قوم پرستی کی لہر: پس منظر و پیش منظر —– احمد الیاس

0
  • 70
    Shares

کتاب کا موضوع مضمون میں سمیٹنے کی کاوش بغیراس مفروضے کے نہیں ہوسکتی کہ قاری پہلے سے کچھ بنیادی باتیں جانتا ہے اور سب کچھ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قوم پرستی کا موضوع انسانی نفسیات اور تہذیبی و فکری تاریخ کے گہرے فہم کے بغیر گرفت میں نہیں آسکتا مگر کچھ گزارشات پیش کرنا بہت ضروری ہیں تا کہ اس موضوع پر ہماری قومی بحث کے فکری افلاس کو کم کرنے کا کچھ نہ کچھ احساس پیدا کیا جاسکے۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ قوم کیا ہے اور دوسرا سوال یہ کہ قوم پرستی کسے کہتے ہیں۔ قوم کو سادہ ترین الفاظ میں کسی قسم کی عصبیت کے نتیجے میں تشکیل پانے والا ایک انسانی گروہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ عصبیت انسان کے خارج سے متعلق کسی بھی عامل سے متعلق ہوسکتی ہے، مثلاً وطن، زبان، نسل، ثقافت، نظریات یا مذہب۔ انسانی نفسیات سے معمولی شناسائی بھی یہ بتانے کو کافی ہے کہ انسان پیچیدہ اور کثیر جہتی اور کثیر رنگی مخلوق ہے جس میں عصبیتیں بھی کثیر ہوتی ہیں۔ انسان میں بیک وقت وطنی، لسانی، ثقافتی، مذہبی اور نطریاتی عصبیت ہو، ایسا نہ صرف عین ممکن ہے بلکہ عموماّ ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ معاملہ ایک عصبیت کے انتخاب کی طرف تب مڑتا ہے جب قومیت قوم پرستی میں ڈھلتی ہے اور قوم کو صرف سماجی شناخت یا بھائی چارے کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی اصول بنا لیا جاتا ہے۔ قوم اپنی سماجی معنوں میں کثیر جہتی ہے اور ہر جہت دوسری جہتوں سے ملی ہوئی ہے مگر سیاسی اصول میں ڈھل کر اسے ایک جہت یا شناخت کا انتخاب نہ بھی کرنا پڑے تو ایک شناخت کو ترجیح ضرور دینا پڑتی ہے۔ یوں مختلف نوعیت کی قوم پرستیاں جنم لیتی ہیں۔ لسانی، مذہبی، وطنی، ثقافتی اور نسلی قسم پرستی ایک ہی اصول کے مختلف مظاہر ہیں۔ یہ شناخت کی سیاست کا اصول ہے۔

شناخت کی سیاست کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ طاقت کی سیاست کے خلاف ردعمل کی ایک صورت تھی اور پاکستان جیسے ممالک میں اب بھی ایسا ہی ہے۔ قرون وسطیٰ میں ریاستوں کے قیام کا اصول یہ تھا کہ ایک شخص، خاندان یا مفاداتی گروہ جتنے علاقے میں اقتدار اعلیٰ کی سطح کی سیاسی طاقت حاصل کرلیتا، وہ علاقہ ایک سلطنت، مملکت، امارت یا جمہوریہ کہلاتا۔ تقریباً چار سو سال قبل جدید دور کے آغاز کے ساتھ شناخت کی سیاست ایک بڑی تحریک کے طور پر ابھرنا شروع ہوئی اور یہ خیال پیدا ہوا کہ جتنے علاقے میں کسی ایک شناخت کے لوگ رہتے ہوں، اتنے علاقے کو اس قوم کے لوگوں کے لیے ایک ریاست ہونا چاہیے۔ یہ قومی ریاست کا اصول تھا جو ویسٹ فیلیا کے معاہدے سے انقلابِ فرانس اور پھر جرمنی و اٹلی کے قیام، نیز سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہونے اور پہلے جنگ عظیم کے بعد آسٹرو ہنگری کی لسانی بنیادوں پر تقسیم تک بتدریج پھیلتا چلا گیا یہا ں تک کہ تین سو سالہ سفر کے بعد آج سے سو سال قبل یعنی پہلے جنگ عظیم کے اختتام پر ریاست سازی کا باقاعدہ اور واحد جائز اصول تسلیم کیا جانے لگا۔ یہی تاریخ کا وہ مقام ہے جہاں پاسپورٹ اور ویزا متعارف ہوئے۔

تقریباً چار سو سال قبل جدید دور کے آغاز کے ساتھ شناخت کی سیاست ایک بڑی تحریک کے طور پر ابھرنا شروع ہوئی اور یہ خیال پیدا ہوا کہ جتنے علاقے میں کسی ایک شناخت کے لوگ رہتے ہوں، اتنے علاقے کو اس قوم کے لوگوں کے لیے ایک ریاست ہونا چاہیے۔

اس اصول کو فکری یا فلسفیانہ سطح پر بھی بغور دیکھا جائے تو اس کا کھوکھلا پن ظاہر ہوجاتا ہے۔ مگر عملی طور پر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ دنیا میں کسی بھی علاقے میں مکمل طور پر ایک ہی قوم کے لوگ آباد نہیں ہیں۔ ہر جگہہ اقلیتیں موجود ہیں اور اکثر ایک جہت یا شناخت کے لحاظ سے اکثریت کا حصہ نظر آنے والا شخص دوسرے جہت یا شناخت کے لحاظ سے اقلیت کا حصہ ہوتا ہے۔ یوں ہر قومی ریاست میں اقلیتیں وجود میں آئیں۔ لسانی قومی ریاستوں میں لسانی، نسلی قومی ریاستوں میں نسلی اور وطنی قومی ریاستوں میں وطنی اقلیتیں۔ انیس سو بیس اور تیس کی دہائی میں اقلیتوں کا سوال قومی ریاست کا ایک غالب سوال تھا جس کا جواب قوم پرستوں نے آرمینائی نسل کشی، ہولوکاسٹ، اسرائیل کے قیام اور تقسیم ہند کے نتیجے میں تاریخ کی سب سے بڑی اور دردناک ہجرت وغیرہ کی شکل میں تلاش کیا۔

ظاہر ہے کہ تقسیم در تقسیم اور انسان کو اس کی ایک شناخت میں مقید کرنے کے اس عمل کے خلاف رد عمل پیدا ہونا فطری تھا۔ چنانچہ ایک جانب لبرل، دوسری طرف بعض اشتراکی اور تیسری جانب کئی مذہبی حلقوں نے شناخت کی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی۔ گویا سیاسی سپیکٹرم کے تینوں کونوں رائٹ، لیفٹ اور لبرل سینٹر میں ضمیر کی آواز کی گونج سنائی دینے لگی۔ مگر المیہ یہ تھا کہ قبائلی ذہنیت کا یہ جدید ورژن یعنی قوم پرستی بھی تینوں گھروں میں گھس چکا تھا۔ گویا یہ سوال سیاسی یا نظریاتی کم اور اخلاقی سوال زیادہ بن چکا تھا۔ اقبال اور ٹیگور جیسے حساس شعراء اور دانشوروں کی قوم پرستی سے الرجی کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پیشِ نظر سیاسی یا نظریاتی سے زیادہ اخلاقی خدشات تھے۔

قوم پرستی کی اٹھان کے پیچھے ایک بڑا عنصر فلسفیانہ یا فکری مادہ پرستی کا بھی کار فرما تھا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں فلسفیوں میں اٹھنے والی سیکولر تحریکوں نے علم کی قدیمی مثلث کا ایک کونا یعنی تصورِ خدا نکال دیا اور یوں پیچھے صرف تصورِ انسان یعنی عمرانیات اور تصورِ کائنات یعنی سائنس بچے۔ خدا اور خلیفہِ خدا ہونے کے تصور کے بغیر انسان کی عظمت کا تصور بھی زمیں بوس ہوگیا اور انسان کو صرف ماحول کے حادثات اور اتفاقات کے نتیجے میں اگ آنے والا ایک پودا تصور کرلیا گیا جس کی انفرادی عظمت صرف خالی خولی باتیں معلوم ہونے لگیں اور اسے کائنات یعنی مادے کا ماتحت جان کر مادی حالات کو انسان کے عزم، ارادے، شخصیت اور اقدار وغیرہ سے زیادہ فیصلہ کن عوامل تسلیم کرلیا گیا۔ یہی وہ مادہ پرستی تھی جس نے انسان کو اپنے آپ میں ایک مکمل یونٹ کے طور پر نہیں بلکہ پوری طرح ایک جانب قوم اور دوسری طرف کلاس کے آئینے میں دیکھنا شروع کیا اور اس کی انفرادیت، اقدار اور اصولوں کو اجتماعی زندگی کے حوالے سے بے معنی تصور کیا۔

یوں قوم پرستی کا تصور ایک طرف قدیمی مذہبی تصورات پر حملہ کرتا تھا اور دوسری طرف حال ہی میں متوازی طور پر ابھر رہے لبرل انفرادیت پسندوں کے خیالات سے متصادم تھا۔ جب دوسری جنگ عظیم کے بعد قوم پرستی کی نمائندہ قوتیں یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان شکست کھاگئیں تو لبرل قوتوں نے ایک نیا سانچہ تشکیل دیا جس میں مغرب کے مذہبی طبقات اور کسی حد تک معتدل اشتراکی طبقات نے بھی اپنے اپنے آئیڈیلز کے مطابق حصہ داری ڈالی۔

یہ سانچہ قرون وسطیٰ کی طرح طاقت کی سیاست کا سانچہ تھا نہ ہی گزشتہ چند صدیوں کی طرح شناخت کی سیاست کا ماڈل۔ یہ بنیادی اصولوں، اقدار اور عمرانی معاہدے پر مبنی نظام تھا۔ قومی ریاستوں کے ڈھانچے تو قائم رہے مگر عملی طور پر یہ قومی ریاستیں قومی ریاستیں نہیں رہیں۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی وغیرہ نے بڑی تعداد میں دوسری قوموں کے لوگوں کو اپنے وطن بلایا اور ان میں سے لاکھوں لوگوں نے اپنی زبان، ثقافت، مذہب، نسل برقرار رکھتے ہوئے بھی ان ممالک کے عمرانی معاہدے اور اصولوں کی پیروی کا حلف لے کر وہاں کی شہریت حاصل کرلی اور برابر کے شہری بن گئے۔ یہ قوم پرستی اور قومیت کے تصور کی عملی شکست تھی کہ جرمنی میں ترک، فرانس میں الجزائری اور انگلینڈ میں پاکستانی پس منظر اور زبان، ثقافت اور مذہب کا شخص جرمن، فرینچ اور انگلش کے برابر ہوگیا۔ دوسری طرف جو ممالک قوم پرستی کے تصور کے تحت ڈیڑھ سو سال سے برسر پیکار تھے، مغربی تہذیب کی مشترکہ قدروں کے نام پر نیٹو اور یورپی یونین جیسے ادارے بنا کر یک جان ہوگئے اور سیاسی سطح پرقومی ریاست کا ادارہ محض ایک انتظامی یونٹ بنتا گیا۔ اصل قوت مشترک آئیڈیلز پر مبنی کثیر القومی بلاک یعنی مغربی تہذیب کا تصور بن گیا۔ مغربیت کے سامنے فرانسسیت، جرمنیت، انگریزیت وغیرہ بے معنی ہوکر رہ گئیں۔

جہاں ایک طرف قوم پرستی کے وطن یعنی یورپ میں یہ پیش رفت ہورہی تھی وہاں دوسری جانب دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک کو یہی تصورات برآمد کیے جارہے تھے جنہیں یورپ خود مہلک جان کر ترک کرچکا تھا، بالکل اسی طرح جیسے اپنا استعمال شدہ، پرانے فیشن والا، جراثیم زدہ سامان مغرب ہمیں بھیج دیتا ہے اور ہمارے ہاں لنڈا انڈسٹری وجود میں آتی ہے۔ قوم پرستی بھی دراصل لنڈا برینڈ ہی کی پراڈکٹ ہے۔ اپنے دور کے ساتھ چلنے کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر مغربی ممالک نے قدیمی کیتھولک کلیسا کی جگہہ نیٹو اور یورپی یونین، قدیمی سلطنت کی جگہہ عمرانی معاہدے کی جدید ریاست اور مقامی جاگیر داریوں کی جگہہ مقامی بلدیاتی اداروں کو دے دی تھی تو ہم بھی قدیمی خلافت کی جگہہ مسلم ممالک کا ایک نیم وفاق، قدیمی سلطنتوں کی جگہہ جدید علاقائی ریاستوں اور قدیم سرداریوں، امارات اور جاگیرداریوں کی جگہہ مقامی حکومتوں کو دے کر طاقت کو تین تہوں میں زیادہ سے زیادہ تقسیم کرتے تاکہ انفرادی آزادی زیادہ سے زیادہ یقینی بنائی جاسکتی۔ مگر اس ماڈل میں چونکہ آمریت اور ارتکازِ اقتدار کی گنجائش نہیں رہتی اس لیے یہ نظام نہ ہمارے مقتدر طبقات کو قبول تھا نہ ان کی ڈوریاں ہلانے والی سامراجی طاقتوں کو۔

مشرقی اقوام میں قوم پرستی کا پہلا نشانہ سلطنت عشمانیہ بنی۔ یہ باتیں اب تاریخ کا مسلمہ حصہ ہیں اور ایکیڈیماء میں مانی جاچکی ہیں کہ عرب قوم پرستی، ترک قوم پرستی، یونانی قوم پرستی، بلغاریائی قوم پرستی، سرب قوم پرستی، بوسنیائی قوم پرستی، البانیائی قوم پرستی اور آرمینائی قوم پرستی وغیرہ پھیلانے میں برطانیہ اور فرانس وغیرہ کا کلیدی کردار تھا۔ یہ سب گروہ چھ سو سال سے اکٹھے رہ رہے تھے۔ ان چھ سو سالوں میں کسی قسم کی خانہ جنگی یا نفرت ان گروہوں کے درمیان دکھائی نہیں دیتی۔ جہاں برطانیہ خود اپنے ملک میں پچھڑے ہوئے طبقات مثلاّ یہودیوں، کیتھولک فرقے کے لوگوں، سکاٹش اور ویلش لوگوں، نیز انڈیا جیسی نو آبادیات کو دستوری ارتقاء اور بتدریج اصلاحات کے ذریعے حقوق اور برابری فراہم کر رہا تھا، وہیں دوسرے طرف سلطنت عثمانیہ میں اپنی اقلیتوں سے کہیں بہتر حالت میں زندگی بسر کررہی مختلف اقوام کو علیحدگی پر اکسا رہا تھا۔ لارنس آف عریبیہ کا کردار اس سلسلے میں کلاسیکی پہچان حاصل کرچکا ہے۔ اس قسم کے کئی لارنس بوسنیا سے یمن تک ہر جگہہ کام کررہے تھے۔ یہ سلسلہ سلطنت عثمانیہ تک رکا نہیں بلکہ تیسری دنیا کے ہر خطے میں لوگوں کو اصلی یا جعلی شناخت دے کر قومی ریاست کے ڈبوں میں بند کردیا گیا، ان ڈبوں کی نگرانی کہیں نوآبادیاتی فوجی آمروں کو اور کہیں اشرافیہ سے تعلق رکھنے اور نظریاتی معجون بیچنے والے سیاستدانوں کو دے دے گئی۔ کئی جگہہ پر تو کچھ خاندانوں کو قومی پرچم دے کر انہیں مقبوضہ تیل کی سامراج کے لیے حفاظت کی خاطرپالتو کتوں کی طرح بٹھا دیا گیا۔ یہ قوم پرستی اور قومی ریاست کا لیبل لگا کر طاقت کی سیاست کا تسلسل تھا۔

جہاں ایک طرف سلطنت عثمانیہ جیسی مذہبی قوتوں میں قوم پرستی باہر سے داخل کی گئی تھی وہیں چین اور سوویت یونین جیسی اشتراکی قوتوں نے بھی آگے چل کر اس قسم کی قوم پرستی پر سرخ رنگ کرکے اپنانے کی کوشش کی تاکہ یہاں پر حکمران سٹالن اور ماؤ جیسے آمر اور ان کی معاون بیوروکریٹک اشرافیہ اپنا اقتدار مضبوط بنا سکیں۔ یہ توڑو اور راج کرو کے مغربی اصول ہی کا اطلاق تھا مگر مقامی طور پر۔

سلسلہ یہاں رکا نہیں۔ جہاں ایک طرف توڑنے والی قوم پرستی تھی وہاں جوڑنے والی قوم پرستی بھی درحقیقیت توڑنے کا کام کررہی تھی۔ سیاسی قومیتیں بنانے کے شوق میں بہت سی اقلیتوں کی سماجی و ثقافتی شناخت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ایک طرف اتاترک نے ترکوں سے کہیں قدیم کردوں کو پہاڑی ترک کہہ کر ترکی کی سب سے طویل خانہ جنگی کی بنیاد رکھی وہیں ہندوستان میں ہندوستانی قوم پرستی سے پیدا ہونے والے خدشات کے رد عمل میں مسلمانوں میں پیدا ہونے والا عدم تحفظ کا احساس اس وطن کو تقسیم تک لے گیا جس کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والے کبھی سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا جیسے ترانے لکھتے اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے۔

بانیانِ پاکستان کی شخصیات کو دیکھا جائے تو ان پر دو اثرات غالب نظر آتے ہیں۔ پہلا اثر اسلامی اخلاقی آئیڈیلز اور دوسرا انیسویں صدی کی کلاسیکی لبرل ازم۔ ان دونوں اثرات کا نیتجہ منطقی طور پر یہ نکلنا چاہیے تھا کہ پاکستان بھی جدید جرمنی یا برطانیہ کی طرح عمرانی معاہدے پر مبنی ایک ریاست ہوتی جو عملاً کسی مذہبی یا لسانی قومیت پر نہیں بلکہ اس ملک کے عمرانی معاہدے میں شریک افراد کےمشترک آئیڈیلز پر کھڑی ہوتی۔ ریاست کے لیے اس بات کے کوئی معنی نہ ہوتے کہ کون مسلمان، ہندو، مسیحی ہے، کون بنگالی، پنجابی اور پشتون اور کون غریب، امیر یا مڈل کلاس۔ مگر بانیان پاکستان ایک ایک کر کہ جلد ہی پردے سے ہٹتے چلے گئے۔ لیاقت علی خان، عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، چودھری محمد علی، حتیٰ کہ فیروز خان نون تک کو برداشت نہ کیا گیا۔ غلام محمد اور اسکندر مرزا جیسے لوگ جن کا تحریک پاکستان یا بانیان پاکستان کے آئیڈیلز سے دور دور کا تعلق نہ تھا حکمران بن بیٹھے۔ لیاقت علی خان کی شہادت سے شروع ہونے والا پاکستان کی ہائی جیکینگ کا یہ عمل ایوبی مارشل لاء کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔ نظریہ ضرورت اور فوجی آمریت پاکستان کے اسلامی جمہوری آئیڈیل کی کھلم کھلا نفی تھی۔

اس کا رد عمل فطرتاً قوم پرستی کی لہر کی شکل میں نکلا۔ اس وقت قوم پرستی کی لہر ہمارے ہاں بھی ہے اور مغرب میں بھی۔ مگر فرق یہ ہے کہ مغرب میں قوم پرستی اکثریتی گروہوں میں سر اٹھا رہی ہے یعنی سفید فام نسلوں میں۔ دوسری طرف ہمارے ہاں آبادی کے لحاظ سے اقلیتی گروہ مثلاً پشتونوں کے کچھ حلقے نسلیت و لسانیت کی بنیاد پر علیحدگی کی بات کررہے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ مغربی قوم پرستی قدامت پسند حلقوں کی قوم پرستی ہے جو لبرل ازم کی پیش رفت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ہمارے ہاں قوم پرستی بظاہر ترقی پسند طبقات سے وابستہ کی جاتی ہے جو لبرل ازم کی عدم دستیابی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔یوں وہ ریاست جسے ریاست کی جدید ترین قسم یعنی عمرانی معاہدے کی ریاست بننا تھا، ریاست کی پسماندہ ترین قسم یعنی طاقت کی سیاست پر مبنی ریاست بن گئی جو مفاد پرست لابی کے ہاتھ میں کھلونا تھی۔ جرنیل، جاگیردار، بیوروکریسی، حتیٰ کہ ججز بھی اس لابی کے برہمن اور کھشتری۔ جرنیل اسکندر مرزا، بیوروکریٹ غلام محمد، جج محمد منیر جیسے لوگ اس قدر مغرب زدہ تھے کہ وہ مقامی لوگوں کو قومی ریاست کے قابل بھی نہ سمجھتے تھے اور اب تک کولونیل اثرات کے تحت ان کا تحت الشعور یہی تھا کہ مشرقی شخص نیم حیوان ہے جو عمرانی معاہدے کی ریاست تو کجا، قومی ریاست کے قابل بھی نہیں۔ لہذا ان لوگوں نے پاکستان کو طاقت پرستی کی ریاست بنا کر رکھ دیا۔

مگر اس سارے پس منظر میں ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم اٹھارہویں یا انیسویں صدی میں نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں رہتے ہیں اور اسی میں رہنے کے حقدار ہیں۔ طاقت کی سیاست کو اصولوں اور آئیڈیلز کی سیاست سے بھی بدلا جاسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم اسی پر خطر اور خونی راستے سے گزریں جس سے مغرب گزرا تھا۔ آگ جلاتی ہے، بجلی کرنٹ دیتی ہے یا سمندر ڈبو دیتا ہے۔ ۔ ۔ یہ جاننے کے لیے آپ جل کر، کرنٹ کھا کر یا ڈوب کر نہیں دیکھتے۔ جلنے والوں، کرنٹ کھانے والوں یا ڈوبنے والوں کو دیکھ کر ہی سبق سیکھ جاتے ہیں۔ قوم پرستی کے خطرات سمجھنے کے لیے ہمیں اسے اپنانا، بلکہ بار بار اپنانا ضروری نہیں ہے، ہم مغرب کی، بلکہ خود اپنی تاریخ کو دیکھ کر ہی جان سکتے ہیں کہ ایک شر کو دوسرے شر سے بدلنا کسی کا غم نہیں مٹاتا۔ مقتدر طبقات کے ظلم اور طاقت کی سیاست کے خلاف جدوجہد ضرور کریں، مگر اپنا مقصد اور نعرہ قومی ریاست اور قوم پرستی جیسے لنڈے کے بیماری زدہ تصورات کو نہیں، بلکہ صرف ہمہ گیر انسانی حقوق، آزادی اور انصاف کے آئیڈیلز کو بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: قوم پرستی، ریاست اور حب الوطنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس
(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: