حوالوں کی بیساکھیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اصغر خان

0
  • 26
    Shares

میں نے ایک دن اپنے ایک عالم دوست سے پوچھا کہ یار ایک بات تو بتاو۔ کہنے لگا پوچھو۔ میں نے کہا کہ جب پڑھے لکھے لوگ کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہیں تو اس گفتگو میں اُس موضوع پر اُن کی رائے کم اور حوالہ جات زیادہ ہوتے ہیں۔ کیا کوئی گفتگو حوالہ جات کے بغیر گفتگو نہیں کہلائی جا سکتی یا اُس گفتگو کو معتبر نہیں ٹھہرایا جا سکتا یا بغیر حوالوں کے گفتگو ہو ہی نہیں سکتی۔ کم از کم میں نے تو ایسی کوئی گفتگو نہیں سنی، جس میں حوالے کم ہوں اور حال زیادہ۔

کہنے لگا یار خان تم بھی عجب گھامڑ ہو۔ اتنی معمولی سی بات نہیں سمجھتے۔ میاں جس طرح ایک امیر اور غریب میں دولت وجہ امتیاز ہوتی ہے اسی طرح حوالہ جات پڑھے لکھے اور دانشوروں کے کرنسی نوٹ ہیں، جس کے پاس جتنے زیادہ ہوں گے اُتنا ہی بڑا دانشور کہلائے گا۔ یعنی جس طرح ایک امیر آدمی اپنی دولت کے بل بوتے پر غریبوں کا استحصال کرتا ہے اسی طرح ایک عالم اپنے سے کم علم والوں کا اور مطالعہ دانشوروں کی اس دولت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اب ان دانشوروں میں چند ایسے ہوتے ہیں، جو ان حوالہ جات کو صحیح موقعہ پر اور محفل میں شریک لوگوں کی حیثیت کے مطابق ایک اچھے انوسٹر کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ میں اپنے عالم دوست کی اس توضیح سے بالکل مطمئن ہو گیا اور اپنی معلومات میں مزید اضافہ کے لیے اس سے پوچھا کہ یار جس طرح سرمایہ داری کے بازار میں جعلی کرنسی نوٹ اور فراڈ ہوتے ہیں، کیا حوالہ جات کی کرنسی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ کہنے لگا، بالکل ہوتا ہے۔ لیکن اس لطیف فرق کے ساتھ کہ حوالہ جات کے فراڈ کے افشا ہونے پر یا جعلی کرنسی کے پکڑے جانے پر ان لوگوں پر فردِ جرم عائد نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ قابل دست اندازی پولیس ہے۔ اس انکشاف پر مجھے وہ دفعات یاد آنے لگے جو کبھی میرے ساتھ پیش آئے تھے۔

میرے دفتر میں میرے ایک ماتحت افسر اکثر اپنی گفتگو میں فلسفیوں اور شاعروں کے حوالہ جات مجھے سناتے رہتے تھے اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اُن کی علمیت سے مرعوب تھا۔ ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ قائد اعظم نے اپنے کینیڈا کے سرکاری دورہ بھی کیا تھا میں کچھ کنفیوژ سا ہو گیا کیونکہ میری معلومات کے مطابق قائد اعظم کم از کم اپنی سرکاری حیثیت میں تو کینیڈا کبھی نہیں گئے۔ میں نے اُنہیں ٹوکا کہ جناب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میری تصحیح انہیں بہت ناگوار گذری لیکن ایک بات ضرور ہوئی کہ اب میں اُن کی علمیت اور خاص کر حوالہ جات سے مرعوب نہیں ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک محفل میں استاد امام دین کی شاعری زیر بحث تھی۔ ایک صاحب فرمانے لگے کہ امام دین عوامی شاعر تھے، آپ اُن کی شاعری کو عوامی مقبولیت کے تناظر میں دیکھئے۔ اُن کی شاعری اگرچہ قوائد و ضوابط کے حساب سے تو ادنیٰ تھی لیکن چند شعر پھر بھی بڑے عارفانہ تھے مثلاً

کتھے امام دین، کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں

اس پر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوئے گئے کیونکہ یہ شعر تو میں نے ہر دوسری بس میں ڈرائیور کی سیٹ کے سامنے یوں لکھا ہوا دیکھا تھا

کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں

پنجاب میں کافی عرصہ قیام کے باعث مجھے پنجاب کے اس محترم اور بڑے صوفی شاعر کے بارے میں علم تھا لیکن جن صاحب نے ان کے اس شعر کو امام دین کا شعر کہا تھا وہ اتنے معتبر تھے کہ مجھ میں اتنی جسارت اور ہمت نہ ہوئی کہ میں اُن کی تصحیح کر سکتا۔ اب جب میں بھی کوئی حوالہ سنتا ہوں اور خاص کر اس توضیح کے بعد کہ حوالہ جات کی کرنسی جعلی بھی ہو سکتی ہے اور ان میں فراڈ بھی ہو سکتا ہے۔ تو مجھے حوالہ اور اُس کا راوی دونوں مشکوک نظر آنے لگتے ہیں لہٰذا بدگمانی کے اس عذاب سے بچنے کے لیے میں حوالہ جات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہوں اور قدرت کی حکمت کا قائل بھی ہو گیا کہ اُس نے ایک کی بجائے دو کان کیوں عطا کیے ہیں۔

میرے ایک اور دوست ہیں، جو بڑے اچھے شاعر بھی ہیں۔ ایک دن شاعری کی ایک کتاب پر تبصرہ، جو انہوں نے لکھا تھا اور اُنہیں کسی دوست کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر پڑھنا تھا، مجھے دیا اور کہنے لگے کہ یار اس تبصرہ کو پڑھ کر اپنی رائے دو۔ میں نے دو صفحات کے اس تبصرے کو پڑھا، اچھی تحریر تھی۔ شاعری کی وہ کتاب تو میں نے نہیں پڑھی تھی، لیکن پیرایہ انداز مجھے اچھا لگا اور میں نے اُن سے کہا کہ تبصرہ بہت اچھا ہے۔ کہنے لگے میں نے تمہیں یہ تعریف کرنے کے لیے نہیں، بلکہ بے لاگ رائے دینے کے لیے دیا ہے۔ میں نے جواباً کہا کہ نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں۔ تبصرہ واقعی اچھا ہے—- لیکن تم شاید اپنی رائے پر اتنا یقین نہیں رکھتے اس لیے تم نے مناسب جانا کہ حوالہ جات سے اُسے مستند بنایا جائے۔ میری بات سُن کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے نہیں، ایسا نہیں ہے لیکن یہ ادب کی روایت ہے اور میں نے صرف اُس روایت کی پاسداری کی ہے۔ میرے پاس اُن کی بات کو ماننے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ آدمی کافی ذہین ہے میں نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اُس سے پوچھا یار کسی بھی تحریر کے لکھنے کے لیے مشاہدے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے یا مطالعے کی۔ کہنے لگے دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والا اپنی لا علمی کی وجہ سے ایسی چیزیں ضابطہ تحریر میں نہ لائے جو اس کے پیشرو پہلے لکھ چکے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مجھے ایک ذاتی واقعہ بھی سنایا کہ ایک رات اُن کے ذہن میں ایک ایسا خیال آیا جو اُن کی دانست میں انوکھا اور بالکل نیا تھا۔ اُن کے مطابق وہ ساری رات سو نہ سکے اور صبح ہوتے ہی اپنے استاد کے پاس تشریف لے گئے اور اُن سے عرض کی کہ استاد محترم گزشتہ شب میرے ذہن میں ایک انوکھا اور نیا خیال جاگزیں ہوا ہے۔

میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کے گوش گزار کروں۔ استاد نے جب اُن کے اُس انوکھے اور اوریجنل خیال کو سنا تو بہت ہنسے اور اپنے شاگرد سے کہنے لگے ’’اچھا ہوا جو تم میرے پاس آ گئے، کسی اور سے بیان کرتے تو بڑی جگ ہنسائی ہوتی۔ میاں یہ بات ابن عربی ۲۰۰۰ سال قبل بڑی تفصیل سے بیان کر گئے ہیں (حوالہ پھر مجھے مشکوک لگا)۔ کیونکہ ابن عربی کے زمانے کو اتنا عرصہ تو نہیں گزرا ہو گا۔ بہر کیف دروغ برگرد راوی۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد میرے شاعر دوست مجھ سے کہنے لگے کہ خان صاحب شاید اب مطالعے کی اہمیت اور افادیت آپ کی سمجھ میں آ گئی ہو گی۔ بات تو اُن کی معقول تھی لیکن ایک تشنگی رہ گئی تھی اُسے پورا کرنے کے لیے میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ ابن عربی اور اُن کے اس خیال سے شعوری یا لاشعوری طور پر آگاہ تھے۔ کہنے لگے قطعاً نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر میرا یہ دوست ابن عربی سے بڑا نہیں تو کم از کم اس سے چھوٹا بھی نہیں ہے۔

میرے خیال میں انسانوں کی بہت بڑی اکثریت پیروکاروں کی ہوتی ہے، غالباً 99.9 فیصد سے بھی زائد۔ وہ جس مذہب یا معاشرے میں جنم لیتے ہیں، روز اول سے شعوری یا لاشعوری طو رپر ان کے والدین، متعلقین اور معاشرہ اُن کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے، جب وہ سوچنے اور سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو غیر ارادی طور پر اُس مذہب یا معاشرے کے پیروکار بن جاتے ہیں اور اُسی کو حق سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر انہیں مطالعے کی لت بھی پڑ جائے تو یہ سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ چونکہ اُن کے اپنے حوالے مستحکم ہو چکے ہوتے ہیں، لہٰذا مطالعے کے دوران جو کچھ اُن کے حوالوں سے مطابقت رکھتا ہے، وہ نہ صرف اُن کے ان حوالوں کو تقویت بخشتا ہے، بلکہ آہستہ آہستہ انہیں متعصب بھی بنا دیتا ہے۔ اگر دوران مطالعہ کوئی چیز اُن کے حوالوں سے مطابقت نہیں رکھتی یا اُن کی نفی کرتی ہے تو یا تو وہ اُنہیں رد کر دیتے ہیں یا پھر باطل قرار دے دیتے ہیں۔ مطالعہ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ اس سے انسان کو دوسروں کے نکتہ نظر سے آگاہی ہوتی ہے لیکن اس کا ایک واضح نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس کے سوچنے اور پرکھنے کی قوتیں آہستہ آہستہ زائل ہوتی رہتی ہیں اور وہ دوسروں کے سوچنے اور پرکھنے کے انداز کو اپنا سمجھ بیٹھتا ہے اور تمام عمر اُسی نکتہ نظر کو حق جان کر اُس کی ترویج اور تبلیغ میں صرف کر دیتا ہے۔ کتابی مطالعہ میری دانست میں اوروں کے محسوسات، مشاہدات اور تجربات کا نچوڑ ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی اُس نہج یا ڈھنگ سے سوچ سکے یا محسوس کر سکے نیز یہ کہ ہر ایک کے تجربات اور اُن سے اخذ کردہ نتائج مختلف ہوتے ہیں، اور اُنہیں تحریر کرتے وقت وہ حوالہ جات جو انسان کے رگ و پے میں پیوست ہوتے ہیں وہ انجانے طور پر ان تحریروں میں اپنی اہمیت سے زیادہ جگہ پا جاتے ہیں اور یوں وہ تحریر تعصب کا شکار ہو جاتی ہے اور یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ پشت در پشت چلتا رہتا ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو کتابی مطالعہ کرتے ہیں اور اُسے علم کا سب سے افضل ذریعہ مانتے ہیں، حقیقت میں دوسروں کی سوچ، مشاہدے اور اُس سے اخذ کردہ نتائج پڑھتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اپنے علم میں اضافہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ میری دانست میں ایسا شاید ہوتا نہیں۔ بلکہ وہ اشخاص اپنی سوچ و مشاہدے اور اپنے طور پر اخذ کئے ہوئے نتائج کے بارے میں مشکوک ہو جاتے ہیں اور اُنہیں اپنی کم مائیگی کا احساس شدید ہو جاتا ہے۔ رد عمل کے طور پر وہ مطالعہ کے دوران جس شخص یا اشخاص کے طرز تحریر اور اخیالات سے متاثر ہوتے ہیں اپنا پیر و مرشد مان لیتے ہیں اور غیر شعوری طو رپر اُن کے غلام بن جاتے ہیں۔

ادب تخلیق کیوں کہلاتا ہے اور یہ کرب تخلیق کیا ہوتا ہے۔ تخلیق تو کسی چیز کے عدم سے وجود میں لانے کا نام ہے، جبکہ ادب کی اساس ہمارے مطالعہ اور مشاہدے کا تحریری اظہار ہے، اس لیے ادب تخلیق کرنے کی اصطلاح غیر منطقی ہوئی اور یہ کرب تخلیق یا تو ڈھکوسلا ہے یا املا کی غلطی۔ شاید اس اصطلاح کے موجد نے طریق تخلیق تجویز کیا ہو اور کاتب نے اسے کرب لکھ دیا ہو یا اگر طرب تخلیق ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو کرب کی شکل اختیار کر لیتا ہو۔

میرے احباب میرے ان خیالات کو سن کر مجھ سے بہت نالاں ہیں۔ کہتے ہیں عجیب شخص ہے مطالعے کی نفی کرتا ہے بھلا مطالعہ کے بغیر کوئی کیسے صاحب علم ہو سکتا ہے۔ میں کلی طور پر تو ان سے اتفاق نہیں کرتا لیکن سوچتا ہوں کہ مطالعہ ضرورت سے زیادہ مجبوری ہے، خاص کر اُن حضرات کے لیے جو سوچ تو سکتے ہیں، لیکن لکھ نہیں سکتے، وہ دوسروں کی تحریروں میں اپنی سوچیں ڈھونڈتے ہیں۔ مطالعہ اُن لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو سوچنے کو تضیع اوقات سمجھتے ہیں اور مطالعے کو تفریح طبع اور نیند کی گولی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میرے ایک عقل مند دوست نے مجھے سمجھایا کہ میاں کچھ چیزیں ان کہی اچھی لگتی ہیں، اگر بالفرض تم ثابت بھی کر دو اور لوگوں کو قائل بھی کر لو کہ مطالعہ بیکار شغل ہے تو تمہارے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہو گا۔ کیونکہ تمہاری بات کو ماننے کے بعد اُن کے پاس تمہاری اس تحریر کے پڑھنے کا کیا جواز ہو گا؟ لہٰذا تم مطالعے کے بارے میں اپنے خیالات کو ضابطہ تحریر میں لانے سے اجتناب کروں بلکہ لوگوں کو بھی ترغیب دو کہ مطالعہ ناگزیر ہے۔ بات دلفریب تھی اس لیے فوراً دلنشین بھی ہو گئی کہ مطالعہ عرفان اور آگہی کا واحد ذریعہ ہے اور میں آئندہ کے لیے تائب ہو گیا کہ اب چاہے میرا ذہن مجھے کتنا بھی اکسائے میں مطالعے کے بارے میں ذہن میں آنے والے تمام منفی خیالات کو جھٹک دیا کروں گا اور بقیہ عمر مطالعہ کی ترویج اور تبلیغ ہی میں صرف کروں گا۔

ابھی اس نیک خیال کی نیت ہی کی تھی کہ میرا ذہن ایک اور منفی سوچ کے تانے بانے بُننے لگا۔ وہ یہ کہ ادب تخلیق کیوں کہلاتا ہے اور یہ کرب تخلیق کیا ہوتا ہے۔ تخلیق تو کسی چیز کے عدم سے وجود میں لانے کا نام ہے، جبکہ ادب کی اساس ہمارے مطالعہ اور مشاہدے کا تحریری اظہار ہے، اس لیے ادب تخلیق کرنے کی اصطلاح غیر منطقی ہوئی اور یہ کرب تخلیق یا تو ڈھکوسلا ہے یا املا کی غلطی۔ شاید اس اصطلاح کے موجد نے طریق تخلیق تجویز کیا ہو اور کاتب نے اسے کرب لکھ دیا ہو یا اگر طرب تخلیق ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو کرب کی شکل اختیار کر لیتا ہو۔ میں بذات خود تو کرب تخلیق سے کبھی دوچار نہیں ہوا البتہ جب کوئی شعر موزوں ہو جاتا ہے یا کوئی تحریر مکمل ہو جاتی تو اک گونہ خوشی کا احساس ضرور ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  میرا علمی و مطالعاتی سفر —– سجاد میر

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: