اے حمید کی کتابوں کی اشاعت نو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 159
    Shares

اے حمید اردو کے منفرد، صاحبِ طرز اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے۔ انہوں نے ناول، افسانے، خاکے، سفرنامے، یادیں اور بچوں کے لیے لاکھوں صفحات لکھے۔ لیکن عوام میں ان کی پہچان بے شمار کتابوں سے نہیں بلکہ ٹی وی سیریل ’’عینک والا جن‘‘ سے ہوئی۔ ملک کے کئی پبلشرز اے حمیدکی کتابیں شائع کر کے لکھ پتی بن گئے۔ قلم کے مزدور اے حمیدکا چند برس پہلے کسمپرسی کے عالم میں انتقال ہوا۔ وہ زندگی کے آخری دنوں تک اخباری کالم لکھتے رہے۔ ان کی بیشتر ادبی کتب اب دستیاب نہیں تا ہم بچوں کی سیریز ’موت کا تعاقب‘ اور ’عنبرناگ ماریا‘ اور دیگر کتابیں اب بھی کئی پبلشرز شائع کرتے ہیں اور ان کی کافی مانگ بھی ہے۔ لیکن گوگل سرچ بھی اے حمیدکی تخلیقات سے لاعلم ہے۔ اے حمید کی تخلیقات ڈھونڈنے پر جواب ملتا ہے تلاش پر کچھ نہیں ملا۔ مشہور کالم نگار جاوید چوہدری نے کیا سچ لکھا ہے کہ ’’اے حمید سچے اور کھرے لکھاری تھے اور اس ملک میں لکھاری بھی بھوکے مرتے ہیں اور سچے اور کھرے لوگ بھی اور اے حمیدسچے بھی تھے کھرے بھی اور لکھاری بھی۔‘‘

اے حمید ایک سچے قلمکار تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص رومانوی انداز میں افسانے اور ناول تحریر کیے اور ایک زمانے میں نوجوان ان کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے۔ ان کے فقرے کوٹ کرتے تھے۔ امریکا اور سری لنکا کے سفرنامے لکھے تو اپنے مخصوص اسلوب میں قاری کو بھی ان مقامات کی سیر کرائی جہاں وہ گئے۔ خاکے تحریر کیے تو جس کا خاکہ لکھا اسے مصور کر دیا۔ امرتسر اور لاہورکی یادیں لکھیں تو ان شہروں کی ایک ایک گلی، کوچہ، باغات، محلے، افراد اور ادارے زندہ جاوید کر دیے۔

اے حمیدکی تین یادگار کتب راشد اشرف نے زندہ کتابوں کے سلسلے میں شائع کی ہیں۔ پہلی کتاب اے حمید کے لازوال شخصی خاکوں کا مجموعہ ’’سنگ ِدوست‘‘ ہے۔ دوسری کتاب ’’یادوں کے گلاب اور ڈربے‘‘ ہے۔ یہ دونوں کتابیں ایک جلد میں شائع کی گئی ہیں۔ یادوں کے گلاب میں اے حمید کے سوانحی طرز کے مضامین اور خاکے جبکہ ڈربے ان کا سوانحی ناول ہے۔ ڈربے کا پہلا ایڈیشن پچاس اور دوسرا ساٹھ کی دہائی میں شائع ہوا تھا جبکہ یادوں کے گلاب انیس سو اٹھاسی میں منظر عام پر آیا تھا۔ عمدہ کاغذ پر پانچ سو چھتیس صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت صرف پانچ سو روپے موجودہ دور میں حیران کن ہے۔ زندہ کتابیں کے سلسلے میں اے حمید ایک اور کتاب ’’امرتسر کی یادیں‘‘ بھی جلد شائع ہونے کی نوید ہے۔

چند باتیں میں راشد اشرف صاحب نے لکھا کہ

’’اپنی تحریروں میں تواتر کے ساتھ جنگل، خوشبو، بارش، ناریل، درختوں اور چائے کا ذکر کرنے والا پاکستان کا درویش صفت، ایماندار اور ہر دل عزیز مصنف دو ہزار گیارہ میں ہم سے بچھڑ گیا تھا۔ آئیے آپ کو اپنی چند یادوں میں شریک کرتا ہوں۔ مارچ دو ہزار سات کی ایک شام لاہور میں واقع اے حمید صاحب سے ملاقات کی غرض سے سمن آباد لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر گیا تھا۔ وہ ایک گھنٹہ پلک جھپکتے گزر گیا تھا۔ سردیوں کا موسم تھا، وہ کتابوں سے گھرے چھوٹے سے کمرے میں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں بے صبری سے اُس شدید انسیت کا ذکر کر رہا تھا جو ایک زمانے سے مجھے ان کی تحریروں سے ہے۔ وہ میری باتیں سن کر انکساری سے مسکرا رہے تھے۔ میرا زیادہ تر وقت اے حمید کے ڈربے سے متعلق گفتگو ہی میں گزرا تھا۔ دوران گفتگو میں انہیں ناول کے اقتباسات بھی سناتا رہا۔ بقول اے حمید، ڈربے کا ایک ایک کردار اور اس میں درج ایک ایک واقعہ حقیقت پر مبنی ہے۔ البتہ کچھ کرداروں میں معمولی سا رد و بدل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر چچا کا بے دلچسپ کردار جو ڈربے کی جان ہے وہ دراصل اے حمید کے سگے خالو تھے جو ڈربے کا پہلا ایڈیشن پڑھ کر اے حمید سے خفا ہو گئے۔‘‘

یادوں کے گلاب میں خوبصورت یادوں کے ساتھ کچھ خاکے بھی ہیں۔ جس میں ایک باری علیگ کا خاکہ بھی ہے۔ جن کی مشہور زمانہ کتاب ’کمپنی کی حکومت‘ کا چرچا آج بھی ہوتا ہے۔ اے حمید نے یادوں کے گلاب میں باری علیگ کی کتاب ’تاریخ کا مطالعہ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’سب سے پہلے میں نے کتاب کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا یہ جملہ پڑھا، تاریخ ہمیں بہت کچھ بتاتی ہے ہم اس سے سبق کیوں نہیں لیتے؟‘‘۔ اس کے بعدمیں نے فرعونوں کے مصر، ساسانیوں کے ایران، عرب جہاز رانوں اور دجلہ و فرات کو چھوڑ کر سب سے پہلے گوتم بدھ کا باب پڑھا۔ گوتم بدھ کے باب کو پڑھتے ہوئے مجھ پر باری صاحب کا گیان ہوا۔ گوتم بدھ کے محل چھوڑنے کا منظر اُنہوں نے یوں بیان کیا ہے۔ ’اسی رات کو گوتم اپنی بیوی کے کمرے میں گیا۔ چراغ کی مدھم روشنی میں اس نے مہا آنند کا منظر دیکھا۔ دنیا کی مسرتوں کو چھوڑنے سے پہلے اس نے اپنے بچے کو سینے سے لگانا چاہا۔ وہ آگے بڑھا پھر پیچھے ہٹا۔ گوتم اپنے بچے کو اس لیے پیار نہ کر سکا کہ شاید ایسا کرنے سے یشو دھرا جاگ اٹھے گی، وہ مسرت کے اس منظر سے باہر نکل گیا۔‘

یہ بڑا رومانٹک، بڑا المناک اور انتہائی ایثار کا منظر تھا۔ بدھ بڑا رومانٹک آدمی تھا۔ رومانٹک آدمی ہی محبت کرتے ہیں اور محبت میں ایثار کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو قربان کرتے ہیں۔ باری صاحب کا لکھا ہوا اس کے بعد کا فقرہ میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ ’’گوتم اس شاہی محل کو مسکراتے ہوئے چھوڑ رہا تھا جس میں داخل ہونے کی خواہش نے انسانی تاریخ کو خونی بنا رکھا ہے۔‘‘

اس جملے کے بادبانی جہاز پر بیٹھ کر میں نے باری صاحب کے جزیرے کو دریافت کیا۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ بارہ صاحب جزیرہ نہیں براعظم ہیں اور اس براعظم کا انکشاف مجھ پر باری صاحب کے نوشیرواں اور خسرو پرویز کے بارے میں لکھے ہوئے ان الفاظ پر ہوا۔ ’’خسرو پرویز جہاں میدانِ جنگ میں ایک بہادر سپاہی تھا وہاں شراب و شباب کی محفلوں میں رندِ بلانوش بھی تھا۔ دجلہ میں گرنے والے قرہ سُو کے کنارے ناچ گانے کی محفل جمی ہوئی تھی۔ خسرو پرویز اپنی شاہانہ شان و شوکت کے مزے لوٹ رہا تھا کہ ایک ایرانی امیر عربی زبان میں لکھا ہوا حضور نبی اکرم ﷺ کا خط کو خسرو پرویز کو پیش کرتا ہے۔ مغرور اور بدمست خسرو خط پڑھ کر قہقہہ لگاتا ہے اور اُسے پرزے پرزے کر کے دریائے دجلہ میں پھینک دیتا ہے۔ اس مقام پر باری علیگ اس باب کا آخری جملہ لکھتاہے کہ ’سلطنت ایران کے بھی اسی طرح پرزے اُڑنے والے ہیں۔ بخت نصر کے باب میں انہوں نے لکھا کہ ’بخت نصر نے اپنی نئی ملکہ کے لیے معلق باغات لگوائے کیونکہ وہ سر سبز و شاداب علاقے سے آئی تھی اور صحرا میں اداس تھی۔ نہ بخت نصر رہا نہ اُس کی ملکہ رہی اور نہ معلق باغات رہے۔ جو رہی سو بے خبری رہی۔‘

’تاریخ کا مطالعہ ‘ایک زندہ کتاب ہے۔ باری علیگ سے بھی زیادہ زندہ اور وہ تاریخ کے پھول کی خوشبو بن کر ہوا میں بکھر چکی ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے نظر کی نہیں، مشامِ تیز کی ضرورت ہے۔ اس طرح باری بینی سے کسی شخصیت کو کوئی خاکہ نگار پیش کر سکا ہے۔

مرحوم ابن انشاء نے اپنے خط میں لکھا کہ ’’ارے حمید میری جان، تمہارے ’یادوں کے گلاب‘ سب کے سب میں نے پڑھے ہیں بلکہ سونگھے ہیں اور پرانے دنوں کی یاد پر دل کو کچھ کچھ ہوتا ہی رہا ہے۔ تم ڈنڈی مار جاتے ہو، عشق و عاشقی اور لڑکیوں کے تذکرے میں بھی تم ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مار جاتے ہو۔ لڑکیاں تمہاری بھولی بھالی صورت اور رومانٹک تحریر کے چکر میں آ جاتی ہیں۔ خیر میاں ہم تو تمہارے عاشق ہیں۔ فی زمانہ اور کوئی ہمیں اپنے اوپر عاشق ہونے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔‘‘

خود اے حمید اپنی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’یادوں کے گلاب میں آپ کو رنگ بھی نظر آئیں گے، خوشبوئیں بھی محسوس ہوں گی، شکلیں بھی نظر آئیں گی، آوازیں بھی اپنی طرف بلائیں گی۔ کبھی شکل خوشبو دے گی، کبھی خوشبو سے آواز آئے گی، کبھی آواز شکل بن کر سامنے آئے گی اور کبھی آواز گلاب کی خوشبو میں ڈھلتی محسوس ہو گی۔ جیسے جیسے یہ منظر میں دیکھتا گیا ہوں ویسے ویسے انہیں لکھتا چلا گیا ہوں۔ یہ بکھری یادوں کے رنگ ہیں، چہرے ہیں، خوشبوئیں ہیں، آوازیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ بھی انہیں اُن کے قدرتی موڈ میں دیکھیں، محسوس کریں اور ان کی سرگوشیاں سنیں۔ پھول مرجھا جاتا ہے مگر اس کی خوشبو کبھی نہیں مرجھاتی۔ وہ اپنے پھول کی یاد بن کر یادوں کے گلدانوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔‘‘

یادوں کے گلاب واقعی مختلف رنگوں کے گلاب کے پھولوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی بہت خوبصورت یادوں کو تحریر اور قاری کو اپنی یادوں میں شریک کیا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس میں بڑے بڑے ادیبوں کی نشست کے بارے میں خوبصورت پیرائے میں لکھا ہے۔ یہ ادیب اور شاعر پاکستان کے ابتدائی دنوں میں لاہور میں قیام پذیر تھے۔ جن میں ساحر لدھیانوی، احمد راہی، ابنِ انشاء، حمید اختر، ناصر کاظمی، سعادت حسن منٹو، شہرت بخاری وغیرہ شامل ہیں۔ اے حمید بتاتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس کے پریشان کن حالات میں کس طرح وہ احمد راہی اور عارف عبد المتین جان جو کھوں میں ڈال کر تونسہ شریف گئے اور فکر تونسوی کو نکال لائے اور اپنے ساتھ لاہور میں رکھا۔ کہتے ہیں کہ فکر تونسوی کو لاہور سے بہت محبت تھی اور وہ آخری ہندو ادیب تھا جو لاہور چھوڑ کر ہندوستان گیا۔

کتاب میں شامل اے حمید کا سوانحی ناول ’’ڈربے‘‘ ایک عجیب و غریب تحریر ہے۔ ہنستی مسکراتی اور ساتھ ساتھ انتہائی دل گداز بھی۔ دوران مطالعہ قاری کو ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے اے حمید اور ان کے اہل خانہ کے مسائل سے ایسی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے گویا وہ اس کے اپنے لوگ ہوں۔ یادوں کے اس مجموعے میں اے حمید ہمیں اس ماحول میں لے جاتے ہیں جس میں حالات کی ستم ظریفی کے سبب وہ ایک ایک پل جیے اور شاید مرے بھی۔ وہ خود دل گرفتہ نظر آتے ہیں اور ان کا حساس قاری بھی ملول ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اے حمید کے دل نشین طرزِ تحریر سے لطف اندوز بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ملک ہمیں آسانی سے نہیں ملا تھا، اس کے لیے لوگوں نے قربانیاں دی تھیں، ان لوگوں نے اپنا مستقبل ہمارے لیے قربان کر دیا تھا کہ ہم اس ملک میں عزت سے جی سکیں۔ نئی نسل کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ اے حمید اس کتاب میں باتوں باتوں میں ہمیں بہت کچھ سکھا گئے ہیں۔

ڈاکٹر پرویز حیدر پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ

’’اے حمید جب آخری بار امر تسر ریلوے اسٹیشن پر آئے اور پاکستان آنے کے لیے ریل پر سوار ہوئے۔ راستے کی مشکلات اور خوف و ہراس پھر پاکستان پہنچ کر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نامساعد حالات میں رہنا۔ رہائش، خوراک اور پھر بیماریوں کے پھیلنے کی وجہ سے دگرگوں حالات۔ صفائی ستھرائی کی مخدوش صورتحال میں پیٹ کی بیماریوں کا پھیلنا۔ اسی طرح اُن کے والد صاحب کا بھی انہی حالات میں انتقال کر جانا۔ اصل میںتقسیم کا موضوع ہی اتنا درد ناک ہے کہ لاکھوں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ اس موقع پر ہوا۔ اے حمیدصاحب نے بہت اچھی طرح اور تفصیل سے اپنے حالات کو لکھا ہے۔ یہ اُس وقت کے حالات کی بہترین یادگار دستاویز ہے۔ ڈربے کو اصولاً میٹرک کے کورس میں شامل ہونا چاہیے تا کہ سیکنڈری اسکول کے طالب علم آزادی کے عنوان سے اسے پڑھیں اور اُن کے دل میں نقش ہو جائے کہ یہ مملکتِ خداداد کتنی مشکلات کے بعد حاصل ہوئی۔ یہ ناول پاکستان کے حکمرانوں کو بھی پڑھانا چاہیے جو نہ صرف بادشاہ بلکہ شہنشاہ بننا چاہتے ہیں۔ جو ملک پر اڑتیس ہزار ارب کا قرضہ چڑھا دیتے ہیں اور ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں کا مقروض پیدا ہوتا ہے۔ جو کھلے عام کرپشن کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ اگرہماری ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم سیاست چھوڑ دیں گے۔ لیکن پھر بھی واضح طور پر ثابت ہے کہ وہ سینکڑوں کروڑ روپے ملک سے باہر لے گئے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیمرون کی فیملی کا جب پاناما کیس میں نام آیا تو اُس نے اسمبلی میں اپنے انکم ٹیکس گوشوارے پیش کر دیے۔ خیر سے ہمارے حکمران ہیں کہ وہ کئی دہائیوں حکومت کر کے اپنے بچوں کو احتساب کے لیے پیش نہیں کرتے بلکہ اُن کو ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔‘‘

’’سنگ دوست‘‘ اے حمید کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ چار سو چالیس صفحات کی اس نایاب کتاب میں اردو ادب کی تیس عظیم شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔ جن میں آرزو لکھنوی، ایوب رومانی، ابراہیم جلیس، ابن انشا، احمد راہی، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، استاد امانت علی خان، انور جلال شمزہ، باری علیگ، چوہدری نذیر احمد، ڈاکٹرشفیق الرحمٰن، ڈاکٹر عبادت بریلوی، راجہ مہدی علی خان، ساحر لدھیانوی، ساغر صدیقی، سعادت حسن منٹو، سید وقار عظیم، سیف الدین سیف، صوفی غلام مصطفی تبسم، فیض احمد فیض، قتیل شفائی، قدرت اللہ شہاب، کلیم اختر، مسعود سلطان لکھیر، مولانا چراغ حسن حسرت، ناصر کاظمی،ن م راشد اور نواز جیسی علمی ادبی مشاہیر کے خاکے شامل ہیں۔ یہ کتاب عرصہ دراز سے نایاب تھی۔ جو اب زندہ کتابیں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر دستیاب ہے۔

فاروق احمد سنگِ دوست زندگی کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ

’’کیا عجب کہ ترقی پسندی اور ملائیت کے سوتے ایک ہی بیج سے پھوٹتے ہیں۔ رومانیت کا نہ ترقی پسندی کچھ اکھاڑ پائی نہ ملائیت ہی کچھ پچھاڑ سکی۔ نغمگی اور رومانیت کے بغیر کائنات آتش و خاشاک کا ریگزار ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اے حمید اس کائنات کی ٹوٹتی بکھرتی رومانیت میں نئے رنگ انڈیلتا رہتا ہے۔ کائنات میں پھیلی سلفر کی بو کو موتیوں کے گجروں خوشبو سے بھر دیتا ہے۔ اے حمید کا لکھا ہمیں اس لیے بھاتا ہے کہ وہ ہمیں زندگی کی جنم بھومی کی جھلک دکھاتا ہے۔ اے حمید نے تین سو جلدوں میں ’موت کا تعاقب‘ لکھی لیکن سنگِ دوست کی صورت اس نے ایک ہی جلد میں ’زندگی کا تعاقب ‘ لکھ ڈالی۔ سنگِ دوست زندگی کی کتاب ہے۔‘‘

اے حمید جس شخصیت کا خاکہ لکھتا ہے۔ اس کے پرت پرت کھول کر رکھ دیتا ہے۔ کس دل آوازی سے وہ اپنے ممدوح کی پوری شخصیت کو مجسم قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ارد گرد کا ماحول بھی واضح ہو جاتا ہے۔ ایوب رومانی کے خاکے میں لکھتے ہیں۔ .

’’ایوب رومانی ریڈیو اسٹیشن کی آخری نشانیوں میں ہے۔ میں جب ریڈیو اسٹیشن میں اس کے کمرے میں جاتا تھا تو محسوس ہوتا تھا کہ میں ریڈیو اسٹیشن میں ہوں۔ اسٹیشن ڈائریکٹر تک کے کمرے میں خالص کلرکوں ایسا دفتر کا ماحول تھا اور وہاں بیٹھے مجھے محسوس ہوا کرتا تھا کہ میں کسی تھانے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہوں۔ جب میں اُسے دیکھتا تو یقین آتا کہ میں ریڈیو اسٹیشن میں ہوں۔ وہی ریڈیو کے پرانے سنہری دور والی بے ساختگی، غیرمنافقت، خوش فکری، خوش خیالی، خوش شکلی، کشادہ دلی اور اپنے عہدے کی ترقی اور تنخواہ کے گریڈوں سے بے نیازی۔ چائے کی خوشبو، سگریٹ کی مہک اور شعر و ادب کی باتیں۔ موسیقی کی باتیں، کلاسیکی موسیقی کے بڑے بڑے استادوں کی باتیں۔ اس کے دفتر سے نکلتا تو منافقت، بے مروتی، بے حسی، دل آزاری، انسان دشمنی اور بدصورتی شروع ہو جاتی۔‘‘

ذرا اے حمید کا یہ انداز ملا حظہ کریں۔

’’ریڈیو پاکستان لاہور کے درختوں کو پروگراموں کی حاجت نہیں ہے وگرنہ وہ کھڑے کھڑے سوکھ جاتے۔ یہ انسانوں کا ہی حوصلہ ہے کہ ملامتیں سہہ کر بھی زندہ ہیں، آگ میں بھی نہیں جلتے اور اپنے سینوں کے اندر شعر و ادب اور موسیقی کے سُروں کے پھولوں کو سمیٹے رکھتے ہیں۔ لاہور ریڈیو کے صحرائے اعظم میں جب کوئی فنکار پیاس سے نڈھال ہو کر اپنی جلتی ہوئی شاخوں کو پھیلائے ایوب رومانی کے کمرے میں داخل ہوتا تو آگ بجھ جاتی ہے اور شاخیں پھر سے ہری بھری ہو جاتی ہیں اور خشک پیاسے ہونٹوں پر ٹھنڈی شبنم کے قطرے گرنے لگتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایوب رومانی کا کمرہ فنکاروں کے لیے خاص طور پر صحرائے اعظم میں ایک نخلستان کی مانند ہے جہاں کھجور کے جھنڈوں میں ٹھنڈی چھاؤں میں ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ بہتا ہے۔ ایک بار استاد برکت علی خان کلکتے گئے۔ واپسی پر ایوب رومانی کی بیوی کے لیے کشمیری شال لیتے آئے۔ اُنہوں نے شال ان کی میز پر رکھ دی۔ ایوب رومانی نے پوچھا کہ اس کا ہدیہ کیا پیش کروں؟ خان صاحب باقاعدہ رونے لگے اور بولے میں تو تمہیں بیٹا سمجھ کر یہ شال لایا تھا تم تو افسر نکلے۔ اتنی بات پر ایوب رومانی پر رقت طاری ہو گئی اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ یہ رقت میں نے ریڈیو کے کسی بھی افسر میں نہیں دیکھی کہ جو واقعی موسیقی کو جانتا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رقت، یہ گداز خدا کی دین ہے۔ وہ جسے چاہے دے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں دیتا۔‘‘

ایک خوبصورت خاکے میں ایوب رومانی کی شخصیت کے تمام جوہر، تمام پرت قاری کے سامنے ایسے عیاں کیے کہ وہ بھی اس انجانے فرد کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ خاکہ نگاری میں یہ کمال بہت کم ادیبوں کو میسر ہے۔

سنگِ دوست میں آپ بیتی کا رنگ بہت غالب ہے۔ ابراہیم جلیس کے خاکے میں اے حمیدلکھتے ہیں کہ

’’ہم اخباروں میں لکھتے۔ ہماری کتابیں یکے بعد دیگرے چھپ رہی تھیں۔ مشاعرے ہوتے، معرکہ ہوتے۔ ادبی انجمنوں کے ہنگامہ خیز اجلاس ہوتے۔ بحثیں ہوتیں۔ کہیں سیاست چلتی، کہیں ادب چلتا، مذاکرے ہوتے، مناظرے ہوتے۔ ایک ہنگامہ تھا۔ ایک جشن تھا۔ کوئی کسی جگہ نوکر نہیں تھا۔ کوئی کسی کا غلام نہیں تھا۔ کسی پر کسی کا حکم نہیں چلتا تھا۔ ہر کوئی آزاد تھا، بات کہنے میں خود مختار تھا۔ جیب خالی بھی ہوتی جیب بھی جاتی۔ بہترین سگریٹ پیتے، بہترین کپڑے پہنتے، بہترین چائے پیتے اور کافی کافی پیتے، بہترین باتیں کرتے۔ شہر لاہور کی سڑکوں، گلی کوچوں میں آوارہ پھرتے اور راتوں کو گھروں میں بیٹھ کر کہانیاں بھی لکھتے، طویل نظمیں اور مسلسل غزلیں بھی کہتے۔ سورج ہمارے سامنے صبح کو طلوع ہوتا۔ چاند ہمیں سڑکوں پر آوارہ پھرتے دیکھ کر غروب ہوتا۔ ایک خواب تھا وہ عہد! رنگ، خوشبو، حرکت خیال اور زندگی سے بھرپور خواب!

کیا رومانوی اسلوب تحریر ہے، ناسٹلجیا کا مفہوم سمجھ آ جاتا ہے۔ ابن انشاء اے حمید کے دوست تھے۔ لکھتے ہیں کہ

’’میں اور ابن انشاء اکثر اندرون شہر کی سیر کا پروگرام بناتے۔ اس پروگرام کو ہم نے مشن ٹو بغداد کا نام دیے رکھا تھا۔ وہ لاہور کی گلیوں کو بغداد کی گلیاں کہا کرتا تھا۔ اُسے شہر کی نیم تاریک گلیاں بہت پسند تھیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں یہ گلیاں واقعی پُر اسرار ہوا کرتی تھیں۔ ہم لوہاری دروازے یا اکبری دروازے سے شہر کے اندر داخل ہوتے اور منزل کا پتہ پوچھے بغیر یونہی کسی گلی میں مڑ جاتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ آگے جا کر گلی بند ہو گئی یا کسی مکان میں داخل ہو گئی اور ہمیں شرمسار ہو کر واپس مڑنا پڑا۔ ابن انشاء نے کئی بار مجھے ٹوکا بھی کہ باز آ جاؤ۔ یہ گلی تو کسی مکان کے آنگن میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک بار وہی ہوا جس کی طرف ابن انشاء نے اشارہ کیا تھا یعنی ایک مقام پر گلی ایک مکان کی ڈیوڑھی بن گئی۔ گویا اب ہم گلی میں نہیں بلکہ ایک مکان کی ڈیوڑھی میں کھڑے تھے۔ ایک عورت نے کواڑ کی اوٹ سے پوچھا، اِدھر کیا لینے آئے ہو تم؟ میں اوپر نیچے دیکھتے ہوئے کہا: بہن یہاں محمد حسین بجلی والے کا مکان تھا۔ جواب ملا یہاں کوئی محمد حسین بجلی والا نہیں رہتا۔ یہ تو اللہ دتہ جراح کا گھر ہے۔ اس سے پہلے کہ اللہ دتہ ہم دونوں کی جراحت کرتا ہم دونوں سر پر پاؤں رکھ کر وہاں سے بھاگ نکلے۔

اے حمید کی تحریر میں شگفتگی کی زیریں لہر قاری کا لطف دو بالا کر دیتی ہے۔ بعض خاکوں کا آغاز ہی چونکا دیتا ہے۔ اخلاق احمد دہلوی کا خاکہ یوں شروع ہوتا ہے۔

’’اخلاق احمد دہلوی سے لاہور ہوٹل کے چوک میں ملاقات ہوئی تو سائیکل سے اتر پڑے، سولہ ہیٹ اُتار کر سائیکل کے آگے ٹوکری میں رکھا اور بولے، بھئی حمید صاحب کل آپ کے گھر ہماری دعوت ہے۔ میں اور میری بیگم شام سات بجے پہنچ جائیں گے۔ میں نے کہا: بڑی خوشی کی بات ہے، ہم انتظار کریں گے۔ ہم فلیمنگ روڈ پر رہتے تھے۔ اخلاق صاحب نے لاہور ہوٹل سے ذرا آگے پیپل والی کے اندر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ دوسرے دن ہم کھانا پکا کر اخلاق صاحب کا انتظار کرنے لگے۔ ٹھیک وقت پر ہم نے کھڑکی سے سر نکال کر دیکھا۔ اخلاق احمد دہلوی اپنی بیگم اور بیٹے عینی کے ہمراہ گلی میں چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے گٹھری اٹھا رکھی تھی، دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں بگلے کا سگریٹ سلگ رہا تھا۔ گٹھری میں کھانے کی دیگچی تھی یعنی اخلاق صاحب اپنی اس دعوت کا اپنا کھانا گھر سے پکا کر ساتھ لائے تھے۔ جو ہمارے ہاں ہو رہی تھی۔‘‘ اخلاق احمد دہلوی نے اپنا آپ کبھی ظاہر نہیں کیا مگر ان کی اس مسکراہٹ نے انہیں بے نقاب کر رکھا ہے۔ یہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر بڑی مشکل سے دکھاتی ہے۔

مسکراہٹ موجود ہوتی ہے مگر اس کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کے اوپر ہتھیلی کا چھجا بنانا پڑتا ہے۔ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ جیسے کوئی عید کے چاند کو مغربی افق پر تلاش کر رہا ہو۔ اس مسکراہٹ میں نہ خوشی ہے نہ غم ہے۔ اب میں اسے کیونکر بیان کروں۔ ان کے ہونٹوں کے کنارے چھپی ہوئی مسکراہت نما کسی شے کو کاغذ پر منتقل کیے بغیر میں ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکوں گا۔ ہماری نسل کے لوگوں نے پاکستان بننے سے پہلے ہندو سنیاسی ضرور دیکھے ہوں گے۔ یہ لوگ سادھو جوگی نہیں ان سے بلند لوگ ہوتے تھے۔ میں نے پہلی بار سنیاسی کو بڑے شوق سے دیکھا تھا۔ اس کے جسم پر صرف ایک لنگوٹ کے سوا کچھ نہ تھا، سر کے بال منڈھے ہوئے تھے۔ ماتھے پر تلک لگاتا۔ یہ لوگ نہ تو کسی دروازے پر جا کر بھیک مانگتے تھے نہ کسی سے بات کرتے تھے۔ اُن کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ سنیاسی کے پاس سونا بنانے کا نسخہ ہوتا ہے۔ ان کے سونا بنانے کی کئی داستانیں بھی مشہور تھیں۔ میرے دادا جان نے اپنی آنکھوں سے سنیاسی کو سونا بناتے دیکھا تھا مگر اُنہوں نے کسی ایسے سنیاسی کو نہیں دیکھا تھا کہ جس نے اپنے رہنے کے لیے کوئی حویلی یا کوٹھی بنوائی ہو۔ نوکر چاکر موٹر کار رکھی ہوئی ہو اور ٹھاٹھ سے زندگی بسر کر رہا ہو۔ دادا جان ان کے متعلق کہا کر تے تھے کہ جب انسان پر سونے کی حقیقت کھل جاتی ہے تو وہ سونے سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ سنیاسی ہو جاتا ہے۔ تب اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے اور یہ مسکراہٹ ساری دنیا کا سونا دیکر ملتی ہے۔ یہ خدا ہی جانتا ہے کہ اخلاق احمد دہلوی کے پاس سونا بنانے کا نسخہ ہے یا نہیں؟ لیکن انہوںنے وہ مسکراہٹ ضرور حاصل کر لی ہے جو ساری دنیا کا سونا دیکر ملتی ہے۔

سنگ ِدوست میں ہر خاکہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ہر شخصیت اپنی پوری دل آویزی اور اے حمید کے قلم کی سحر سے مزین قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔ ضخیم کتاب کے ختم ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔

(Visited 86 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: