حکمت تہذیب: ازمنہ وسطٰی کا تاریخی سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر ابراہیم

0
  • 26
    Shares

دانستہ، منظم انداز میں، صدیوں تک، اور صدیوں تاریخ کا یہ باب فراموش کیا گیا، ازمنہ وسطٰی کاعہد زریں ’دور ظلمت‘ قرار دیا گیا، اور علوم کی عظیم ترین تشکیل وترویج اور اشاعت کا عہد ’نامبارک‘ ٹھہرایا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ کس نے کیا؟ جبکہ اس کا بیشترزمانہ تہذیبوں کی حیات نو اورعروج کا تھا۔ اس عہد کی مکمل تعریف وتشریح سے کسے کیا خدشہ لاحق تھا؟ اس دور کی تفصیلات پر ’اندھیروں‘ کے مہیب سائے کیوں ڈالے گئے، دبیز پردے کیوں گرائے گئے؟ گو کہ اس عہدپر چیدہ چیدہ درست تحقیق مشرق اور مغرب میں سامنے آئیں، مگران کی تعداد اور اثرات انتہائی کم ہیں، اورکافی بے اعتنائی کا شکار ہیں۔ جبکہ یہ انسانی تاریخ کا وہ اہم باب ہے، جس کا بڑے پیمانے پر اظہار اور تکرار اتنی ہی ضروری ہے، جتنی اسے چھپانے اور مسخ کرنے والوں نے ضروری سمجھی۔

ازمنہ وسطیٰ پانچویں سے پندرہویں صدی عیسوی کا دور کہلاتا ہے۔ اس دور کے بارے میں دو گمراہیاں عام ہیں۔ ایک یہ کہ مذہب نے سائنس اور عیسائیت کی جنگ میں شکست کھائی۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ دوسری گمراہی یہ کہ جدید سائنسی علوم کی پیدائش اٹلی میں ہوئی۔ مغرب کے معتبر نقاد حسن عسکری مضمون ’ازمنہ وسطٰی‘ میں واضح کرتے ہیں، کہ ’’مغرب میں ازمنہ وسطٰی کی وہ تصویر کھینچی جاتی ہے جو پروٹیسٹنٹ مصنفوں، عقلیت پرستوں اور لادینوں نے کھینچی ہے، ان لوگوں نے اس زمانے کا نام ’ظلماتی دور‘ رکھا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس دور میں بادشاہوں، نوابوں، اور پادریوں نے مل کرعوام کواپنے شکنجے میں کس رکھا تھا۔ پادری علم کے ٹھیکیدار بن بیٹھے تھے، اور عوام کو علم سے محروم کردیا تھا۔ ۔۔ یہ تصویربڑی حد تک خیالی ہے۔ (حال) میں ازمنہ وسطٰی کے بارے میں جو تحقیق ہوئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات نواب اور زمیندارکاشت کاروں پر ظلم توضرور کرتے تھے لیکن فی الجملہ انسانی رشتوں کا جو احترام اس دور میں تھاوہ مغربی معاشرے میں پھر کبھی نہیں رہا۔ یہ بات کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے بھی تسلیم کی ہے۔ ۔۔اسی طرح یہ کہنا بھی سراسر غلط ہے کہ یہ تاریکی اور جہالت کا دور تھا۔ چونکہ سولہویں صدی سے لوگوں نے ازمنہ وسطٰی کی کتابیں پڑھنا چھوڑ دی تھیں۔ اس لیے یورپ کے لوگوں کیلئے اپنا ادب اجنبی ہوکر رہ گیا تھا۔‘‘

جدیدیت کے ماہر نقاد محمد ظفر اقبال ’اسلام اور جدید سائنس نئے تناظرمیں‘ کے باب ’کلیسا اورسائنس کی دشمنی: ایک چلتا خیال‘ میں لکھتے ہیں، کہ

’’عام طورپر جدیدیت پسند مفکرین تاریخ سائنس کے عمیق مطالعہ کے بغیرچند چلتے ہوئے مشہور افسانے سن کرعوام کو یہ باور کرواتے ہیں کہ کلیسا اور سائنس میں تصادم ہوگیا تھا۔ کلیسا سائنس کا دشمن تھا اوراس سے مذہب بدنام ہوا جبکہ یہ بالکل غلط اور لغو الزام ہے ، حقیقت یہ ہے کہ کلیسا منطق، سائنس اور فلسفے کے سائے میں مذہبی تعلیمات اور عیسوی اعتقادات کی عقلی اور سائنسی توجیہات پیش کررہا تھا، یہ سلسلہ انتہائی کامیابی سے اٹھارہ سو سال تک چلتا رہا۔ سائنس، منطق، فلسفہ عیسوی مذہب قدم بہ قدم ایک دوسرے کے ہمراہ چلتے رہے،۔۔۔ کاپرنیکس اور کلیسا کی جنگ مذہب اور سائنس کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ جنگ فی الاصل قدیم یونانی فلسفہ و سائنس اور جدید فلسفہ و سائنس کی جنگ تھی۔ کیونکہ مذہب عیسوی نے منطق سائنس وفلسفے کوایک دینی رویے کے طور پر اختیار کرلیا تھالہٰذا عیسائیت کا گلا جدید سائنس و فلسفے نے کاٹ دیا، اگر عیسائیت سائنس کے ساتھ منسلک نہ ہوتی اور فلسفہ کے منطقی دلائل کو اپنے حق میں استعمال نہ کرتی تو سائنس اس پر اثر انداز نہ ہوسکتی۔ عیسائیت کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مذہبی منہاج علم کو فلسفیانہ سائنسی اور منطقی یونانی علوم کے منہاج سے مخلوط کر دیا تھا۔‘‘

یہ ہے ازمنہ وسطٰی کی دو تاریخی گمراہیوں کا احوال، ایک سرسری ساجائزہ ہزار سال کی تاریخ کاضروری ہے، تاکہ تصویرکسی قدر واضح ہوسکے۔ بلا شبہ، ازمنہ وسطٰی کا ابتدائی زمانہ تہذیبوں کی زبوں حالی کا ہے۔ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد سے بتدریج مغرب میں نہ صرف تہذیبوں کوحیات نو ملی، بلکہ وہ اسلام کے سائے میں طویل عرصہ فلاحی اور اصلاحی نعمتوں سے بہرہ مند ہوئیں۔ سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ شاندار تصنیف ’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘ کے باب ’بعثت محمدی سے پہلے‘ میں مسیحی دنیا کا حال یوں سناتے ہیں، ’’چھٹی صدی مسیحی بلا اختلاف تاریخ انسانی کا تاریک ترین اور پست ترین دور تھا، صدیوںسے انسانیت جس پستی ونشیب کی طرف جارہی تھی، اس کے آخری نقطے کی طرف پہنچ گئی تھی۔روئے زمین پر اس وقت کوئی طاقت نہ تھی جو گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑسکے۔ ۔۔ رومی وایرانی اس وقت مشرق و مغرب کی قیادت کے اجارہ دار بنے ہوئے تھے۔ وہ دنیا کے لیے کوئی اچھا نمونہ ہونے کے بجائے ہرقسم کی خرابی اور فساد کے علمبردار وذمے دار تھے۔ ۔۔

‘‘ایرانی اور رومی سلطنتوں کی خاک سے ازمنہ وسطٰی کا عہد زریں نمودار ہوا، مسلم بغداد اور مسلم اندلس نے نہ صرف ڈوبتی تہذیبوں کو سہارا دیا، بلکہ معاشرہ بندی کی اعلٰی تعلیم دی، یونانی ودیگر دنیا کے علوم کی یورپ میں ترویج عام کی۔ اسلام کی آمد سے مغرب میں جو انقلاب برپا ہوا، اس کی علمی و سائنسی نوعیت پر برطانوی ماہر سماجیات وبشریات ڈاکٹر رابرٹ بریفالٹ کی منفرد اور اہم کتاب Making of Humanity کے باب ’دارالحکمت‘ سے رجوع کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں، ’’جس سامی قوم نے اسلام کا علم بلند کیا۔ وہ بھی یورپ کی طرح دینی عقیدے سے سرشارتھی۔ اسی کا نام لیکر وہ اپنے خیموں سے اٹھی، اور حیرت انگیز طور پرقلیل مدت کے اندرایک سلطنت کی بانی بن گئی۔ جو رومن سلطنت سے زیادہ وسیع تھی۔ ۔۔ یورپ کی حقیْقی نشاۃ ثانیہ پندرہویں صدی میں نہیں ، بلکہ موروں اور عربوں کی احیائے ثقافت کے زیر اثر وجود میں آئی۔ یورپ کی نئی پیدائش کا گہوارہ اٹلی نہیں اندلس میں تھا۔ یہ براعظم بربریت کے گڑھوں میں گرتے گرتے جہالت و تنزل کی تاریک تریں گہرائیوں میں پہنچ چکا تھا۔ حالانکہ اسی زمانے میں عربی دنیا کے بغداد،قاہرہ، قرطبہ، طلیطلہ، تہذیب اور ذہنی سرگرمی کے روز افزوں مرکز بن چکے تھے۔ وہیں وہ زندگی نمودار ہوئی، جسے آئندہ چل کرانسانی ارتقاء کی ایک نئی منزل کی شکل اختیار کرنا تھا۔‘‘

جدیدیت پرستوں کی منظم بددیانتی، اور اس کا کافی کچھ سبب مذکورہ اقتباسات میں واضح ہے۔آگے ایک مقام پر رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں،

’’بغداد، شیراز، اور قرطبہ کے حکمرانوں کی سرپرستی میں علوم و فنون نے حیرت انگیز ترقی کی۔۔۔اس امر کی نہ کوئی مثال پہلے موجود تھی، نہ اب تک ہے، کہ کسی وسیع سلطنت کے طول وعرض میں حکمران طبقے اتنے بڑے پیمانے پرحصول علم کی مجنونہ خواہش سے سرشار ہوگئے ہوں۔ خلفاء امرا اپنے محلوں سے اٹھ کرکتب خانوں اور رصد گاہوں میں جاگھستے تھے۔ ۔۔ اہل علم کے خطبات سننے اور ریاضی کے متعلق مذاکرات کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کرتے، مسودات و مخطوطات اور نباتاتی نمونوں سے لدے ہوئے کاررواں بخارا سے دجلہ تک اور مصرسے اندلس تک رواں دواں رہتے تھے۔۔۔ اس حقیقت کو بار بار پیش کیا جاچکا ہے، لیکن بعض لوگوں نے اس سے ہمیشہ تغافل کیا ہے۔ اور اس کی اہمیت کم کرنے کی پیہم کوششیں کیں ہیں۔ یورپ کیسے کسی ’کافر کتے‘ کا شرمندہ احسان ہو! اس اعتراف کو مسیحی تاریخ میں کوئی مقام حاصل نہین ہوسکتا تھا۔ اور بعد کے تمام تصورات پر دروغ بافی اورغلط بیانی کا غلبہ رہا۔ روایات قدیم کی گرفت ان کے شدید مخالف پر بھی قائم رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ خود گبن (معروف مؤرخ) بھی اسلام کو بنظر استخفاف دیکھتا ہے۔ گزشتہ صدی تک عربوں کی تاریخ وثقافت کا اتنا علم بھی موجود نہ تھا جوصحت وحقیقت سے قریب ہو (یہ تحریر۱۹۱۹ کی ہے)۔۔۔ یہ بالکل تصور نہیں کیا جاسکتا کہ بربریت میں ڈوبی ہوئی آبادیوں کے پہلو بہ پہلورہنے اور ان سے مسلسل رابطہ رکھنے والی ایک درخشاں اور پرقوت تہذیب تخلیقی قوت سے بھرپور بھی ہو، اور پھر ان آبادیوں کی نشو وارتقاء پرگہرا اور اہم اثرنہ ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسلام اور یورپ کے رابطہ میں قانون فطرت معطل و ملتوی نہ ہوگیا تھا۔ اور اب اس کے گراں قدر ثبوت مہیا ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اس رابطے کی یادداشتوں کو دبانے، بگاڑنے، اور محوکردینے کی سازشیں برابر جاری رہی ہیں۔ اس کی وسعت و اہمیت بلاشبہ اس قدر زیادہ تھی ، کہ آج کل اس کی تفصیل کے ساتھ اس کا اظہار بھی ممکن نہیں۔ اگر ان حالات کو ذہن میں رکھا جائے، تواس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، کہ ہم عربوں کے اثر کے متعلق جو کچھ بھی بیان کریں گے، وہ کم تو ہوسکتا ہے ،زیادہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ خیال غالب ہے، کہ اگر عرب نہ ہوتے تو زمانہ حاضر کی یورپی تہذیب پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، اور یہ قطعی و یقینی ہے کہ یورپی تہذیب ایسی نوعیت اختیار نہ کرسکتی، جس کی وجہ سے وہ ارتقا کی ماقبل منزلوں سے آگے بڑھ گئی ہے، کیونکہ یورپ کی نشونما کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں، جس میں ثقافت اسلامی کے قطعی اثرکا سراغ نہ مل سکے۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یورپ میں وہ قوت پیدا ہوگئی ، جو اس کی کامیابی کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے، یعنی طبعی سائنس اور سائنسی روح‘‘

یہ اقتباس طویل ہے، مگر مغرب کے علمی اور تحقیقی نوادرات میں سے ایک ہے۔

یہی وہ واضح وجوہات تھیں، جدیدیت سے جو ہضم نہ ہوسکیں۔ تمام تر آزاد خیالی اورتعلیمی وتحقیقی پیشرفت کے باوجود، آج تک مغرب کی تاریخ مذہب دشمنی میں تعصب وتنگ نظری کی بدترین مثال ہے۔ اگرجدید مغرب اور سائنس پرست ان دوباتوں کا اعتراف کرلیں۔ مذہب اور تہذیب کی بنیادی اور تخلیقی حیثیت مان لیں، اورمسلم اندلس کوجدید سائنس کی جائے پیدائش تسلیم کرلیں، توجدیدیت کی ساری عمارت ڈھے جائے، کیونکہ سائنس پرستوں کی ساری تاریخ کااثبات ہی ان باتوں کی نفی میں ہے۔ ازمنہ وسطٰی تاریخ کا وہ پہلا عہد ہے، جب مذہب کے خلاف پہلی بار منظم حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ یہ ماقبل جدیدیت ،اور روایتی عہد کی بامعنی اصطلاحوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب ماہرین حیاتیات نے اسے’زرعی دور‘ کی سی دیہاتی بے چارگی میں پہنچا دیا ہے۔جہاں اس عہد کی منظر کشی دیہی زندگی کی سی ہے، جیسے انسان براہ راست جنگل سے میدانوں میں نکل آئے ہوں، کھیتی باڑی شروع کردی ہو، پھر طوفانوں اور دیگرآفات سے گھبرائے ہوں، اورطرح طرح کے خدا گھڑ لیے ہوں، از خود خدائی احکامات تخیل کرلئے ہوں، صحیفے و؎ضع کرلئے ہوں، پھرکیتھولک کلیسا نے ظلم کا بازار گرم کیا، علمی سرگرمیوں پر پہرے بٹھائے، سائنس اورعقلی علوم کی راہیں روک دیں، پھر لوگوں نے بغاوت کی، پروٹسٹنٹ باغیوں نے کلیساؤں کی فرعونیت ڈھادی، فرد کو آزادی مل گئی، وہ تقریر و تحقیق کے میدان میں کود پڑا، اور سائنسی انقلاب برپا کردیا، اور یوں اس دور جہالت سے انسانوں کو نجات ملی۔ ۔۔اور پھر عثمانوں نے پندرہویں صدی میں قسطنطنیہ پرحملہ کیا، اور یونانی علماء یورپ بھاگے، وہاں یونانی فلسفہ فروغ دیا، یوں یونانیوں کی انسان پرستی پہلی بار یورپی فکر پرفیصلہ کن اثر مرتب کرسکی، یوں رومی اور یونانی علوم اور رومی انتظامی وراثتیں زندہ ہوگئیں، اور پھر جدید سائنس کا زریں سنہرا دور شروع ہوا، جو آج تک غالب ہے۔

یہ وہ گمراہ کن تاریخ ہے، جس میں صرف ایک یورپی باب ہی گم نہیں ہوا، بلکہ مستقبل کی تاریخ کاپوراتناظر ہی بدل گیا، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پورا فلسفہ حیات ہی الٹ گیا۔ انسانی تہذیبوں کی اعلٰی ترین حالتیں منو ں مٹی تلے دبا دی گئیں۔ ازمنہ وسطٰی کا دور انسانی ترقی کا سب سے سنہرا دور ہے، یہ عیسائیوں کا بھی سنہرا دور ہے، یہ یہودیوں کا بھی سب سے سنہرا دور ہے، اور مسلمانوں کی گولڈن ایج بھی یہی ہے۔ اس عہد کے بعد تینوں تہذیبوں کوپھر اس سے بہتر دور نصیب نہیں ہوا۔یہ یونانی علوم کی ترویج وتراجم اورسائنسی سرگرمیوں کا بھی پہلا سنہرا دور ہے۔ (ملالہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی اس دنیا میں) کی قدیم ترین زندہ جامعہ (یونیورسٹی) مراکش کی شہزادی فاطمہ الفرحی نے 859 میں قائم کی تھی، ان کی بہن مریم نے درس گاہ کے ساتھ مسجد القراوین تعمیر کروائی تھی، یہ یونیورسٹی بارہ صدیوں بعد آج بھی طلبہ وطالبات کوتعلیم دے رہی ہے،یہ قدیم ترین تعلیمی درس گاہ ہے۔ یہ بہنیں آج بھی دنیا بھر کی خواتین کے لیے فروغ علم کا زندہ پیغام ہیں۔ طب، طبیعات، کیمیا، ریاضی، اور علم فلکیات ایک طرف، اسلام کی آمد نے یورپ کی روز مرہ زندگی میں جس نفاست اور تہذیب کی بنا ڈالی، اس کی علمی ونفسیاتی تاثیر مسلم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسواک ( ٹوتھ برش) اور صابن کا استعمال مسلمانوں نے یورپ کو سکھایا، اکثر مسلمان یہ جانتے ہیں کہ مسواک سنت رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم ہے، مگر شاید کچھ ہی لوگ جانتے ہوں کہ یہ عربی مسواک یورپ میں دانتوں کی صفائی کا پہلا طریقہ تھا، جسے اپنایا گیا۔ عیسائیت میں نہانا اور صفائی گناہ تصور کیے جاتے تھے، مسلمانوں نے سکھایا۔ سن ہزار عیسوی کے آس پاس ابن الہیثم نے پہلی بار نظر کی کمزوری کی درست تشخیص اور علاج متعارف کروایا۔ اسپتال کا سب سے پہلا نمونہ مسلم مصر میں ملتا ہے، قاہرہ میں ۸۷۲ عیسوی میں احمد بن طلون اسپتال قائم کیا گیا تھا، یہ فلاحی اسپتال تھا۔ غریبوں کے مفت علاج کا یہ نمونہ مسلم اندلس سمیت پوری مسلمان دنیا میں پھیلا دیا گیا۔ یہ وہ چند روزمرہ کی ضرورتیں ہیں، جو آج بھی انسانی معمولات کا بنیادی اور لازمی حصہ ہیں۔

ریاضی، الجبرا، اور جیومیٹری مسلمانوں کی عنایتیں ہیں۔ صفرکا عدد مسلم ریاضی کی ایجاد ہے۔ ایلگوریتھم ، جس پر آج کی سائنس کاکافی انحصار ہے، محمد بن موسٰیی الخوارزمی کا کارنامہ ہے، یہ عہد عباسی کے ماہر فلکیات وریاضی تھے۔ آج کی دنیا میں فلاح اور علوم کی جتنی صورتیں ہیں، وہ عہدازمنہ وسطٰی ہی کی عنایتیں ہیں۔ اگر تاریخ انسانی سے ازمنہ وسطٰی کا عہد نکال دیا جائے، توسوائے جہالت اور گمراہیوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ انسانی تہذیب کی معنوی صور ت گری کا عہدہے۔ اگر کوئی سمجھنا چاہے کہ آج کی دنیا میں عالمگیر اصلاح اور فلاح کی کیا صورت ممکن ہوسکتی ہے، تو وہ مسلم اندلس کی ابتدائی صدیوں کی گلیوں میں نیک نیتی سے چہل قدمی کرلے، نشان منزل مل جائے گا۔ اسلامی، عیسائی، اور یہودی تہذیبیں، جن کے پیروکاروں کی تعداد آج تک دنیاکی غالب ترین آبادی ہے، اگر مسلمان عیسائی اور یہودی آج بھی عالمی معاشی سرگرمیوں سے قطع تعلق کردیں،جن پر سرمایہ دارمغرب کی نظریاتی بنیادیں کھڑی ہیں، توسارا ڈھچر زمیں بوس ہوجائے۔ اس مالی خدائی کی قوت یہ ہے، کہ اگر خدا پرایمان رکھنے والے بنکوں اور مالیاتی اداروں سے بہ یک وقت سرمایہ نکال لیں، تو سرمایہ دار سامری کا جادو پلک جھپکتے میں اوجھل ہوجائے، عالمی فساد کی حقیقت عیاں کرنے کیلے صرف عالمی مالی نظام کا انکار درکار ہے۔مگر صد افسوس کہ مذہبی اکثریت اس سود وزیاں کی حقیقت سے آگاہ نہیں۔یہ جملہ معترضہ تھا۔ تاریخ کا رخ کرتے ہیں۔

غرض، ازمنہ وسطی کے باب میں، تاریخ کی مذہبی منہاج پر دجل کے پردے ڈالے گئے۔ لہٰذا ، جعلی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہی دھوکہ و فریب سے ہوا۔ اس عہد کی سائنسی وعلمی ترقی کی بنیادیں صدیوں قبل پڑچکی تھیں، صرف منہاج بدل دی گئی تھی۔ خدا پرستی، عقل پرستی میں ڈھل گئی تھی، اور انسان پرستی میں منتقل ہوگئی تھی۔ اس میں چھاپہ خانہ کی ایجاد نے جورفتار اور پھیلاؤ پیدا کیا، اس نے اس عہد کی ’ترقی‘ پر مبالغہ آرائی کا بھرپور مگر ناجائز جواز مہیا کیا۔ بالکل اس طرح، جیسے ایل گوریتھم کی دریافت محمد موسٰی الخوارزم کا کارنامہ تھا، مگر کمپیوٹرسائنس کی آمد نے وہ جست لگائی کہ ایلگوریتھم کے طالب علم الخوارزم کے نام سے بھی واقف نہیں، یہ محض تیز رفتاری کا دھوکا ہے، جو علمی بنیادوں کو بھی معلومات کی دنیا میں نامعلوم بنادیتا ہے۔ غرض جعلی نشاۃ ثانیہ کی منہاج کہتی ہے، کہ وحی پر مبنی علوم اور نقل پرقائم روایتیں نا قابل قبول ہیں، عقلیت اور انسان پرستی ہی سب کچھ ہے۔ یعنی انسان کی عقل نعوذ باللہ عقل کل ہے، اور انسان کی اہمیت ہرثانوی شے پرمقدم ہے، گویاانسان ہی اب اس زمین کا خدا ہے۔ ابتدا میں مذہب کا یکسر رد نہیں کیا گیا، بلکہ حیثیت گھٹادی گئی، یہی جدیدیت کا طریقہ واردات آج بھی ہے۔ یہ مذہبی معاشروں میں بتدریج مذہب کی اہمیت کم کرتے کرتے ختم کرتی ہے، اور پھر انسان پرستی کی فرعونی صورت اختیار کرلیتی ہے (پاکستان سمیت مسلم ممالک میں یہ صورتحال واضح ہے)۔ مغربی اخلاقیات کی یہ پرفریب صورت مادی طاقت کے اصول پر آگے بڑھتی ہے۔ جیسا کہ اطالوی دانشور میکیاویلی نے طاقت کے اصول کی تاکید کی، اورمغرب سمیت دنیا کا ہر جابرنظام اسی اصول پر کاربند ہے (آج مسلمان عوام طاقت کے اس سیاق وسباق میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں)۔ انیسویں صدی میں چارلس ڈارون کی تھیوری نے جیسے جدیدیت میں جان ڈال دی، جہاں جہاں اسے قبولیت حاصل ہوئی، مذہب اور تہذیب کی زندگی محال ہوگئی۔ نوآبادیاتی نظام کی چاندی ہوگئی، وہ لوٹ مار، وہ قتل عام، ملکوں کی وہ بندر بانٹ ہوئی، کہ تہذیبوں کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ عالمی جنگوں نے جدیدیت کا بھرکس نکال دیا۔

لہٰذا، ازمنہ وسطٰی کا یہ تاریخی سچ نہ صرف تاریخ کی درستی کیلئے ناگزیر ہے بلکہ تاریخ کی منہاج کی درستی کیلئے بھی لازم ہے۔ جدیدیت اور سائنس پرستی نے جس رخ پرلیجاکرتباہی وبربادی کا سامان کیا ہے، اس رخ کو سیدھا صراط مستقیم پر لانا ہوگا، کیونکہ انسانی تہذیب کی منہاج رب کائنات کی خدائی اور اس کی عقل کل کے سوا کہیں نہیں۔

تہذیبوں کایہ گم گشتہ باب دوبارہ کھلنا چاہیئے، اوراسی حکمت تہذیب پرنئے باب رقم ہونے چاہیئں۔ موجودہ عہد کی ضرورت ہے، کہ مسلم اندلس کے سنہرے عہد کی تہذیبی زندگی کا احیاء کیا جائے۔ عالمگیر تہذیب کا یہ نمونہ اختیار کیا جائے۔ جہاں یہودی بھی سنہرے دور میں جی رہے تھے، جہاں عیسائی طلبہ بھی نئے علوم سے مستفید ہو رہے تھے۔ جہاں انسانی زندگی کی فلاح اورنفس اطمینان کا کافی شافی سامان سب کیلئے یکساں تھا۔

(Visited 35 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: