مقام و احترام قائداعظمؒ —- محمد سلیم ساقی مرحوم کی کتاب کا تعارف ۔۔۔۔۔۔۔۔ عارف گل

0
  • 138
    Shares

’’مقام واحترام قائداعظمؒ‘‘ محترم محمد سلیم ساقی مرحوم (جن کا چند روز پہلے انتقال ہوا ہے) کی اپنے موضوع پر ایک مدلل، جامع اور قابل قدر تصنیف ہے۔ محترم مصنف نے کتاب کا جامع عنوان ‘‘مقام واحترام قائداعظمؒ ، محسن کی کردارکشی اور احسان کی تکفیر (حرمان نصیبی) رکھا جس سے کتاب کی غرض و غایت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ محترم مصنف نے مخالفین قیام پاکستان اور معترضین قائداعظمؒ کی وجوہ مخالفت اور ان کے اعتراضات کا جواب مستند تاریخی حوالوں اور ناقابل تردید دلائل سے رقم کر کے سلیم الطبع اور غیر متعصب اصحاب کے جہاں تشفی کا سامان بہم پہنچایا ہے وہاں مخالفین پاکستان اور معترضین قائداعظمؒ کوتاریخ کے کٹہرے کھڑا کرکے ان کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

محترم مصنف نے کتاب کی وجہ تصنیف بیان کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ

’’محسن ملک وملت، بانی پاکستان پربہتان تراشی، ان کی کردار کشی و احسان فراموشی بشمول کفران نعمت پاکستان، اساس پاکستان پر حملے، دوقومی نظریہ کا انکار اور وطنیت کی راگنی؛ کہاں کا اخلاق، شرافت، انصاف اور اسلام ہے۔ کیا ایسا کرنے والے اپنی عاقبت سنوارتے ہیں، ملک و ملت کی خدمت کرتے ہیں، اسلامی کاز کو تقویت پہنچاتے ہیں، قومی یک جہتی و ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں؟ نہیں۔ یہ سب کچھ ان کی انا کی تسکین کا سامان ہے۔ صد افسوس!‘‘

افسوس صد افسوس قائداعظمؒ کی کردار کشی اور ان پر بہتان تراشی کی ابتداء قائداعظمؒ کی زندگی میں بہت پہلے سے شروع ہوگئی تھی۔ اولین معترضین کانگریسی لیڈر اور ان کے اخبارات تھے جن کے پروپیگنڈے نے بعد میں خوب برگ وبار پھیلائے۔ بعد میں کانگریس کے زرخرید قوم پرست لیڈر بھی اسی رنگ میں رنگ گئے۔ ابتداء میں یہ اعتراضات قائداعظمؒ کی وضع قطع، آپ کے رہن سہن، لباس اور زبان پر تھے۔ مگر جب ان سے بھی کام نہ چلا اور اس سب کے باوجود قائداعظمؒ کی قیادت میں مسلم لیگ روزافزوں ترقی کرنے لگی تو پروپیگنڈے کا محاذ بھی تیز ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ قوم پرست علماء بھی اس میں شامل ہوگئے۔ دراصل اس بات سے ان کی انا کو شدید ٹھیس لگی تھی کہ قوم نے ان جبہ و دستار اور داڑھی والوں کو چھوڑ کر ایک انگریز خواں کلین شیو کو اپنا رہنماء اور نجات دہندہ بنا لیا تھا۔ قوم ان علماء کی بات پر کان دھرنے کی بجائے قائداعظمؒ کی زبان پر گوش برآواز تھی جو ان کی انانیت کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ پھر کیا تھا بات تنقید و تنقیص سے نکل کر کفر کے فتووں تک جا پہنچی۔

جیسے جیسے قائداعظمؒ کی قیادت میں مسلم لیگ کامیابیاں سمیٹی گئی ویسے ویسے فتووں میں بھی تیزی آتی گئی۔ ایک طرف سن چھیالیس کے انتخابات مسلم لیگ کی مقبولیت کا نقطہ کمال تھا دوسری طرف انہی دنوں فتووں کا بھی عروج تھا۔ انگریزی خواندہ، انگریزی بابو، داڑھی منڈا، انگریز کا پٹھو، دہریہ، رجل کافر، کافر اعظم اور نہ جانے کیا کیا کچھ ۔ ایک طرف فتوے تھے تو دوسری طرف مصمم ارادہ اور قوم ایک مقصد کے حصول کے لیے یکسو۔ سن چھیالیس کے الیکشن میں مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے کے فتوے کا جواب قوم نے انتخابات میں مسلم لیگ کو تمام نشستوں پر کامیاب کرا کے دیا۔ فتوے شکست سے دوچار ہوئے اور عزم و ارادہ فتح سے ہمکنار ہوئے۔ قوموں نے دنیا کے نقشے پر ایک عظیم اسلامی مملکت کے ظہور کا مشاہدہ کیا جس کے وجود میں لانے کا سہرا قائداعظمؒ کے سر سجنا نصیب ہوا۔ جسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سٹینلے والپرٹ نے لکھا۔

’’بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کرتا ہے۔ محمد علی جناح ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے یہ تینوں کارنامے کر دکھائے‘‘

قوم نہال تھی کہ اسے اپنی منزل مقصود پاکستان نصیب ہوئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ چلو جھگڑا ختم ہوا اور مخالفین بھی اب خاموش ہو جائیں گے۔ بنانے والوں نے خبریں بنائیں کہ وہ بھی اب دل وجان سے پاکستان کے بہی خواہ اور وفادار ہیں۔ مگر نہیں جناب ایسا نہیں تھا۔ ان کی انا مجروح ہوئی تھی اور وہ اپنی شکست کے زخم مندمل کر رہے تھے۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا اور مسلم لیگ کی مین سٹریم قیادت منظر سے اوجھل ہوئی تو زبانیں پھرسے کھلنے لگیں۔ وہ جس نے کافراعظم والا شعر کہا تھا دنیا کی بڑی عدالت میں دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہا! ہاں آج بھی میں یہی کہتا ہوں۔ دوسروں کی زبانیں بھی کھلنے لگیں اور انہی الزامات کو پھر دھرایا جانے لگا۔ قوم نئے لیڈروں کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے کسی ناگہانی حادثے سے دوچار ہوئی ادھر گویا ان کی دلی مراد بر آئی۔ ملک کو تکلیف پہنچی تو ان کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے۔ اور یہی رٹ کہ ہم اور ہمارے بزرگوں نے نہیں کہا تھا یہ تجربہ ناکام ہوگا۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اگلی نسل جوان ہوگئی جو اسی ملک میں پلی بڑھی مگر ان کو بھی یہی سکھلایا اور پڑھایا گیا کہ ہم اور ہمارے بزرگ درست فرما گئے ہیں۔ یعنی دلی تمنائیں یہی کہ ملک کسی آفت سے دوچار ہو اور وہ اپنے بزرگوں کی دوراندیشی کے گیت گائیں اور قائداعظمؒ کی ذات پر طعن درازی کریں۔

یہ تھے وہ حالات جب معترضین و مخالفین کے پروپیگنڈے کا رد لازم ٹھہرا تاکہ نئی پود کو ان کے مذموم مقاصد کی رو میں بہنے سے بچایا جائے۔ یہ قوم پر ایک قرض اور اصحاب علم و دانش پر فرض تھا کہ وہ اس پروپیگنڈے کا جواب دیں جو جھوٹے واقعات، تاریخ کی غلط تفہیم اور بہتان تراشی پر مبنی تھا۔ ان حالات میں کئی دردمند دل تڑپ اٹھے ہوں گے اور یقیناً ان میں سے ایک دل مذکورہ کتاب کے محترم مصنف کا بھی تھا۔ اسی لیے کتاب کی وجہ تصنیف بیان کرتے ہوئے محترم مصنف لکھتے ہیں۔

’’بانیان پاکستان کا ادب و تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے اور ان کی توہین و تذلیل برداشت کرنا ہماری قومی بے حسی، منافقت اور مداہنت کی دلیل ہے۔‘‘

پھر قابل قدر مصنف نے اس قومی فریضہ کو فرض کفایہ جان کر خود قلم اٹھا لیا ۔ قائداعظمؒ کے روشن کردار کا مرقع، ان پر لگائے گئے الزامات کا رد اور مخالفین کی بہتان تراشیوں کا مدلل اور عالمانہ جواب مذکورہ کتاب کی صورت میں لکھ کر پوری قوم کو فرض سے سبکدوش کرالیا۔ کتاب کا ایک ایک صفحہ قائداعظمؒ کی محبت سے سرشار دردمند دل کے چھیڑے ہوئے ساز ہیں جو قائداعظمؒ اور پاکستان سے محبت کرنے والے ہر دل کو مہمیز کا کام دیتے ہیں۔ آج بھی جواصحاب علم قیام پاکستان اور کردار قائداعظمؒ پر اعتراضات کے جواب دینا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب ریفرنس بک کا درجہ رکھتی ہے۔

کتاب کی ابتداء قائداعظمؒ کو خراج تحسین پیش کیے گئے حوالوں سے ہوتی ہے اور خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں اپنے بھی ہیں اور بیگانے بھی، دوست بھی ہیں اور دشمن بھی، یہاں تک کہ وہ کانگریسی لیڈرز بھی جن کی خواہشات اور سر توڑ کوششوں کے باوجود ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی۔ یہ سب لوگ کم از کم اس بات پر تو متفق ہیں کہ قائداعظمؒ ایک پختہ ارادے کے مالک اور بااصول انسان تھے جنہیں نہ تو جھکایا جا سکتا تھا اور نہ ہی خریدا جا سکتا تھا۔

کتاب کا دوسرا عنوان قائداعظمؒ کی ذات پر لگائے جانے والے الزامات اور اعتراضات کا مفصل و مدلل جواب ہے۔ اس عنوان کے تحت فاضل مصنف نے ایک ایک اعتراض لکھ کر ان کا رد مستند تاریخی حوالوں اور قائداعظمؒ کے فرمودات کی روشنی میں تحریر کیا ہے جس میں چھوٹے بڑے تمام الزامات کا شامل ہیں۔ یوں سمجھیں کتاب کا یہ حصہ مرکزی عنوان جس میں قائداعظمؒ کے کردار کی جھلکیاں بھی ہیں اور مسلم لیگ کی جدوجہد کی مفصل تاریخ بھی۔ جس میں انگریزوں کی بدعہدی بھی ہے اور ہندو کانگریسی لیڈروں کی عیاریاں بھی، یہانتک کہ قوم پرست علماء کی سادہ لوحی بھی جو نہ جانے کیوں ہندو را ہنماوں کی باتوں پر بلا سوچے سمجھے یقین کیے بیٹھے تھے۔ اس سے اگلے باب میں دوقومی نظریہ کی حامی اور مخالف شخصیات کے افکار کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کی شخصیات شامل ہیں۔ اس باب میں مخالفین پاکستان کا نہ صرف تاریخی حوالوں سے رد کیا گیا ہے بلکہ ان کے اپنے تضادات بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر مخالفین کے افکار کو قرآن و سنت کی اساس پر پرکھا اور ان پر نقد کیا گیا ہے۔ یہاں مصنف نے بڑی تفصیل سے مخالفین کے نظریات کی خامیوں کو واضح کیا اور ان کے تاروپود بکھیر کے رکھ دیے ہیں۔

اس موقع پر برٹش ہندوستان کی تاریخ کے دو واقعات کا تزکرہ نہایت اہم بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ یہی دو واقعات ہیں جو دراصل ہندوستان کی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ ایک ۱۹۳۷ کی کانگریسی وزارتوں کا مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ جس نے مسلمانان ہندوستان کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہونے پر مجبور کیا اور دوسرا کابینہ مشن پلان کی ناکامی جس نے مسلمانوں پر ثابت کردیا کہ اب تقسیم ناگزیر ہے۔ ۱۹۳۷ کے انتخابات میں مسلم لیگ بری طرح شکست سے دوچارہوئی تھی اور شاید مسلمان اس وقت تک ہندو سے پوری طرح مایوس نہ ہوئے تھے۔ مگر جونہی کانگریسی وزارتوں نے کام شروع کیا تو ان کا رویہ مسلمانوں سے مخاصمانہ تھا۔ طرہ یہ کہ ودیا مندر سکیم، واردھا سکیم، بندے ماترم کو قومی گیت قرار دیا جانا، شیوا جی کو قومی ہیرو بنانا اور اس کا دن منانا، سکولوں، کالجوں میں گاندھی کی مورتی کے سامنے سرجھکانا اور اردو کی جگہ ہندی کو لاگو کرنا جیسے اقدامات سامنے آئے تو مسلمان کانگریس سے متنفر ہوتے اور مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ کہاں یہ کہ انتخابات میں مسلم لیگ شکست کھا چکی تھی اور کہاں یہ کہ بعد کے تمام ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نے شاندار کامیابیاں سمیٹنا شروع کر دیں۔ یہاں قوم پرست علماء اور دوسرے لیڈروں سے بھی یہ بات پوچھی جانی چاہیے، جو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندو مسلم منافرت انگریز کے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے نتیجے میں وجود میں آئی، کیا کانگریس کو انگریز نے مجبور کیا تھا کہ وہ ودیا مندر اور واردھا جیسی مسلم کش سکیمیں لے آئے؟ کیا وائسرائے نے مشورہ دیا تھا کہ بندے ماترم جیسے مسلم آزار گیت کو قومی ترانہ بنا لے؟ کیا برطانوی پارلیمنٹ نے مشورہ دیا تھا کہ شیوا جی جیسے شخص کو قومی ہیرو بنا لے؟ جس کی پہچان سوائے اس کے اورکیا تھی کہ اس نے کہا تھا میری تلوار مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے۔ اگر کانگریس ہندو اور مسلمان دونوں کی نمائندگی کی دعویدار تھی تو پھر اسے مسلمانوں کا کچھ تو لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔ کانگریسی وزارتوں کی یہی مسلم دشمن پالیسیاں جنہیں دیکھ کر مسلمان سمجھ گئے کہ جو جماعت انگریز کی موجودگی میں یہ ظلم ڈھاسکتی ہے تو پھر انگریز کے چلے جانے کے بعد کیاکیا کچھ نہیں کرگزرے گی۔ کہیں مسلمانوں کے ساتھ اندلس کی تاریخ ہی نہ دھرائی جائے، جس کے اشارے یہ کہ کر دیے جانے لگے تھے کہ اگر اندلس میں سات سوسال حکومت کرنے کے باوجود اندلس سے مسلمانوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے تو ہندوستان سے کیوں نہیں۔ یہی خوف تھا جس نے مسلمانوں کو ۴۰ میں علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا اور ۴۶ کے انتخابات میں مسلم لیگ کو مکمل فتح سے ہمکنار کرایا۔

دوسرا اہم واقعہ کابینہ مشن پلان کی ناکامی ہے جس نے مسلمانوں کو یہ باور کرانے پر آمادہ کیا کہ ہندو سے تصفیے کا اب کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ جس زمانے میں یہ سب کچھ ہورہاتھا اس وقت دنیا میں جمہوری طرزحکومت رائج ہو رہا تھا اور لامحالہ ہندوستان میں بھی جمہوری حکومت ہی بننی تھی۔ جو مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ پچھلے ہزار سالوں کی طرح اب ان کی بادشاہت ہوتی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ مسلمان آبادی کا تیئیس فیصد تھے اور بغیر کسی عمرانی معاہدے کے اکثریت یعنی ہندو ہی کی حکمرانی قائم ہونی تھی۔ مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی معاہدہ چاہتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا عمرانی معاہدہ کیا ہو سکتا تھا؟ اس کا جواب بھی موجود ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی تین قراردادیں موجود ہیں جس میں انہوں نے تجویز کیا کہ ایک کمزور وفاق ہو جس کے پاس دو تین وزارتیں ہوں، جہاں برابری کا اصول ہو اور طاقتور صوبے یا یونٹ ہوں جن کے پاس زیادہ سے زیادہ اختیارات ہوں۔ مجلس احرار بھی اسی قسم کا بندوبست چاہتی تھی۔ مولانا آزاد نے بھی ‘‘آزادی ہند’’ میں فرمایا فرقہ وارانہ مسئلے کا بہترین حل کمزور وفاق اور خودمختار صوبوں میں تھا۔ اب کابینہ مشن پلان میں بھی اسی قسم کا طریقہ وضع کیا گیا تھا جسے قائداعظمؒ اور مسلم لیگ نے منظور کر لیا۔ یعنی جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اور مولانا آزاد جس بات پر متفق تھے قائداعظمؒ نے بھی اسی پہ صاد کیا۔ ان تجاویز کو نامنظور اور کابینہ مشن کو ناکام کس نے کیا؟ ہندو کانگریس نے ہی نا۔ اب قوم پرست علماء کے متعلقین ہی بتائیں نا کہ جب کانگریس نے آپ کے بزرگوں کی مجوزہ تجاویز ماننے اور آپ کو کو ئی حق دینے سے انکار کردیا تو پھر کیا کرنا چاہیے تھے۔ سر جھکا لیتے اور اقتدار ہندو کو منتقل کرا کے انگریز کو رخصت کردیتے۔ پھر کیا ہوتا؟ آپ کے بزرگ کہتے تھے پھر ہم ہندوسے نمٹ لیتے۔ بھلا کیسے۔ انگیریز کی موجودگی میں مزاکرات کے ذریعے تو وہ آپ کی بات مان نہیں رہا تھا، بعد میں کیسے مانتا۔ لڑائی لڑتے، بندوق اٹھاتے یاد رہے ہندوستان سے باہر بھی آپ کے حق میں کوئی آواز بلند نہ ہوتی اور تاقیامت ہندو کی غلامی کاطوق گردن کا ہار ہوتا۔

کتاب کے آخر میں محترم مصنف مرحوم نے ‘‘پندِسودمند’’ کا عنوان باندھا ہے جس میں جہاں مصنف نے مخالفین سے گزارش کی ہے کہ وہ اب پرانی باتیں بھلا دیں، پاکستان کو ایک حقیقت سمجھ کر اس کی تعمیروترقی میں شامل ہوں اور الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کردیں، وہاں انہوں نے پاکستان اور قائداعظمؒ سے محبت کرنے والوں کو بھی نصیحت کی ہے کہ وہ سابقہ باتوں کو بھول کر معترضین پر طعن سے پرہیز کریں۔

فاضل مصنف کا حکم سر آنکھوں پر، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ دوسری طرف زبانیں ہیں کہ بند ہونے میں نہیں آرہیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے الزام تراشی اور بہتان طرازی پہ اتر آتے ہیں۔ پھر جب سے یہ سوشل میڈیا عام ہوا ہے ہر ایرے غیرے نے قائداعظم کی ذات کو ہدفِ تنقید و ملامت بنا لیا ہے۔ ایسے حالات میں کتاب کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور جیسا کہ محترم مصنف کے لائق فرزند محققِ اقبال اعجازالحق اعجاز نے بتایا ہے کہ کتاب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے، لہٰذا اسے جلد از جلد دوبارہ چھپنا چاہیے۔

محترم مصنف نے کتاب کی وجہ تصنیف کے سلسلے جو لکھا تھا کہ

’’بانیان پاکستان کا ادب و تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے اور ان کی توہین و تذلیل برداشت کرنا ہماری قومی بے حسی، منافقت اور مداہنت کی دلیل ہے۔‘‘

تو عرض ہے کہ کروڑوں پاکستانی، بانیانِ پاکستان اور قائدِاعظمؒ کے ادب وتحفظ کے فریضے سے نہ ہی غافل ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کی توہین و تذلیل برداشت کرنے کی بےحسی، منافقت اور مداہنت کا شکار ہوئے ہیں۔ جب بھی جہاں کہیں بھی مخالفین و معترضین کی روحانی، جسمانی اور معنوی اولادیں پاکستان اور قائداعظمؒ پر طعن و بہتان باندھیں گی تو قائداعظمؒ سے محبت رکھنے والے محمد سلیم ساقی مرحوم جیسے کروڑوں پاکستانی ان کے جھوٹے دعووں کے تاروپود بکھیرنے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔

(Visited 14 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20