کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی: اسوج، لیتری اور کھیل کود – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 12

0
  • 470
    Shares

جناب انور عباسی کی مشہور سوانح حیات کا یہ سلسلہ دانش کے صفحات پہ کچھ عرصہ سے شایع ہو رہا ہے۔ نئے پڑھنے والے قارئین اس کا پچھلا حصہ اس لنک پہ دیکھ سکتے ہیں۔ عباسی صاحب کی یہ کتاب ’متاعِ شامِ سفر‘ حال ہی میں شایع ہوئی ہے۔


کڑی، پوآچھی
جس زمانے کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اُس دور میں انسان اپنے لیے روٹی اور کپڑے کی فراہمی تو فرد خود ہی کرتا البتہ مکان کی تیاری میں گائوں کے سب ہی لوگ شامل ہوتے۔ اس میں کوئی استثنا نہیں تھا۔ چند روپوں میں مکان تیار ہو جاتا۔ چھت ڈالنے کے لیے لکڑی کی بیمیں درکار ہوتیں۔ بیاڑ کے درخت تو وافر مقدار میں پائے جاتے تھے، تاہم ان کو کاٹ کر مکان تک پہنچانا ایک مشکل کام ہوتا۔ درخت کاٹ کر اس کو تراش کر بیم (جسے کَڑی کہتے ہیں) کی شکل دینے کے بعد گائوں کے لوگ اس کو اٹھا کر مکان تک پہنچانے کی سبیل کرتے۔ اس موقع پر ڈھول اور بین باجے کا لازماً اہتمام ہوتا۔ کَڑی کے دونوں سروں کو بڑے بڑے، مضبوط لکڑی کے ٹکڑوں سے باندھا جاتا۔ ان کو گائوں کے جوان اور توانا مرد ’یااللہ‘ کم اور ’یا علی‘ زیادہ کا نعرہِ مستانہ لگا کر اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھا لیتے، زمین ہموار ہوتی تو رسوں سے باندھ کر اور گھسیٹ کر لے جاتے۔ ڈھول بجانے کے شور میں کم ہمت والے افراد، بعض بزرگ اور ہم جیسے بچے بھی ـ’لائو کَڑی، چائو کَڑی‘ کا نعرہ مسلسل لگاتے رہتے۔ کَڑی اٹھاکر اور بعض جگہوں پر گھسیٹ کر لے جانے والے اپنی دھُن میں مست ان نعروں کی طرف کم ہی توجہ دیتے۔ ان کو تو ایک کام کرنا تھا جو ان کے ذمے قدرت نے لگا رکھا تھا۔ وہ گرتے پڑتے، زخمی ہوتے لیکن اپنا کام کیے جاتے۔ انھیں کسی کی تعریف کی پروا تھی نہ کسی صلہ کی امید، بس ایک فرض تھا جو نبھائے جاتے۔ وہ اس وقت رکتے جب اپنا کام مکمل کر چکے ہوتے۔

اپنے فرض کو سمجھنے اور کام کرنے والے لوگ نعروں سے کبھی کوئی غرض رکھتے ہیں نہ ان کی طرف متوجہ ہی ہوتے ہیں۔ نعرے لگانے والے لوگ یہ کام کر ہی نہیں سکتے اور نہ نعروں سے کبھی کوئی کام ہوا ہے۔ اس کی سمجھ ہمیں بہت بعد میں آئی، جب ہم بھی آنکھیں بند کر کے اور ہاتھ اٹھا اٹھاکر ’انقلاب، انقلاب؛ اسلامی انقلاب‘ کا نعرہ لگاکر انقلاب نہ لاسکے۔ نعروں سے جب کام نہ چلا تو اقتدار کی منزل پانے کے لیے دوسرے طور طریقے ڈھونڈنے شروع کیے۔ حبِ عاجلہ نے ہمیں سیاست کی دہلیز پر لا پھینکا۔ اکیلے معرکہ سر نہ کر سکے تو اتحاد کا سہارا ڈھونڈا۔ ہم بھول گئے کہ اتحاد اسی قوت سے کیا جاتا ہے جو خود قابلِ ذکر قوت کی مالک ہو۔ جب اس سے خاطر خواہ کامیابی نہ ملی تو اصول و نظریات کو ایک طرف رکھ کر ’سیاسی حکمتِ عملی‘ کی طرف دھیان دیا۔ یہ ’سیاسی حکمتِ عملی‘  ’سیٹ اڈجسٹمنٹ‘ کہلاتی ہے۔ اس سے کچھ اشک شوئی تو ہوئی لیکن ہمارے خواب چکنا چُور ہو گئے۔ ہمارے نبیﷺ سماج کی تبدیلی کی انتہائی مشکل گھاٹی طے کرنے کے بعد معاشرتی انقلاب لائے تھے۔ اس کو طے سمجھئے کہ یہ کام جب بھی ہوگا ان ہی خطوط پر ہو گا۔ بات مکان کی تعمیر اور کَڑیوں کی ہو رہی تھی اور درمیان میں جملہ معترضہ آگیا۔ چونکہ یہ ایک جملہ نہیں اس لیے شاید لوگ انھیں معترضہ نہیں بلکہ اعتراضات سمجھیں، ان سے پیشگی معذرت۔  پھر ایک دن یہی کَڑیاں چھت پر ڈال کر شہتیر بچھا کر اوپر چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کے ٹکڑے جنھیں ہم مقامی زبان میں ’’لوڑ‘‘ کہتے ہیں، بچھا دیتے۔ اس کے اوپر ’تر‘ یعنی چیڑھ کے درخت کے پتے، جو پہلے سے جمع کئے ہہوتے تھے بچھا دیتے۔ اس کے بعد مٹی ڈالنے کا مرحلہ آتا، جس میں پھر اسی طرح گائوں کے لوگ شامل ہوتے۔ مکان پر مٹی بچھانے کے عمل کو ’’پوآچھی‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں پھر وہی ڈھول، بین باجے، ہلا گلا۔ کَڑیوں اور پوآچھی کے کام سے فارغ ہو کر سب لوگ صاحبِ خانہ کی طرف سے ضیافت میں شریک ہوتے۔ کھانے میں مکئی کی روٹیاں اور کھٹی کڑھی، جسے ہم لوگ کانجی بھی کہتے، بڑے بڑے مٹی کے تھالوں میں ڈال کر پیش کی جاتیں۔ گھی اور مکھن خوب دل کھول کر ڈالا جاتا۔ ہمارے دور میں بناسپتی گھی کا استعمال معیوب سمجھا جاتا تھا۔ آپ بناسپتی گھی کا ڈبہ خریدنے جاتے اور دکان دار سات پردوں میں چھپا کر ڈبہ آپ کو دیتے تھے جیسے آج کل لوگ چھپ چھپا کر شراب کی بوتلیں لے آتے ہیں۔  مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ ہمارے گائوں کے ایک بزرگ ڈالڈا مارکہ گھی چھپا کر لے آئے لیکن لوگوں کو پتا چل گیا۔ سب ایک دوسرے کو اطلاع دیتے کہ پتہ ہے فلاں شخص ڈالڈے والا گھی لے آیا ہے، اللہ ہی رحم کرے، بھئی کیا زمانہ آ لگا ہے۔ ان دنوں اصلی گھی اور مکھن کولیسٹرول بالکل پیدا نہیں کرتے تھے۔ اتنی محنت ہو اور پھرکولیسٹرول؟ توبہ کریں بھئی۔ کولیسٹرول، بلڈ پریشر، شوگر دورِ جدید میں صرف ہمارے عہد کی لائف اسٹائل کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ وہ ’انعامات‘ ہیں جو ہم نے بڑی محنت اور لگن سے حاصل کیے ہیں۔ ہم لوگوں نے ہر مغربی ایجاد کا غلط استعمال کیا۔ گاڑیاں آئیں تو پیدل سفرکی نعمت سے محروم ہو گئے۔ فریج آیا تو تازہ کھانے سے دستبردار ہونا پڑا۔ سمارٹ فون آئے تو پاس بیٹھے ہوئے اپنے پیاروں سے دور ہو گئے۔

اسوج کا موسم
اسوج کا موسم دیہاتی زندگی میں اہم ترین موسم ہوتا ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ
ع   یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد۔
’’میں صرف ایک لمحے ہی تو غافل ہوا تھا لیکن اس نے مجھے سو برسوں کی مسافت پیچھے کر دیا‘‘۔
کسانوں کی زندگی میں ہمیں یہ قول نظر آتا ہے۔ جب فصلیں پک کر تیار ہوجاتی ہیں، ان کو کھیتوں کی گود سے الگ کر کے اپنی بھوک مٹانے کا سامان کیا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا بظاہر ایک بے ضرر سا اصول ہے لیکن اس کو طاقتور طاقتوں نے اپنے مفاد کے لیے ایک عالمگیر قانون کی شکل دے رکھی ہے۔ اپنی بھوک مٹانے کے لیے کتنی مائوں کی گودیں اجاڑ دی جاتی ہیں۔ ان لوگوں نے اس قانون کی حفاظت کے لیے ایک یونین سی بنا رکھی ہے جس کا دنیا کو بیوقوف بنانے کے لیے، مہذب نام اقوامِ متحدہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا یہی ایک کام ہے کمزوراقوام کو طاقتور قوتوں کی بھوک مٹانے کی راہیں مسدود کرنے کی بجائے مزید مضبوط کر دی جائیں۔

اسوج کے اس موسم کی کئی یادیں ذہن کے پردہِ سکرین میں محفوظ ہیں۔ مکئی کو کاٹ کرزمین کی ایک مخصوص جگہ پر مخروطی شکل محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ چند دنوں کے بعد گھر کے افراد مکئی کے سٹے (بھُٹے) الگ کر کے گھر کے ایک کمرے میں جمع کرتے اوران کو سوکھنے کے لیے کمرے میں پھیلا دیتے، کیونکہ تازہ مکئی کے سٹوں (بھُٹوں) سے دانے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ اگلے سال کی بوائی کے لیے بیج کے سِٹے الگ کرکے رکھ دیتے۔ دو چار دن کے بعد ایک دو فرد بڑے بڑے سوٹے لے کر سٹوں پر ٹوٹ پڑتے۔ چشمِ تصوّر میں شاید کسی دشمن کا خاکہ رکھتے ہوں گے۔ ہو حق کی آواز بھی سنائی دیتی۔ رات گئے ایک ’پنج سیری‘ لے کر مکئی ماپتے۔ اوسطاً ہر گھر میں پندرہ بیس ٹُکریاں (من) تو لازماً حاصلِ جدوجہد ہوتے۔ ان میں سے دسواں حصہ الگ کر کے رکھ دیتے۔ اسلامی فقہ میں اسے عشر کہتے ہیں۔ تعلیم بھلے اتنی عام نہیں تھی لیکن اتنا شعور ضرور تھا کہ عشر نکالے بغیر ایک لقمہ بھی نہیں لیتے تھے۔ آج کل نہ فصل ہوتی ہے نہ عشر نکالنے کا تصوّر۔ خدشہ ہے کہ چند دینی علوم رکھنے والے حضرات کے علاوہ معاشرے کے دیگر افراد عشر کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔ عام لوگ اب کتابوں کی دنیا سے دور ہوتے جا رہے ہیں، دینی کتابوں سے تو بالکل ہی دور۔

لیتری
لو جی اسوج آگیا۔ گھاس اور مکئی کی فصل میں درانتی پڑنے کا موسم۔ انتہائی مصروفیت کا موسم۔ ایک دِن اِدھر اُدھر ہو گیا تو سب کچھ تباہ۔ قصہ مشہور تھا کہ کسی کی ماں ان ہی دنوں مر گئی تو اسوج کی مصروفیات سدِ راہ بن گئیں اور اس نے میت کوایک صندوق (کُلوٹے) میں رکھ دیا۔ اس نے سوچا اور فیصلہ کیا کہ دفن بعد میں کر دوں گا، پہلے اسوج سے تو فارغ ہو لوں! ظاہر ہے یہ قصہ روایت و درایت کے معیار پر پورا نہیں اترتا لیکن سعدیؒ اور رومیؒ کے قصوں کی طرح اس طرف اشارہ ضرور کرتا ہے کہ دیہاتی زندگی میں فصل اٹھانے کا موسم کتنا مصروف ترین ہوتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی بڑی باریک بینی سے کی جاتی۔ فصل سنبھالنے کا کام تو لوگ انفرادی سطح پرہی سر انجام دیتے ہیں البتہ گھاس کاٹنے کا کام اگر زیادہ ہو تو دوسروں سے مدد طلب کر لی جاتی۔ اس ’’رسم‘‘ میں پورا گائوں تو شامل نہیں ہوتا تھا، چند قریبی لوگ، یہی آٹھ دس یا بعض جگہوں پر بیس پچیس۔ اس فنکشن نما کام کی خاص بات جو میرے ذہن سے چپک گئی یہ ہے کہ کام کے دوران میں یکا یک کام چھوڑ کر کوئی صاحب درانتی بائیں ہاتھ میں لٹکا کر دایاں ہاتھ کانوں پر رکھ لیتے اور آنکھ بند کر کے لہک لہک کر ایک لوک گیت شروع کر دیتے۔ ’’چنا وے ماڑیا۔ ۔ ۔ ۔‘‘ ماحول میں ایک وجد سا طاری ہو جاتا۔ شاید چرند، پرند پہلے مبہوت سے ہوجاتے بعد میں ہم آہنگ ہو کر یہی نغمہ ا لاپتے۔ لگتا تو یہی تھا۔

کیا معلوم حضرت دائود ؑ کی تسبیح سے متاثر ہو کر وجد میں اسی طرح ماحول متاثر ہوجاتا رہا ہو۔ ہم تو مبہوت سے ہو جاتے۔ کیا آواز میں موسیقی ہوتی، گیت کیا سریلا ہوتا اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔ یہ کانوں کو بھلی لگنے والی یہ آوازیں رہیں نہ یہ مواقع۔ موسیقی صرف کسی آلے میں نہیں ہوتی بلکہ آواز میں بھی ہوتی ہے۔ سریلی آواز توخدا کا انمول عطیہ ہے جو انسان کو وجد میں لے آتی، مدہوش سی کر دیتی اور اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ لیتری تو خیر رہی نہیں، شادی بیاہ کے مواقع ہوں یا نہ، موسیقی کو ہمارے علماء نے حرام قرار دے دیا ہے۔ یہ رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و سنگ علامہ اقبال کے نزدیک سب فن کی بنیادیں ہیں۔ علماء کرام کو ساغرؔ صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ حضور ؎
حوروں کی طلب اور مے و ساغر سے ہے نفرت
زاہد ترے عرفان سے کچھ بھول ہوئی ہے۔
ساغر کو تو جانے دیں، علّامہ یوسف القرضاوی کی تو سن لیں۔ لیکن نہیں وہ خواہ کچھ بھی دلائل دیتے رہیں ہم ماننے والے نہیں۔ بقول مشتاق احمد یوسفی ہماری آدھی مرغوب چیزیں ڈاکٹروں نے حرام کر رکھی ہیں اور آدھی مولویوں نے۔ یوسفی اس سے آگے خاموش ہیں لیکن ہم اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر کہتے ہیں کہ دونوں سے اختلاف جان لیوا ہو سکتا ہے۔

کھیل کود
ہارڈی کے ہاں Wessex کے لوگ رات کو جمع ہو کر آگ روشن کرتے اور دستیاب وسائل میں پینے پلانے کی محفل منعقد کرتے۔ ہاتھ میں جام اور آگ کے گردچکر کاٹ کر وقت کاٹتے۔ ہمارے ہاں بھی جب لیتری اور اسوج کا کام ختم ہوتا تو لوگوں کو سانس لینے کا موقع مل جاتا جو سردیوں کے موسم تک جاری رہتا۔ کاتک اور مگھرمیں گائوں کے لوگ آپس میں اور بعض اوقات دوسرے گائوں والوں سے مقابلہ کرتے۔ کبڈیوں کے مقابلے بھی ہوتے لیکن اصل دلچسپی والے مقابلے جانوروں کے درمیان ہوتے۔ بھینسے اور مینڈھے (سانڈ اور ہنڈُو) لڑائے جاتے۔ اس موقع پر ڈھول باجے کا خاص اہتمام ہوتا۔ میدان تو پہاڑی علاقے میں ہوتے نہیں، فصل اٹھنے کے بعد ہموارسا کھیت (ڈوگہ) تلاش کر لیا جاتا اور سانڈ یا ہنڈُوکے مالکان سامنے آتے۔ اپنے اپنے جانوروں کی پُشت پر ہاتھ پھیرتے اور پھر مقابلے کے لیے آگے کر دیتے۔ سانڈ تو سینگ لڑا کر ایک دوسرے کو دھکیلتے رہتے اور کسی ایک کی پسپائی پر طاقت کا یہ کھیل جاری رہتا۔ جب ایک سانڈ کمزور پڑتا تو پیٹھ پھیر کر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا اور سانڈ کا مالک شرمندہ شرمندہ سا ہو جاتا۔ ہنڈُو کے لڑانے کا طریقہ الگ تھا۔ فریقین ایک حد تک پیچھے ہٹتے جاتے اور پھر یکساں سپیڈ سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے۔ ایک پٹاخے دار آواز گونجتی اور لوگوں کی تالیاں سنائی دیتیں۔ ایک دوسرے کو دھکیلنے کے بعد ریورس گیر لگاتے اور پھر اسی سپیڈ سے حملہ کرتے۔ جب ایک ہنڈو تھک جاتا یا کمزور پڑتا تو بھاگ کھڑا ہوتا۔ اسی کے ساتھ ہنڈُو کا مالک بھی کھسک جاتا۔ گھر جا کر ہندُو کی خیر نہیں یا بیوی کی کہ اس نے ہنڈُو کو صحیح خوراک نہیں دی۔ شاید زرعی سوسائٹی میں لوگ اسی طرح کی محفلیں جما کر اپنے فارغ اوقات کا استعمال کرتے ہوں گے۔

اِٹی ڈنڈا (گلی ڈنڈا)، چوپندی اور والی بال کے کھیل بھی دیہات میں عام تھے۔ اس دور میں کرکٹ عام نہیں ہوئی تھی۔ چوپندی شاید کرکٹ کی ابتدائی شکل تھی جو ڈارون کی تھیوری کے مطابق درست ہی دکھائی دیتی ہے۔ ڈرافٹ بورڈ اور تاش بھی کھیلی جاتی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے تاش اور ڈرافٹ بورڈ کے علاوہ کسی اور کھیل میں دلچسپی نہیں لی۔ ایک دفعہ والی بال کے میدان میں اترے ضرور لیکن جب دیکھا کہ والی بال ہمارے سر کے اوپر گرنے والی ہے تو سر بچا کر میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ تاش البتہ چھپ کر کھیلتے تھے۔ اس کو جوئے کی وجہ سے حرام سمجھا جاتا تھا حالانکہ ہمارے فرشتوں کو بھی جوا خواب میں نہیں آیا ہوگا۔ ہمارا دھیان اس طرف جاتا ہے کہ تاش ہی نہیں بلکہ کسی بھی کھیل پر جوا لگایا جائے تو یہ حرام ہے۔ یہ بات ہم نے ڈرتے ڈرتے کہہ تو دی ہے اب دعا ہی کر سکتے ہیں کہ کوئی اس کو مداخلت فی الشریعہ نہ سمجھ بیٹھے۔

— جاری ہے —

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

کتاب حاصل کرنے کے خواہشمند اس لنک پہ رابطہ کریں یا 051 2803096 پر رابطہ کریں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: