افغان امریکہ جنگ: دینار بابا اور شیخ رشید — عابد آفریدی

0
  • 257
    Shares

دوہزار تین میں ایک انٹرویو کے دوران شیخ رشید سے سوال ہوا کہ آپ افغانستان اور طالبان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں۔۔ چونکہ آپ مشرف کی کیبنٹ کا حصہ تھے اور مشرف کو امریکی آشیر باد حاصل تھی۔۔ چہرے پر شوخ مسکراہٹ سجا کر فاتحانہ انداز میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے جواب دیا

Afghan Taliban’s chapter is over forever.

پھر اپنے روائتی انداز میں اینکر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ’’او یہ ملا عمر عقل کی بتی جلاتے، ہم نے ساری زندگی گھاس نہیں کھائی، امریکہ سپر پاور ہے، پوری دنیا پر حکومت کرتا ہے، او میں جانتا ہوں انگریزوں کو، جہاں ہماری سوچ جاتی ہے وہاں ان کے میزائل پہنچ جاتے ہیں‘‘

تاریخ گواہ ہے جب جب آمریت، جمہوریت سے جبراََ ہم آغوش ہوتی ہے تو درباری سیاست دان ہی پیدا ہوتے ہیں۔

دو ماہ قبل خیبر ایجنسی میں راہ چلتے ہوئے ایک کھنڈر نما گھر کی جھکی ہوئی دیوار کے اس پار قبائلی لہجے میں کلام پاک کی تلاوت سنائی دی۔۔۔ آواز میں ایسا کرب تھا جیسے دسمبر کی اک اداس سرد شام میں برباد فاٹا کے کسی شہید مسجد کا زخمی موذن مغرب کی اذان دے رہا ہو۔۔

ہم نے اپنے میزبان سے اس قاری سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔

معلوم ہوا کہ قاری دینار بابا نامی ستر سالہ بزرگ ہے، زندگی کا بڑا حصہ افغانستان میں بیرونی افواج کے خلاف لڑتے گزار دیا۔۔ گرفتار ہوئے تو افغان کٹھ پتلی حکومت نے بھاری معاوضے کے عوض سرکاری مخبر بننے کی پیشکش کی۔۔ جس سے انکار پر اسے ہمیشہ کے لئے جسمانی معذور بنادیا!!

گھر کیا تھا جیسے مٹی کا جھڑتا گھروندہ ہو، جس کی دیواریں بار بار لیپائی کے باعث اتنی پھیل گئیں کہ مٹی کے ڈھیر کا گمان ہونے لگا۔ دو چار کمرے ایک چھوٹا سا صحن، کچے صحن کی تازہ گیلی خوشبوں ہماری روح میں جذب ہو رہی تھی۔۔

دینار بابا تکیے پر قرآن شریف رکھے بان کی چارپائی پر بیٹھے تھے، سفید اجلی داڑھی روشن چہرہ۔ تعارفی سوالات میں الجھے بغیر ہمیں خوش آمدید کہا ۔ قبائلی اقدار کے مطابق احوال کا طویل تبادلہ ہوا۔

دینار بابا جہاں دیدہ و جنگ دیدہ انسان تھے۔ افغانستان میں گزرے وقت کا تذکرہ چھیڑا تو میرا دماغ پاک افغان بارڈر کے درمیان ایستادہ کوہِ سفید کی برفانی سطح پر پھسلتے ہوئے سیدھا افغانستان کے گمنام پہاڑوں کے بیچ جا اترا۔۔

آلودہ چہروں کے حامل ایسے خدا مست و آزاد لوگوں کے ساکن خیالات اس شدت سے دماغ میں متحرک ہونے لگے کہ خیال کی سطح افغانستان کی سطح بن گئی۔۔ جبکہ سوچ کا پردہ وہاں کا منظرنامہ بن کر میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا الزام مسلمانوں پر لگا کر جب امریکہ گرجا تو کیا پاکستان کے حکمران اور کیا ہی خادمین حرمین و شریفین سب نے اسی بیان کو قبول کیا جو امریکہ کو پسند تھا۔

یہی امریکی پیغام اس وقت جب ایک شخص جس نے کراچی کے ایک مدرسے سے مولویت کا سفر شروع کیا اور ملا کے مقام پر پہنچ کر ملاعمر بن گیا، کو پہنچایا گیا تو صرف اس شخص اور اس کے جانبازوں نے اس دھمکی کو ہنستے ہوئے ٹال دیا۔

دوسری جانب مشرف نے امریکہ کے سارے مطالبات مان لئے تو افغان طالبان اس پر سخت آزردہ ہوئے اور پاکستانی حکام کے اس روئے کی مذمت کی! رابطے منقطع ہوئے!! راستے بند کردئے گئے!!

امریکی حملے سے چند روز قبل پاکستان نے اپنے ایک نمائندے کو افغانستان بھیجا کہ وہ طالبان کے امیر ملا عمر کو جنگ کی طرف نہ جانے پر آمادہ کرے۔۔

نمائیندہ کہتا ہے۔ جب ہم ملا عمر سے ملنے ان کے مقام تک پہنچے تو ہمیں اس مقام سے زرا پہلے ایک موڑ پر روک لیا گیا۔۔ بتایا “یہاں رک جائے کچھ ہی دیر میں ملا عمر یہاں سے گزریں گے آپ اپنی بات ان کے سامنے رکھ دیجئے گا”

تھوڑی ہی دیر میں وہاں گاڑیوں کا ایک قافلہ پہنچتا ہے۔۔ جس میں ایک گاڑی سے چند لوگ اترتے ہیں جن کے درمیان ملا عمر بھی ہوتے ہیں، نمائیندہ وہی پیغام ان کے سامنے رکھتا ہے جس کی ملا عمر کو پیشگی توقع تھی”

نمائندہ کہتا ہیں کہ اس پیغام کو سننے کے بعد ملا عمر نے ہم سے صرف ہاتھ ملایا، اور اپنے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا”

“ہمارے بچے عنقریب امریکی ملبے میں کھیلیں گے”

کچھ ہی دن بعد امریکہ افغانستان کی کچی آبادیوں پر بے قابو بلڈوزر کی طرح چڑھ دوڑا، مسمار آبادیوں کے بیچ دجال اعظم کی طرح کھڑا ہوا اور للکارا، ہے کوئی میرا سامنا کرنے والا، تب اس کی خدمت میں اشرف غنی، کرزئی، مشرف شجاعت، شیخ رشید جیسے درباری سر جھکا کر بندھے ہاتھوں حاضر ہوئے۔ کابل، ہرات، اسلام آباد میں امریکیوں کے لئے شبستان سجائے گئے۔۔ محافل جام و کباب برپا کی گئیں۔۔۔

جب افغانستان کی خوب بربادی ہوگئی تو ایک طویل خاموشی کے بعد ایک دن کسی نامعلوم مقام سے طالبان ترجمان کا وڈیو بیان سامنے آیا جس میں امریکہ کو بھرپور شکست دینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

اس بیان پر پاکستان کے سب سے بڑے اخبار نے انتہائی مضحکہ خیز انداز میں سرخی لگائی، جس کا اگر انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو فقط hahahaha ہوگا”

وقت کس تیز رفتاری سے نکل گیا وہ لڑائی جو اس پہلے وڈیو پیغام سے شروع ہوئی تھی تو پرسوں امریکی نمائندوں کے طالبان کو دینے والے اس پیغام پر ختم ہوئی کہ “اب ہم دوست ہیں”

کیا کوئی اس زمانے میں توقع کرسکتا تھا جب امریکی سی آئی اے کے اہلکار کراچی گلشن اقبال کی گلیوں میں عافیہ صدیقی کو ڈھونڈ رہے تھے، بلیک واٹر کے کارندے پشاور میں بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ افغانستان و پاکستان میں موجود طالبان کے ہم خیال لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہے تھے۔ کیا کوئی اس بات کے یقین پر آمادہ ہوسکتا تھا کہ یہی امریکہ جس نے طالبان کے نامے و جامے سے دنیا کو نفرت پر ابھارا، انھی طالبان کو اپنا دوست کہے گا، ان کی رضا تسلیم کرے گا، ان سے معاونت کی بھیک مانگے گا؟

کوئی مانے نہ مانے آج زندہ سسکتا مشرف درگور ہوگیا، اور مردہ ملاعمر خیال و نظم کی صورت افق پر چھاگیا، آج ریلوے کے مرکزی دفتر میں بیٹھا مال گاڑیوں کا وہ نگران ہار گیا اور خیبر ایجنسی کا معذور و بیمار ضعیف دینار بابا آدمیت، غیرت، و ایمان کی جنگ جیت گیا۔

(Visited 31 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20