ادب اور مزاحمتی رویے ۔۔۔۔۔۔۔۔ قاسم یعقوب

0
  • 101
    Shares

ادب کی مزاحمتی حیثیت کو سمجھنے کے لیے لفظ ’مزاحمت‘ پہ غور ضروری ہے۔ مزاحمت کسی نظریے، فکر یا نظام کو قبول کرنے سے انکار پہ مبنی فلسفہ ہے۔ جب کسی چیز کا انکار اور اس کے خلاف مزاحمت کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انکار کرنے والی حیثیت محکوم، ماتحت اور مجبور کی ہے اور جس کے خلاف مزاحمت کی جا رہی ہے وہ ایک طاقت ور عنصر کے طور پر مزاحمت کرنے والے پہ مسلط ہے۔ جب ہم مزاحمتی ادب کی بات کرتے ہیں تو ادب کے اُس تخلیقی رویے سے مُراد ہوتی ہے جو فکر، نظام یا نظریے کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

کیا ادب اپنی نہاد میں صرف ’’مزاحمتی‘‘ ہوتا ہے؟ ادب کے تخلیقی رویے بنیادی طور پر دو متخالف رویوں پہ منحصر ہوتے ہیں۔ مزاحمتی اور مفاہمتی ادب معاشرے میں رائج اُن فکری و جمالیاتی رویوں سے مفاہمت کے لیے بھی کردار ادا کرتا ہے جسے تخلیقی رویے سازگار قرار دیتے ہیں۔ گویا ادب صرف مزاحمتی نہیں ہوتا مفاہمتی بھی ہوتا ہے۔ مفاہمتی ادب اُن فکری اور جمالیاتی اقدار سے مفاہمت سکھاتا یا اُن کا مقدمہ پیش کرتا ہے جو معاشرے والوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ مفاہمتی تخلیقی رویے ایسے ادب کے ذریعے اُن اقدار کو قبول عام بناتے ہیں جن کے لیے معاشرے میں پہلے سے مفاہمتی تصورات موجود ہوتے ہیں۔

مزاحمتی ادب کی بہت سی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جیسے کسی ادیب کا اپنے آدرشوں ، خوابوں یا آئیڈئیل کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرنا۔ کلامِ فیض احمد فیض جس کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ضروری نہیں کسی شاعر، کہانی کار کی مثالیت معاشرے کی بھی مثالیت ہو۔ بعض اوقات تخلیق کار اپنی تحریروں میں کسی آئیڈیل کو پیش کرتا ہے مگر معاشرہ اُس کے آئیڈئل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، یوں اُس تخلیق کار کی تحریروں میں مزاحمتی رویے جنم لیتے ہیں۔ مزاحمت طے شدہ رویوں، رسم و رواج اور رائج قدار کے خلاف بھی ہوتی ہے۔ تخلیق کار معاشرے کی ازسرنَو تشکیل کرتا ہے۔ فرسودہ روایات اور بانجھ فکری تحریکوں کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ ٹیبوز کو توڑتا ہے۔ اس طرح کے ادب کو بھی مزاحمتی کہا جاتا ہے ۔ عموماً ایسا مزاحمتی ادب اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے فلسفیانہ دلائل کی بنیاد مہیا کرتا ہے، سماج کی نئی فکری تشکیل کرتا ہے۔ مزاحمتی ادب کا ایک اور رویہ سیاسی، تاریخی اور اقداری بیانیوں سے انکار کرنا بھی ہے۔ عموماً ایسے بیانیے جو کسی حد تک سٹیریو ٹائپ تصورات بن چکے ہوں تخلیق کار انھیں قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ایک شاعر یا کہانی کار جو بیانیہ تشکیل دیتا ہے اسے ریاست یا نظام کا متبادل بیانیہ بھی کہا جا سکتا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ادیبوں کی ایک بڑی تعداد نے فکری سطح پہ اُن بیانیوں کو رد کیا جو سیاسی، سماجی سطح پہ حقیقت بنا کے پیش کیے گئے یا ایسے بیانیے جو مقبول عام بیانیے تھے۔ ادیبوں نے اُن تمام فکروں، نظریات اور نظاموں کے خلاف مزاحمت پیش کی جسے خفیہ طاقتوں نے پس منظر میں رہتے ہوئے قبول عام بنایا۔ منٹوکی جس کی مثال ہے۔ ایسے ادیبوں کو انھی طاقتوں نے ملعون، شرابی، ریاست مخالف اور طرح طرح کے القابات سے قبول عام بننے میں رکاوٹ پیش کی۔ ایسے ادیبوں کی تحریروں میں تاریخ کا وہ رُخ دیکھا جا سکتا ہے جو واقعاتی تاریخ سے حد درجہ مختلف بلکہ تاریخ کو تہہ و بالا (Subvert) کرتا ہُوا نظر آتا ہے۔

مزاحمتی ادب کی ایک قسم مارشل لائی جبر کے خلاف لڑنا ہے۔ اسے مزاحمتی ادب کی سب سے واشگاف اور بلند آواز بھی کہا جا سکتا ہے۔ عموماً ایسا ادب اکہرا اور تادیر نہیں ہوتا۔ سطحی ادب میں براہ راست مکالمہ ہونے کی وجہ سے اُس کا قاری عوام ہوتے ہیں۔ اُردو میں مارشل لائوں کے خلاف لکھے جانے والے ادب کی بڑی تعداد سطحی ہے۔ حبیب جالب کا شعری سرمایہ جس کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ البتہ فراز، کشور، فہمیدہ وغیرہ نے بہت اہم تحریریں بھی لکھیں جو براہ راست کی بجائے گہرا ادب ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ علامتی یا تجریدی انداز ہے۔

ایک وقت تھا جب مارشل لائوں کے خلاف لکھے جانے والا ادیب واضح طور پر اپنے موقف کا اظہار کرتا۔ اُس وقت یہ تفریق واضح تھی کہ ظالم کون اور مظلوم کون ہے۔ جابر کہاں ہے اور مجبور کسے کہتے ہیں۔ اقتدار پہ قابض ہونے والے حکمرانوں کو ادیبوں کی بڑی تعداد نے قبول نہیں کیا۔ مارشل لا کے خلاف لکھنے والا ادیب حق کا نمائندہ تصور کیا جاتا۔ آج بھی ایسے ادیب جنھوں نے ضیائی مارشل لا کی حمایت کی یا پس منظر میں افغان جہادی بیانیے کو قبول عام بنایا، اُنھیں ظالم اور غاصب کا ساتھ دینے والا قرار جاتا ہے۔ مارشل لائوں کے ادوار میں قید و پابند، کوڑے کھانا اور ملک بدری جیسی سنگین سزائوں کو جھیلنے والے ادیب، ہمارے ادب کا فخر کہلائے جاتے ہیں۔ مگر ہُوا یہ کہ اب اکیسویں صدی میں پس منظری طاقتوں نے مزاحمتی ادب کی اس تفریق کو اتنا دھندلا دیا ہے کہ اب ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ ظلم کس کے ساتھ ہو رہا ہے اور ظالم کون ہے؟ غاصب کون ہے؟ آمریت پس منظر میں ہے یا پیش منظر میں؟ جمہوریت اور آمریت کی سرحدیں اتنی مل گئی ہیں کہ دونوں کو الگ کرنا آج کے ادیب کے لیے کارِ مشکل بن گیا ہے۔

سب کو معلوم ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے وہی خفیہ طاقتیں جنھیں ۵۸ اور ۷۷ کے تاریخی واقعات کے تناظر میں غاصب کہا جاتا رہا تھا، جن کے خلاف ادبی مزاحمت کرتے ہوئے تخلیق کاروں نے قلم کا جہاد کیا تھا، پھر سے سرگرمِ عمل ہیں اور جمہوریت کے نام سے آمرانہ سوچ کو فروغ دے رہی ہیں مگر آج کا ادیب مزاحمتی پالیسی کی بجائے مفاہمتی فضا بندی میں مشغول ہے۔ آج کے ادیب نے اُن طاقتوں کے بیانیوں کو نہ صرف قبول کیا بلکہ مقبول عام بنانے میں اپنی تحریروں کو وقف کیے رکھا جو آمریت کی نمایندہ ہیں۔ البتہ اب کی بار وہ پس منظر میں ہیں۔ ایسے ادیبوں میں تارڑ صاحب کے کالم بھی شامل ہیں۔

اصل میں یہ نئی سماجی فضا ہے جہاں رائٹ لیفٹ کی تفریق ختم ہو گئی ہے۔ مارشل لائوں کا پرانا طریقہ واردات نئی اشکال میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جہاں ظالم اور مظلوم کو ایک ہی سطح پہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایسے میںادیب بھی تقسیم ہو گئے ہیں۔ مزاحمتی ادب کا وہ بیانیہ جسے مارشل لائوں کے خلاف بنایا جاتا رہا ہے، جسے ریاستی اقدار کا انکار کہا جاتا رہا تھا اب اتنا مدھم اور دھندلا ہو گیا ہے کہ اس کے خلاف مزاحمت کرنا بذاتِ خود معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک نیا منظر نامہ ہے جہاں ظالم اور مظلوم مل گئے ہیں جن کی تفریق کرنا مشکل عمل ہو گیا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مزاحمت کی تمام اقسام اب نئی فکری تشکیل میں ڈھل رہی ہیں۔ سماج کے نظام کو نئی فلسفیانیہ تعبیر کی ضرورت ہے مگرفی الحال ادیب اپنی ذمہ داری سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: