فطرت سے حوالات تک کا سفر —- عابد آفریدی

0
  • 99
    Shares

انٹرنیٹ کے زریعے معلوم ہوا کہ “اگر آپ نے انگریزی فلم ان ٹو دی وائلڈ نہیں دیکھی تو سمجھئے کہ آپ نے کچھ دیکھا ہی نہیں! شدید تجسس ہوا کہ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے کہ جس کا نہ دیکھنا ہمارے آج تک حاصل کردہ تمام علوم و فنوں اور ان کی اسناد پر بے علمی کی چھاپ لگنے جیسا تھا (علوم سے مراد مقامی اسکول سے آرٹس میں میٹرک اور بلدیہ ٹاوں کے ایک پرائویٹ کالج سے کاروبار میں بارہویں جماعت کے بعد بی اے پاس کرنا ہے جبکہ فنون کے زمرے میں محلے کے مشاق ویلڈنگ کاریگر اکبر ویلڈر سے ویلڈنگ کا کام سیکھنا شامل ہے)۔

ہم نے دفعتا جاز کے تیز ترین انٹرنیٹ کے باوثوق ذرائع سے مطلوبہ فلم انتہائی قلیل وقت یعنی توقعات سے پہلے ڈاون لوڈ کرلی۔

اس فلم کی کہانی ایک امیر لڑکے کےگرد گھومتی ہے۔ جو مادیت میں لپٹی مقید زندگی چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں آزاد زندگی بسر کرنے پہاڑوں، جنگلوں بیابانوں کی جانب نکل جاتا ہے اپنے تجربے کو قلم بند کرکے دنیا کے سامنے رکھ دیتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم اس فلم کا مزاج میرے مزاج سے کتنی قربت رکھتا تھا مگر میرے اعصاب پر ایسے گہرے اثرات مرتب کئے کہ میں اب تک کی گزری تمام تیس سالہ زندگی کو زیاں تصور کرنے لگا۔ ۔ مجھے اس فلم کی کہانی اور مرکزی کردار کے اثر نے اپنے معاشرے میں رائج اقدار و روائت سے بغاوت پر تیار کردیا۔ میں نے باقی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فطرت کی نذر کرنے کا فیصلہ کرلیا اور فلم کے مرکزی کردار کی طرح جنگلوں بیابانوں میں نکل کر اپنے تجربات کو قلمبند کرنے کا ارادہ باندھ لیا۔
———–

ٹیکنالوجی کی ادنیٰ سے ادنیٰ ایجاد، اپنی شناخت، نام یہ سب کچھ گھر چھوڑ کر صرف ایک بیگ میں چند کتابیں اور چھوٹا کیمپ لیکر کراچی سے مغربی سمت میں نکل پڑا، یہ سوچے بغیر کہ آگے جاکر بالآخر میرا سامنا ہر جانب سمندر کی نومبر زدہ بیمار موجوں سے ہی ہوگا۔

مجھے وہاں جانا تھا جہاں کوئی نہ ہو۔ نہ بندہ، نہ مشین، نہ موجد نہ ایجاد، بس فطرت کی کھلی بانہیں ہو اور ان کے درمیان کسی بے نشان ذرے کی مانند میرا وجو ڈولتا ہو۔ ۔ ایسےاحساسات سے میری روح بھر جائے جو سرسراتی آزاد ہواوں کی خوشبوں سے معطر ہوں، آسمان کی وسعتوں میں محو پرواز نایاب پرندوں کی چہکار ان میں خوب خوب رچی ہو۔

مگر افسوس کراچی کے مضافات میں کئی میل پیدل سفر کے باوجود ہمیں فطرت کی یہ کھلی بانہیں دکھائی نہیں دیں۔ اگر کچھ پیش نظر تھا تو وہ آلودہ ساحلی پٹی تھی، آسماں پر اجلے شفاف بادلوں کی جگہ فیکٹریوں کا دھواں اور خوش الحان نایاب پرندوں کے بدلے سر کے اوپر چیلوں کا ایک جھنڈ کسی مردہ جانور کی تاک میں منڈلا رہا تھا۔

میں ایک لمحے کے لئے یہ بھول گیا تھا کہ میں پاکستان میں ہوں۔ ۔ یہ بھی بھول گیا کہ ہمارے ملک میں یہ تصور موجود ہے کہ جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں ہمارے فوجی ضرور ہوتے ہیں۔ لہذا پاکستان میں ایسی جگہ ناپید ہے جہاں انسان کھلی فضاوں میں تن تنہا آزادنہ فطرت کے ساتھ من رجھا سکے۔

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ۔ جب میں سمندر کنارے خاصا آگے نکل گیا تو ایک درمیانے سائز کے پہاڑی کی دامن میں اپنا مسکن بنا لیا۔ ۔ بیگ سے ڈائری نکالی اپنی گزشتہ زندگی کے زیاں کے حوالے سے احساسات قلمبند کرنا شروع کئے۔ ۔ نئی زندگی کے اطمیناں کو قرطاس کی نذر کیا۔ ۔ ۔ اس وقت تک کہ حاصل کردہ تجربات کو بیاض میں لکھ ڈالا۔

ہم نے اپنی نشست کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں سےسمندر ایک وسیع نیلے میدان کی طرح ہمارے سامنے موجود تھا۔
سمندر میں دور بہت دور کسی بحری جہاز کے دھندلے ہیولائی نقش دکھائی دئے۔ پانی پر تیرتے لوہے کے اس منظر کو میں نے انسانی لالچ سے تعبیر کیا جس پر ایک اور تجرباتی نوٹ اپنی ڈائری میں مزید داغ دیا۔

انسانی حرص و زیاں زیست پر ہماری خامہ فرسائی ابھی جاری تھی کہ اس دوران ہم نے اپنے قلم کی کش کش اور فطرت کے سراسرہٹ کے بلکل بیچ اپنی جانب بڑھتے بوٹ بند قدموں کی آواز سنی! پلٹ کر دیکھا تو سب سے پہلے ہر خیال و اندازے سے قبل، ذہن پر کراچی صدر میں واقع آرمی ریکروٹمنٹ آفس کی دیوار پر فوج کی شان میں لکھا انگریزی جملہ ابھر آیا “ویر نو ون۔ ۔ وی آر دیر۔ ۔
دو مسلح فوجی اہلکار (کوسٹ گارڈ) میری جانب آرہے تھے۔

سلام کلام کی ضرورت محسوس کئے بغیر۔ ۔ ۔ دور سے ہی ایک اہلکار نے مجھ سے پوچھا۔
“او نمونے ادھر کیا کررہا ہے”
بیشک ہم نے کافی راستہ پیدل مارا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ ہم تھکن کے باعث کامل لاغر پن کا نمونہ دکھائی دیں۔ بہرحال ہم نے اپنی اخلاقیات پر ہوئے اس سنگین حملے کو سہہ لیا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ وہ فوجی تھے۔ ۔ جبکہ اصل وجہ یہ تھی کہ ہم نے اپنے اس روحانی اور رومانی سفر پر نکلنے سے پہلے یہ عہد کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہو باقی زندگی کیکڑے و گرگٹ کھا کر گزار لونگا مگر سسٹم کے ان غلام انسانوں سے نہ واسطہ رکھوں گا نہ رابطہ!!
بلکہ اس وقت تو ہم نے خود کو مہاتما گوتم بدھ سمجھا اور ان سپاہیوں کو محض گمراہ بھکشو جان کر دل ہی دل میں معاف کردیا۔ ۔ ۔

ہمارے سامان و کتب کی خوب چھان بین ہوئی، ڈائری کے اوراق پلٹے، نئی نکور ڈائر ی کے پہلے صفحہ پر میر ے اولین تاثرات بکھرے تھے (جنہیں اب تک میں نے ٹھیک سے ایڈیٹ بھی نہیں کیا تھا)۔ ۔ سپاہی نے بحری جہاز سے متعلق لکھا گیا انسانی لالچ پر مبنی نوٹ پڑھا تو اتنہائی عامیانہ انداز میں ہنسا۔ ۔ اور ہمارے کسی مانوس محلے دار کی طرح مزید عامیانہ انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا
واہ واہ پروفیسر جمبولک!!!

خدا جانے جمبولک سے ان کی مراد کیا تھی۔ ۔ البتہ اس اصطلاح کے جو ممکنہ معنی کراچی کے شہری مزاج میں بلوچ قوم کی کنٹربیوشن سے واقفیت کی بدولت ہم پر منکشف ہوئے وہ یہ کہ فوجی ہم سے کہنا چارہا تھا کہ اس جمبو بوتل نما سر والے انسان کو دیکھو اور اس کا یہ رنگین گمراہ کن فلسفہ دیکھو۔

سپاہی مجھے میرے سامان سمیت پہاڑی کی پچھلی جانب واقع مورچہ نماچھاونی میں لے گئے جہاں کچھ دیگر سپاہی ایک سنیر افسر، لٹکتے کپڑے، اورایک چولھا موجود تھا جس نے دیوار کو سیاہ کردیا تھا۔ ۔ سنیر افسر ٹیبل کے اس پار بیٹھا میری ڈائری پڑھ رہا تھا۔ ڈائری بند کی تو مجھے غور سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

کیا چیز ہو تم؟

جواب میں ہم نے ان کے سامنے اپنے مقاصد رکھ دئے۔ ۔ بتایا کہ “فطرت کی قربت میں آزاد زندگی جینے نکلا ہوں احساسات قلم بند کرنا چاہتا ہوں دنیا کا جمال اس کا حسین چہرہ یہ سب اہل دنیا کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ انسان اور فطرت کے درمیان موجود قدیم رشتے پر ایک چھوٹا سا لیکچر بھی دے ڈالا۔ جسے وہ افسر خاموشی سے سنتا رہا۔

اسے اپنی جانب یوں متوجہ دیکھا تو مجھے لگا ہو نہ ہو یہ آدمی میری باتوں اور نومسلط نظریات سے متاثر ہوگیا۔ اب عین ممکن ہے کہ اپنی وردی اور بیلٹ اتار کر سامنے والے ہینگر میں لٹکا دے اور پھر میرے پاوں چھوکر ہمیشہ کے لئے میری مریدی اختیار کرلے۔ میرا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد کر میرے سنگ بنجارا بن جائے۔ اختتام میں اس عمل پر تمام سپاہی بخوشی بہ یک زبان ہوکر کہیں “جب سب کچھ لاد چلے گا بنجارا”

افسر کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے انتہائی پر سوز و عاجزانہ انداز میں درخواست کی “مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے میں اور نیچر ساتھ ساتھ رہنا چاہتے ہیں”۔
اپنا مدعا سنا کر میں خاموش ہوا تواس نے کہا اور کچھ؟
ہم نے سر نفی میں ہلادیا۔ ۔
جس کے بعد اس نے اول مجھ پر انگلی تانی پھر کہا۔ ۔ سن او نشئی۔ ۔ ۔ تجھے پہلی نظر میں دیکھا تو لگا کہ تیرا کچھ حصہ کھسکا ہوا ہے۔ ۔ مگر اب تیری یہ الٹی سیدھی بکواس سن کر مجھے لگتا ہے تو پورا کا پورا کھسکا ہوا ہے۔ ۔ تیرے تمام اسکرو ڈھیلے ہیں بلکہ ہر ہر پرزا ڈھیلا ڈالا ہے۔ ۔

شومئی قسمت یعنی جب ہم یہ سمجھ کر لیکچر جھاڑ رہے تھے کہ اپ ہماری آیڈیلوجی سے متاثر ہوگئے ہیں تو آپ جناب عین اس وقت ہمارے ڈھیلے پرزے اسکرو اور دیگر چھوٹے بڑے پیچوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ ۔

حکمیہ اندز میں خبرادر کرتے ہوئے بتایا۔ ۔ اگر دوبارہ یہاں آس پاس دکھائی دئے تو تم اور تمھاری وہ پارٹنر فطرت جس کی تلاش میں تم نکلے ہو، دونوں کی ایسی کٹ لگاوں گا کہ نہ رہے گا فطرت اور نہ رہوگے تم۔ ۔ سپاہیوں سے کہہ کر ہمیں مین سڑک پر چھوڑ دیا۔ ۔
راستے میں سپاہیوں نے میری ریاضت کو رایگاں جاتے دیکھا تو راز داری و ہمدردی کے ساتھ بتایا کہ یہ علاقہ بہت احساس علاقہ ہے یہاں ایٹم بم بنتا ہے۔ ۔
سپاہی نے ایٹم بم بننے کا یہ انکشاف اس کامل یقین کے ساتھ کیا جیسے اس کا وہ سنیر افسر چھاونی میں پڑے چولھے پر روز پتیلا چڑھا کر یورنیم افزودہ کرتا ہو۔
————-

مغربی جوانب کو چھوڑ کر ہم اندورن سندھ کے بیابانوں کی جانب نکل پڑے۔ دشت کی وحشت ناک آبادیوں کی محرومی دیکھی تو اس یقین کو اور بھی تقویت ملی کہ اس دھرتی کو محمد بن قاسم کے بعد کوئی برائے نام سا پرسان حال بھی نصیب نہ ہوسکا۔

کبھی دشت تو کبھی صحرا میں، میلوں پیدل سفر کے کچھ بھی دکھائی نہ دیا تو سوچا یہاں فطرت کی رعنائیاں کھوجنا سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں۔ نہ پانی نہ سبزہ، نہ ہریالی، بس چاروں جانب بے آب و گیاہ زمین جس کی خاموشی کو ہر تھوڑی دیر بعد مور کی بھٹکتی چیخیں چیر دیتی تھیں۔ ۔ جیسے سسی رو رہی ہو کہ یہاں پیاس ہے اور سلگتی زندگی۔ (نوٹ میرے حساب سے فطرت اونچے سرسبز پہاڑوں اور بہتے آبشاروں پر مشتمل تھی۔ ۔ اس سے قطع نظر کہ صحرا بھی قدرت کا ایک گنگا جمنی جھومر ہوتاہے)۔

بھوک و پیاس کے عالم میں دن بھر کی صحرا نوردی کے بعد ایک مزار دکھائی دیا جو پاس کے ایک دیہات نما شہر سے ذرا فاصلے پر تھا۔ ۔ ہم جب گھر سے نکلے تب خود سے عہد کیا تھا کہ کیکڑے گرگٹ، گھاس کھا لونگا مگر زندگی آزادی سے جیوں گا۔ کسی کا سہارا نہیں لوں گا۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے اس پورے سفرمیں سانپوں اور بچھووں کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا جنہیں کھانا ہم نے ابھی تک اپنی ریاضت کے مینیو میں شامل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم ڈسکوری چینل کے لئے کوئی ایڈوینچر ڈاکومنٹری بنانے نکلے تھے کہ کن کجورے سے لیکر ہر لمبی رینگتی مخلوق کو اپنی غذا بناتے۔ ۔

فی الحال ہم نے مزار کو بھی فطرت کا ایک رنگ ہی جانا۔ طے کیا کچھ دیر یہاں آرام کیا جائے اور کچھ کھالیا جائے۔ ۔ مزار ہے تو لنگر بھی ہوگا!

ہم مزار کے احاطے میں داخل ہوئے جو عام مزاروں سے بڑا تھا۔ ۔ حیطہ مزار کے اندر ایک میلے کا سماں تھا۔ ۔ پیروں فقیروں کے پڑاو کے نشان (یعنی ان کے بوسیدہ بستر اور کمبل) چیتھڑوں کے گٹھے، تبرکات کی چوبی دکانیں، چادریں، لنگر کے لئے لائنیں، یہ سب تھا اور میرا حلیہ ان سب سے مختلف۔

میں قطعا اس بات سے لاعلم تھا کہ یہاں کچھ دیر آرام کا فیصلہ اور لنگر کا ایک نوالہ میری بقیہ زندگی کی روحانی تشکیل کریں گے۔ ۔ دیوار سے لگے بستروں کے بیچ ایک بستر کی جگہ خالی پائی، جہاں فورا چادر نکال کر خود کو پارک کردیا۔ ۔ بھوک زوروں پر تھی اور لنگر کی لائن طویل تھی!!!

ہم سوچ رہے تھے کہ یہاں سے پنجاب کا رخ کریں گے۔ ۔ وہاں سب کچھ ہے، پہاڑ ہریالی، دریا، یہ سوچے بغیر کے یہ سب کچھ سندھ میں بھی ہے بس ایک نقشہ ہونا چاہیے۔ ۔ اس دوران بلکل میرے ساتھ والے لپٹے بسترکو کھول کر ایک صاحب جس کے لمبے بالوں ہاتھوں، انگلیوں کپڑوں، جسم کے ہرحصے پر کائی جمی ہوئی تھی، بدن سے بدبودار بھبکے اڑاتے آکر اس پر بیٹھ گئے۔ بریانی کے تھیلے اپنے سامنے دھر دئیے۔ ایک تھیلی کھول کرپلیٹ میں ڈال دی۔ ۔ اس کی ہرانگلی میں انگوٹھیاں تھی۔ ۔ ۔

مجھ پر نظر پڑی تو ہنس دئے، بنا کسی تامل کے کہا ’پہنچ گئے ہو تم‘

ہم سمجھے وہ شخص کسی اور سے مخاطب ہے۔ ۔ مگر اس نے ہمارے تحیر کو بھانپتے ہوئے اپنی کائی جمی انگلی ہمارے سینے میں ٹھونک کر کہا۔ ۔ تم سے کہہ رہا ہوں۔ ۔ تم سے!!!!

ہم نے انھیں بتایا۔ ۔ جناب ہم قصدا” ہرگز یہاں نہیں آئے ہیں۔ ۔ بس بھٹکتے ہوئے اس جانب آنکلے اور کچھ دیر آرام کے بعد یہاں سے چلے جائیں گے”۔

ہماری اس واضاحت پر اس نے وہ قہقہ بلند کیا جو پی ٹی وی کے پرانے ڈارموں میں اولیاء حضرات نادان لوگوں کی نادان باتوں پر بلند کیا کرتے تھے۔ ۔

آپ نے تفصیلات سمجھاتے ہوئے بتایا “کل رات یہ جگہ بابا کے ایک مہمان نے فیضایاب ہونے کے بعد چھوڑ دی تھی۔ ۔ ۔ “تب مجھے معلوم ہوا کہ ضرور بابا نے کسی نئے خوش قسمت کو عظمت کی راہ پر ڈالنے کے لئے چن لیا ہے”۔ جو آج کل میں یہاں پہنچ جائے گا”۔ دیکھوآج تم ادھر آہی گئے ہو۔

ہم نے متعدد بار انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم بس بھٹک کر غلطی سے یہاں چلے آئے ہیں۔ ۔

فرمایا “بیٹا باباکے مہمان ایسے ہی آتے ہیں۔ ۔ بھٹک بھٹک کر! تم چن لئے گئے ہو۔ تمھیں بابا نے بلایا ہے۔ اب تم وہ کروگے جو گنتی کے چند لوگ کرتے ہیں۔ ۔ شہر کے جس بیمار معاشرے کو تم چھوڑ کر یہاں آئے ہو۔ اب ان بیماروں کا علاج کرو گے۔ ۔

سر جھٹکتے ہوئے کہا۔ ۔ تم چن لئے گئے ہو۔ ۔ چن لئے گئے ہو ساتھ ایک تھیلی چاول کی ہمیں بھی پیش کردی۔ ۔

مجھے چاول سختی سے منع ہیں جب بھی کھاتا ہوں تو بلڈ پریشر شوٹ ہوجاتا ہے۔ پھر کیوں نا ہم قومی ترانہ ہی پڑھ رہے ہوں سننے والوں کو ضرور دو چار گردشی گالیاں (جن کا فیشن ہو) نکال دیتے ہیں۔ ۔ ہم نے باوجود بھوک کے اس متعفن فقیر سے معذرت کی اور وجہ پرہیز بتائی۔ ۔ اس نے اپنا منہ ہماری جانب کیا اور اسے کھول کر دوبارہ وہی درویشانہ قہقہ بلند کیا۔ ۔

اس بار قہقہ بھی خاصہ بلند تھا اور منہ بھی انسانی حد گولائی سے کچھ زیادہ کھلا !!وہ بدبوں جو ان کے بدن سے اٹھ رہی تھی اسی بدبوں میں ایک اضافی بھبکا ان کے پھیپڑوں سے بھی منہ کے راستہ نکل کر شامل ہوا اور ہمارے حس شامہ کے پردوں میں جذب ہوگیا۔ ۔

کہا ارے بھولے شہزادے۔ ۔ تو چن لیا گیا ہے۔ ۔ اب تو پتھر بھی کھائے گا تو وہ بھی تجھے فایدہ دیں گے اب تجھے کچھ نہیں ہونے والا۔ ۔ تو اب ایک نعرہ مستانہ ہے، شوخی رندانہ ہے۔ ۔

ان کے اصرار اور طوفانی بھوک کی زور پر ہم نے بالاخر چاول کھا لیے اور کھا لینے کے بعد واقعی مجھے کچھ نہیں ہوا۔ ۔ میں بالکل صحیح سلامت تھا۔

اس نےاپنا نام چولا فقیر بتایا۔ ۔ اپنے جیسے مزید دس بارہ گندھے حلیے کےگندھگیر فقیروں سے مجھے متعارف کرایا کہ میں بابا کا چنا ہوا ہوں۔ کراچی سے پیدل چل کر یہاں مزار پر آیا ہوں۔ ۔ دوران تعارف چولا فقیر دونوں ہاتھ اپنے کانوں سے لگاتا اور میرے متعلق ان سب کو بتاتا “واللہ بہت بڑا درویش ہے”۔ ۔

ان سب نے میری قسمت پر رشک کیا۔ ۔ مجھے میری خوش بختی کے روحانی مقامات اور گریڈ بتائے۔ ۔ کچھ چمچہ ٹائپ فقیروں نے میرے ہاتھ چوم لئے۔ ۔ یہ بھی کہا۔ ۔ “قبلہ ہمیں بھول مت جانا۔ ۔ ۔ سدا اپنی خدمت میں خادم رکھنا”۔ ۔

میرے لئے یہ کافی ہے کہ میں ولی کو اللہ کا ولی مانتا ہوں۔ ۔ ۔ مگر اس مزار کے لوگوں کا اور یہاں مدفون بابا کا معاملہ ہی عجیب تھا۔ یہ ماننا کہ میرا ولی مجھے سن سکتا ہے ایک الگ بات ہے، جبکہ ادھر تو بات اس درجے سے بھی زرا آگے تھی “بلکہ باطنی عقیدے سے نکل کرسب کچھ براہ راست تھا۔ ۔ لوگوں کی منتیں اور پھر گھر پہنچنے سے قبل ہی ان کے پورے ہونے کے قصے یہ سب کچھ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے بابا اندر مزار میں نہیں بلکہ ایک بڑے سے کنڑول روم میں ڈھیر سارے کمپیوٹرز کے درمیان موجود ہوں اور سب کچھ زندہ حالت میں وہاں سے کنڑول کررہے ہوں۔ ۔ ۔

ان سب کی آو بھگت، اور لگاتار چاول کھانے کی وجہ سے ہمارے بلڈ پریشر کا شوٹ نہ ہونا۔ ۔ سفر کے بعد سیدھےمزار کے جانب ہی آنکلنا، ہاکس بے کا وہ کوسٹ گارڈ جس سے ہم نے ہاکس بے اور اس کے آس پاس دوبارہ دکھائی نہ دینے کا عہد باندھا تھا۔ ۔ یہ سب سلسلے اور یہ ساری کڑیاں، میں سمجھ گیا، چولا فقیر کی بات درست تھی بیشک یہ اللہ کے اس ولی کا بلاوا تھا۔ ۔ حتی کہ وہ فلم جس تیز رفتاری سے ڈاونلوڈ ہوئی تھی۔ ۔ اس اسپیڈی انٹرنیٹ میں بھی اپنے بابا کی کارستانی تھی۔ ۔ ورنہ ہمارے ایر یا میں تو انٹرنیٹ بہت سلو ہوتا ہے”۔

بچپن سے مجھے ہر انسان کی طرح یہ گمان لاحق رہا ہے کہ میں عام انسانوں سے زرا مختلف ہوں بلکہ ایکسٹرا اورڈنری ہوں۔ حفاظت کا وہ غیبی سہارا جو ہر انسان کی پشت پر تاحیات کارفرما رہتا ہے اسے خطرات سے کچھ لمحات قبل ہی آگاہی دے کر محفوظ کرتا ہے اس غیبی سہارے کو محض اپنی ذات کے لئے ہی ایک اسپیشل پیکج سمجھتا رہا۔ اپنے متعلق یگانہ و یکتا ہونے کے وہ تمام خیالات، تصورات وہ سہارے آج کے اس دن اور اس مزار سے مربوط تھے۔ ۔ میں نے مان لیا کہ میں معرفت کی پہلی منزل پا گیا، میں ایکسٹرا اورڈنری اس لئے تھا کیونکہ میرے اندر ولائت موجود تھی”۔

اپنی حقیقت جان لینے کے بعد میں خوب رویا، دھاڑیں مار مار کر رویا، ایڑیا رگڑ رگڑ مسل مسل کر، مزار کے کچے احاطے میں لوٹ پوٹ ہوکر رویا۔ روتے روتے ایک نظر آسمان کو دیکھتا اور دھاڑ بلند کرتا کہ بابا اخر اتنی دیر تک کیوں مجھے بھٹکائے رکھا، کیوں بابا کیوں!!! (کیوں بابا کیوں کا جملہ ایسی آواز میں ادا کرتا جیسے کوئی ٹو اسٹروک سوزکی اینجن کو ایکسلریٹ کررہا ہو) پھر ایک قلابازی کھاتا، اس دوران چولا فقیر اور دیگر ساتھی جو مجھے تسلیاں بھی دیتے اور قلابازی کھانے میں مدد بھی دے رہے تھے برابر میرے ساتھ رونے کی اداکاری کر رہے تھے (ایک آدھ قلابازی کے دوران میں اپنے تئیں بھرپور ڈائیو لگاتا مگر ٹانگیں مکمل زاویہ میں گھومنے سے زرا پہلے اوپر ہی معلق ہوجاتی تھی، عین اسی وقت میرا استاد چولا فقیر میرے اٹھی ہوئی ٹانگوں کو دھکہ دے کر قلابازی مکمل کرادیتے)۔ چولا فقیر میری روتی ہوئی شکل اپنے بدبودار سینے سے لگاتا (کئی بار تو اس کے سینے کے آلودہ بال میرے نتھنوں میں گہرائی تک داخل ہوگئے) ہمارا سر اپنے بغلوں میں دبایا، مجھے تسلی دیتے “نا دیوانے نا”، بابا سے گلہ نہیں کرتے، بابا جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہے!!!

مجھے بابا کی قبر کے روبرو پیش کیا۔ ۔ چولا فقیر نے دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے معصومانہ افعال و شکووں کی مافی مانگی اور بابا سے میرے تمام کاپی رائٹس حاصل کرتے ہوئے کہا “بابا میں آپ کے مہمان کی تربیت و خدمت کروں گا آپ کے وسیلہ سے آپ بے فکر ہوجائیں”۔

میں اس قبر کے سامنے بت بن کر کھڑا تھا اس بیوہ عورت کی طرح جس کے خاوند کا ابھی کچھ دیر پہلے ہی جنازہ اٹھا ہو”۔ میری داخلی حالت تو حیران تھی جبکہ بیرونی حالات پر جبراََ یقین کی چادر چڑھا دی کہ میں بھی ایک ولی ہی ہوں جسے ابھی کھل کر آنا ہے۔

میرے دائیں جانب چبوترے پر جاری قوالی بلکل عروج پر تھی تمام قوال سا، رے، گاما، پا، دا، نی، سا سے نکل کر سنگیت کی باریک کڑیوں میں داخل ہوچکے تھے۔ کامل الفاظ کی جگہ ان کے منہ سے صرف، نی نی نی نی، تھہ تھ تھ تھ تھ، بھ بھ بھ، تہآآآآآ کے صوتی آہنگ برآمد ہو رہے تھے۔ میں نے خود کو ان تانوں میں بکھرتے محسوس کیا (زبردستی)۔

چولا فقیر نے تربیت کے نام پر مجھ سے اپنی خدمت گزاری شروع کرادی۔ ۔ اب لنگر کی لائن میں جا کر میں کھڑا ہوتا تھا۔ ۔ جبکہ چولا فقیر چرس پھونکتا رہتا۔ ۔ کبھی کبھی خیال آجاتا تھا کہ اگر صاحب ولایت میں ہوں تو ان سب کو میری خدمت کی خاطر لنگرکی لائن میں کھڑا ہونا چاہئے۔ مگر پھر اس خیال کو نفس کا حملہ تصور کرتا!!

وہ مجھے اولیاءکے قصے سناتا، نفس کشی پر لیکچر دیتا، وقت گزرا تو مجھے ان سب سے بدبو آنا بند ہوگئی اس لئے کہ اب وہ بدبو میرے بدن سے بھی اتنی ہی شدت سے اٹھ رہی تھی۔ ۔ دوران تربیت بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ ۔ یعنی ایک سیب میں بیک وقت چرس سے بھرے پانچ سگریٹ ٹھونس کر کھینچنا ناک سے سگریٹ پینا، شہادت کی انگلیاں ہوا میں بلند کرکے ڈھول کی تھاپ پر ناچنا، سر کو گھمانا، خود کو زیادہ سے زیادہ گندہ کرنا، یہ سب سیکھ لیا۔

میں چولا فقیر کا تابعدار اور وفادار بن چکا تھا۔ ایک دن مجھے گلے سے لگایا کہا اب وقت آگیا کہ تم یہاں سے آگے بڑھ جاو، معرفت کی اگلی منزل کی جانب پیش قدمی کرو!! ولائت میں کاملیت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ انسان ہواوں میں اڑنا شروع کرجائے۔ ۔ اور یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب تم اپنے نفس کا خون کردو، زمین کی مانند ہوجاو کہ لوگ تمھارے سینے میں کدال اتارے اور تم بدلے میں انھیں فایدہ دو۔ ۔ ۔

میں اڑنا چاہتا تھا، مجھے وہی ولی بننا تھا جو اڑتا ہو جو پرواز کرتا ہو۔ ۔ زمیں اسمانوں اور اگلے جہانوں میں!!! (مطلوبہ خصائص میرے ذہن میں چولا فقیر نے ہی ڈالے تھے)۔

ہم دونوں نے بابا سے اجازت لی اور اجازت کے بعد لگاتار دو منٹ تک قبر کے سامنے اچھلے اور مزار سے نکل گئے۔ ۔

ذرا ہی فاصلہ طے کیا تھاکہ ایک ڈبل ڈیکر ویگو گاڑی دکھائی دی۔ ۔ اس میں سے دو آدمی نکلے اور میرے ہاتھ میں زنجیر ڈال دی۔ ۔ جس پر میں نے چولا فقیر کی جانب دیکھا۔ ۔ اس نے مجھے گلے لگایا۔ ۔ کہا تمھارا نفس سر نہ اٹھائے یہی معرفت ہے “جا بابا تیرا حامی ہو، میں گاڑی کے پچھلے حصہ میں سوار ہوگیا۔ ۔ چولا فقیر نے دور سے کہا۔ ۔ میں مزار کی چھت پر تمھارا انتظار کرونگا، اب آنا تو اڑکر ہی آنا پیارے!!!

گاڑی ایک بڑی چہار دیواری میں داخل ہوئی جہاں متعدد اقسام کی فصلیں، پھلوں کے درخت پھیلے ہوئے تھے۔ ان میں مرد اور عورتیں کام کرتے دکھائی دئے۔ ۔ مجھے گاڑی سے اتار کر میری زنجیر کو ایک پلر سے باندھ دیا گیا۔ ۔ ایک آدمی آیا جس کے ہاتھ میں پانی کا پائپ تھا، موٹر چلوا کر میری سروس شروع کردی۔ نائی کو بلا کر میرے بال بے ہودگی سے کاٹ دئیے۔ ۔ مجھے شروع میں میرے استاد چولا فقیر نے کہا تھا کہ “میں ایک نعرہ مستانہ ہوں”، اب اس کٹنگ کے بعد میں فقط مستانہ دکھائی دے رہا تھا بلکہ شاہ دولہ لگ رہاتھا۔

ہم سے جبری کام لیا جانے لگا۔ ۔ کم کھانے کو دیا جاتا تھا جانوروں کے بیچ سونا پڑ رہا تھا۔ ۔

اس دوران مجھ پر یہ راز کھل گیا کہ مجھے میرے استاد نے مشقت کے لئے کسی وڈیرے کو فروخت کردیا اور یہ بھی کہ یہاں سب کے سب فروخت شدہ لوگ ہی تھے۔ ۔ کوئی بیماری سے صحتیابی کے نام پر فروخت ہوا تو کوئی امید بر آنے کی خواہش میں نیلام ہوا۔ ۔ جبکہ میں، میں معرفت کے نام پر فروخت ہوگیا تھا۔ ۔ جس کا مجھےبلکل بھی افسوس نہیں تھا۔ ۔ کیونکہ یہ مشکلات آنی تھیں اور آنی ہیں۔ ۔ میری منزل میرا مقام وہ تھا جہاں کم ہی انسان پہنچ پاتے ہیں۔ ۔ مجھے علاج کرنا تھا اس بیمار معاشرے کا۔ پھونک مار کر موذی ترین امراض کو رفع کرنا تھا۔ ہواووں میں پرواز کرنا تھی۔ ۔

جب تمام مزدور سو جاتے تو میں خود کو اذکار میں مشغول رکھتا۔ مراقبوں میں عراق و ایران کے اسفار کرتا۔ ان معمولات سے متاثر ایک پہرے دار نے ایک رات میرے لئے راستہ کھول دیا کہا کہ اللہ کے بندے کو قید رکھ کر خود کو برباد نہیں کرسکتا۔ ۔ میں اپنا بوریا لیکر وہاں سے نکل گیا۔ ۔ جب میں نے ذرا فاصلہ طے کیا تو پہرہ دار دوڑتے ہوئے آیا۔ ۔ کہا سائیں بتانا بھول گیا!! کل میرے مرغے کی لڑائی ہے دعا کریں کہ وہ جیت جائے۔ ۔ ہم نے اس کی کمر تھپکائی۔ ۔ کہا جا تیرا مرغا سرخرو رہے۔ ۔

میں سمت کا تعین کئے بغیر روانہ ہوا۔ گھنٹوں سفر کے بعد جب صبح کی روشنی پھیلنے لگی تو ایک ریگستانی ٹیلے کو گوشہ تنہائی جان کر اپنا بوریا پھیلاکر لیٹ گیا۔ ۔

میں بھول گیا۔ ۔ ۔ میں نے دوبارہ یہ سمجھنے میں غلطی کردی کہ ہمارے ملک میں جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں ہماری فوج ہوتی ہے۔ ۔ اور ایسا یہاں ہوگیا۔ ۔ ابھی ہم سستائے ہی تھے کہ خاکی وردی میں ملبوس درجن بھر اہلکار ہمارے سامنے آکھڑے ہوئے، بلکل ایسے جیسے وہ ابھی اسی وقت ان سنگریزہ سے تیار ہوکر بنے ہوں۔ ۔ نہ پوچھ گچھ نہ بات چیت، جھٹ سے ہمیں دبوچ لیا۔ ۔ ہم خاموش رہے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ ایک امتحان ہے جس سے سرخرو ہو کر نکلنا ہے مجھے۔ ۔ چہرے کے گرد کالا کپڑا لپیٹ کر اونٹ کی پشت پر سامان تجار ت کی طرح باندھ کر روانہ کردیا۔ ۔

آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو میں ایک قلعہ نماجگہ میں تھا۔ ۔ جہاں لاتعداد فوجی ساز و سامان، اور فوجی موجود تھے۔ ۔ سپاہی مجھے میجر عبدالمجید کمرےمیں لے گئے، سخت تیور اور لمبی گھنی داڑھی کا مالک میجر صرف مجھے گھورتا رہا۔ ۔

مزار پر میری تربیت کے دوران مجھے میرے استاد محترم چولا فقیر نے یہ بات سکھائی تھی کہ دنیا میں صرف دو طبقے ہیں جن کے بیج حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔ ۔ ایک مسلمان اور دوسرے وہابی! بقول ان کہ مسلمان ہم تھے اور وہابی وہ سارے لوگ جو ہم میں سے نہیں تھے۔ ۔ ان کی ظاہری نشانیاں، غیض و غضب کے جو علامات بتائی گئی تھیں وہ ان میجر صاحب میں پوری دکھائی دیں۔ ۔

نظروں کے نیزے میرے چہرے میں پیوست کرتے ہوئے میجر نے پوچھا۔ ۔ کون ہو تم؟

ہماری دھڑکن تیز بلکہ تیز تر تو پہلے ہی ہو چکی تھی اب معدہ میں متلی بھی محسوس ہونے لگی۔ ۔ باوجود اس خوف و ہیبت کے ہم نے اپنے مرشد کے سہارے کو یاد کیا۔ ۔ ملنگی انداز میں سامنے دیوار پر لٹکی ایوب خان کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔

میں کون ہوں کیا ہوں۔ ۔ ۔ یہ ہی تو جاننا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ کہ میں آخر کون ہوں؟

میرے اس جواب پر میجر صاحب نے پہلے تمام سپاہیوں کو دیکھا اور پھر مجھے۔

میں سمجھا اب ایک مسلماں اور ایک وہابی کے درمیان مکالمے کا آغاز ہوگا جس میں یقینا جیت حق ہی کی ہوگی، مگر وائے افسوس ایسا بلکل بھی نہ ہوا۔

بس بجلی کی سی تیزی میں ایک سررررر سی آواز سنائی دی اور تڑاخ کا پٹاخہ میری کھوپڑی میں پھٹ گیا۔ ۔ سی سی سی سی۔ ۔ کی آوازیں میرے کانوں کے ساتھ ساتھ جلد کے ان تمام مسام سے بھی نکل رہی تھی جو اس ایٹمی چماٹ سے کھل گئے!!

نجانے اس چماٹ میں کیسا اثر تھا۔ ۔ میں خود بخود فرفر بول پڑا صاحب ملنگ ہوں، اللہ کی محبت میں گرفتار ہوں۔ ۔ اپنے پیر کے وسیلے سے اس کی محبت کا متلاشی ہوں۔ ۔ استفسار کئے بغیر ہی اپنے محلہ علاقہ کا نام، گلی، مکان نمبر سب کچھ بتا دیا۔ ۔

اس سرسری تفتیش کے بعد جس میں اتنے سوالات نہیں پوچھے گئے تھے جتنے ہم نے رضاکارانہ طور پر جوابات دے دئے، ہمیں ایک کمرے میں بند کردیا۔

فقط ایک ہی تھپڑ پر ڈھیر ہوجانے پر میں سخت نادم ہوا۔ ۔ اپنے مرشد سے معافیاں مانگیں آیندہ خود کو ثابت قدم رکھنے کا بھرپور عزم کیا۔ ۔ ۔ اور فیصلہ کیا جس دن معرفت کا اعلی درجہ پا کے اہل پرواز اولیاء میں شامل ہوجاوں گا تو سب سے پہلے آکر اس وہابی میجر سے بدلہ لونگا۔ ۔ اس نے مجھے جو تپھڑ مارا ہے اس کے بدلے اسے آفاقی تھپڑ پڑواوں گا۔ ۔

میر ا سارا بائوڈیٹا نکال لیا گیا کہ میں کون ہوں اور کتنے دنوں سے لاپتہ ہوں۔ میرے والد ین دوست احباب کس قدر پریشان ہیں میرے بچے روز پریس کلب کے باہر دو سے تین کے درمیان دھرنا دے کر حکومت سے اپنا باپ مانگتے ہیں۔ ۔ یہ سب معلوم کرلیا گیا۔ ۔

اگلے دن میجر پانچ سپاہیوں سمیت کمرے میں پہلے کی نسبت زیادہ غضبناک انداز میں داخل ہوا اور کراہت آمیز لہجے میں پوچھا۔ “کیا فضول چیز ہو تم”۔ ۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بے سہارا چھوڑکر یہاں اللہ سے محبت کی تلاش میں چرس پھونک رہےہو۔ ۔ گندگی خود سے ملتے ہو۔ ۔ نا طہارت، نہ غسل نہ پاکی!!

میرا گریبان پکڑ تے ہوئے “اور یہ کیسی محبت ہے؟ جہاں اللہ کی محبت میں اپنے محبت کرنے والوں کو چھوڑ دیا جائے؟

میں نے ہمت مجتمع کی، سب کو دیکھتے ہوئے کہا “تم سب گمراہ ہو میجر!!!۔ ۔ تم جبر آزماو ہم صبر آزمائیں گے!!! (بالکل سلطان راہی کے انداز میں)

میرا جواب سن کر اس کا چہرہ لال سرخ ہوگیا۔ ۔

اپنے ایک سپاہی کو مخاطب کیا “دیکھ بشیرے۔ جب میدان عمل کے جہادی بھٹک جائیں تو زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور جب نفس کے خلاف جہاد کرنے والے یہ ملنگ جہادی بھٹکتے ہیں تو زہنوں میں فساد پھیلا دیتے ہیں۔ ۔

یہ تاریخی جملہ اس میجر نے ادا کیا اونچی آواز میں آرڈر دیا “مار اوئے ڈیوٹی”

اول تو ہم سے تمام فوجیوں نے باجماعت یکطرف زمینی جنگ لڑی۔ ۔ پھر ہمیں الٹا لٹاکر فضائی جنگ کا آغاز کیا، چوڑی تختی کے پٹے سے ہمیں پیٹنا شروع کیا گیا۔ ۔

پہلا پٹہ پڑا تو ہم نے۔ ۔ حق مرشد کی صدا لگائی”

دوسرا پڑا پھر۔ ۔ ۔ حق مرشد۔ ۔ ۔

تیسراپڑا تو۔ ۔ تو مرشد مائنس ہوگیا۔ ۔ اور اس کی جگہ منہ سے حق ابا کی صدا نکلی۔ ۔

حق ابا کے بعد حق بھی مائنس ہوا۔ ۔ اور صرف ابا رہ گیا۔ ۔ ابا کو خوب پکارنے کے بعد الالالالالالالا کی رٹ لگائی ا ورمیجر کی منت سماجت شروع کردی۔ ۔ ان سے کہا کہ تم حق پر ہو ہم ہی گمراہ ہیں۔ ۔ اپنے مرشد کو بن فرمائش کے گالیاں دیں۔ چولا فقیر کی تمام نسل کو یاد کیا۔ ۔ ۔

ہماری مار اس وقت ہی رکی۔ ۔ جب نیم بہوشی کے عالم میں ہمارے منہ سے صرف ایک ہی نام نکلنا شروع ہوا۔ ۔ اور وہ نام اللہ کا نام تھا۔ ۔

لٹکتے اعصاب اور دھندلی سماعتوں میں میجر کے منہ سے اتنا سنا “ چھوڑ دو اسے!! اس کی زبان پر اللہ کا نام آگیا ہے اس کو اس کی حقیقی معرفت مل گئی۔ ۔

اس مار کے بعد۔ ۔ میرے جسم میں موجود سارا ملنگ پن مختلف حصوں سے راستے بنا کر نکل گئی۔ ۔ میں صرف اللہ کا بندہ رہ گیا۔ دماغ ٹھکانے آگیا۔ ۔ معلوم ہوا کہ فلمیں صرف ٹائم پاس کے لئے بنائی جاتی ہیں پیروی کے لئے نہیں!!

دو دن میں وہاں رہا، میری ذہنی تربیت ہوئی، ایک ہیلی کاپٹر جو سپاہیوں کو کراچی لیجارہا تھا، مجھے بھی ان کے ساتھ روانہ کردیا گیا۔ ۔ تھوڑا ہی فاصلہ طے ہوا تو میں نے نیچھے نظر دوڑائی، مجھے اس مزار کی چھت دکھائی دی، جس پر چولا فقیر نے میرا انتطار کرنا تھا۔

گھر پہنچ کر جب میرے بچوں نے مجھے دیکھا تو ان کے چہروں پر فطرت کے سب سے حسین منظر دکھائی دئے۔ ۔ یہ خوشی یہ ہنسی یہ مسکراہٹ فطرت کے سب سے توانا و روح افزا مناظر ہیں۔ ۔ جن کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ۔

نوٹ: لکھاری نے دس روزہ اندرون سندھ کا سفر آج سے ایک مہینہ قبل کیا۔ مضمون میں مذکور تمام واقعات حقیقی ہیں۔ ان سچی کہانیوں پر مشتمل ہیں جو مختلف مقامات پر لکھاری کو بتائی گئیں۔ لکھاری نے ان تمام واقعات و حادثات کو ایک لڑی میں پرو کر مضمون کا رنگ دے دیا۔ جس میں اس کے اپنے تجربات بھی شامل ہیں۔

(Visited 22 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: