عورت کی عزت اور مامتا کا خون ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبیح الدین شعیبی

0
  • 123
    Shares

“کوئی جگہ نہيں دے رہا تھا اب جگہ مل گئ ميری انعم کو۔”
کراچی کی شکیلہ نے اس نے اپنی بيٹی کو، پھول جيسی بيٹی کو سمندر ميں پھينک ديا اور اب اس طرح کے عجیب و غریب بیان دے رہی ہے۔ وہ قاتلہ ہے، کسی اور کی نہيں اپنے جگر کے ٹکڑے کی، سزا کی مستوجب ہے جو قانون اسے دے گا۔

ہر جرم کے پيچھے سبب ہوتا ہے، محرک ہوتا ہے، بيٹی کو قتل کرنے کی کيا وجہ رہی ہو گی، اس پر تنقيد کرنے والے وہ وجہ سننا نہيں چاہتے مبادا قاتل سے ہمدردی انہيں شريک مجرموں ميں شامل نہ کر دے۔ مگر کسی جرم کا تدارک کرنا ہے تو اس کے اسباب پر غور کيے بغير کوئی راستہ نہيں۔

جس معاشرے ميں بيٹی کی پيدائش سے پہلے ہی ماں کو گھر بچانے کے لالے پڑے ہوں وہاں شکيلہ کی بيان کردہ کہانی کو سچ ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ کہتی ہے بيٹی کو باپ نے قبول نہيں کيا اور ماں بيٹی دونوں کو گھر سے نکال ديا، ميکے والوں نے تو گويا خود اس کے جنازے کے انتظار ميں دروازے بند کر رکھے تھے۔ شکيلہ نے سمندر کی گود کو خود سے محفوظ سمجھا اور بيٹی کو اس کے حوالے کر ڈالا اور خود زندہ لاش بن کر سوالوں کا سامنا کر رہی ہے، اس کے ليے لفظ بے معنی اور وضاحتيں بے سود ہيں۔ پھر بھی دنيا سوالوں کے تير برسا رہی ہے۔

شکيلہ ايسا سوچنے پر کيوں مجبور ہوئی، کن حالات اور عوامل نے اسے ساحل سے سمندر ميں دھکيلا، خاندان والے کيا کر سکتے جو انہوں نے نہيں کيا، انہيں کيا نہيں کرنا چاہيے تھا؟ شکيلہ کے پاس سمندر سے پہلے کيا آپشنز تھے۔ کوئی دوسری شکيلہ ايسے حال ميں ہو تو کيا کرے، کہاں جائے ؟

ايدھی اور چھيپا کے جھولے، برنيوں کے ويلفيئر ٹرسٹ، سرکاری يتيم خانے، مفت قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے، کئی اين جی اوز موجود ہيں مگر شايد سمندر جيسی مہربان نہيں، تبھی تو کراچی جيسے آباد گنجان شہر ميں کوئی شکيلہ کی درست رہنمائی نہ کر سکا، کوئی ہاتھ پکڑ کر بھلے اپنے گھر نہ لےجاتا، راستہ تو دکھا ديتا۔

ديگر جرائم کے مقابلے ميں خودکشی ايک انتہائی پيچيدہ جرم ہے، يہ کسی انسان کے اپنے ہاتھوں قتل ہے جس پر کوئی باشعور انسان کبھی آمادہ نہيں ہوتا۔ اس ذہنی کيفيت کا درست تجزيہ اس حال سے گزرے بغير ممکن نہيں اور خدا سب کو اس حال سے محفوظ رکھے، ماں کے ہاتھوں ننھی بچی کا قتل تو خود اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ خود قربان ہو جاتی ہے اولاد پر آنچ نہيں آنے ديتی۔ ميں ماں نہيں بيٹا ہوں، اس کے پيار نے مجھے يہی سکھايا ہے۔ ميں ماں نہیں دو ننھے بچوں کا باپ بھی ہوں، اولاد سے محبت کيسی ہوتی ہے جانتا ہوں، ارے ہم نام کے انسانوں کی کيا بات کريں، کبھی جانوروں کا اپنے بچوں سے پيار ديکھيے، اولاد کی جان لینے والی ماں کو قاتل کہنے والوں کو ایک پل ٹھہر کر سوچنا ضرور چاہئے قاتل کو قاتل معاشرہ بناتا ہے، تو ماں اس جرم کی اکیلے ذمہ دار کیسے ہو گئی۔

شکيلہ نے ميڈيا سے بات کرتے ہوئے اپنب تين صاحب ثروت اور تعليم يافتہ بہنوں کا ذکر بھب کيا اور بتايا کہ انہوں نے بيچ منجدھار ميں پھنسی اپنی بہن کی کوئی مدد نہيں کی۔ بہنوں کے پاس اس کی کوئی وجہ ہو گی اور وہ وجہ کسی بھی بچی کی جان سے زيادہ بڑی نہيں ہو گی۔

ننھی انعم کی لاش ملنے کے بعد واٹس ایپ پر تصویر موصول ہوئی، لاکھ چاہتا تھا نہ دیکھوں کسی دوست نے اچانک سامنے کر دی، ننھا ایلان کردی یاد آگیا جسے شام کی سرزمین چھوڑنا تھی دنیا چھوڑ گیا، انعم کے لیے بھی اس کے اپنوں نے زمین تنگ کر دی تھی۔ واقعی سمندر کا دل بہت بڑا ہوتا ہے۔ پوليس انسپکٹر غزالہ جنہوں نے ميڈيا کو بچی کی لاش ملنے کی اطلاع دی، انہوں نے زندہ بچی کی تلاش ميں ناکامی پر انتہائی افسوس کا اظہار کيا، اس سے زيادہ دکھ ان کے اس جملے ميں تھا، “ہم عورت کو عزت کب ديں گے۔”

شکیلہ کو سزا دیجئے، معافی دیجئے، دوا دیجئے یا علاج کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عورتوں کو عزت دینا بہت ضروری ہے، انہیں قبول کرنا شروع کریں، جگہ دینے کے بارے میں سوچیں، شاید ہم کسی اور انعم کو بچا سکیں۔

(Visited 16 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: