میری ناقص رائے ——— لالہ صحرائی کا انشائیہ

2
  • 217
    Shares

جب کوئی چیز درکار ہو تو سب سے پہلے اس کی کوالٹی دیکھی جاتی ہے مگر آدابِ معاشرت کا تقاضا ہے کہ ہر وہ ذاتی فعل جس کا معیاری ہونا مقصود ہو اسے کسرِ نفسی کے تحت ہمیشہ ناقص قرار دے کے ہی پیش کریں۔

اس طریقے کا قابل رحم پہلو یہ ہے کہ جب کوئی اپنے قیمتی گھر کو غریب خانہ، خود کو احقر، اپنی بات کو ناقص اور تحفے کو حقیر قرار دے چکے تو فریق ثانی پر یہ ذمہ داری خوامخواہ عائد ہو جاتی ہے کہ ان الفاظ پر اعتبار کرنے سے پہلے ان کے قطعی الٹ معنی لے اور یوں سمجھے کہ اس کا واسطہ بالکل صحیح اور معیاری اشیاء سے پڑا ہے۔

کسر نفسی کا یہ اصول ٹشوپیپر کے مصداق ہے یعنی دوسرا بندہ جب پہلے کی بات کا الٹ مطلب لیکر اس کی کوالٹی پر ایمان لاتے ہوئے یہ بیان دیدے کہ میری خوش قسمتی ہے جو آپ جیسے عالی قدر انسان نے اپنے دولت کدے پر ملاقات کا شرف بخشا اور اپنے گرانقدر خیالات سے مستفیض ہونے کا موقع دیا تو یہ اصول اپنا طے شدہ کردار ادا کرکے فوت ہو جاتا ہے کیونکہ فریق اول کی محنت وصول ہو جاتی ہے لہذا وہ فریقِ ثانی کے جواب کا مزید الٹا مطلب لیکر یہ نہیں کہے گا کہ آپ میری بات کو جھٹلا رہے ہیں بلکہ وہ اسے فریقِ ثانی کی اعلیٰ ظرفی قرار دے گا جس کا مطلب ہے کہ آپ کافی سمجھدار انسان ہیں جو مدعا سمجھ گئے تھے۔

اس کے بعد فریق ثانی چاہے تو اپنے تحفے کو حقیر قرار دیکر پیش کرکے اس سنہری اصول کو اپنے حق میں بھی استعمال کروا سکتا ہے، تحفہ نہیں لایا تو خود کو اعلی ظرف قرار دئے جانے کی کوشش کو فریق اول کا بڑاپن قرار دے کے اسے دوبارہ اپنی توصیف پر مجبور کرسکتا ہے کیونکہ الٹا مطلب لینے کی باری اب پہلے بندے پر ہی عائد ہوگی۔

ان الٹ بازیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دو انسانوں کو ایکدوسرے کی نظر میں معتبر ثابت ہونے کیلئے کافی مشقت کرنی پڑتی ہے تاکہ اتنی محنت سے حاصل شدہ چیز ہمیشہ قابل قدر رہے۔

اس ٹرولنگ کی اہمیت کا جب حقیقی ادراک نہیں تھا تب ہم بھی ایسی کئی معروف شخصیات کو ایک بار مل کے بے دلی سے ایسے واپس ہوئے کہ دوبارہ اس طرف کبھی نہیں گئے حالانکہ ان کی قابلیت کا شہرہ سن کر ہی گئے تھے لیکن جب انہیں خود اپنے آپ کو ایویں سا قرار دیتے ہوئے سنا تو اپنے بھولپنے میں آوازِ خلق کی بجائے ان کے اپنے بیان پر زیادہ اعتبار کر بیٹھے۔

یہ عظیم الشان چونچلا بڑے لوگوں میں ہی مروج ہے، جماعت الغرباء میں فریق دوم پر الٹ معنی لینے کا اصول لاگو نہیں ہوتا ورنہ کسی غریب کی جھونپڑی کو دولت کدہ اور کسی مسکین کو عظیم شخصیت قرار دینا اس غریب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہی سمجھا جائے گا۔

ان حالات میں ناقص رائے وہ ہوتی ہے جو اس یقین کیساتھ دی جائے کہ اصل میں صحیح رائے بس یہی ایک ہے اور اسے ناقص قرار دے کے اسلئے پیش کیا جاتا ہے تاکہ دوسرا کوئی اس کی نقل نہ کر سکے، ایسی رائے ان حضرات کی طرف سے آتی ہے جو کسی قابل ہوں نہ ہوں مگر اہم ضرور ہوتے ہیں لہذا کوئی بھی ان کی رائے کو جھٹلانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ دیگر سرکردہ لوگ بھی اسے ایک اہم رائے تصور کرکے قبول کر لینا ہی اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں۔

معتبر آدمی کی ناقص رائے میں ایسی جاذبیت ہوتی ہے کہ دیگر تمام آراء کو اپنے اندر جذب کرکے سب کا ایک مکسچر بنا لیتی ہے اسلئے کاسٹنگ ووٹ کی طرح یہ فیصلہ کن کردار ادا کر جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو ویٹو پاور کا درجہ بھی اختیار کر لیتی ہے، کسی موضوع پر خواہ کتنی ہی آراء کیوں نہ موجود ہوں وہ سب آخرکار ایک ناقص رائے میں ہی آکر ضم ہوجایا کرتی ہیں۔

بعض حالات میں اگر کسی اول درجے کے بندے کی ناقص رائے کو رد کرنا پڑ جائے تو بھی اسے ناقص قرار نہیں دیا جاتا بلکہ حالات کو ناقص قرار دے کے معذرت خواہانہ لہجے میں گزارش کی جاتی ہے کہ آپ کی رائے سر آنکھوں پر، مگر میری ناقص رائے میں یہ حالات ایسے اچھے نہیں ہیں کہ ان میں یہ عمدہ ترین رائے نافذ کی جا سکے، یعنی ایک ناقص رائے کو رد کرنے کیلئے ایک دوسری ناقص رائے مقابلے پہ کھڑی کرنا پڑتی ہے ورنہ کسی ناقص رائے کو جھٹلانا مشکل بلکہ ناممکن سی بات ہوتی ہے۔

ناقص رائے رکھنے والوں کی مقبولیت میں اس دوسرے طبقے کا بڑا دخل ہوتا ہے جو ناقص رائے دہندگان کی اصل طاقت ہوتا ہے، یہ طبقہ اسی گھات میں ہوتا ہے کہ مرشد جیسے ہی اپنی ناقص رائے پیش کریں تو اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا جائے بلکہ واہ واہ کے شور کیساتھ اسے سینگوں پر اٹھا لیا جائے تاکہ اپنی مرضی کا فیصلہ ہو سکے۔

اس کے بعد ان درمیانے درجے کے لوگوں کی باری آتی ہے جو ناقص رائے کی فضیلت سے متاثر ہو کر اپنی رائے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ناقص قرار دے کر ہی پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں، ان درمیانے درجے کے افراد کی طرف سے ناقص رائے پیش کرنا حقیقت میں ایک لجاجت بھری درخواست ہوتی کہ برائے مہربانی حسب دستور اسے بھی ایک بہت اچھی رائے سمجھ کے قبول کر لیا جائے۔

ان افراد کی حیثیت اپرنٹس۔شپ پر آئے ہوئے لوگوں جیسی ہوتی ہے جو تعلیمی یا سماجی کسی نہ کسی وجہ سے اول درجے کے افراد کے بعد بولنے کی نہ صرف جرآت کر سکتے ہیں بلکہ ان کی نقل کرنے کے بھی قابل ہوتے ہیں، ایسے زیر تربیت عقلاء جو مکمل دانشور ہونے کی بجائے فی الحال جہلاء کا متضاد ہوتے ہیں وہ درجہ اول میں سے بعض افراد کو اپنا استاد مان کے چلتے ہیں اور اکثر وبیشتر ان کی ہمنوائی میں رطب اللسان ہو کے ان کی خوشنودی بھی حاصل کرلیتے ہیں۔

ناقص رائے والوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خوشنودی علیہان وقتاً فوقتاً اپنے اپنے خوشامد کنندگان کی رائے کو بھی سہارا دے جاتے ہیں، مثلاً جب ایک نائب دانشور اپنے استاد کی طرف مائل بہ لجاجت ہوکر اپنی ناقص رائے پیش کر دیتا ہے تو وہ فوراً اس کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے کہ آپ کی اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ”۔۔۔۔۔”

اس خالی جگہ میں استاد محترم پھر سے اپنا لُچ تل جاتے ہیں جس کا ایک مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اس فدوی کی رائے میں موجود نقائص کو بطور احسان کور کردیا جائے تاکہ بعد ازاں وہ ممنون ہو کر استاد رکھنے کی ضرورت کو ہمیشہ محسوس کرتا رہے اور دوسرا اہل بزم کو یہ بھی باور کرا دیا جائے کہ میں ابھی مرا نہیں جو میری ناقص رائے پر کسی اور کی ناقص رائے حاوی ہونے کی جرآت کرسکے۔

ناقص رائے پیش کرنا ہر ایرے غیرے کا کام نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے صدر مجلس یا تسلیم شدہ دانشور یا اہل علم ٹائپ مشہور ہونا اشد ضروری ہے۔

اہل علم ہونے کیلئے بندے کو یہ علم ہونا چاہئے کہ مجلسوں میں کن کن لوگوں کی معاونت سے آگے بڑھا جا سکتا ہے، ایسے لوگوں سے سلام دعا گہری کر لینی چاہئے، ہو سکے تو چند ایک پر کچھ معمولی نوعیت کے احسانات بھی کر لینے چاہئیں، تاکہ بوقت ضرورت وہ مدعی کی بات کو جھٹلا نہ سکیں بلکہ حسن اخلاق اور ممنونیت کے احساس میں کچھ دھکا بھی لگا جائیں۔

رائے زنی کرتے وقت جب یہ خدشہ ہو کے آپ کی رائے سے کچھ بااثر افراد ناراض بھی ہوسکتے ہیں اور رائے دینا بھی ضروری ہو تو پھر ناقص رائے دینے کا ہی راستہ اختیار کرنا چاہئے، اول تو اس پر کوئی ناراض نہیں ہوگا، ناراض ہوا بھی تو محض ناک بھوں چڑھا کے ہٹ جائے گا، لامحالہ اگر کوئی کچھ کہہ بھی دے تو آپ باردگر انہیں یاد دہانی کرا کے اپنی جان بچا سکتے ہیں کہ یہ میری ناقص رائے تھی باقی آپ خود مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔

ناقص رائے کو جھٹلانے والی بااثر شخصیات میں بیویاں سرفہرست ہیں، ویسے تو باس بھی اسی کیٹگری میں آتا ہے لیکن اس کمبخت کو بدلنے کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے۔

ناقص رائے کے بارے میں علمی و ادبی طور پر یہ طے ہے کہ جب یہ کسی معتبر فرد کی طرف سے آئے تو یہ تمام آراء کی سرتاج ہوتی ہے اور جب کسی ہما شما کی طرف سے آئے تو قابل توجہ نہیں ہوتی اسلئے خودبخود کھڈے لائن لگ جاتی ہے یا پھر لگا دی جاتی ہے اور بعض اوقات تو واقعی ناقص قرار دے کے رد بھی کر دی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی طبیب یا وکیل آپ کے کسی مسئلے پر ناقص رائے پیش کرے تو اسے قبول کرنا تو درکنار فوراً سے پہلے اس بندے سے کنارہ کر جانا چاہئے کیونکہ ان حضرات کی ناقص رائے مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے، اسی طرح سیاستدان کی پکی رائے بھی اس کے وعدوں کی طرح ناقص ہی نکلتی ہے اور اس کا تناقص بھی اصلی اور سُچا ہوتا ہے۔

ناقص رائے صرف علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی معاملات پر ہی دی جا سکتی ہے، دینی، طبی اور عسکری معاملات میں ناقص رائے دینا نہایت خطرناک فعل ہے لہذا اسے متعلقہ شعبوں کے ماہرین تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔

میری ناقص رائے میں اس موضوع پر یہی کچھ کہا جا سکتا تھا جو قلمبند کر دیا ہے، اس کے بعد کسی مزید رائے کی گنجائش باقی نہیں رہتی، پھر بھی آپ کو کوئی رائے سوجھ رہی ہے تو اسے ناقص قرار دے کے بلاجھجھک پیش کر دیں، جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

(Visited 35 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. اور میں آپ کی تحریر کو اس لیے نظر انداز کرنے لگی کہ ایف۔بی پر تحریر کی شروعات” میری ناقص رائے” سے تھا ۔۔۔ بہرحال ۔۔ آپ نے میلہ لوٹ لیا۔ بہترین۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: