اُس پار ———- الیاس بابر اعوان

0
  • 21
    Shares

شام کے سُرخ پرندے اُترنے سے قبل اُسے اُس پار پہنچنا تھا، اُس پار جہاں پیلی دھوپ کی سرسوں کے کھیت تھے۔ نیلے چمک دار پانی، جیسے ٹاس میں بھری کوری پیاس جو اُس پار سے وہ اپنی آنکھوں میں بھر کر یہاں لے آیا تھا، اور ایک عمر سے بڑی آس جو دُور بہت دُور ہمالہ کے پہاڑوں سے بھی بڑی تھی۔ گائوں پہ آخری نظر ڈالتے وقت اُس کے تنومند شانے پہ محض ایک گٹھڑی تھی، یہ گٹھڑی شرینہہ کے پیڑکی طرح پھیلتی رہی اور اخیر اس کے پیچھے پھرتے پھرتے اُس کی کوہان بن گئی، اور وہ دُور سے یوں دکھائی دیتا تھا جیسے بیٹھا ہُوا اونٹ۔ پر یہ سب ایسا نہیں تھا۔

یہ ان دنوں کی بات تھی جب مٹٰی کے وتر سے خاردار تار نہیں اُگی تھی، وہی تار جو دھیرے دھیرے اس کی ہتھیلی پہ اکھروں کی طرح لکھی ہوئی تھی۔ جس کے ہر موسم میں الگ الگ معنی نکلتے، اور وہ ہمیشہ سے ایک گُوں مگوں کی کیفیت میں رہتا۔ جوتی کو آخری ٹانکا لگا کر وہ جیسے ہی تقریباًکھڑا ہوا، اُس کے کان میں بالے کی آواز پڑی’’چاچا! اج خیر تو ہے کدھر کی سواری ہے؟ بالے ماشکی نے اپنی چپل مرمت کروانے کے بعدچاچے کی ٹانکا ٹانکا ہتھیلی پہ اک دھیلے کا سکہ پھینکتے ہوئے پُوچھا۔ اُس نے دھیلے کو دیکھا، مٹٰی میں بھورا بھورا مٹی ہوتے اُس کے بوڑھے پاؤں ابھی تک اپنی جگہ قائم تھے۔ دھیلے نے آہستگی سے اس کو کہا: اک عمر کا سفر، اک دھیلا، اک کُبھ، اور سردار سے موچی کا سفر گھاٹے کا سودا تو نہیں؟چاچا ہنس پڑا اور پھر اُس نے پرانی اخبار کی طرح مرجھائے ہوئے پگڑ کا شملہ ایک طرف کو جھٹکا اور بولا’’ پُتر!، اُس پار جانا ہے جہاں موروں کی جوڑی مجھے پکارتی ہے، سفید گھوڑیاں میرے انتظارمیں بیٹھی ہیں، بس اُدھر جانا ہے! بالا ہنس پڑا! چاچا رحمت! وہاں اُس پار کچھ نہیں، سب ادھر ہی ہے، تری یہ باتیں سن کے یہ پیڑ بھی بوڑھے ہو گئے ہیں، دیکھ اب ان پیڑوں کا بھی کُبھ نکل آیا ہے، پتہ نہیں تو نے کب اُدھر جانا ہے، میں اک بات بتاؤں تجھے، یہ اِدھر اُدھر کچھ نہیں ہوتا، سب تیری اپنی بنائی ہوئی دنیا ہے، سب کچھ اِدھر ہی ہے۔ نہیں پُتر اوئے، وہاں مور ہیں جو میرا نام لیتے ہیں، مجھے بلاتے ہیں، خوبانی کے پیڑ تلے میری چارپائی بچھی ہوئی ہے، سفید رنگ کی اتھری گھوڑیاں میری راہ تک رہی ہیں، مجھے آج ہر حال میں اُس پارجانا ہے۔ چاچے رحمت نے اپنی ایک ٹانگ والی عینک کے شیشے پہ بنے مکڑی کے جالے سے بالے کو دیکھا، اور بالا محض ہنس دیا، اور پھر نجانے کس وقت وہاں سے ہوا ہو گیا، شام سے پہلے پہلے بالے کو شہر پہنچنا تھا حالا نکہ اس عمر میں مزدورںکے جُثے اتنے تگڑے نہیں ہوتے جتنا بالے کا تھا۔ پر بھُوک بندے کو پر لگا دیتی ہے چنگا بھلا بندہ پکھیرو بن جاتا ہے اور پھرکبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ اُڈاری مارتے مارتے عمر گزر جاتی ہے۔

اُس نے پھر ایک مرتبہ شمال کی طرف نظر اُٹھائی۔ اُسے یقین ہو گیا کہ ابھی بھی اُس پار مورنواب رحمت الٰہی کا نام لیتے ہیں گھوڑیاں اس کی راہ میں بوڑھی ہو رہی ہیں، اُس نے سوچا کہ بوڑھی سانسیں اور بوڑھی گھوڑی اس کھاٹ کی طرح ہوتے ہیں جس میں ادوائن نہیں ہوتی، بندہ سکتا ہے نہ ہی کسی کو دے سکتا اے کہ نجانے کس وقت کام آجائے۔ اس سے پہلے کہ اس کی ادوائن بالکل ہی ٹُوٹ جائے اُسے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ آج چاچے کو گائوں سے غائب ہوئے دسواں دن تھا، گائوں میں چاچے کا کوئی رشتہ دار نہیں تھا مگر سارے رشتے چاچے سے جا کے جُڑ جاتے تھے، چاچے کا کوئی گھر نہیں تھا، مگر ہر گھر کاراستہ اُس کے اندر سے ہو کر گزرتا تھا، گائوں والوں کو اتنا یاد ہے کہ گائوں کی عمر کا اندازہ پرانے مندر کی گرتی ہوئی دیواروں اور چاچے رحمت کے بھورا بھورا زمین کی طرف جھکتے ہوئے کُبھ سے لگایا جاتا تھا۔ اردگرد بڑی دُور تک اس کی تلاش کی گئی، شمال کی طرف زیادہ دُور جانے کی اجازت نہ تھی، اُس سے آگے دشمن کا علاقہ تھا، اگر کوئی جھلاجانور چراتا ہُوا بھُول بھلا کے اُس طرف کو چلا جاتا تو چاروں طرف سے سیٹیاں بجنا شروع ہو جاتیں اور کچھ دیر بعد گورکھے رائفلیں اٹھائے ادھر پہنچ جاتے۔ گائوںکے لوگوں نے مقامی محافظوں سے بھی چاچے رحمت کے بارے میں پوچھا مگر کسی کو کوئی خبر نہ تھی۔

پھر ایک دن کسی چرواہے نے خبر دی کہ اس نے شمال کی طرف اک کھائی کے قریب ایک لاش دیکھی ہے، گائوں کے لوک پہچان کی خاطر وہاں پہنچے، مگر لاش کو کتوں، بھیڑیوں اور گِدھوں نے بری طرح سے مسخ کیا ہُوا تھا، بچے کھچے جسم پہ کپڑوں کی جگہ چند چیتھڑے تھے، اور بارش اور دھوپ کی وجہ سے لاش کی پہچان کے قابل نہ تھی۔ یوں بھی اتنے دن بعد لاش خود اپنا چہرہ بھی نہ پہچانے۔ گائوں کے لوگ نصف کھائی ہوئی لاش کو دیکھتے، کانوں کو ہاتھ لگاتے اور ایک طرف ہوتے جاتے، بدبو اتنی تھی کہ سب نے ناک کپڑے سے ڈھکے ہوئے تھے۔ جب سب لوگ مایوس ہو کر جانے لگے تو بالا آگے بڑھا، لاش کے دائیں ہاتھ میں مور کا اک پر تھا جو لاش نے سختی سے پکڑا ہُوا تھا۔ وہ چیخا او رکو رکو گائوں والو! یہی لاش ہے چاچے رحمت کی، دیکھو دیکھو اس کے دائیںہاتھ میں مور کا پر! سب لوگوں نے مڑ کے دیکھا لاش کی مٹھی میں واقعی ایک پر تھا مگریہ پر مور کا نہیں کسی گِدھ کا۔ شاید مرنے سے قبل چاچے کی گِدھوں سے مُڈبھیڑ ہوئی ہو یا پھر کچھ اور۔ تاریخ کی دیوی کی مانگ میں سیندور بھرا رہے گا، جوگی بابے کا جوگ زندہ رہے گا، یو این او کے مداری یوں ہی تماشا کرتے رہیں گے، اور چپکے سے ہاتھوں کی لیکروں پر کانٹے دار بچھا دی جائے گی کسے معلوم تھا کہ کشمیر کی ڈل جھیل کے ساتھ نشاط باغ میں بیٹھا ایک نوخیز نوجوان جسے نواب رحمتِ الٰہی کہا جاتا تھا تاریخ کی سنہری راہوں میں ایک جگنو کو پکڑنے شام کے وقت چلے گا اور چلتے چلتے محض ایک سرحد نہیں بلکہ مہابیانیے کے اُس پار چلا جائے گا۔

اُس پار جہاں سے واپسی کے لیے گورکھوں کی پاس اُس کے لیے ماسوائے موت کے کوئی اور تحفہ نہ تھا۔ البتہ ہندوستانی تاریخ کے کسی حاشیے میں ایک گورکھے کا ذکر ضرور ملتا ہے جس کی پگڑی سے اُس شام (جب چاچے رحمت کو ان دیکھے جانور کھا نے کے درپے تھے) ایک پرندے کے پر جتنا کپڑا کسی کے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: