پاکستان میں ٹھپہّ سازی کی صنعت : تقابلی جائزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شوکت نیازی

0
  • 53
    Shares

بین الاقوامی تناظر:
کسی ملک کی اقتصادی معاشی اور سماجی ترقی میں صنعتوں کا لامحالہ ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ہر ملک کی ایک یا ایک سے زیادہ ایسی صنعت ضرور ہوتی ہیں جو اس ملک کے لئے کامیابی اور اقوامِ عالم میں ناموری کا باعث بنتی ہیں۔

مثلاً امریکہ میں جمہوریت کی صنعت بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔ ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور جمہوریت کے ثمرات خصوصاً سیاہ فام اور ایشیائی تارکین وطن تک پہنچانے کے لئے مقامی پولیس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ بعد ازاں بچی کھچی جمہوریت عموماً دیگر اور ترجیحاً مسلمان ممالک کو برآمد کی جاتی ہے۔ سفرکے دوران جمہوریت کے اثرات کو زائل ہونے سے بچانے کے لئے اسے عموماً میزائیلوں اور ٹینکوں میں پیک کیا جاتا ہے اور اس کی ترسیل و تقسیم کی ذمہّ داری امریکی فوج کو سونپی جاتی ہے ۔

اپنی صنعت و حرفت کی بدولت چین فی الوقت دنیا کی عظیم ترین اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔ سوائے بچوں کے چین میں دنیا کی تمام اشیا وافر مقدار میں بنتی ہیں اور برآمد ہوتی ہیں۔ کھانے کے بعد جب تمام چینی بیک وقت ڈکار مارتے ہیں تو قریبی دوست ممالک کے لوگ خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل جاتے ہیں اور اللہ اکبر اللہ اکبر کا ورد کرتے ہیں۔ چین پاکستان کا عظیم دوست ہے۔ اگر چہ چین کمیونسٹ ملک ہے لیکن ہماری دوستی اور ہمارے اثر و رسوخ کی بنا پر صدقہ خیرات کی تقسیم کے لئے ہمیں مستحقین میں گردانتا ہے ۔

جاپان کم خرچ بالا نشین گاڑیوں اور الیکٹرانک آلات کے شعبے میں دنیا میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ جاپان میں طلاق کی شرح دنیا بھر میں کم ترین مانی جاتی ہے۔ شوہر دن کے تئیس گھنٹے اپنی آرام دہ گاڑیوں میں بیٹھے اپنی جدید ترین سمارٹ فونز پر مصروف رہتے ہیں اور طلاق کی نوبت ہی نہیں آتی۔ جاپان میں شوہروں میں خودکشی کی شرح کیوں بلند ترین ہے اس امر پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے ۔

کسی قسم کی صنعت و حرفت سے ماورا سعودی عرب دنیا بھر کو تیل میں بھیگے ڈالر برآمد کرتا ہے اور دنیا بھر سے حاجی اور زائرین درآمد کرتا ہے۔ ان دونوں اقتصادی سرگرمیوں کی بنا پر تمام مسلم ممالک کی دعاؤں کا مرکز رہتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند سالوں سے مذہبی سیاحت کے شعبے میں ترقی عیاں ہے۔ جس کا نتیجہ خانہ کعبہ کے ارد گرد زیر تعمیر بلند و بالا ہوٹلوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ بچپن میں سنتے تھے کہ لیلۃ القدر کے دوران درخت بھی سر بسجود ہو جاتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی عظمت و حشمت کے سامنے کسی رات یہ ہوٹل پیشانی زمیں پر ٹیک دیں تو اندیشہ نقص امن کا ہونا پایا جائے گا۔

برطانیہ کسی دور میں اقتصادی اور صنعتی ترقی کا محور جانا جاتا تھا۔ آج کل دوسرے ممالک کو اس کی برآمدات میں شاہی خاندان کے نئے شادی شدہ جوڑوں اور ان کے نوزائیدہ بچوں کی تصاویر اہم مقام رکھتی ہیں۔ درآمدات یعنی امپورٹس میں بڑا حصّہ جہلم، گوجر خان، چکوال اور میر پور سے دامادوں اور بہوؤں پر مشتمل ہے جو بریڈفورڈ مانچسٹر اور لیوٹن پہنچتے ہی اپنے سسر کی میِٹ شاپ میں حلال چانپیں بناتے ہیں اور یوں اپنے نئے وطن کی ترقی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

بھارت گزشتہ چند دہائیوں میں ایک اہم اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ کمپیوٹر سافٹ وئیر میں دنیا میں دوسرا بڑا مرکز بنگلور میں پایا جاتا ہے۔ دیگر اہم برآمدات میں کترینہ کیف اور دپیکا پڈکونے اور سنی لیوی شامل ہیں۔ تاہم مبینہ بھارتی مصنوعات کے اصلی یا نقلی ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ایسے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں جب اعلیٰ معیار کے پاکستانی باسمتی چاولوں کو “میڈ ان انڈیا” کے نشان والی بوریوں میں بیچا گیا۔ دوسری جانب اگرچہ کترینہ کے کیف کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے تاہم انتہائی گہرے اور تفصیلی مطالعے کے باوجود دپیکا میں کسی قسم کے کوئی کونے نہیں پائے گئے۔ محترمہ ہر جانب اور ہر زاوئیے سےگولائیوں پر مشتمل ہیں۔ سنی لیوی کے بارے میں عمومی عوامی رائے میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔

مقامی صورتحال :
اب آئیے وطنِ عزیز کی جانب۔ ۔ ۔ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وطنِ عزیز کی متعدد صنعتیں ملک کی ترقی اور نیک نامی میں ممد و معاون ہیں۔ ان میں زرعی اجناس، سبزی، پھل، گوشت، دودھ، سوت اور سوتی کپڑا، چمڑا اور چرمہ مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور آلاتِ جرّاحی شامل ہیں۔ پاکستان کی کاٹن اور سوتی ملبوسات کی صنعت دنیا بھر میں ایک بڑا نام رکھتی ہے ۔ دنیا بھرسے خریدار سوتی اور چرمی ملبوسات کی خریداری کے لئے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر بڑےشہروں میں فیشن شو منعقد کرائے جاتے ہیں جن کے دوران خواتین ماڈلز مقامی لباس زیب تن کر کے پیش کرتی ہیں۔ امن کی آشا سے مغلوب مرد ماڈلز گاندھی جی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پگڑی اور دھوتی پہنے چہل قدمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دائیں بازو کے خیالات کے حامل طبقات ان پر جزِبزِ ہوتے ہیں حالانکہ مردوں کے ستر کا پنڈلی سے ناف تک ہونا ثابت ہے ۔ گوشت کی صنعت میں روز افزوں ترقی کا یہ عالم ہے کہ گائے بھینس بکری دنبہ مرغی مچھلی کے علاوہ دیگر مویشیوں کو بھی اس صنعت میں مناسب نمائندگی دینے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ دیگران کے احساس محرومی کا ادراک کرتے ہوئے گدھوں اور کتّوں کو بھی بمطابق حصّہ بقدرِ جثّہ مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ وزیر آباد کا شہر چھریاں اور چاقو بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے ۔ وزیر آباد کے ڈاکٹر اور طبیب بھی چیر پھاڑ کے علاج میں خصوصی مہارت کے حامل ہیں۔ گوجرانوالہ کے شیخ اور بٹ مرغوں اور چِڑوں پر ان چھریوں کا استعمال بطریقِ احسن کرتے ہیں۔ زرعی اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی خاطرخواہ ترقی کی خاطر حکومتی ادارے ہر سال مستقل بنیادوں پر لاکھوں ایکڑ پر محیط کھیتوں اور کھلیانوں کی آبیاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہفتوں مہینوں تک یہ پانی کسانوں اور دہقانوں کو بلا قیمت فراہم کیا جاتا ہے۔ چند ملک دشمن عناصر اس منصوبوں کو سیلاب سے منسوب کرتے ہیں۔

تاہم پاکستان کی ایک صنعت ایسی ہے جو کسی قسم کی سرمایہ کاری کے بغیر شروع کی گئی ہے اور حکومت نجی شعبہ اشتراکی پروگرام کے تحت غیرمعمولی کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔ یہ مہر سازی کی صنعت ہے جسے ٹھپہ سازی کی صنعت بھی کہا جاتا ہے۔ اس صنعتی شعبے کی ایک اہم ترین خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی سرمایہ کاری، مشینری، آلات، سازو سامان یا تکنیکی و کاروباری مہارت کی ضرورت درپیش نہیں آتی۔ یوں تو ہمارے ہاں زندگی کے کسی بھی شعبے میں قابلیت کی کامیابی سے نسبت کے ثبوت نہیں پائے جاتے تاہم اس شعبے میں بہترین پیداوار کے لئے محض ایک لیپ ٹاپ یا ایک سمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹھپہ سازی یا مہر سازی کا شعبہ مختلف انواع و اقسام کے مہروں ٹھپوں پر مشتمل ہے، جن میں چیدہ چیدہ کا بیان مندرجہ ذیل ہے ۔

مذہبی ٹھپہ:
یہ ٹھپہ ملک کے مقبول ترین ٹھپوں میں شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اسے لگانے کے لئے کسی قابلیت یا اہلیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حسبِ منشا شیخ العظم، شیخ المشائخ، امیر المومنین، مجاہدِ اعظم ، مردِ مومن مردِ حق، فلاں کی بیٹی یا شیرِ فلاں کے ٹھپے لگانے سے ایمان کی تر و تازگی دوبالا ہو جا تی ہے۔ مختلف طبقات پر اس کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ تا ہم اگر کسی غیر مسلم، مبیّنہ غیر مسلم یا غیر مسلک پر لگایا جائے تو سیاہی کا زہر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ٹھپے کو توہین کے رنگ میں بھگو کر استعمال سے اس کی ہلاکت آفرینی کو چار چاند لگائے جا سکتے ہیں۔ با امر محال، غلطی کی صورت میں اگر یہ توہینی ٹھپہ اپنے طبقے یا مسلک کے کسی فرد پر لگ جائے تو ازراہِ وضاحت چند لمحوں کی ایک ویڈیو سے اس کے اثرات زائل کر کے اس فرد کو دوبارہ پاک صاف کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی ٹھپہ:
تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکنان اور راہنما اس ٹھپے کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ اس کی اہم اقسام میں ملک دشمن، اسلام دشمن اور جمہوریت دشمن ہیں۔ اس قسم کے ٹھپوں کی سیاہی جلد ہی معدوم ہو جاتی ہے اور لوٹےکے مناسب استعمال سےجزوی طور پر دھندلی ہو جاتی ہے۔ تاہم اس کے نشانات مکمل طور پر ہٹانے کے لئے بازار میں دستیاب “مفاہمت سپاٹ ریموونگ کریم” انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔ دوسری جانب جمہوریت کے باپ، انقلاب کے شہید، قوم کی بیٹی یا ماں جیسے ٹھپے استعمال میں آسان ہونے کے باعث سیاسی جماعتوں کے شوہروں، بیویوں، بھائیوں، بہنوں، بیٹوں اور بیٹیوں کے زیر استعمال رہتے ہیں۔

سرکاری ٹھپہ یا مہر:
ٹھپوں یا مہر وں کی یہ قسم سماج میں دوستانہ اور خیر سگالی کے جذبات پھیلانے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ اسے ٹھیکہ، لیز، لائسنس، اجازت نامہ، پرمٹ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ عموماً سرکاری وزارتوں اور دفاتر میں پائی جاتی ہے اور ثبت ہونے کے فوراً بعد لگانے اور لگوانے والے دونوں فریقوں کی مالی حالت میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ سرکار اور کاروباری طبقہ کے درمیان موجود قوانین و ضوابط نامی کھائی کو پاٹنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ادبی مہر:
ٹھپوں اور مہروں کی یہ قسم بہت جاذب نظر اور خوبصورت غلاف میں ملفوف پائی جاتی ہے۔ اس کی اہم اقسام میں دائیں بازو، بائیں بازو، فاشسٹ، کمیونسٹ، انسانی حقوق، اعتدال پسند، انتہا پسند، ترقی پسند اور شدّت پسند شامل ہیں۔ ان مہروں کے استعمال کے بہترین مظاہرے ٹاک شوز، اخباری کالموں اور بلاگز میں پائے جاتے ہیں۔ حسب ضرورت اس ٹھپے کی ایک سے زیادہ اقسام بھی یکے بعد دیگرے یا بیک وقت استعمال کی جا سکتی ہیں۔ سر کے اوپر یا ٹھوڑی کے نیچے گھنے لمبے بال، خشمگین نگاہیں، چہرے پر تیوریاں اور عربی اردو اور انگریزی کے بھاری بھر کم اور غیر معروف الفاظ ادبی ٹھپوں کی افادیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

سماجی ٹھپہ:
چونکہ یہ ٹھپہ لگانے میں انتہائی آسان اور ہر گھر میں دستیاب ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال بھی بہ نسبتِ دیگر کہیں زیادہ معروف و مقبول ہے۔ طبقاتی، صنفی اور معاشرتی تفریق کے مطابق اس کی مختلف اقسام استعمال کی جاتی ہیں۔ مارکیٹ میں دستیاب اس ٹھپے کی جن اقسام کی مانگ دیکھنے میں آتی ہے ان میں جاہل، گنوار، اجڈ، پینڈو، مولوی، مادر پدر آزاد، پسماندہ، برگر، ممّی ڈیڈی شامل ہیں۔ گزرے دنوں میں حرام خور، بد عنوان اور بدکردار کے نام سے ٹھپے بھی پائے تھے لیکن جمہوریت، مفاہمت اور جدیدیت کے پھیلاؤ کے باعث اب یہ متروک ہو چکےہیں۔ تاہم اس مد میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ بدکرداری کا یہ ٹھپہ مرد پر لگے تو اس کا اثر معدوم ہونے میں اتنی ہی دیر لگتی ہے جتنی دیر میں کلین شیو شخص کی ڈاڑھی اگتی ھے۔ تا ہم عورت پر بدکرداری کا ٹھپہ لگے تو اس کے غسلِ تدفین سے بھی نہیں دھلتا۔

اس شعبے میں ملکِ عزیز دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اس صنعت میں روز نِت نئی جدّت اور اختراعات نمودار ہو رہی ہیں۔ امید ہے اس ترقی کی بدولت ملک سے جلد ہی غربت، بے انصافی اور لا قانونیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ من حیث القوم ہماری یہ ذمہّ داری ہے کہ مسّرت اور شادمانی کی جانب اس سفر میں ساہیوال، کوئٹہ، صفورہ گوٹھ، قصور اور یوہنّا آباد جیسی غلط فہمیوں کو راہ کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔

(Visited 89 times, 2 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: