سرکاری ہسپتال : چند گزارشات‎ —— محمد آصف

0
  • 27
    Shares

جناب ثاقب ملک نے پاکستان کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر درد دل کےساتھ ایک تحریر لکھی تھی۔ جس میں ان طبی اداروں میں انسانیت سوز حالات اور محض پیسے بٹورنے کےلیے جو قبیج اور غیر اخلاقی حالات پیدا کیے جاتے ہیں، پر گفتگو کی تھی۔ دارالحکومت میں ایک مشہور ہسپتال اس حوالےسے کافی عرصہ خبروں میں بھی رہا جس پر عوام میں اس کا ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ جواب میں عرض کی تھی کہ خاکسار کے پاس کچھ گزارشات ہیں جن پر سنجیدگی سے عمل کرنےسے ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے کسی بھی نجی ہسپتال کا ماٹو دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا وہ Patient oriented ہے کہ Money Oriented۔

جب ایک ادارہ یہ چاہے کہ خدمات کے بدلے سہولت دے تو اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے لیکن اگر آپ کا مقصد محض پیسہ کمانا ہو تو جدید ترین ذرائع بھی آپکو مریض کو یا گاہک کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ نجی طبی اداروں کی سب سے بڑی پرابلم یہی ہے کہ یہ لوگ محض پیسہ بناتے ہیں اور ان تک جانے والا ہر مریض مجبوری کی اس انتہا پر ہوتا ہے جہاں انکے پاس لٹنے کے سِوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

ایسے میں اگر سرکاری ہسپتال اپنے دو ڈپارٹمنٹز پر توجہ مرکوز کریں تو بہترین نتائج مل سکتے ہیں۔

کسٹمر سروس
کسی بھی ادارےمیں کام کرنےوالوں میں انکی استقبالیہ پر کام کرنے والے اور ہر وہ سٹاف جن سے مریضوں کا براہ راست رابطہ ہوتا ہے، ادارے کا چہرہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے مجھے پاکستان میں سرکاری نجی ہر قسم کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا کسی ایک جگہ پر بھی استقبالیہ پر کام کرنے والے پروفیشلزم سے خالی نظر آئے۔ اس ڈپارٹمنٹ میں آنے والے مریض سے گفتگو کرنا، اس کی بات کو پوری توجہ سے سننا، اسکی بات کو اہمیت دینا، بات کرتے ہوئے اپنی باڈی لینگویج سے یہ ظاہر کرنا کہ سامنےوالا کس قدر اہم ہے۔ خواتین سے بات کرتے ہوئے اخلاقی لحاظ دکھانا بچوں سے شفقت سے بات کرنا شامل ہیں۔ یہ وہ تمام لوازمات ہیں جو کسٹمر سروس میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ وہ ابتدائی فیکٹرز ہوتے ہیں جو ایک مریض کی آدھی تکلیف کم کر دیتے ہیں لیکن یہ سب ہر انسان اپنے اندر رکھتے ہوئے بھی استعمال نہیں کرتا۔ ہمیں اس کے لیے سیشنز کرنے پڑتےہیں، ورکشاپ ارینج کرنی پڑتی ہیں۔ بتانا پڑتا ہے کہ کس طرح کے حالات میں مریض سے کس طرح بات کی جائے۔ اسکو کس طرح یہ باور کروایا جائے کہ وہ ہمارے لیے کس قدر اہم ہے۔ اس کی عزتِ نفس سب سے بڑھ کر اہمیت کی حامل ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبیب اور مریض کا رشتہ سب سے اہم نکتہ ہے اور بڑےدردِ دل سے کہنے کی جسارت کروں گا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض جس سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں وہ ڈاکٹر ہی ہوتے ہیں۔ اگر کسٹمر سروس ڈپارٹمنٹ آنے والے مریضوں کی عزتِ نفس کو کسی درجے میں رکھتی ہو تو اس میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت شاید سب سے زیادہ ہے۔

اس سلسلے کی دوسری کڑی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لائے گئے مریض کو ایمرجنسی تک پہنچانا بھی شامل ہے۔ ہمارے ایک معزز دوست جناب عرفان شہزاد صاحب کے ساتھ ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں ان کے ساتھ لائے گئے مریض کو ہسپتال کےداخلی دروازے سے ایمرجنسی وارڈ تک لے جانے کے لیے بھی کئی منٹز انتظار کرنا پڑا اور کئی لوگوں سے مریض کو ایمرجنسی تک لے کر جانے کے لیے منتیں کرنی پڑیں۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو مریض کی جان بچانے میں بڑا اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتال میں سٹاف پروفیشنل اور مہارت زدہ ہونا چاہیے جو مریض کی حالت کےپیشِ نظر اس کو طریقےسے ایمرجنسی تک لے کر جا سکے۔ اس سلسلے میں ہمیشہ مرد نرسوں کی خدمات لی جانی چاہیے جو مریض کو عام سٹاف کی نسبت بہتر انداز سے ایمرجنسی تک لے کر جا سکتےہیں۔

کسٹمر سروس میں ایک اور سب ڈپارٹمنٹ کال سینٹر کا۔ ہے جس میں کچھ آپریٹرز دیے جاتے ہیں جن کے پاس ہسپتال میں ہونےوالی ہر ایکٹیوٹی کا پورا نظام ہوتا ہے۔ ہر شعبے کے متعلق معلومات ہوتی ہیں۔ بیماریوں کے متعلق علم ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایمرجنسی میں آنے سے قبل اگر انکو بروقت اطلاع ہو تو آنے والے مریض کے لیے پہلےسے انتظامات کیے جانے بھی ممکن ہوتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں شاید ایسی سہولت ابھی میں نے نہیں دیکھی اور اگر ہےتو اسے فعال کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کام کیا جا سکتا ہے۔

کوالٹی کنٹرول ڈپارٹمنٹ
اس کے بعد کوالٹی ڈپارٹمنٹ ہے۔ اس ڈپارٹمنٹ میں کسی بھی ہسپتال میں استعمال ہونے والے آلات کا معیار اور مریضوں کا عملے کو خدمات دینے کے طریقے کار کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس قدر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور اس میں کس قدر صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مکمل پروٹوکول اپنایا جاتا ہے جس میں کسی بھی مریض کا ہسپتال میں داخل ہونے سے لے کر ڈسچارج ہونے تک کو ایک مرحلہ وار لکھ کر ہر ڈپارٹمنٹ میں دیا جاتا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کی جاتی ہے کہ آیا اس پر عمل کس حد تک ہو رہا ہے۔ مگر پاکستان میں اس پر کس قدر عمل ہوتا ہے اسکی ایک مثال دوںگا جو میرے ساتھ پیش آئی۔

ایک نجی ہسپتال میں ایک مریض کو پیشاب کا نمونہ دینے کے لیے کہا گیا اور اسے ایک پلاسٹک کی بوتل دی گئی کہ اس میں نمونہ جمع کرواو۔ میں نے نرس سے کہا کہ آپ کو اس بوتل کو کسی چھوٹے سائز کے پلاسٹک شاپر میں دینا چاہیے تا کہ نمونہ لینے کے بعد یہ بوتل اس شاپر بیگ میں ڈال کر اوپر سے بند کر کےجمع کرائی جا سکے۔ وہ میری طرف ایسے حیرانگی سے دیکھنے لگی اور کہا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ کیجے کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں نرسز یا سٹاف تک اس چیز سے بےخبر ہیں کہ انکی صحت و صفائی کے حوالے سے کیا زمہ داریاں ہیں۔ گوجرانوالہ کےسول ہسپتال میں جہاں مرد و خواتین ایک ہی جگہ پر جا کر پیشاب کےنمونے لے رہے ہوتے ہیں اور کوئی اس حساس طرزِ عمل پر غور کرنے والا نہیں۔

کوالٹی ڈپارٹمنٹ کا ایک اور کام شکایات کا ازالہ ہے۔ ہمارے ملک میں پہلے تو کوئی کمپلین یا شکایات کرتا نہیں کہ اس کو رواج نہیں اور اگر کرے بھی تو آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ادارے نے اس شکائت کرنے والے کی داد رسی کی ہو۔ ہم ایک ایسا نظام دے سکتے ہیں جس میں سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے کسی بھی عملے کےخلاف شکائت ہونے کی صورت میں میڈیا پر آئے بغیر اس کا ازالہ کیا جا سکے۔

میں گوجرنوالا میں ایک نامی گرامی ہڈیوں کےہسپتال گیا اور وہاں کے عملے کے خلاف شکایات بکس میں شکائت لکھ کر ڈال دی آپ تصور کیجیے کہ چھے ماہ بعد بھی وہ شکائت اس ڈبے میں سے نظر آتی رہی۔ شکایات کسی بھی ادارے کے انتظام اور دی جانے والی سہولیات میں موجود خامیوں کو دور کرنے کا سب سے بہترین زریعہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے ہیلتھ اتھارٹی کو فحال کرنے کی ضرورت ہے جس کے پاس یہ طاقت ہو کہ کسی بھی ڈاکٹر یا کلینیکل سٹاف کے خلاف شکائت کی صورت میں براہ راست مداخلت کر سکیں۔ ہم آن لائن کمپلین سسٹم بھی ڈویلپ کر سکتے ہیں اور یہ چنداں مشکل کام نہیں ہے۔ کچھ دن قبل اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال جو ایک مریض کے علاج پر دس سے پندرہ لاکھ روپے اینٹھ لئے اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں اسی مریض کو چند ہزار روپے موقع پر ادا نہ کیے جانے کی وجہ سے داخل کرنے سے انکار کر دے، یہ مریض کی زلالت اور عزت نفس مجروع کرنے کی وہ قسم ہے جس کی اجازت کسی طور نہیں دی جا سکی اور یہ پریکٹس ہمارے ہر نجی ہسپتال کا روز کا کام ہے۔ اس موقع پر کوالٹی ڈپارٹمنٹ یا کسٹمر سروس کا کردار سامنے آتا ہے کہ وہ کس طرح سے ایسے معاملات کو ہینڈل کرے کہ مریض کی عزت نفس بھی نہ مجروع ہونے پائے اور وہ پیسوں کا انتظام بھی کر لے اور یہ کام انتظامیہ کے ساتھ مل کر احسن طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہسپتال پیشنٹ اورئینڈ ہونا کہ محض منی اورئینڈ۔

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر ایک دوا ہسپتال کی تو دس باہر کی لکھ کر دیتےہیں۔ اس سلسلے میں ایک منظم اور خودکار نظام ترتیب دیا جا سکتا ہے جس سے ڈاکٹر کوئی بھی دوا لکھتے ہوئے یہ معلوم کر سکے کہ وہ دوا ہسپتال کے سٹاک میں موجود ہے کہ نہیں اور اس کےساتھ ساتھ کم سے کم قیمتوں کے ساتھ ادویات کی فراہمی ممکن کی جا سکے۔ (اس کےلیے ایک سادہ سا اصول ہے کہ مارکیٹ سے کم قیمت کی ادویات پر توجہ ہو مگر اس کے لیے حکومت کو فارماسیوٹیکل مافیا سے نمٹنا ہو گا جو کہ بحرل آسان نہیں ہے)

پنجاب کے سرکاری اور خاص کر جنوبی پنجاب کے ہسپتال بنیادی سہولیات تک سے محروم ہیں ایسے میں طرفہ تماشا یہ ہے کہ سٹاف موجود آلات تک کیے ہوتے ہوئے بھی مریضوں کو زلیل کرتے ہیں۔ چونکہ جنوبی پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد کم ہے اور ایک دوسرے سے دور بھی ہیں ایسے میں ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو ایک جگہ سے انکار کی صورت میں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اگلی جگہ جائے گا تو وہاں بھی اسکی شنوائی ہو گی کہ نہیں؟ اس سلسلےمیں بھی ایک ہسپتالوں میں ایک دوسرے کی طرف ریفر کرنے کے نظام کو جدید زرائع پر لایا جا سکتا ہے۔ جدید آلات اور ان کی ہر سرکاری ہسپتال میں فراہمی، ان کی دیکھ بھال، ان کی کوالٹی چیک اپ کے لیے ایک اتھارٹی اور ان سب کے اوپر ایک آڈٹ ڈپارٹمنٹ ہسپتالوں میں دی جانے والی ہر سروس کو ایک دھارے میں لانے کے لیے کافی کہی جا سکتی ہے۔ پچھلے دنوں جنوبی پنجاب کے ایک ہسپتال میں ایکسرے مشین تک دسیتاب نہ تھی آپ تصور کیجیے کہ ایک ایکسرے کرنے کے لیے مریض کو سو کلو میٹر دور کسی دوسرے شہر جانا پڑے، یہ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہ کی زندہ مثال ہے۔

یہ چند گزارشات ہیں جو اگر ہمارا صحت کا شعبہ اپنا لے تو خاطر خواہ نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک کسی بھی مریض کے سپتال داخل ہو کر ڈسچارج ہونے تک کا سرکل ہے یہ ایک انٹرنل افیئر ہے جس کی جزئیات پر اور ایک ایک سٹیپ پر تفصیل سے بحث ہو سکتی ہے اور بہتر سے بہتر نتائج کے لیے یہ خاکسار حاضرِ خدمت ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: