سابق چیئرمین نادرا طارق ملک سے انٹرویو ——- احمد اعجاز

0
  • 41
    Shares

’’انتخابی نظام میں قانون سازی کی نہیں، قانون پر عملدرآمد کی ضرور ت ہے‘‘
’’جو لوگ ووٹ کے تقدس کے خلاف کھیلتے ہیں، وہ ملکی سلامتی کے خلاف کھیلتے ہیں‘‘


طارق ملک دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے وقت ملک میں ایک اہم ادارے نادرہ کے چیئرمین تھے۔ انتخابات کے بعد جب دھاندلی کا شور اُٹھا اور نادرا کی خدمات لینے کی بات کی گئی تو حکومت اور نادرا کے چیئرمین کے مابین معاملات خراب ہوتے چلے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طارق ملک کو استعفیٰ دینا پڑا اور پھر ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ طارق ملک ایک محب وطن شہری تھا اور ایک اہم ادارے کا سربراہ تھا، کو ملک کیوں چھوڑ کر جانا پڑا، ایسے کیا حالات پیدا ہوئے کہ اُن کو استعفیٰ دینا پڑا؟ یہ باتیں اس ملک کا ہر باشعور شہری جانتا ہے۔ اس وقت طارق ملک پاکستان میں ہیں، ان سے طویل نشست ہوئی۔ یہاں اُن سے ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔


سوال: آپ کیا سوچ کر پاکستان واپس آئے ہیں۔ وہ کون سا ایسا جذبہ ہے، جو آپ اپنے ملک کھینچ لایا ہے؟
جواب: میرا سٹیک یہ ہے کہ پاکستان اچھا ہوتا کہ ہم باہر جب جائیں تو وہاں اچھے لگیں۔ جب ہم باہر جا کر پاکستان کے حوالے سے تعارف نہیں کرواتے تو دُکھ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر یون این ڈی پی اپنے ملازم کے بارے کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایمپلائی ہے۔ امریکہ میں ہم ملازمت کریں تو امریکہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایمپلائی ہے۔ اسی طرح ہم کینیڈا میں جا کر ملازمت کریں تو کینیڈین کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ہے۔ لیکن ہم پاکستانیوں کو اندر سے پتا ہوتا ہے کہ ہمارا کون ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ہمارا تو پاکستان ہے۔ یہ جو اندر کی بات ہوتی ہے، یہی مجھ اور میرے جیسے کئی پاکستانیوں کو باہر سے یہاں کھینچ لاتی ہے۔ ہم یہاں کام کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ کہلوانا چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان کا ایمپلائی ہے، مگر یہاں آنے والوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا اور ایک بار پھر ہم باہر چلے جاتے ہیں۔ اس طرح ہم جو دو کشتیو ں کے سوار ہوتے ہیں ، ہمیشہ دِل میں یہ تمنا رکھتے ہیں کہ پاکستان جینوئین طریقے سے آگے بڑھے اور یہاں کے لوگوں کو پاکستان کے اندر قبول کیا جائے۔

سوال: لیکن ہمارا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ ان دو کشتیوں پر سوار افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم واپس جا رہے ہیں تو رُسوا ہو کر پھر واپس آنا پڑے گا، یہ پھر بھی واپس آ جاتے ہیں، آخر کیوں؟
جواب: یہ ملک سے بے پایاں محبت ہوتی ہے، یہ واپس لے کر آتی ہے۔ محبت کا مطلب ہے کہ کھڑے ہو جانا۔ محبت اصولوں اور آدرش کے لیے کھڑے ہونے کا نام ہے ۔

سوال: کیا یہ آدرش کا جذبہ صرف اُن لوگوں میں موجود ہے جو باہر چلے جاتے ہیں اور دُور بیٹھ کر پاکستان سے محبت کرنے لگ پڑتے ہیں؟
جواب: بالکل! یہ اُن لوگوں میں ہے جو باہر چلے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انہیں لوگوں کی وجہ سے ہماری اس سوسائٹی میں تبدیلی آتی ہے اور آ رہی ہے ۔ایک نیا perspective آتا ہے اور آرہا ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے یہاں اب یہ بیانیہ آرہا ہے کہ جب پاکستان کے لوگ باہر جا کر کامیاب زندگیاں گزارتے ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ اپنے ملک میں کامیاب زندگیاں کیوں نہیں گزار سکتے ہیں؟ ایسا صرف ہمارے ساتھ نہیں۔ یہ باقی ممالک کے ساتھ بھی، جہاں تبدیلی آئی، ایسا ہی ہوا۔ چین کو تبدیل کس نے کیا ؟ چین کو تبدیل overseas chinese (بیرون ملک مقیم چائینز) نے کیا۔ یہی انڈیا کے ساتھ ہوا۔ منموہن سنگھ اور دیگر کچھ لوگ باہر سے پڑھ کر اور ویژن لے کر انڈیا آئے اور وہاںتبدیلی کا باعث بنے۔ یہاں کے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ دہری شہریت چھوڑ دیں۔ یہ کوئی مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں جب یعنی باہر کے رہنے والوں کو یہاں قبول نہیں کیا جاتا لیکن ہم اپنے ملک کو قبول کرتے ہیں اور اس سے محبت کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں پلے بڑھے ہیں، یہاں خواب دیکھے ہیں، یہاں ہمارے آبائو اجداد کی قبریں ہیں۔ یعنی اس ملک سے محبت کے کئی حوالے ہیں۔

سوال: آپ کو اس ملک سے باہر گئے پانچ سال ہو گئے۔ آپ نے باہر بیٹھ کر اس ملک میں اس عرصہ میں کیا تبدیلی ہوتی محسوس کیں؟
جواب: مَیں نے اس عرصہ میں یہ دیکھا ہے کہ لوگ سوالات کرنا شروع ہو چکے ہیں۔ جب حکومتیں یہاں کے عوام اور میڈیا کو دبانے کی کوشش کرتی ہے تو لوگ اُس قدر سوالات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور موبائل فونز نے تبدیلی میں بڑا حصہ ڈالا ہے ۔ اب لوگ ایک طرف نہیں دیکھتے وہ ایک خبر کو بھی کئی زاویوں سے دیکھتے ہیں اور پرکھتے ہیں۔ اس تبدیلی نے اشرافیہ یا سیاسی مفادات طبقہ یا دیگر مفاداتی طبقہ جات کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا کر رکھ دی ہے۔ اس لیے یہ طبقات خوف زدہ ہیں۔ یہ تبدیلی آ کر رہے گی، جو اس کو روکتے ہیں، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اس تبدیلی کو کنٹرو ل کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ متبادل بیانیہ لے کر آئیں۔
مَیں نے یہ تبدیلی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی محسوس کی ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں جو ایک پرائیویٹ آرگنائزیشن کی طرح چلائی جاتی تھیں، اُس میں اُن کے اندر سے اس قدر پریشر آتا ہے کہ اعظم سواتی کو ہٹانا پڑ جاتا ہے۔

لیکن جن تبدیلیوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ عوام کی سطح پر فکر ی و نظری تبدیلیاں ہیں، جیسا کہ لوگوں کے اندر فکر ی سطح پر یہ تبدیلی آئی کہ وہ سوالات کھڑے کرنا شروع ہو گئے اسی طرح سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنی جماعت کے اندر سے اس قدر پریشر کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے کہ وہ اعظم سواتی کو عہدے سے ہٹانے یا اُس کا استعفیٰ منظور کرنے جیسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اداروں میں تبدیلی محسوس کی گئی ہے؟ جیسا کہ انتخابات میں اصلاحات کا معاملہ ہے۔ دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں دھاندلی کا رونا رویا گیا دو ہزار اَٹھارہ کے الیکشن میں بھی یہی رونا پھر رویا گیا، مگر اس دوران شفا ف انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی انتظام نہ کیا گیا۔ یعنی ہمارے ادارے پانچ سال بعد بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ دو ہزار تیرہ میں بھی الیکشن کمیشن پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے کہ شفاف الیکشن میں ان کی کارکردگی کمزور رہی، دو ہزار اَٹھارہ میں بھی الیکشن کمیشن کے ادارے کو اُسی طرح کے اعتراضات کا سامنا ہے؟
دیکھیں! جب دو بار انتخابات میں ان اداروں پر بات آئی تو اس بحث نے بھی زور پکڑا کہ ریاست نے ان اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ریاست ان اداروں پر اثر انداز ہوتی ہے حالانکہ آئینی طو ر پر الیکشن کمیشن کا ادارہ آزاد و خودمختار ہے۔
یعنی آر ٹی ایس سسٹم جو دو ہزار اَٹھارہ کے الیکشن میں بیٹھ گیا تھا، اُس کو جان بوجھ کر بٹھایا گیا تھا؟
مَیں تو یہاں نہیں تھا۔ اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے اور درست وجہ دریافت کرنی چاہیے۔ اسی سے چیزیں آگے بڑھیں گی اور ملک کے اداروں میں استحکام آئے گا۔ یہ بحث اب پیچھے چلی گئی ہے، مَیں سمجھتا ہوں کہ اس بحث کو موجود رہنا چاہیے اور پوری انکوائری ہونی چاہیے۔

سوال: اگر دو ہزار اَٹھارہ کے انتخابات کے موقع پر نادرہ کے چیئرمین ہوتے تو سسٹم پھر بھی بیٹھ جاتا؟
جواب: مَیں نہیں جانتا۔ لیکن اگر مجھے کہیں سے حکم ملتا کہ آر ٹی ایس سسٹم کو بیٹھا دو تو مَیں ایسا نہ ہونے دیتا۔ دیکھیں! اداروں کے سربراہان مضبوط لے کر آئیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو ادارے مضبوط ہوں گے۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہو گا۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، اُن اداروں کے سربراہان کمزور ہوں تو پھر آپ کی ساری قانون سازی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ پاکستان جمہوری عمل سے بنا تھا، اس کے لیے کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی، نہ ہی اس کو کسی نے فتح کیا گیا تھا۔ یعنی جو لوگ ووٹ کے تقدس کے خلاف کھیلتے ہیں، وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف کھیلتے ہیں۔ ایسے لوگ جو مفادات کے اسیر ہوتے ہیں، اُن کی سپیس کو محدود کرنا ہے۔ مَیں بتائوں کہ دو ہزار آٹھ اور دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اُن کی سپیس محدود کیسے ہوئی ؟ پہلے عوام کو پتا ہی نہیں ہوتا تھا کہ دھاندلی انتخابات میں کیسے کی جاتی ہے؟ اُس وقت یہ کیا جاتا تھا کہ ایک سے زیادہ ووٹ کا اندراج ہوتا تھا، گھوسٹ ووٹ رجسٹرڈ ہوتے تھے۔ جب مَیں نے آٹھ کروڑ کی لسٹ دیکھی تو اُس میں تین کروڑ اکہتر لاکھ لوگ ایسے تھے، جن کا کوئی پتا نہیں تھا۔ ہم نے اس سپیس کو محدود کیا۔ پھر ہم نے کہا کہ شناخت کر کے بندے کو پرچی دو۔ ہم نے ووٹرز لسٹوں پر تصاویر لگائیں تا کہ شفافیت آئے۔ لیکن اُس سارے مراحل کا انتظام کرنے والے لوگ ہی اُس پر کمپروز کر جائیں، یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کو سکیورٹی فراہم کی جائے اور آپ سکیورٹی فراہم کرنے والے ہی سے خطرہ اور خوف محسوس کریں۔ پھر آپ نے جو کیا ہو گا وہ سب رائیگاں چلا جائے گا۔ لیکن اُس وقت دھاندلی کرنے والوں نے نیا طریقہ ایجاد کرنا پڑا۔ اُس وقت ہم نے بندوبست کر رکھا تھا، سیاہی کا۔ دھاندلی کرنے والوں کو بھی ہمارے بندوبست کے بارے آگاہی تھی، اُنہوں نے دو نمبر سیاہی کا سہارا لیا۔ جب اس کے باجوود ہم نے بتا یا کہ عبدالحمید جتوئی نے ایک خاتون کے پولنگ سٹیشن سے تین سو دس بار ووٹ ڈالا ہے تو ایک deta analytic سے پیٹرن اُبھرنا شروع ہوا کہ یہاں کافی گڑ بڑ ہوئی ہے۔ یہ عدالت نے کہا یہاں الیکشن دوبارہ ہو گا۔ یوں چیلنجر جیت گیا اور دیفینڈر ہار گیا تو یہ ثابت ہوا کہ اُس میں دھاندلی ہوئی تھی۔ جب یہ سلسلہ آگے بڑھنا شروع ہوا تو ریاست کو تو اس سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا لیکن حکومت کو خطرہ محسوس ہوا۔ گذشتہ الیکشن میں بھی جو اس طرح کے نظام جو شفافیت پیدا کرتے ہیں، اگر اُن کو چلنے ہی نہ دیا جائے تو پھر سوالات تو اُٹھیں گے۔

سوال: اگر آپ دوہزار اَٹھارہ کے الیکشن میں نادرا کے چیئرمین ہوتے تو الیکشن کو شفاف بنانے میں کیا اصلاحا ت کرتے؟
جواب: نادرا اور الیکشن کمیشن دو اہم ادارے ہیں۔ دونوں کو اپنا کام اُس وقت شروع کر دینا چاہیے جب الیکشن اختتام پذیر ہو جائیں۔ یعنی اگلے الیکشن تک کی تیاری کے لیے اُن کے پاس پانچ برس کا ٹائم ہو گا۔ دونوں اداروں کے پاس پانچ برس کا وقت ہوتا ہے۔ اس دوران ان کو چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کو تربیت دیں۔ اگر عملہ تربیت یافتہ ہو گا تو رزلٹ بہتر ہو گا۔

سوال: پاکستان کے الیکشن سسٹم میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟
جواب: اس کے لیے ایک اہم ذریعہ ٹیکنالوجی کا ہے۔ ٹیکنالوجی شفافیت لاتی ہے۔ تین سو بار مرتبہ انگوٹھا لگانے والا تو یہ بات تسلیم ہی نہیں کر رہا تھا کہ اُس نے بار بار ووٹ ڈالا تھا، مگر وہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پکڑ ا گیا۔ ایک سابق وزیرِ اعظم کے حلقہ کے ایک پولنگ اسٹیشن سے رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ نکل آئے تو یہ ٹیکنالوجی نے بتایا۔ یعنی آپ کو شفاف نظام بنانا پڑے گا۔ پھر اُس شفاف نظام پر جیسا ہی عملہ کرے تو اُس کی کارکردگی بھی عیاں ہو جائے گی۔ میرے خیال میں انتخابی نظام میں اب قانون سازی کی زیادہ ضرورت نہیں ہے اب قانون پر عملدر آمد کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابات کا انعقاد ایک بہت بڑی مشق ہے، اُس میں معذرت کے ساتھ ججز کا کام نہیں۔ اگر آپ ایک ریٹائرڈ جج کو چیف الیکشن کمشنر لگا دیتے ہیں تو یہ درست نہیں۔ جس بندے کے بارے ٹیکنالوجی نے بتایا کہ اس نے تین سو سے زائد بار ووٹ ڈالا، اُس سے ان پانچ برس میں کسی نے پوچھا کہ بھئی! تم نے کس کے کہنے پر بار بار ووٹ ڈالا۔ جب کہ عام آدمی جس کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا، اُس کو معمولی غلطی پر عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ اشرافیہ نے غاصب رہنا ہے، مگر لوگ ادراک نہیں رکھتے، عام افراد چونکہ اپنے حقوق کا ادراک نہیں رکھتے تو خرابی مسلسل چلی آ رہی ہے۔ یوں لوگوں کو ادراک و آگاہی دینا بے حد ضروری ہے۔ الیکشن ڈے پر جو سیاسی جماعتوں کا اپنا عملہ وہاں موجود ہوتا ہے، اُن کو دیکھنا چاہیے کہ فارم پینتالیس پر وہ دستخط کر رہے ہیں یا نہیں ، پولنگ اسٹیشن پر دو جمع دو، چار ہو رہے ہیں یا چار کو چالیس بنایا جا رہا ہے؟ یعنی سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی پارٹیاں مضبوط نہیں ہوں گی اور کہیں بیٹھ کر فیصلے کیے جائیں گے کہ یہ صوبہ تم لے لو ، مرکز تم لے لو، تو پھر عوام طاقت ور نہیں بن سکیں گے۔

سوال: دیکھا یہ جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں جب پولنگ ڈے پر پولنگ اسٹیشنوں پر اپنے ایجنٹ مقرر کرتی ہیں تو اُن کی پہلے تربیت نہیں کی جاتی…؟
جواب: جی! مَیں یہی کہہ رہا ہوں کہ کئی کروڑ ایک اُمیدوار اپنے الیکشن پر لگا دیتا ہے مگر ایجنٹ کی تربیت پر دو چار لاکھ نہیں لگاتے۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں دھاندلی کو دیکھنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا، کو ن اُس جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کر رہا تھا؟ اُس وقت کے وزیرِ اعظم خود کر رہے تھے۔ جب یہ دیکھا گیا کہ الیکشن کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو اُس کے بعد وزیرِ اعظم نے الیکشن کمیشن کو کہا کہ یہ بے قاعدگیاں کیوں اور کیسے ہوئیں؟ مزید یہ کہ دوبارہ نہیں ہونی چاہئیں؟ بلکہ اگلے الیکشن میں اُس سے بھی زیادہ بے قاعدگیاں ہو گئیں۔

سوال: دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور اُٹھا، اُس دھاندلی کو دیکھنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا، جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ دی کہ انتخابات میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ ان بے قاعدگیوں کو منظم دھاندلی نہیں کہا جا سکتا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ بے قاعدگیاں ہوئی تھیں یا منظم دھاندلی کی گئی تھی؟
جواب: دیکھیں! مَیں نے چند حلقوں کی جانچ پڑتال کی تھی، اُن حلقوں کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ بے قاعدگیاں ہوئی ہیں، منظم دھاندلی نہیں کی گئی تھی۔ لیکن یہ دلیل بڑی خراب سی ہے۔ یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ ڈاکوئوں کے گینگ نے یہ قتل نہیں کیا، بلکہ اُس گینگ کے کچھ بندوں نے یہ قتل کیا ہے۔ جیسا کہ یہ کہنا کہ دہشت گرد جماعت نے یہ حملہ نہیں کیا بلکہ اُس جماعت کے کچھ شرپسندوں نے حملہ کیا ہے۔ دیکھیں! کسی بھی الیکشن میں منظم دھاندلی نہیں ہوتی، مسئلہ پینتیس چالیس سیٹوں کا ہوتا ہے۔ ہم نے اُن بے قاعدگیوں کو روکنا ہے کہ پینتیس چالیس سیٹیں ادھر اُدھر نہ ہوں۔ دو ہزار اَٹھارہ کا الیکشن بھی مکمل طور پر دھاندلی زدہ نہیں تھا۔ دو ہزار آٹھ کے الیکشن سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی دوسرا ملک ہوتا تو وہاں کے سارے ووٹرز اپنا ووٹ پیپلزپارٹی کو دے دیتے، لیکن یہاں پی پی پی کو پورا مینڈیٹ نہ مل سکا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسی طرح مسلم لیگ ق اپنے گھر سے ہار رہی ہے اور بلوچستان سے وہ جیت جاتی ہے۔ اسی رجحان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس رجحان سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہاں پولنگ ڈے دھاندلی نہیں زیادہ ہوتی البتہ قبل از انتخابات پورے منظم طریقے سے دھاندلی کی جاتی ہے۔ یہاں ایک تھیٹر لگایا جا تا ہے۔ تھیٹر والے دِن الیکشن اُس پر ناچتا ہے۔ مَیں اس وقت ساری دُنیا میں شناختی کار ڈ بنا رہا ہوں، وہاں بھی میرا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ ریاست آپ کی شناخت کو محض رجسٹر نہیں کرتی بلکہ آپ کو empower کرتی ہے(پورا اختیار د یتی ہے) پھر آپ کی رائے کا مذاق نہیں اُڑایا جاتا۔ پھر آپ کے ووٹ پر ڈاکا نہیں ڈالا جا سکتا، آپ کے گھر پر تو ڈاکا ڈالا جا سکتا ہے مگر رائے اور ووٹ پر نہیں۔

سوال: اس وقت آپ کیا کر رہے ہیں؟
جواب: مَیںاس وقت افریقہ میں کچھ پراجیکٹ کر رہا ہوں، افریقہ میں پراجیکٹ کرنے کا اختیار مَیں نے خود لیا ہے، مَیں وہاں عملی طور پر تجربہ کر کے پاکستان کا مسئلہ پکڑنا چاہتا ہوں۔ مَیں وہاں تک جانا چاہتا ہوں جہاں پاکستان اس وقت جا رہا ہے۔ اُن ممالک میں، مَیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کمزور اس لیے ہوئے کہ وہاں ریاست اور افراد کے مابین عمرانی معاہدہ کمپرومائزہوا ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہ پاکستان وہاں تک نہ چلا جائے۔ یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں وزیرِ اعظم کرپٹ ہے، وغیرہ۔ یہ کہنا بنتا ہی نہیں، آپ کو چاہیے کہ قانون پر اس طرح عملد درآمد کروائیں کہ کوئی کرپشن کر ہی نہ سکے۔

سوال: جن ممالک میں آپ اس وقت کام کر رہے ہیں، وہاں اور یہاں میں کیا مماثلت دیکھتے ہیں؟
جواب: افریقہ میں امیر غریب، محکوم اور حاکم کے مابین خلیج ایسے ہی پیدا ہوئی، جیسی کہ یہاں ہے۔ یہاں وسائل چند ہاتھوں میں ہے۔ وسائل تقسیم نہیں ہو رہے، اگر ایسی ہی صورتِ حال رہی تو پھر ریاست کمزور ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر مَیں جب نادرا میں تھا، تو یہ جاننے کی کوشش کی کہ پاکستان کی اشرافیہ کون ہے، یعنی امیر ترین طبقہ کون ہے اور غریب کون ہے؟ مختلف ڈیٹا کی ماڈلنگ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ساڑھے تین لاکھ اشرافیہ کا ایک طبقہ ایسا بھی سامنے آیا جس کے بعد این ٹی این نمبر ہی نہیں تھا۔ ساڑھے پانچ لاکھ ایسی کمزور کمیونٹی، جس میں معذور افراد، بیوہ خواتین ، گھریلو تشدد کا شکار خواتین وغیرہ، سامنے آئی، جن کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں، اُن کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اُن کی ریاست کون سی ہے اور ریاست اُن کے لیے کیا درجہ رکھتی ہے؟ مجھے بلوچستان کے پہاڑوں اور کئی ایسے مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا، وہ کہتے تھے کہ ہمیں شناختی کارڈ نہیں چاہیے۔ مَیں نے ایسے لوگوں سے کہا کہ شناختی کارڈ تمہارے لیے ضروری ہے، تمہاری جائیداد کی خرید و فروخت میں کام آئے گا۔ وہ آگے سے کہتے کہ ہماری تو کوئی جائیداد ہی نہیں ہے ۔ مَیں اُن سے کہتا کہ سفر کے دوران یہ تمہارے کام آئے گا، وہ کہتے کہ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہی نہیں۔ مَیں اُن سے کہتا کہ خدانخواستہ جب تم پر کوئی مصیبت آئے گی، جیسا کہ طوفان، زلزلے اور سیلاب، تو تمہارا جو نقصان ہو گا، حکومت اُس نقصان کو پورا کرے گی، اُس وقت تم سے تمہارا شناختی کارڈ مانگا جائے گا۔ وہ آگے سے کہتے کہ ہم تو حکومت کا نام ہی آج سن رہے ہیں، یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ ایک جگہ مَیں نے ایسی بھی دریافت کی، جہاں کے لوگوں کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے پاکستان کا نام ہی نہیں سنا تھا۔ مَیں یہ کہتا ہوں کہ پہلے تو آپ لوگوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں، وہ پاکستانی ہیں اور پاکستان کے ساتھ اُن کا رشتہ کیا ہے؟ حکومت اور ریاست کو چاہیے کہ وہ لوگوں کا سٹیک پیدا کرے، پھر ریاست اور افراد کے مابین عمرانی معاہدہ مضبوط رہے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: