مولانا الطاف حسین حالیؔ ۔۔۔۔۔۔۔ عبد القادر امتیاز

0
  • 29
    Shares

مولانا الطاف حسین حالی ؔ(۱۸۳۷۔۱۹۱۴ء)ؔ اور سر سید احمد خانؔ انیسویں صدی کی وہ بلند ترین ہستیاں ہیں جن میں گونا گوں صفات کمال حُسن و خوبی سے جمع ہو گئی تھیں۔ ان دونوں نے عمر بھر ملک قوم، علم و ادب، دین و مذہب کی انمول خدمات انجام دیں۔ سر سیدؔ سے ملاقات مولانا حالیؔ کی زندگی کا نہایت اہم واقعہ ہے۔ یہ ملاقات ۱۸۶۸ء؁ میںسائنٹی فک سوسائٹی کے ایک جلسے میں شیفتہؔ نے کرائی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے گرویدہ ہو گئے۔ مولانا حالیؔ علی گڑھ تحریک کے پہلے سے ہی حامی تھے لیکن ۱۸۸۰ء میں جب علی گڑھ آئے تو یقین ہو گیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اقبال کاڈوبا ہوا سورج پھر سے طلوع ہوا تو اسی سرزمین سے ہو گا۔ حالیؔ کی ایک نظم کے چند شعر ملا حظہ ہوں:

یہ دار العلوم سدِّ راہِ آسیبِ نہاں ہو گا
اسی دار الشفا میں بختِ پیر اپنا جواں ہو گا

نہیں صورت ابھرنے کی ہماری کوئی پستی سے
اگر ہوگا اسی گھر سے بلند اپنا نشاں ہو گا

یہ بیت العلم روز افزوں ترقی کا ہے سرچشمہ
اسی چشمے سے دیکھو گے کہ اک دریا رواں ہو گا

مولانا حالیؔ راست گو انسان تھے۔ سر سیدؔ کے مذہبی عقائد سے انہوں نے ہمیشہ اختلاف کیا۔ مولانا کی تعلیم و تربیت خالص مشرقی اور روایتی انداز پر ہوئی تھی۔ اس کے باوجود وہ بہت روشن خیال انسان تھے۔ سر سیدؔ کے جدید تعلیم کے منصوبے کی انھوں نے بھرپور تائید کی اور ہر ممکن مدد کی۔ البتہ انہوںنے برطانوی حکومت کی مکمل حمایت نہیں کی۔ انھوںنے اس حکومت کے ان اصلاحی اور ترقیاتی اقدام کو ضرور قابلِ تعریف قرار دیا جن کے بارے میں وہ محسوس کرتے تھے کہ یہ ہندوستانی سماج کی تبدیلی اور ترقی کا باعث بنیں گے لیکن بیک وقت وہ برطانوی حکومت کے سامراجی کردار سے بھی مکمل طور پر آگاہ تھے اور اس کی مذمت کرتے تھے۔ حالیؔ کا خیال تھا کہ صنعت و حرفت کی تعلیم حاصل کر کے آزاد پیشہ اور تجارت اختیار کرنے سے ہی تعلیم یافتہ افراد آزادانہ طور پر غور و فکر کر سکتے ہیں اور اس سے ان میںجزبۂ حریت پیدا ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت اپنے ساتھ چند برکتیں بھی لائیں جن کی بدولت ہندوستان کے روایتی اور جامد سماج میں نئے تصورات و خیالات کے وسعت پذیر ہونے میں مدد ملی۔ جدید کاری کا عمل شروع ہوا اور ریلوے و تار برقی وغیرہ کے رواج نے رسل و رسائل کے مسائل کو کم کر دیا۔ جہاں عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا تھا اور سَتی و دختر کشی جیسی ظالمانہ و غیر مہذب رسمیں رائج تھیں، وہاں انگریزوں نے معاشرے میں اصلاح کی غرض سے چند اصول و قانون وضع کیے اور موثر اقدامات کیے۔ حالیؔ نے جو ہندوستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی کے خواہاں تھے، حکومت کے ان اقدامات کی فراخ دلی سے تعریف کی۔ وہ اپنی نظم ’جشن جوبلی‘ میں کہتے ہیں:

اس عہد نے وہ خون بھرے ہاتھ کیے قطع
جو پھیرتے تھے بیٹیوں کے حلق پر خنجر
بیٹوں کی طرح چاہتے ہیں بیٹیوں کو اب
جو لوگ روا رکھتے تھے خوں ریزی دختر
’سَتی‘ کی بری رسم کے بارے میں لکھتے ہیں

دی اُس نے مٹا ہند سے یوں رسم سَتی کی
گویا وہ سَتی ہو گئی خود عہدِ کہن پر
نابود کیا اس نے زمانے سے ٹھگی کو
اک قہر تھا اللہ کا جو نوعِ بشر پر

اسی خیال کا اظہار وہ ’مسدس‘ میں بھی کرتے ہیں
کھلی ہیں سفر اور تجارت کی راہیں
نہیں بند صنعت کی، حرفت کی راہیں
جو روشن ہیں تحصیل حکمت کی راہیں
تو ہموار ہیں کسب دولت کی راہیں
نہ گھر میںغنیم اور دشمن کا کھٹکا
نہ باہر ہے قزاق و رہزن کا کھٹکا

مہینوں کے کٹتے ہیں رستے پلوں میں
گھروں سے سوا چین ہے منزلوں میں
ہر اک گوشہ گلزار ہے جنگلوں میں
شب و روز ہے ایمنی قافلوں میں
سفر جو کبھی تھا نمونہ سقر کا
وسیلہ ہے وہ اب سراسر ظفر کا

حالیؔ برطانوی حکومت سے پہلے کی حکومتوں کو ’’ڈسپاٹک‘‘ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان حکومتوں کے تحت رعایا میں اپنی فلاح و بہبود کے کام کرنے کا احساس یا آزادی مفقود تھی:

’’برٹش گورنمنٹ کی حکومت سے پہلے ہندوستان میں ہزاوں برس سے ڈسپاٹک گورنمنٹ یعنی شخصی حکومت چلی آتی تھی جس میںرعیت کی بھلائی اور بہبودی کا ہر ایک کام بادشاہ کے اختیار میں ہوتا تھا۔ رعیت جس طرح ملکی معاملات میں کچھ دخل نہ رکھتی تھی، اسی طرح قومی رفاہ و فلاح کے کاموں سے بھی اس کو کچھ سروکار نہ ہوتا تھا۔ قوموں کی ہرقسم کی بھلائی یا برائی ہمیشہ سلطنت کے قبضے میں رہی اور وہ ہمیشہ اپنے تئیں سلطنت کے ہاتھ میں ایسا سمجھتے رہے جیسا مردہ غسّال کے قبضے میں ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ تمام رعایا بے حس و حرکت ہو گئی اور ایکٹوٹی یعنی عملی طاقت ان میں بالکل مفقود ہو گئی اور یہ خصلت ان کی اولاد میں نسلاً بعد نسلٍ منتقل ہوتی چلی آئی‘‘۔

اس سیاق و سباق میںحالیؔ کا یہ خیال بھی تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے مسلمانوں میں جمود و تعطل پیدا کر دیا ہے، فرماتے ہیں:

’’درحقیقت نہ مسلمان بالطبع کاہل اور سست ہیں اور نہ اسلام نے ان کو ایسا بنا دیا ہے، بلکہ یہ تمام کاہلی اور سستی اور یہ عام و سکون و انجماد جو ہمارے رگ و پے میں سما گیا ہے، یہ وہ ترکہ ہے جو نہ صرف ہم کو بلکہ تمام ایشائی نسلوں کو ان کے آبا و اجداد کی میراث میں پہنچا ہے۔ ایشیائی طرز حکومت جو ایک طاقت کو اعتدال سے بڑھانے والی اور اس کے سوا تمام طاقتوں کو ملیامیٹ کرنے والی ہے، اس نے ایشیا کی کسی قوم میں جان باقی نہیںچھوڑی—-‘‘

انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے اکثر مسلم دانشوروں میں یہ عام احساس پایا جاتا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا تعلق حکمراں طبقے سے ہے اور یہ کہ وہ ایک زمانے میں حکمراں رہ چکے ہیں۔ یوں حالیؔ کے اندر بھی یہ احساس موجود تھا اسی لیے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میںحرکت و عمل کی قوت زائل ہو گئی ہے تو ان کے ذہن میں یہی سبب ہوتا ہے کہ چوں کہ ہندی مسلمان کا تعلق حکمراں طبقے سے تھا، اس لئے وہ تجارت، زراعت اور دستکاری کو عیب خیال کرتے تھے۔ لیکن اس کے برعکس دیگر محکوم قوموں جن کو حکومت کی سر پرستی حاصل نہیں ہوتی ان کی عملی قوت بالکل زائل نہیں ہوتی اور وہ صنعت و حرفت اور تجارت جیسے آزاد پیشوں کو اختیار کر کے اپنی مدد آپ کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔

حالیؔ نے اپنی نظم ’تحفتہ الاخوان‘ کے آخری حصّے میں تقریباً اسی موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں میں رعایا کی اصلاح اور ترقی کا اگر کچھ کام ہوتا بھی تھا تو وہ حاکم ہی کرتا تھا اور رعایا رفاہِ عام اور قومی فلاح کا کام خود نہیں کرتی تھی لیکن برطانوی حکومت نہ صرف یہ کام خود کرتی ہے بلکہ اس نے رعایا کو اس کی آزادی بھی دے رکھی ہے۔ اس لئے حالیؔ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ یہی وہ وقت ہے جس میں وہ اپنی اصلاح و ترقی کا کام کر سکتے ہیں:

وہ گئے دن جبکہ تھے مختارِ مطلق حکمراں
قسمتوں کی قبضہّ قدرت میں تھی ان کے عنان
ہاتھ میں غسّال کے مردہ ہو بے حس جس طرح
تھے جہاں بانوں کے ہاتھوں میں یونہی اہل جہاں
تھی نہ اہل ملک کو قومی مقاصد سے غرض
تھا نہ قومیت کا قوموں میں کہیں باقی نشاں

حالیؔ مسلمانوں کو یہ باور کرنا چاہتے تھے کہ برطانوی حکومت میں رعایا کو جو آزادی نصیب ہوئی تھی اسے غنیمت جاننا چاہیے اور معاشرے کی اصلاح و ترقی پر کمر بستہ ہونا چاہیے۔ دوسری ہم وطن قومیں دن بدن ترقی کر رہی تھیں اور تمام عالم میں اصلاحی اور ترقیاتی کام ہو رہے تھے۔ اس لئے اگر مسلمان اس میدان میں آگے نہ آئے تو ہمیشہ کے لئے پس ماندہ رہ جائیں گے۔ بہرحال حکومت کے اصلاحی اور ترقیاتی اقدام کو سراہنے کا جواز تو حالیؔ کے پاس موجود تھا لیکن انھوں نے برطانوی حکومت میں حاصل مذہبی آزادی کی بھی بھرپور ستائش کی جس کا جواز شاید ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ مذہبی آزادی کے لئے برطانوی حکومت کی تعریف یوں کرتے ہیں

نہ بد خواہ ہے دین و ایمان کا کوئی
نہ دشمن حدیث اور قرآن کا کوئی
نہ ناقص ہے ملت کے ارکاں کا کوئی
نہ مانع شریعت کے فرماں کا کوئی
نمازیں پڑھو بے خطر معبدوں میں
اذانیں دھڑلے سے دو مسجدوں میں

برطانوی حکومت کی دی ہوئی محدود آزادی کو جس میں مذہبی آزادی کو مقام حاصل تھا حالیؔ حقیقی آزادی تصور کرتے تھے یا اس زمانے میں ان کا تصور آزادی ہی محدود تھی۔ اقبالؔ نے سامراجی حکومت کی شاید اسی نوعیت کی سازش کو آزادی تصور کرنے کی ملّا کی کم فہمی پر تنقید کی تھی

ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

حالیؔ نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ برطانوی حکومت میں رعایا کو جو آزادی حاصل تھی اس کا علم ان کوسر سید ؔکی تحریروں سے ہوا۔ ان کی نظر میں آزادی اس حکومت کی عظیم خصوصیات میں سے ایک تھی اور جب تک وہ اس حقیقت سے واقف نہیں ہوئے تھے۔ حکومت کی یہ خوبی ان کی نظر سے پوشیدہ تھی۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ حالیؔ کے ذہن و دل میں برطانوی حکومت کی عظمت کی دھاک سر سیدؔ مرحوم کی ’’آزاد‘‘ تحریروں نے بٹھائی تھی۔

حالیؔ نے انگریزی حکومت کی جزوی حمایت اور ستائش تو ضرور کی مگر مکمل طور اس حکومت کی حمایت کبھی نہیں کی۔ ایک مخصوص سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کا علمبردار غالب حکمراں طبقہ عوام میں اپنے نظریے کی نشر و اشاعت کی خاطر فکر اور روئے کو متاثر کرنے کے تمام ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔ اس غرض سے پریس، کتب، مدارس، مذہبی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ستعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انیسویں صدی میں، جو کہ نو آبادیات کے عروج کا زمانہ تھا، نو آبادیاتی دانشوروں نے بھی اس مظہر کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ نو آبادیات محض کسی ایک ملک کا دوسرے ملک پر سیاسی اعتبار سے غلبہ حاصل کرنے کا نام نہیںہے بلکہ مفتوح اور زیر نگیں قوم کے ذہن پر غالب آنا بھی اس نظام کی خصوصیت ہے۔ گذشتہ دیسی حکومتوں کو نا اہل، سماجی اداروں کو فرسودہ اور عوام کو کاہل قرار دینا نو آبادیاتی نظریاتی سازش کا ایک بہت اہم حصہ تھا جس کا مقصد نو آبادیاتی نظامِ حکومت اور اس کے متعلقات کو حق بہ جانب ثابت کرنا تھا۔ بہ استثنائے شبلیؔ ، کم و بیش یہی کام زیر مطالعہ دانشورانِ اردو نے بھی کیا۔ اس طرح یہ دانشوران نو آبادیاتی نظریے کے دامِ فریب میں پھنسے ہوئے تھے۔

مغرب سے استفادہ کرتے ہوئے حالیؔ اور محمد حسین آزادؔ نے نظم کی صنف کو اردو زبان میں متعارف کرایا اور خود بہت سی مفید نظمیں لکھیں۔ سر سیدؔ کے ساتھ ساتھ حالیؔ بھی نیچر کا بہت وظیفہ پڑھتے ہیں۔ رفقائے سر سیدؔ میں شبلیؔ واحد آدمی ہیں جو افکار مغرب سے مرعوب نہیں ہوئے، لیکن حدیث کے مسئلے میں ’درایت‘ کی انھوں نے جو تعریف فرمائی ہے اس میں انہوںنے بھی اقتضائے طبیعت (Nature) کے مطابق ہونے کو حدیث کی صحت کی شرط قرار دیا ہے۔

حالیؔ نے صرف فطرت پرستی پر نظمیں نہیں لکھیں بلکہ سماجی نا انصافی، عورت کے حقوق کی پامالی، قوم کی تعلیمی پسماندگی اور اخلاقی گراوٹ پر بھی نظمیں تحریر کیں۔ حالیؔ کی ’مسدّس‘ کی تاثیر زمانے کے تغیر و تبدّل اور سرد و گرم کے باوجود آج بھی قائم و دائم ہے۔ سر سید ؔکی فرمائش پر لکھی جانے والی اس نظم کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سر سیدؔ اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ’’جب خدا حشر میں پوچھے گا کہ تو کیا لایا ہے، تو میں کہوں گا کہ حالیؔ سے ’مسدّس‘ لکھوا کر لایا ہوں اور کچھ نہیں‘‘۔

اصلاحی اور فلاحی نقطۂ نظر سے یہ عظیم کارنامہ سر سیدؔ کی دور رس فکر کا آئینہ دار بن گیا ہے۔ حالیؔ نے اپنی نظموں کو اپنے دور کے سماج کا عکاس بنا دیا۔ وہ اپنی مثنویوں، نظموں، شخصی مرثیوں اور شہر آشوب کے ذریعہ قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے وطنی، ملی، سماجی اور معاشرتی مناظر کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں مظاہرۂ کائنات کے علاوہ انسان کے بنائے اصول و قوانین اور طرز زندگی بھی موضوعات میں شامل ہیں۔ مزید برآں حالیؔ کی نظموں میں قدیم و جدید کا امتزاج بھی ہے، انہوںنے نظم کو بیانیہ شاعری سے قریب کر کے قدیم اور جدید کے امتزاج کی کامیاب کوشش کی۔

حالیؔ کے بہت سے شعری اور ادبی کارنامے ہیں۔ ان کی سوانح نگاری بھی اردو میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ انھوںنے اردو میں باقاعدہ طور پر سوانح نگاری کا آغاز کیا۔ حالیؔ نے تفصیلی طور پر اپنے موضوع کی شخصیت، زندگی اور کارناموں کا جائزہ لیا۔ انھوں نے اس بات کی کوشش کی کہ موضوع کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں کو بھی جہاں تک ممکن ہو سکے بیان کریں۔ حالیؔ اپنی سوانح نگاری سے بھی قوم و ملک کی خدمت کرناچاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عظیم شخصیتوں کے کمالات اور نیک کاموں کو بیان کر کے لوگوں میں ایسے ہی کام کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: