افغان جنگ اور بڑی تبدیلی: امکانات و توقعات —– عمیر فاروق کا تجزیہ

0
  • 436
    Shares

ہمارے مغرب میں ایک بہت بڑی تبدیلی واقع ہوچکی جو نائن الیون کے بعد ہونے والی خطے کی سب سے بڑی تبدیلی ہے گو کہ تین ماہ قبل ماسکو کانفرنس کے بعد ہی یہ سب یقینی تھا لیکن اس وقت اس پہ لکھنے سے گریز کیا کہ ہم اتنے نظریاتی شدت پسند لوگ ہیں کہ ہونے والی تبدیلیاں سر پہ منڈلاتی نظر آرہی ہوں تب بھی حقائق نظریہ سے متصادم ہوں تو آنے والے حقائق کا انکار کردیتے ہیں اور ایسی بات کہنے والے سے الجھنے لگتے ہیں۔

بہرحال اب جبکہ اس وقت پیشینگوئی سمجھی جانے والی حقیقت کہ امریکہ افغانستان سے جارہا ہے، اب تسلیم شدہ ہوگئی تو مزید اظہار خیال میں ہرج نہیں۔

ہمارے ہاں دو امور پہ ابہام موجود ہے:
اوّل یہ کہ امریکہ آخر کیوں جارہا ہے ؟
دوم کہ آنے والا افغانستان اور خطہ کیسا ہوگا؟

اگر ہم پہلے سوال کو اچھی طرح سے سمجھ لیں تو دوسرے سوال کا جواب خود بخود مل جائے گا۔

پہلے سوال کے ضمن میں یہ سمجھ لیں کہ امریکہ یہاں کسی نظریاتی وجہ سے موجود نہ رہا لہذا طرفین کے نظریاتی بھائی اپنی رنگدار عینکوں کو سادہ یا شفاف عینک سے بدل لیں کیونکہ امریکہ کی موجودگی کا اصل مقصد معاشی اور سیاسی مفادات تھے سیاسی مفادات کا ترجمہ نظریاتی سیاست کی بجائے ملکوں پہ سیاسی طور پہ اثرانداز ہونا کہ وہ امریکہ کو معاشی طور پہ فائدہ پہنچا سکیں، کرنا چائیے۔
نیز امریکہ کی یہ شکست ہرگز فوجی شکست نہیں اس خام خیالی سے بھی باہر نکل آئیں امریکہ کو یہاں فوجی شکست دینا ناممکن کے قریب تھا یہ بات پاکستان، چین افغان طالبان اور روس سبھی سمجھتے تھے۔

یہاں سٹریٹیجک شکست ہوئی ہے کیونکہ افغان طالبان اور بقول امریکہ و انڈیا اس کے پیچھے موجود پاکستان نے امریکہ پہ یہ ثابت کردیا کہ امریکہ فوجی طور پہ یہ جنگ نہیں جیت سکتا اور اس کوشش میں وہ ایک سٹریٹیجک دلدل یا بلیک ہول مین پھنس جائے گا جبکہ دیگر اپنی ترقی کی راہ پہ گامزن رہیں گے۔
امریکہ وہاں اپنی موجودگی کے باوجود مشرق میں وسطی ایشیا کے تیل اور معدنیات کے ذخائر کے حصول میں ناکام رہا کیونکہ افغانستان میں امن نہ تھا اور پاکستان اس کا سٹریٹیجک پارٹنر نہ تھا۔ اور نہ ہی اس کو موجودگی اس کام آئی کہ مشرق میں سی پیک اور مغرب روس ایران کے ماسکو چاہ بہار کاریڈور کو روک سکے۔

یہ سٹریٹیجک شکست تھی اس کا مطلب تھا کہ امریکہ افغانستان میں جتنا زور لگا لے وہ صرف پیسہ خرچ کرے گا جبکہ افغانستان میں امن نہ ہونے کے باعث وسطی ایشیا کے ممالک اپنا تیل یا معدنیات فروخت کرنے کے لیے سی پیک کی صورت میں چین اور نارتھ ساؤتھ کاریڈور کی صورت میں روس کی محتاج ہونگی اور یہ سارا خطہ روس یا چین کی اجاراداری میں چلا جائے گا۔

یہی سٹریٹیجک شکست تھی کہ امریکہ کی افغانستان میں فوجی موجودگی اس کے معاشی اور سیاسی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن چکی تھی۔

اس لئے امریکہ نے نکلنے کا فیصلہ کیا کہ گریٹ گیم سے بالکل باہر ہونے کی بجایے قربانی دے کر اس کے اندر رہنا بہتر ہے۔
اس غلط فہمی سے چھٹکارا بھی ضروری ہے کہ امریکہ مکمل طور پہ نکل جائے گا ایسا نہیں ہے وہ فوجی طور پہ نکلے گا لیکن سیاسی اور معاشی طور پہ موجود رہے گا بلکہ واپس آئے گا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب افغانستان کا بوجھ سر سے اتار کے امریکہ خطے میں نئے سرے سے انگیج ہوگا۔
نئے سٹریٹیجک معاہدہ جات ہونگے خاص طور پہ پاکستان سے اور افغانستان سے۔
اب ہم دوسرے سوال کی طرف جاتے ہیں کہ نئے حالات کیا تبدیلیاں لانے والے ہیں یا لا سکتے ہیں۔
یعنی آنے والا افغانستان اور خطہ کیسا ہوگا۔
ایک خطرہ جو سب بیان کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ دوبارہ نوے کی دہائی کا دور واپس آنے والا ہے یا آجائے گا روایتی طالبانیت کا دور دورہ ہوگا یا وغیرہ وغیرہ۔

جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ واقعات اپنے آپ کو دہرائیں گے تو اس وہم کا شکار ہوجاتے ہیں کہ وقت وہیں کھڑا ہے اور کسی نے کچھ نہ سیکھا جبکہ یہ خود ارتقا کے خلاف ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں جو ہوا اس کی کچھ حرکیات تھیں جبکہ آج کے دور کی حرکیات و ضروریات مختلف ہیں۔
ماضی میں جب افغانستان ملا عمر کی طالبانیت کا شکار ہوا تو اس کی کچھ حرکیات تھیں جو وقت اور حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی ضروریات اور مجبوریاں تھیں جن میں بالترتیب تھا۔

ملا عمر جو کسی باقاعدہ مدرسہ کا اعلی تعلیم یافتہ بھی نہ تھا لیکن اس کا فہم دین و دنیا جو قبائلی پشتون اخلاقی کوڈ سے ہم آہنگ تھا لیکن اس کی کریڈیبیلیٹی ایسی مجبوری تھی جس کہ وجہ سے وہ سب کی ضرورت بن گیا۔
امریکہ اور پاکستان کا معاشی سٹریٹیجک فیصلہ کہ افغانستان میں کسی بھی طرح خانہ جنگی ختم ہو تاکہ تیل کی پائپ لائنز گوادر سے براستہ افغانستان وسطی ایشیا تک پہنچ سکیں اگر ملا عمر کا تصور مذہب اس میں معاون ہے تو برا کیا؟
تیسرا فیکٹر سعودیہ کا تھا جو اس میں پارٹنر تھا سعودیہ تیل کی ایک طاقت ہے لیکن اس دور کا سعودیہ جمہوریت کو ناپسند کرتا تھا اور ایک خاص برانڈ کا اسلام پھیلانے میں سیاسی دلچسپی رکھتا تھا جو جمہوریت سے مبرا ہو اور اس کی ایران سے چشمک بھی تھی تو اس نے ملا عمر کا سخت طالبان ٹائپ برانڈ برآمد کرنے میں سرمایہ کاری کی۔
اس طرح امریکہ اور سعودیہ کی سرمایہ کاری اور پاکستان کی زمینی مدد کے اتحاد سے ۱۹۹۴ والی طالبانیت برآمد ہوئی
اب زمینی حالات مختلف ہیں۔

پہلی بات تو افغان ریاست ہے جو بیرونی مالی امداد کے بغیر چل نہیں سکتی اور امریکہ اس کا بوجھ اس لئے نہیں اٹھانا چاہتا کہ وہ وہاں سے کما کچھ نہیں رہا جبکہ چین وہاں سے کما رہا ہے تو آنے والے افغانستان کا پے ماسٹر چین ہوگا جو مذہبی شدت پسندی کے خلاف ہے۔
یہی معاملہ روس کا ہے جو افغانستان کی ڈرگ ٹریفکنگ اور داعش جیسی دہشت گردی کے خلاف ہے ملتا جلتا معاملہ ایران کا ہے جو بیک وقت امریکی موجودگی اور داعش سے خائف ہے۔
اسی طرح کا معاملہ امریکہ کا ہے جو ساری جاتی دیکھ کر بانٹنے پہ تل آیا ہے وہ بھی یقیناً نہین چاہے گا کہ افغانستان میں وہ جانے کی قربانی دے بھی دے اور پھر بھی بدامنی ہو اور اس کو راستہ رکا رہے۔
اس طرح یہ امکان تو تقریباً خارج ہوا کہ بعد از امریکہ افغانستان کسی طرح کی خانہ جنگی کا شکار ہوگا۔

کابل رجیم یا انڈیا کی طرف سے کوشش ضرور ہوگی لیکن بھاری مخالفت دیکھتے انہیں خاموش ہونا پڑے گا۔
افغان طالبان اور افغانستان کے اندرونی حالات پہ بھی دوست شکوک کا اظہار کررہے ہیں۔
مثلاً آنے والا افغانستان کیسا ہوگا ؟ اور ایک بنیاد پرست افغانستان پاکستان پہ تو پہلے کی طرح منفی اثرات نہ ڈالے گا؟

ایسا ہوتا لگتا نہیں کیونکہ طالبان کو کابل رجیم کی بعد افغانستان کے اندر موجود سیاسی اور ثقافتی یا نسلی گروپوں سے بھی مذاکرات کرنے ہونگے جس پہ رضامندی کا اظہار انہوں نے کردیا ہے انکا کہنا ہے کہ ان تمام طاقتوں سے افغانستان کے آئندہ آئین پہ بات چیت ہوگی اسی طرح وہ ماسکو میں بتا چکے کہ وہ اپنے ہر ہمسایہ ملک کے ساتھ مل کر چلیں گے بشمول ایران اور کسی سے ان کا جھگڑا نہ ہوگا بلکہ یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو تین لاکھ فوج کی ضرورت ہی نہیں انہین کسی ہمسائے سے خطرہ نہیں اور وہ تین لاکھ فوج کا خرچہ پولیس پہ کرنا پسند کریں گے تاکہ افغانستان اندر سے محفوظ ہو۔

المختصر ایسا نہیں لگتا کہ نوے کی دہائی والے افغانستان کا دور واپس آنے والا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: افغان امریکہ جنگ: دینار بابا اور شیخ رشید — عابد آفریدی
(Visited 31 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20