خواندگی اور ترقی ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اصغر خان

0
  • 13
    Shares

ہمارے ملک کی پسماندگی کے جو اسباب گنوائے جاتے ہیں ان میں سب سے پیش پیش شرح خوندگی کی کمی ہے۔ یہ بات بڑے وثوق اور شد و مد سے بار بار دہرائی جاتی ہے کہ جب تک ہمارے معاشرے میں شرح خوندگی نہیں بڑھے گی، ترقی ممکن نہیں اور اس مفروضے پر تمام سیاسی اور سماجی آئمہ کرام متفق ہیں اس کے علاوہ ہر حکومت شرح خوندگی میں اضافے کو اپنے منشور کا ایک اہم جزو قرار دیتی ہے۔ لیکن میں اس مفروضے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے انکار سے کسی کی صحت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں، لیکن اپنے دل کا غبار نکالنے سے شاید میری صحت پر کچھ فرق پڑ جائے۔ میرے اس مفروضے کو نہ ماننے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خوندگی حصول علم کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے، بذات خود علم نہیں ہے۔ علم آپ کے گرد و پیش میں ہونے والی چیزوں کو سمجھنے کا نام ہے جو کہ بغیر خواندگی کے بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی ہنر کا جاننا بھی علم ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں خوندگی کی اہمیت کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہے۔

اقوام عالم نے گزشتہ ادوار میں بھی ترقی کی تھی جبکہ شرح خوندگی بہت کم تھی۔ کتابی علم کے لیے تو خوندگی لازم ہے، لیکن ہنر مندی کے لیے یہ لازم نہیں۔ ترقی علم و ہنر سے ہوتی ہے۔ پرانے وقتوں میں کتابی علم حاصل کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوا کرتی تھی لیکن قوموں نے پھر بھی ترقی کی اور ان کی یہ ترقی ہنر مندی کی مرہون منت تھی۔ میری باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادتی ہو گی کہ میں خواندگی کے خلاف ہوں۔ میرا مقصد صرف یہ باور کروانا ہے کہ ہم نے خواندگی کا بےجا پرچار کر کے ہنر مندی کی اہمیت کو نہ صرف کم کیا ہے بلکہ پڑھے لکھے ڈگری یافتہ (خواندہ لیکن بے ہنر) نوجوانوں کی ایک فوج ظفر موج تیار کر دی ہے جو کہ نہ صرف قومی زیاں ہے بلکہ معاشرے کے لیے ایک روگ بھی۔ اگر آپ ملک کے بیروز گار لوگوں کا جائزہ لیں تو آپ کو صرف اور صرف ڈگری یافتہ لوگ ہی بے روزگار ملیں گے یا پھر وہ لوگ جو کوئی ہنر نہیں جانتے۔ بیرون ملک کام کرنے والوں کی اکثریت جو کہ اس ملک کے مالی وسائل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، ناخوندہ ہے، لیکن ان ہنر مند افراد کی قدر ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہے، جہاں خواندگی کا تناسب تقریباً سو فیصد ہوتا ہے۔ اگر خوندگی کا ملکی ترقی سے کوئی براہ راست تعلق ہوتا تو سری لنکا اور جنوبی ہندوستان مادی طور پر بہت ترقی یافتہ ہوتے، کیونکہ وہاں شرح خواندگی 90 فیصد سے زائد ہے۔

 

ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے تعلیم کو وسیلہ روزگار سمجھ رکھا ہے اور اعلیٰ تعلیم کو ہر شخص کا بنیادی حق تسلیم کر لیا ہے، جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ تعلیم صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں اس کا شوق ہوتا ہے اور جستجو تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ کی اتنی بھر مار نہیں ہوتی کہ داخلے کے حصول کے لیے جائز اور ناجائز حربوں کا استعمال کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں طلبہ کی ایک بہت بڑی اکثریت ہائی اسکول بھی پاس نہیں کر پاتی، جنہیں ان کی زبان میں ڈراپ آئوٹ کہا جاتا ہے اور وہ کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر برسر روزگار ہو جاتے ہیں۔ وہاں دھوبی، نائی، قصائی یا مکینک ہونا کمتری کی نشانی نہیں بلکہ ہنر مند افراد کی اجرت وائٹ کالر جاب والوں سے زیادہ ہوتی ہے اور ان کے ہاں ہنرمندی کی اہمیت، ضرورت اور عزت کو معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے۔۔۔!

(Visited 21 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20