صوبائی تعصب اور پنجاب پُلس کا ناکہ

0

کچھ دن پہلے ایک ویب سائیٹ کے رائیٹر نے لکھا تھا کہ شہباز شریف نے قہقہے لگا کر بلوچستان سے آئے ہوئے طلباء کے سوالوں کا مذاق اڑا دیا، اب یہ لکھا جا رہا ہے کہ پنجاب آپریشن پختونوں کے خلاف ہے، دو تین دن سے پنجابیوں اور پنجاب گورنمنٹ کے خلاف پھر وہی کچھ لکھا جا رہا ہے جس سے نفرت کی بو آتی ہے۔

یہ وہی پنجاب اور شہباز شریف ہے جو 2010 میں اٹھارہویں ترمیم کے وقت زرداری صاحب کی فرمائش پر چھوٹے صوبوں کیلئے اپنے جائز ترین حق سے خوشدلی کیساتھ دستبردار ہو گیا تھا، یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ اس پس قدمی سے پنجاب کو اربوں روپے سالانہ کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پنجاب اپنے 57.88% حصے میں لگ بھگ 6% رضاکارانہ تخفیف کرکے 51.74% پہ جا کھڑا ہوا جس کا نیٹ ایفیکٹ 81 ارب روپے سالانہ بنتا ہے جو پنجاب کے فنڈ سے کم ہوا، پنجاب اور شہباز شریف کی اس مالی قربانی سے ماضی کے مقابلے میں اس بار بلوچستان کو 175 فیصد بجٹ زیادہ ملا، کے۔پی کو 79 فیصد اور سندھ کو 61 فیصد زیادہ ملا بلکہ مسلسل ملتا رہے گا، اس کی مکمل تفصیل آپ میرے بیس قسطوں پر محیط طویل تھیسس “معیشت اور عوام کا نصیب” میں بھی پڑھ سکیں گے۔

(صوبائی فنڈز میں اس اضافے کو آپ ڈائریکٹ پڑتال سے کنفرم نہیں کر سکتے، اس کے بیک۔اینڈ پہ فائنانس کے تین قسم کے کلیئے ہیں جن سے یہ فرق نکلتا ہے)

پنجاب کی اس 81 ارب روپے سالانہ کی مالی قربانی پر زرداری صاحب اور گیلانی صاحب کے علاوہ تینوں صوبوں سے تجزیہ کاروں کے کوئی دادوتحسین یا “شکریہ پنجاب” کے دو الفاظ ڈھونڈ کے لا دیجئے تاکہ مجھے شکر گزار اور ناشکرے لوگوں کا فرق دیکھنے کو مل جائے۔

پھر پنجاب کی اس قربانی پر پنجاب بھر سے کسی احتجاج تو دور کی بات ہے کسی تجزیہ کار اور کسی پنجابی کا ایک تجزیہ، صرف ایک تجزیہ دکھا دیں کہ پنجاب کے ساتھ یہ زیادتی ہے، یا پنجاب کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا یا ہم کسی کو اپنا حق کیوں چھوڑیں…؟

زرداری صاحب کے بعد شہباز شریف سے بہتر لیڈر مجھے کوئی نظر نہیں آتا لیکن ان دونوں کا کامن مسئلہ صرف یہ ہے کہ انہیں مثبت سوچ کے مشیر میسر نہیں ہیں، مجھ جیسا مشیر ان کو میسر آجائے تو میں 70/30 کے کرپشن ریٹ کو انورس کرکے عوام کو انہی کے ہاتھوں سے سونے چاندی میں تُلوا دوں۔

پنجاب میں پٹھانوں کو کاروبار کرنے کی کھلی چھٹی ہے اور یہ کام وہ برسوں سے کر بھی رہے ہیں، اسی طرح دوسرے صوبوں میں پنجابیوں کو بھی مزدوری کرنے کی کھلی چھٹی ہے اور برسوں سے پنجابی ان خطوں میں آباد بھی ہیں لیکن قوم پرستوں کی طرف سے ان پر کڑی نظریں رکھی جاتی ہیں اور لاشیں بھی روانہ کی جاتی ہیں پھر بھی پنجاب سے صوبائی نفرت کی کبھی کوئی آواز نہیں آتی، اگر ایسی کوئی نفرت انگیز آواز پنجاب کے اندر کہیں سے کبھی اٹھی ہو تو ہمیں بھی ضرور مطلع کیجئے۔

پنجاب کا آپریشن جرائم پیشہ اور شدت پسند عناصر کیخلاف ہے اسے ہونا چاہئے، اس میں پٹھانوں کا تو کوئی ذکر نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے شدت پسندوں کا بالخصوص ذکر موجود ہے لیکن پنجاب اور پنجاب سے کوئی ردعمل کی آواز نہیں لیکن مخصوص علاقائی کیمپوں سے روز دھواں دھار زہر اگلا جا رہا ہے، کہیں چور کی داڑھی میں تنکا والی بات تو نہیں…؟

دو تین دن سے آپریشن ردالفساد کو لیکر فیس بک پر پنجاب کے خلاف جو صوبائی عصبیت کا فساد مچایا جارہا ہے اس فساد کے برپا کرنیوالے زرا ٹھنڈ رکھیں تو اچھی بات ہے، پنجاب کسی کے خلاف نہیں بلکہ آپ جس تعصب کا بیج بو رہے ہیں یہ اگر پنجاب کی فراخدل زمین پر اگ آیا تو پھر بڑی مشکل ہو جانی اے……

بس یوں سمجھ لیں کہ یہ پوسٹ پنجاب پولیس کا ناکہ ہے، یہاں سے تعصب کا نعرہ لگا کر عزت سے گزرنا ہے تو اپنا تمام تر علم و فضل بروئے کار لا کر پنجاب کی اس محبت و قربانی کو جھٹلا دیں جو اس بیرئیر پہ لکھ دی گئی ہے، ہم سر نیچا کرکے اپنے گریبان میں ضرور جھانکیں گے ورنہ یہ پنجاب پلس کا ناکہ سمجھیں جہاں سے تعصب برتنے والے آکڑ خانوں کو ناک سے لکیریں نکلوا کے ہی بھیجا جاتا ہے۔

پولیس کا تذکرہ آیا ہے تو لگے ہاتھ پولیس کے طریقہ کار کا ایک قصہ بھی سن لیں کہ جب مشرف صاحب نے میاں صاحبان کو گرفتار کرلیا تو بہاولپور کے ایس۔ایچ۔او تھانہ صدر نے رات کی گشت کے دوران چند ٹرک روکے جن میں لوہے کا سکریپ تھا، مال پانی پہ ان کی بحث ہوئی بالآخر انہیں تھانہ صدر میں لاکر بند کر دیا گیا، تھانیدار نے ایس۔پی صاحب کو خوشخبری سنائی کہ میں نے نواز شریف کے ٹرک پکڑ لئے جن کے پاس کسٹم ڈیوٹی کی کوئی رسید نہیں ہے، اسے پتا ہی نہیں تھا کہ کراچی کی سکریپ مارکیٹ اور گڈانی سے روزانہ درجنوں ٹرک لاہور کی فرنسوں میں ڈھلائی کیلئے روانہ ہوتے ہیں جن کا کسٹم پیڈ مال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ان ٹرکوں کے پاس صرف ٹرک اڈے کی بلٹی ہوتی ہے۔

ایس۔پی صاحب نے فون اٹھا کے کمانڈر بہاولپور کینٹ کو کر دیا، انہوں نے فون اٹھا کے جی۔ایچ۔کیو میں خبر کر دی، اس طرح مار دھاڑ کا سلسلہ پندرہ دن تک جاری رہا جس میں درجنوں ٹرک روک لئے گئے، اس بات کا کوئی حل ہی نہیں تھا کہ کس طرح انہیں کسٹم پیڈ نوازشریف کے یا بزنس سیکٹر کے نان۔کسٹم۔ریلیٹڈ ثابت کر سکیں بالآخر بزنس ایسوسی ایشنز نے اس معاملے کو اعلٰی سطح پر طے کیا اور ملتان کسٹم ہاؤس کی نگرانی میں بہاولپور ٹیکس آفس نے انہیں مناسب ثبوت دیکھ دیکھ کر چھوڑنا شروع کیا، ہر آدمی کوئی کراچی سے اور کوئی لاہور سے ثبوت لیکر بہاولپور گیا اور اپنا اپنا مال چھڑوایا، اس پریکٹس میں نتیجے تک پہنچنے کیلئے پورا ایک ماہ صرف ہوا جس کے دوران ٹرک ڈرائیوروں کے پاس جیب خرچہ بھی ختم ہو گیا تھا اور انہوں نے پریس کلب بہاولپور کے سامنے مظاہرے بھی کئے تھے، اس کی تصدیق بہاولپور کے ٹیکس آفس اور پریس کلب سے بھی کی جاسکتی ہے۔

اس ڈرامے میں سارا قصور پولیس کی ایفیشئینسی دکھانے کا شوق یا مال پانی کیلئے بلیک میل کرنے کی عادت کا تھا، پنجاب گورنمنٹ، بہاولپور کینٹ، کسٹمز اور مشرف صاحب کا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس لئے گزارش ہے کہ پولیس گردی کو پولیس گردی کہیئے، اسے پنجاب گورنمنٹ یا پنجاب سے تعصب و نفرت کی سیڑھی مت بنائیے، پنجابیوں اور پختونوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی اس کوشش کو ناکام بنانا ہر پاکستانی پر فرض ہونا چاہئے بلکہ اس پوسٹ کو نفرت پیدا کرنیوالے کے سامنے پنجاب پلس کا ناکہ بنا کے کھڑے ہو جائیں اور کسی متعصب کو اس راستے پر چلنے نہ دیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: