس سطح پر نہیں ہوتا کہ یہ بندہ مر جائے گا یا شادی ہو جائے گی، یا یوں ہو جائے گا۔ نہیں! اس طرح نہیں ہو گا۔ کوئی بھی ایسی صورت ہو سکتی ہے جس میں وہ مطلوبہ تاثر پوری قوت سے ظاہر ہو۔ اس اختتام کی میں بات کر رہا ہوں۔ جو اختتام ٹھوس صورت میں ہو گا وہ تو بہر حال اس وقت طے ہو گا جب آپ اس کے اندر کام کریں گے۔ پھر اچانک آپ کسی ایسی چیز تک پہنچ جاتے ہیں جو آپ نے پہلے دیکھی تک نہیں ہوتی۔ تو پھر اس کو دیکھنا پڑے گا، اس کے مسائل بنیں گے۔ تو اس طرح ہے۔

نجیبہ عارف: میں نے محسوس کیا ہے کہ بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات آپ بہت ثقیل علمی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ایک مضحکہ خیز انداز میں۔ مذاق اڑانے کے انداز میں۔ جس سے وہ سارا انٹلیکچوئل ماحول بالکل ridiculous سا لگنے لگتا ہے؟ تو کیا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے آپ کا؟ یا یہ خود بخود اسلوب کا حصہ بن کر غیر شعوری طور پر آ جاتی ہیں؟ یا پھر آپ جان بوجھ کر شعوری طور پر ایسا کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں، وہ بالکل جان بوجھ کر شعوری طور پر کرتا ہوں۔ اور یہ میرے لیے ایک طرح سے irresistible ہے۔ اس لیے کہ mocking is something which is very strong in me اور جگہوں کی، افراد کی، خیالات اور نظریات کی جو sanctity ہے اس سے میں بالکل متاثر نہیں ہوتا۔ دو چیزیں میرے کام میں عام ہیں۔ ایک تو یہی mocking والا عنصر اور دوسرا جسے کہتے ہیں reflexivity یعنیfalling back on yourself۔ مطلب writing on writing ہے جیسے۔ ۔ ۔ یہ مستقل ملتا ہے میرے تمام کام میں۔ کیونکہ اب کبیر کا جو کام ہے وہ بھی writing کے اوپر ہے۔ دوسرے ناول میں بھی اور اس میں بھی۔ reflexivity یا self-referentiality، یہ دو پہلو ہیں، جو پتا نہیں میری کمزوری ہیں یا کیا ہیں۔ دوسرا یہی جو mocking ہے کہ چیزوں کی جو absurdity یا ridiculous قسم کی جو possibility ہے، اس کو ضرور ساتھ چلانا ہے۔ یہ ہے، مجھے اعتراف ہے۔

نجیبہ عارف: اچھا یہ جو ترکیبیں آپ استعمال کر تے ہیں جیسے ’’ لال کھائی‘‘ تو عدم کا تصور آپ کے ہاں بہت ہے۔ ہر چیز کے ساتھ آپ ’’لا ‘‘ لگا کر آپ اس کے وجود کی نفی کر دیتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں اس کی نفی نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ ایک متوازی entity ہے۔ مثلاً writing before writing جو ہے۔ یعنی تحریر میں آنے سے  پہلے کی جو صورتِ حال ہے، یعنی جو ان کہی ہے۔ which is not say able، اس کو میں نے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔ مطلب یہ کہ جب آپ آرٹیکلیٹ کر رہے ہوتے ہیں، جب آپ ایک فقرہ ادا کر دیتے ہیں یا لکھ دیتے ہیں تو اصل میں لاتعداد ایسے فقرے ہوتے ہیں جو آپ نہیں لکھ رہے ہوتے، جن کو آپ اٹھا کر پرے پھینک رہے ہوتے ہیں۔

نجیبہ عارف: یہ process تو ہر تخلیق میں ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر ہر چیز تک میں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں ہر ایک میں۔ میں نے اس کو اُس کے اندر لانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ It may sound impossible but still _____۔ مطلب یہ کہ جو کہا گیا ہے اس سے بھی پہلے، ذرا پیچھے کی جو صورتِ حال ہے۔ کیا یہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔ یہ ایک سوال ہے۔ لیکن کم از کم میں نے کوشش کی ہے کہ کہی سے پہلے کی جو ان کہی ہے، اس کو بھی کہی میں، ایک اور طرح کی کہی میں بدل دیا جائے۔

نجیبہ عارف: یہ بہت unique بات ہے کیونکہ آپ سے پہلے، کم از کم میرا جو محدود مطالعہ ہے اس میں، میں نے نہیں دیکھا یا سنا کہ کسی نے اس طرح لکھا یا سوچا ہو؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں۔ میرا نہیں خیال کہ کسی نے ایسا لکھا ہو۔ یہاں تو کم از کم نہیں۔

نجیبہ عارف: phenomenon of writing کا پس منظری مطالعہ اس میں آ جاتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: جی جی! پتا نہیں وہ آپ نے دیکھا یا نہیں، میرا افسانہ جس کا عنوان ہے’’بے افسانہ‘‘ اس میں یہ جو چیز ہے، یہ جو ساری formalism ہے، اس کو میں نے اسی mocking سٹائل میں میرا خیال ہے، پیش کیا ہے۔

نجیبہ عارف: اچھا ایک اور چیز میں نے محسوس کی ہے، یہ جو آپ ڈیش (۔ ) کا استعمال کرتے ہیں یا قوسین کا استعمال کرتے ہیں، متن مین بھی اور عنوانات میں بھی، اُس سے آپ اپنے اسلوب میں ایک three dimensional space پیدا کر دیتے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں یہ ٹھیک ہے اور اس سے پھر ایک break آتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں جب آتی ہیں، یہ قوسین ہے یا لائن ہے، اس سے الفاظ کا جو تسلسل ہے، وہ کٹ جاتا ہے۔

نجیبہ عارف: اس میں space آ جاتی ہے، خالی جگہ پیدا ہو جاتی ہے، جس میں بہت کچھ رکھا جا سکتا ہے۔ ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق اس کو بھر سکتا ہے۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے؟
مرزا اطہر بیگ: بالکل اور اس سے آپ کو معانی کی ایک ایسی جہت ملتی ہے جو خالی لفظ سے نہیں ملتی بلکہ اس مخصوص arrnagement سے نکلتی ہے بلکہ وہ extra-lingual ہے۔

نجیبہ عارف: کیا یہ ایسا ہے کہ ابلاغ کا جو عمل ہے ہم عام طور پر اس کو الفاظ میں محدود سمجھتے ہیں اور الفاظ ہی کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اب پتا نہیں یہ شعوری ہے یا غیر شعوری، مگر آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ الفاظ سے ماورا بھی اور الفاظ کے بعد بھی ابلاغ کی بے انتہا گنجائش موجود ہے۔
مرزا اطہر بیگ: پتا نہیں اس کو روایتی مفہوم میں کمیونی کیشن کہیں گے یا نہیں لیکن میرا خیال ہے وہ ممکن ہے۔ مثلاً خاموشی کے جو لمحے ہوتے ہیں افراد کے درمیان، وہ highly communicative ہوتے ہیں اور highly expressive ہوتے ہیں۔ تو میرا یہ رہا ہے۔ مثلاً اس میں کئی جگہ پر یہ ملتا ہے۔ میرے لکھنے میں یہ بات develop ہوئی ہے کہ کبھی کبھی میں واقعات کے تسلسل میں اس فریم کو فریز کر دیتا ہوں، وہ لمحہ منجمد ہو جاتا ہے۔ اور ایک مسلسل بہاؤ کی بجائے وہیں چیزیں اپنی انفرادیت میں آپ پر کھلنے لگتی ہیں۔ اس سے پوری سچویشن ایک اور سطح پر چلی جاتی ہے۔ مثلاً شاید آپ کو یاد ہو کہ غلام باغ میں بھگدڑ کا جو ایک سین ہے، اس میں وہ اندر جا کے ایک دکان میں گرتے ہیں جہاں پلاسٹک کی چیزیں پڑی ہوئی ہیں تو وہ ایک منجمد لمحہ ہے جس میں وہ دیکھ رہا ہے رنگ اور ساری چیزیں۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہیں اس سے فکشن کا جو narrative ہے اس کی ایک اورسطح حاصل ہو جاتی ہے جو انسانی تجربے کی زیادہ گہرائی تک اتر جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ لٹریری فکشن میں یہ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے لیکن اس قسم کی تکنیک میں جو فلاسفی ہے نا، phenomenology جس کو کہتے ہیں اس نے مجھے Indirectly متاثر کیا ہے۔ اس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ دنیا شعور تک آتی کیسے ہے؟ How does the world appears to us تو یہ اس میں ہے۔

نجیبہ عارف: یہ پوسٹ ماڈرن ازم کا اثر بھی تو ہو سکتا ہے کیوں کہ پوسٹ ماڈرن ازم میں بھی بنیادی طور پر perception ہی اہم ہے۔ چیز کی اپنی کوئی معنویت نہیں ہے۔ معنی دیکھنے والی آنکھ اس میں ڈالتی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: اصل میں میرے کام کو post modernism کہا گیا ہے۔ لیکن میں نے شعوری طور پر کبھی postmodernism کو اختیار نہیں کیا۔ میں نے پڑھا اور پڑھایا ہے، سٹرکچرلزم سے پوسٹ ماڈرن ازم تک، سب کچھ ؛ لیکن کبھی بھی شعوری طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ It would be a postmodern novel or not۔ بلکہ میں نے پہلے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ جو ساری western terminology ہے پوسٹ ماڈرن ازم اور دیگر سب، یہ عین مین ہم پر اپلائی نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو بڑی مختلف sense میں۔ مطلب ابھی تو ہم ماڈرن بھی نہیں ہیں تو پوسٹ ماڈرن کیا ہوں گے۔

نجیبہ عارف: بالکل صحیح ہے؟
مرزا اطہر بیگ: اس لیے یہ کچھ اور معاملات ہیں۔ (ہنستے ہوئے) میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ اصل میں ’’حسن کی صورتِ حال‘‘ ہے۔

 

جاری ہے—-

تیسرے حصہ کے لئے اس لنک پہ کلک کیجیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: