پرنٹ میڈیا کا موجودہ بحران: حقائق کیا ہیں؟ —– سلیم فاروقی

0
  • 142
    Shares

گذشتہ کچھ عرصہ سے پاکستانی میڈیا کی موجودہ زبوں حالی اور اس کی بحالی کی ضروریات پر بحث چل رہی ہے۔ چونکہ کچھ عرصہ میں نے بھی پرنٹ میڈیا انڈسٹری میں اہم عہدے پر ذمہ داریاں بھی ادا کیں جن کی وجہ سے میں تھوڑا بہت اخباری دنیا کے حقائق سے واقف بھی ہوں۔ میری ذمہ داریوں کی باعث میری رسائی ایسی معلومات تک بھی رہی جن سے عموماً صحافتی دنیا کے اہم کار پردازان کو محروم رکھا جاتا ہے، خواہ ان کی ادارے میں کتنی ہی اہم حیثیت ہو۔ دراصل میری رسائی پاکستان میں شائع ہونے والے بڑے اور نامور اخبارات کی اصل سرکولیشن یا سیلز کے اعداد و شمار تک رہی اور میرے علم میں یہ بھی رہا کہ مختلف ادارے اپنی سرکولیشن یا سیلز کے اعداد و شمار میں کس حد تک غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ چونکہ میں ایک ذمہ دار عہدے پر رہا ہوں اور یہ اعداد و شمار میرے پاس ان اداروں کی امانت کے طور پر رہے ہیں اور اداروں کی مجھ سے یہ توقع رہی کہ میں ان کی امانت کی ہمیشہ پاسداری کروں گا لہٰذا میں اعداد و شمار تو پیش نہ کر پاؤں گا لیکن ان کی روشنی میں اپنا تجزیہ ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں پیشہ ورانہ طور پر اداروں کے اس طریقہ کار سے کبھی متفق نہیں رہا اور اس کو ہمیشہ ایک پراڈکٹ کے لیے سِم قاتل سمجھتا رہا، بطور پیشہ ور ملازم آپ اپنے ادارے کی انتظامیہ کو مشورہ تو دے سکتے ہیں لیکن عمل بہرحال انتظامیہ کے فیصلوں پر ہی کرنا پڑتا ہے، سو اپنی خواہش کے برعکس اداروں کے فیصلوں پر عمل کرنا میری مجبوری رہی۔ یہ میں آگے چل کر اپنی تحریر میں بتاؤں گا کہ ان اعداد و شمار کو چھپانے کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ؟

دراصل پرنٹ میڈیا کے موجودہ بحران میں اسکے مالکان کی دانستہ یا نادانستہ کوتاہی کا دخل زیادہ ہے۔ اب جب کہ میڈیا ایک تحریک سے زیادہ انڈسٹری کا درجہ اختیار کر چکا ہے اور مالکان سمیت تمام ہی متعلقہ افراد اس بات کا برملا اقرار بھی کرتے ہیں تو اس سے انڈسٹری ازم کے فوائد تو حاصل کیے گئے لیکن وہ وسائل کبھی فراہم نہیں کیے گئے جو کسی بھی صنعت کی بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔

کسی بھی صنعت کی کامیابی کا دار و مدار دو بنیادی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اول اس کی پروڈکشن میں استعمال کے لیے حتیٰ المقدور دستیاب بہترین خام مال استعمال کر کے ایک قابل بھروسہ برانڈ بنانا اور پھر اس کی پیداواری لاگت کے ساتھ مارکٹ میں اس کی طلب اور اس کے صارف کی قوت خرید کا اندازہ لگا کر مناسب قیمت فروخت طے کرنا۔ بد قسمتی سے یہ اہم فیکٹر انڈسٹری کے مالکان اور انتظامیہ نے کبھی مدنظر رکھا ہی نہیں اور اسی کا پھل آج کاٹنا پڑ رہا ہے۔

میں اگر مختصراً اپنی بات واضح کرنا چاہوں تو سب سے پہلے اسی غلط خیال کو سامنے لاوں گا کہ جب بھی میڈیا اور خصوصاً پرنٹ میڈیا میں پیداواری لاگت کا تذکرہ کیا گیا ہمیشہ کاغذ کی قیمت، روشنائی کی قیمت، بجلی کی قیمت، ترسیل و تقسیم کی لاگت کو سامنے لایا گیا، حالانکہ میڈیا انڈسٹری کا بنیادی خام مال انسانی ذہن یا افرادی قوت ہے۔ یہی وہ بنیادی خام مال ہے جو ایک سادہ کاغذ کے ٹکڑے کو قابل فروخت پراڈکٹ میں تبدیل کرتا ہے ورنہ آپ کے کمپیوٹر، پرنٹنگ پریس اور روشنائی وغیرہ میں اتنی قوت ہرگز نہیں ہے کہ وہ 24χ36 کی کاغذ کی ایک شیٹ کو اس قابل بنا سکیں کہ کوئی بھی فرد صبح ہی صبح اس کا انتظار کرے۔ بد قسمتی سے اس افرادی قوت کو ہمیشہ ایک اثاثے کے بجائے بوجھ سمجھا گیا۔ حالانکہ ایک وقت تھا جب اخبارات کی ساکھ اس میں کام کرنے والے افراد کی وجہ سے قائم ہوا کرتی تھی اور آج یہ پوزیشن ہے کہ آپ سروے کروا لیجیے عام قارئین کو شائد بڑے بڑے اخبارات کے مالکان کا نام تو معلوم ہو لیکن ان کے مدیران کے نام سے شائد ہی کوئی واقف ہو، حالانکہ یہ مدیر ہی ہوا کرتا تھا جس کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوا کرتا تھا۔ اب مالکان کا ہاتھ سیاست کی نبض پر ہوتا ہے اور وہ اپنے اخبار کی مدد سے سیاسی قوتوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں، اس چکر میں معاشرے کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں نتیجہ یہ کہ معاشرے کا اعتماد بالکل کھو چکے ہیں۔

اس کو اس طرح سمجھیں کہ مولانا ظفر علی خان، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر زعیم صحافیوں کا نام ہی اخبار کی کامیابی کی دلیل ہوا کرتا تھا اور لوگ ان کے نام پر ہی اخبار خریدا کرتے تھے۔ لیکن ان کے دور کو ماضی بعید سمجھ کر اور اس دلیل کے ساتھ ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ اس دور میں ابلاغ کا واحد ذریعہ اخبار ہی ہوا کرتے تھے اس لیے لوگ اخبارات کی جانب متوجہ رہتے تھے اور اخبارات کی اشاعت آج جتنا سہل نہ تھی اس لیے گنے چنے اخبارات ہوا کرتے تھے اور آج کی طرح الیکٹرونک یا ڈیجیٹل میڈیا مہیا نہ تھے اس لیے بھی شائد لوگ اخبارات کی طرف جانے پر مجبور تھے۔ لیکن ذرا ماضی قریب کی ہی ایک مثال دیکھ لیں کہ ایڈیٹر کی شخصیت کا اخبار کی پسندیدگی پر کس طرح اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ مثلاً  آپ دیکھیں کہ روزنامہ جسارت کے جماعت اسلامی کا ترجمان اخبار ہونے کے باوجود صلاح الدین صاحب مرحوم کی ادارت کے زمانے میں، اس کے قارئین میں ادباء، شعراء، کھیلوں کے شوقین افراد، طلبہ، نوجوان اور خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی اور جن کی اکثریت جماعت اسلامی کے مخالف تھی لیکن ان کے اخبار کے انتخاب میں جسارت سرِ فہرست تھا۔ دراصل صلاح الدین صاحب کے زمانے میں جسارت معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا کرتا تھے۔ جب صلاح الدین صاحب جسارت سے علیحدہ ہوئے تو جسارت پر زوال آنا شروع ہو گیا اور آج جسارت کایہ حال ہے کہ یہ جماعت اسلامی کے ووٹرز بھی نہیں خریدتے ہیں۔ لہٰذا میرے خیال میں ضروری یہ ہے کہ معیاری افرادی قوت کو اسی طرح اہمیت دی جائے جس طرح کسی بھی دوسری پراڈکٹ میں معیاری خام مال کو دی جاتی ہے۔ ورنہ بالکل وہی صورت حال ہوگی کہ آپ اپنی گاڑی ڈرائیور کے حوالے تو کر دیں لیکن ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس کی ڈرائیونگ کے دوران اس کو مسلسل ٹوکتے رہیں کہ اب تیز چلاؤ، اب آہستہ کرو، اب بریک لگاؤ، دائیں سے نکلو، بائیں سے نکلو، دیکھو دیکھو سامنے والے سے بچو، ارے پیچھے والے کا خیال کرو اور جب آپ مسلسل ہدایات دیتے رہیں گے تو نتیجہ حادثہ کی صورت میں ہی نکلے گا اور آج پرنٹ میڈیا انڈسٹری اسی حادثے کا شکار نظر آ رہی ہے۔

دوسری اہم بات نفع نقصان پیش کرتے ہوئے وہی کہانی سنائی جاتی ہے کہ کاغذ کی پیداوار کی لاگت اتنی ہوئی اور نیوز ایجنٹ کا کمیشن کاٹنے کے بعد ادارے کو اتنے پیسے ملے گویا جتنے میں سادہ کاغذ نہیں آتا ہے اس سے کم مالکان کو تیار شدہ اخبار کے ملتے ہیں۔ حالانکہ سب کو علم ہے کہ اخبارات کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اشتہارات ہی ہوا کرتے ہیں۔ لیکن آج تک ان اشتہارات کا فائدہ کبھی قاری کو نہیں پہنچایا گیا ہے۔ عموماً اخبارات میں اتوار کو اشتہارات سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور اس روز اداروں کی آمدنی بھی سب سے زیادہ ہوتی لیکن اس دن بھی قاری کو فائدہ پہنچانے کی بجائے قیمت بڑھا کر اور ریڈنگ میٹیریل کم کر کے دو گنا نقصان ہی پہنچایا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی یہ عذر پیش کرے کہ اس دن صفحات بھی زیادہ ہوتے ہیں اور میگزین بھی ہوتا ہے اس کی لاگت زیادہ ہوتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں یہ دلیل ماننے کو ہرگز تیار نہیں ہوں۔ میں جس پوزیشن پر کام کر چکا ہوں اور میرے پاس جس قسم کا اندرونی ڈیٹا موجود رہا وہ میرے پاس اداروں کی امانت ہے، وہ شائد میں کبھی کسی کو نہ لیکن میں اس ڈیٹا کی مدد سے بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک کے چھ سے آٹھ بڑے اخبارات قارئین کو مالی فائدہ نہ بھی پہنچائیں صرف اتنا ہی کریں کہ ایک فارمولہ بنا لیں کہ ایک اخبار میں پرنٹڈ ایریا کا کم از کم ساٹھ فیصد خبروں، تبصروں اور دیگر ریڈنگ میٹیریل پر مبنی ہوگا اور چالیس فیصد اشتہارات پر مبنی ہو گا تو آج بھی ہماری انڈسٹری میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ یہ انڈسٹری دوبارہ اکھڑی ہو سکتی ہے۔

یہاں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ڈیجیٹل میڈیا کی باعث اخبارات کی مارکٹ دنیا بھر میں کم ہو رہی ہے تو ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ لیکن میں یہ بھی ماننے کو تیار نہیں ہوں۔ کیونکہ کسی بھی انڈسٹری کو ایک خاص مقام پر پہنچنے کے بعد ہی زوال آنا شروع ہوتا ہے۔ اس مقام کو سیچوریشن پوائینٹ کہا جاتا ہے۔ آپ ہی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتا دیجیے کیا ہمارے ملک کی پرنٹ میڈیا انڈسٹری سیچوریشن پوائینٹ پر پہنچ چکی ہے؟ یقیناً آپ کا جواب نہیں میں ہو گا۔ اس کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ قومی اخبارات کی فروخت تو کم ہوتی جا رہی ہے لیکن مقامی اور صوبائی زبان کے اخبارات کا وہ برا حال نہیں ہے۔ ذرا سندھی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات کی ٹوٹل فروخت جمع کیجیے تو پتا چلے گا یہ کئی قومی اخبارات سے کہیں زیادہ ہے۔

ایک سب سے اہم وجہ یہ رہی کہ اخباری مالکان نے ٹی وی چینل شروع کرنے کے بعد اس کو اتنی توجہ دی کہ اخبار کو بالکل ہی عضو معطل سمجھ لیا۔ حالانکہ ان کے کاروبار میں اخبار کی حیثیت بالکل اس ماں کی سی تھی جو اپنے بچوں کو اپنا خون پلا کر پالتی پوستی ہے، خود گیلے میں سو کر اپنی اولاد کو سوکھے بستر پر سلاتی ہے، لیکن جب وہ بچا بڑا ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا ہے اور اس قابل ہوتا ہے کہ ماں کو سہولت بھری زندگی گزارنے پر راضی کرے وہ اس وقت بھی وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یا اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے اپنی بوڑھی ماں سے اس کی بچتوں میں سے پیسہ اینٹھتا رہتا ہے۔ اور جب ضعیف اور طویل العمری کی باعث ماں نہ صرف اس کی خواہشات پوری کرنے کے قابل نہیں رہتی ہے بلکہ اب وہ اس قابل ہوتی ہے کہ بیٹا اس کا علاج معالجہ کروائے اور اس کی دیکھ بھال کرے تویہ بیٹا ماں سے کنارہ کش ہو کر اپنی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے۔ ماں پر صرف اتنا احسان کرتا ہے کہ وہ ماں کو یہ سوچ کر گھر میں ایک کونا ہی تو گھیرے گی اور وقتاً فوقتاً دعائیں ہی دے گی۔

یہی دیکھ لیں کہ اخبارات سے کمائی ہوئی دولت سے ٹی وی چینل اور ڈیجیٹل میڈیا کا پورا نیٹ ورک کھڑا کر لیا۔ اپنے اخبار کے صفحہ اول، صفحہ آخر کے علاوہ ان تمام صفحات کا معتدبہ حصہ اپنے چینل کے پروگراموں کے اشتہارات کے لیے مختص کر دیا لیکن ان اشتہارات کی ادائیگی چینل کے اکاؤنٹ سے اخبار کے اکاؤنٹ میں اتنی بھی نہ کی جتنی سرکاری ریٹ سے خود ان کو ہوتی ہے۔ حد تو یہ کہ نقد ادائیگی نہیں کرنا چاہتے ہیں نہ کریں لیکن اسی کے مساوی بارٹر سسٹم کے تحت اپنے اخبار کا اشتہار اپنی چینل میں ہی دے دیں۔ اگر کسی نے اشتہار دیا بھی تو اس کا مقصد اخبار کی سیل میں اضافہ نہیں بلکہ مشتہرین کو متوجہ کرنے کے لیے تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی بجائے ہمارے اخبار میں اشتہار دیجیے۔ مطلب یہ کہ یہاں بھی اخبار کو دوسرے درجے کا شہری ہی سمجھا گیا۔

پھر سب سے اہم چیز اخباری دنیا میں جو بالکل ہی عنقا ہے وہ ہے شعبہ مارکیٹنگ۔ مجھے سوائے ایک آدھ اخبار کے کہیں بھی مارکیٹنگ کا شعبہ نظر ہی نہیں آیا اور جہاں ہے وہاں بھی جزوی طور پر ہی ہے۔ میرے اس دعویٰ کو سن کر اکثر اخبارات کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ والے مجھ پر اسی طرح مسکرائیں گے جس طرح کسی بھی دیہاتی کسان کو دھوتی پر ٹائی باندھے دیکھ کر۔ لیکن ایک منٹ کو میرا ایک جملہ سن لیں۔ اخباری دنیا میں جس کو مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کا نام دیا جاتا ہے اور حقیقت میں سیلز ڈپارٹمنٹ ہی ہے مارکٹنگ ڈپارٹمنٹ نہیں ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے جس کو آپ لوگ سرکولیشن کہتے ہیں وہ اخبار تقسیم ہی کرتا ہے، فروخت نہیں کرتا ہے، کیونکہ جب وہ فروخت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تقسیم کار نیٹ ورک اس کی راہ میں اتنے روڑے اٹکاتا ہے کہ خود مالکان کہتے جیسا چل رہا ہے ویسا ہی چلنے دو۔ مارکٹنگ والے اخبار نہیں اخبار میں اشتہار کی جگہ (اسپیس) فروخت کرتے ہیں اور آخر میں پتا یہ چلتا ہے کہ اخبار بیچ تو کوئی بھی نہیں رہا ہے۔ اخبار کی گنجائش کا سروے تو کسی ادارے میں نہیں ہوتا ہے، قاری کیا پڑھنا چاہتا ہے یہ جاننے کا ذمہ دار کوئی بھی ڈپارٹمنٹ نہیں ہوتا ہے۔ اپنے اخبار کے مزاج کے لحاظ سے متوقع مارکٹ کا پتا کوئی بھی نہیں چلاتا ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ میں بہت اچھا سا پیزا بنا لوں لیکن بیچنے کے لیے اس کو پیز ہٹ کے کاؤنٹر پر رکھوا دوں اور بعد میں گلہ کروں پیزا ہٹ والے میرا پیزا پروموٹ ہی نہیں کر رہے ہیں۔ تو جناب جب تک میں اپنا پیزا خود بیچنے کی کوشش نہیں کروں گا اس وقت تک میری کوئی ساکھ قائم نہیں ہو گی۔

ایک اور اہم چیز یہ کہ اخبارات اپنی سیل یا سرکولیشن کے حقیقی اعداد و شمار کو کسی کنواری لڑکی کے گناہ کی طرح چھپا کر اپنے جانتے میں لوگوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ کہ وہ خود فریبی کا ہی شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ سیل یا سرکولیشن کے ان اعداد و شمار کو چھپانے کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا۔ سب کو معلوم ہے کہ اخبارات کا سرکولیشن سرٹیفیکیٹ جو سرکاری ادارہ جاری کرتا ہے اس کا اس کے اور اخباری اداروں کے درمیان وہی صورت حال ہوتی ہے جو کسی پھیری والے سے کمبل خریدتے وقت ہوتی ہے کہ اخباری ادارہ ایک لاکھ کاپی کا سرٹیفیکیٹ مانگتا ہے اور سرکاری ادارہ پچاس ہزار کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتا ہے اور اخباری ادارہ زیرلب مسکراتے ہوئے یہ سوچ کر سرٹیفیکیٹ قبول کر لیتا ہے کہ ابھی بھی اصل سے پانچ گنا تعداد کا سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ سرٹیفیکیٹ اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب نیوز پرنٹ کوٹے سے ملا کرتا تھا اور اخبارات اس سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر اپنی اصل ضرورت سے پانچ اور دس گنا نیوز پرنٹ خرید لیا کرتے تھے اور اضافی کاغذ مارکٹ میں بیچ کر بالائی کھا لیا کرتے تھے۔ اب کوٹہ سسٹم ختم ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سرٹیفیکیٹ سرکاری اشتہارات کے نرخ طے کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ لیکن جب سے اشتہاری ایجنسیوں نے سرکاری اشتہارات جاری کرنے اور ان کی ادائیگی کرنا شروع کی ہے تو وہاں بھی اس سرٹیفیکیٹ کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اب تو بڑے سے بڑا اخبار بھی اشتہاری کمپنی کو اپنا یہ سرٹیفیکیٹ دکھائے تو وہ کہتے ہیں یہ فضولیات ہمیں نہ دکھاؤ، یہ بتاؤ جو ریٹ ہم بتا رہے ہیں اس پر اشتہار لینا ہے یا صرف ایک پیالی چائے پی کر نکل لو گے؟ خدا جانے یہ اعداد و شمار کس سے چھپا کر کیا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اب تو تمام مقابل اخبارات ایک دوسرے کے پرنٹ آرڈر تک کی کاپیاں حاصل کرلیتے ہیں، اشتہاری ادارے ان سرٹیفیکیٹ کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے ہیں اور کوٹہ میں اس کی ضرورت نہیں رہی۔

اعداد و شمار کو چھپانے کا نقصان ہم بتائے دیتے ہیں۔ اخباری ادارے اپنی اصل سیل اور سرکولیشن اپنے ایڈیٹر تک سے چھپاتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایڈیٹر کو معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان کی کس خبر یاکس آرٹیکل کو عوام میں کتنی پذیرائی ملی ہے یا عوام کی جانب سے کس حد تک اس کو رد کیا گیا ہے۔ اور پھر ان کا اخبار آبادی کے کس طبقے میں کس حد تک مقبول ہے یا کس طبقے میں نامقبول ہے۔ اور پھر ان کو اپنے اخبار کے کس حصے پر زیادہ اور کس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے اور کس حصے کو بند کرکے اس کی جگہ ایسا کون سا حصہ شروع کیا جائے جو عوام میں مقبول ہوسکے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے کہ ہوٹل کا مالک اور بیرا ہوٹل کے باورچی سے اس کے پکائے ہوئے کھانوں کے ذائقے کی عوامی پسندیدگی یا ناپسندیدگی چھپائے اور پھر یہ توقع رکھے کہ گاہک صرف ہوٹک کا نام یا مالک کا نام سن کر ہی وہاں کھانا کھانے آتے رہیں گے، تو یہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ اگر اپنے ہوٹل کو عوام میں مقبول رکھنا ہے تو اپنے باورچی کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنا ضروری ہو گا۔

موجودہ حالات میں میڈیا سے متعلق افراد میڈیا کی بحالی کے لیے جو کچھ کرنا چاہ رہے ہیں وہ ریسکیو آپریشن تو ہوسکتا ہے لیکن ضرورت بحالی آپریشن کی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج پاکستان کے معاشی مسائل میں سعودی عرب اور عرب امارات اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے ملنے والی مالی معاونت کی حیثیت ابتدائی طبی امداد والی ہے اس کے بعد ضرورت مریض کی مکمل بحالی کی ہوگی ورنہ سب ضائع ہو جائے گا، اسی طرح پرنٹ میڈیا بھی مکمل بحالی چاہتا ہے ورنہ سب ضائع ہوجائے گا۔

اب آتے ہیں اس انڈسٹری کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کی جانب۔
اگرچہ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوگا کہ یہ اقدامات اٹھائے گا کون؟ ظاہر ہے اس کا جواب یہ ہوگا کہ ان اقدامات میں سے اکثریت کا تعلق مالکان سے ہی ہے ان ہی کو یہ اقدامات اٹھانے پڑیں گے اب یہ الگ بات کہ کیا بلی اپنے گلے میں یہ گھنٹی بندھوانے کو تیار ہو جائے گی؟

بحالی کے لیے مالکان کو سب سے پہلے تو یہ کرنا ہوگا کہ اپنے اخبارات میں شائع ہونے والے اپنے چینل کے پروگراموں کے اشتہارات کی فوری ادائیگی کریں اور اس سے حاصل کردہ آمدنی اخبارات کے لیے آکسیجن کا کردار ادا کرے گی۔ اور یہ ادائیگی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ اخبارات کے لیے سرکاری اشتہارات کی مد میں پھنسی ہوئی رقم کا ادا ہونا۔

اس کے بعد اپنے ایڈیٹوریل بورڈ کو اپنی سیل اور سرکولیشن کے اصل اعداد و شمار میں شریک کیجیے تاکہ وہ اس کی روشنی اخباری مواد کو توجہ دے کر عوامی خواہشات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

اپنے اخباری کارکنان کو اتنی ہی اہمیت دیجیے جتنی کسی بھی پراڈکٹ کے لیے استعمال ہونے والے خام مال کیمیکل وغیرہ کو دی جاتی ہے کہ ایک ومدہ اور مقبول پراڈکٹ بنانے کے لیے خام مال کی کولٹی پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاتا ہے۔ خواہ اچھا خام مال کتنا ہی گراں ہو وہی حاصل کیا جاتا ہے۔

مارکٹ میں مسلسل ریسرچ کا انتظام کیجیے اور معلوم کرتے رہیے کہ آپ کا اخبار کون سے عوامی طبقے میں مقبول ہو رہا ہے اور کس طبقے میں مقبولیت کے لیے مزید توجہ درکار ہے۔

چونکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات کو ٹی وی میڈیا بھرپور انداز میں کور کر لیتا ہے اس لیے اب اخبارات کو فالو اپ اسٹوریز اور مقامی خبروں پر پوری توجہ دینی ہوگی اور مقامی صفحات میں پریس ریلیز اوربیانات کی بجائے وہاں بھی تحقیقی رپورٹنگ پر توجہ دینی ہوگی تاکہ دیہی اور مضافاتی علاقوں میں موجود مارکٹ گنجائش کو اپنے لیے اثاثہ بنایا جاسکے۔

اخبارات کو اپنے شعبہ اشتہارات کو بھی مزید موثر بنانا ہوگا اور اشتہاری نمائیدگان ضلع اور تحصیل کی بنیاد پر نامزد کیے جائیں اور وہاں موجود رپورٹرز سے یہ ذمہ داری واپس لے لی جائے کیونکہ اس طرح جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ان سے ان علاقوں کے عوام و خواص اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وہ خامی ہے جس کی وجہ سے صحافی اور لفافہ نامی الفاظ ایک دوسرے کا نعم البدل بن چکے ہیں۔ جبکہ اشتہاری نمائیندہ وہاں کے اصل کاروباری افراد سے کاروباری اشتہارات حاصل کرکے حقیقی مارکٹ سے اپنا حصہ حاصل کرسکے گا نہ کہ علاقے کے سیاسی افراد کی جانب سے صرف تہنیتی پیغام حاصل کرکے صرف اپنی پی آر بڑھائے۔

معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی کے لیے خانہ پری سے نکل کر حقیقی صفحات شروع کیے جائیں اور ان طبقات میں اختصاص رکھنے والے صحافیوں کے ذریعے ہی ان صفحات کو ترتیب دلوایا جائے نہ کہ میگزین سیکشن نامی ڈپارٹمنٹ قائم کرکے دو افراد کو بٹھا دیا جائے اور وہ روزانہ ڈیڑھ دو صفحات ترتیب دینے کے لیے سوشل میڈیا سے کاپی پیسٹ کا سہارا پر مجبور ہوں۔

اخبارات میں بچوں کے صفحات کو بھرپور توجہ دے کر ان کو ترتیب دلوایا جائے کیونکہ ماضی گواہ ہے کہ یہی صفحات تھے جو بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے علاوہ مستقبل کے لیے وفادار قارئین بھی فراہم کرتا ہے۔ باغ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ پھلدار درختوں سے پھل حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً باغ میں نئے پودے لگانا معمول کی بات ہے تاکہ جب موجودہ درخت اپنی افادیت کھو بیٹھیں تو ان کی جگہ لینے کے لیے نئے درخت بر وقت موجود ہوں نہ کہ باغ اجذ جانے کے بعد پودے لگا کر برسوں بار آوری کا انتظار کیا جائے۔

امید ہے میری یہ چند گزارشات اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے حالات کی بہتری میں مدد کریں گی بشرطیکہ کوئی واقعی حالات کو سدھارنا چاہے۔

(Visited 35 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: