پاکستان میں تہذیبی کش مکش کے ستر سال —– نجیبہ عارف

2
  • 109
    Shares

پاکستان کی تہذیب کیا ہے؟ یہ سوال ستر برس سے ہمارے اجتماعی تشخص کا اہم مسئلہ بن کر موجود رہا ہے۔

میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ سات آٹھ منٹ کے اس دورانیے میں آج اس مسئلے پر کوئی قطعی اور مسکت بات کہہ گزروں گی۔ ایک تو اس لیے کہ جس نکتےپر پاکستانی قوم کے اہم ترین دماغ، جن میں محمد حسن عسکری، فیض احمد فیض، ڈاکٹر تاثیر، سلیم احمد، سراج منیر، سبطِ حسن، ڈاکٹر سید عبداللہ، شیخ محمد اکرام، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وحید قریشی، سید محمد تقی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر ممتاز حسین وغیرہ تفصیل اور دلیل سے بحث کر چکے ہوں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو خوب اچھی طرح جانچنے پرکھنے کے بعد بھی کسی ایسے متفقہ نتیجے تک نہ پہنچے ہوں جسے بنیاد بنا کر اگلا قدم اٹھایا جاتا، اس مسئلے پر مجھ جیسے طالب علم کاکچھ کہنے کی جرأت کرنا کسی خوش گمانی کا نتیجہ ہو تو ہو، احتیاط کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اپنی کم علمی اور کم فہمی کے ادراک کے باوجود اگر آج کچھ عرض کرنے حاضر ہوئی ہوں تو صرف اس لیے کہ تہذیب کا مسئلہ کسی ایک نسل یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں؛ یہ ہر نسل، ہر ذہنی، سماجی اور معاشرتی سطح کے فرد کا براہ راست مسئلہ ہے اس لیے کہ تہذیب اشیاے صرف کی قبیل سے تعلق رکھنے والی کوئی ایسی شے نہیں، جسے ہم چاہیں تو استعمال کریں اور نہ چاہیں تو نہ کریں۔ تہذیب ہم میں سے ہر ایک کی اجتماعی اور انفرادی شناخت کا مسئلہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک، خواہ اس کا تعلق کسی اصلی یا نقلی دانشور گروہ سے ہو، یا سڑک پر جھاڑو دینے والے خاکروبوں کی جماعت سے، تہذیب کا حصہ ہوتا ہے۔ تہذیب ہمارے انفرادی وجود کے ذریعے منعکس ہوتی ہے۔ ہم سب وہ پرزم ہیں (میں نے منشور کا لفظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا، اس سے کسی سیاسی جماعت کے جھوٹے وعدوں کی بو آتی ہے) جن کے اندر سے گزر کر تہذیب کی ست رنگی روشنی اپنی جلوہ دکھاتی ہے۔

میں نے اپنی گزارشات کی بنیاد اس سوال پر نہیں رکھی کہ ہماری تہذیب کی اصل بنیادکیا ہے؟ ارضی ہے یا سماوی؟ ہماری تاریخ موہنجو ڈرو سے شروع ہوتی ہے یا محمد بن قاسم کے حملے سے، ہم پچیس ہزار سال قدیم ہیں یا صرف ستر سال پرانے بلکہ نئے، بلکہ نئے نکور؟ نہ اس بات پر غور کیا ہے کہ ہماری تہذیب کیا ہونی چاہیے؟ ہمیں کس شناخت کو اپنانا اور کس کو ترک کرنا چاہیے؟ چاہیے کا سوال تو تب پیدا ہوتا جب تہذیب کو کوئی رخ یا سمت عطا کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا۔ اصل میں تو انسانی تہذیبیں وقت کے تیز رفتار سیلاب میں ایک منہ زور دھارے کی طرح اپنا رخ آپ متعین کرتی ہیں اور ان کی لگام کھینچنے یا تھامنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں جیسے حال ہی میں امریکہ میں ٹرمپ اور بھارت میں مودی صاحب کی سیاسی فتح نے دنیا کو متحیر کر دیا ہے۔ یہ دونوں حضرات کسی چور دروازے سے اقتدار کے ایوان میں داخل نہیں ہوئے بلکہ مخالفین کے مظاہروں اور احتجاج کے باوجود، اپنے وسیع و عریض ملکوں کی کثیر آبادی کا ووٹ لے کر آئے ہیں اور بجا طور یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے معاشروں کی اکثریتی آبادی کے ترجمان و نمائندہ ہونے کی بنا پر ان کی بدلتی ہوئی تہذیبی سمت کا دوٹوک اظہار ہیں۔

یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ تہذیب کا لفظ میں نے ایک وسیع تر مفہوم میں لیا ہے۔ میں اس مختصر وقت میں الفاظ اور ان کے مترادفات یا متبالات پر بحث نہیں کر سکتی۔ صرف یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ تہذیب سے میری مراد وہ مجموعہ ہے جس میں تمدن تاریخ اور ثقافت کے سبھی پہلو شامل ہیں۔ عوام کی سطح پر رہن سہن، نظام اقدار اور نظام مدنیت کے جملہ پہلو اس کا حصہ ہیں۔ تمام علوم و فنون اس کی ثقافتی جہت ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی، جو یقیناً کئی ہزار برس سے اس خطے کی تہذیبی پرداخت میں شامل رہی ہے لیکن تاریخ ماضی کا قصہ ہوتی ہے جو حال میں شامل ہو کر بھی حال نہیں ہوتی۔ ہمیں اس معاملے میں کوئی الجھن نہیں کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں اس کی جغرافیائی حقیقت ہمارے وجود اور ہماری شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جغرافیائی حقائق کو اگر تہذیب کا پیکر سمجھا جائے تو اس کی روح وہ اقدار ہوتی ہیں جنھیں ہم اپنے شعوری فیصلے سے منتخب کرتے ہیں اور اسی نظام اقدار کی روشنی میں اپنے وجودی پیکر کی قطع و برید کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کی تہذیب نے اپنی جڑوں سے ارضیت کا مدھ لیا ہے تو اپنے مستقبل کے لیے سماوی اڑانوں کا راستہ متعین کیا ہے۔ یعنی پاکستانی تہذیب کا پیکر ہزاروں سال پرانی تمدنی زندگی سے تیار شدہ ہے اور اس کی روح اسلام کی روحانی قوت سے اخذ کی گئی ہے اور ان دونوں کے امتزاج سے پاکستانی تہذیب کا زندہ سراپا تیار ہوا ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی تہذیب نے اپنی روحانی قوت اسلام سے اخذ کی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان میں غیر مسلم قومیتوں کی کوئی جگہ نہیں۔ اس لیے کہ اسلام کی روح کو سمجھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام ہم آہنگی اور اشتراک عمل کا داعی اور بنیاد گزار ہے اور ایک مثالی اسلامی معاشرے میں احترام آدمیت کا جو معیار ہونا چاہیے، وہی ایک اسلامی تہذیب کی روح بن سکتا ہے۔ اس سے مختلف کوئی بھی صورت حال ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا آئیڈیل نہیں ہو سکتی۔

یہاں جب پاکستانی تہذیب کا تذکرہ ہوا ہے تو اس سے مراد وہ معاصر تہذیبی صورت حال ہے جس سے ہم دوچار ہیں۔ یہ معاصر صورت حال یقیناً ایک طویل تہذیبی و فکری تاریخ کی حامل ہے لیکن صرف تاریخ ہی تہذیب نہیں ہوتی۔ اگرچہ تاریخ کسی نہ کسی صورت میں تہذیب کا حصہ ضرور ہوتی ہے۔ لیکن ہر دور میں تاریخی عوامل ایک نئے انسانی شعور کی چھلنی سے گزر کر سامنے آتے ہیں اور ایک نئی صورت اختیار کرتے رہتے ہیں جو ہر عصر کی روح بن کر جاری و ساری رہتی ہے۔ اس پس منظر میں جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ پاکستانی تہذیب کیا ہے؟ تو کئی ذیلی سوال بھی جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا پہلے تو ہمیں ان سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ جغرافیائی خطہ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، کسی یکساں تہذیبی صورت حال کا حامل نہیں ہے۔ پاکستانی تہذیب اندرونی طور پر کئی تحتی تہذیبوں کی آمیزش سے قائم ہوتی ہے۔ یہ تحتی تہذیبیں اپنے لیے مختلف تشخص پر اصرار کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے لسانی تشخص پر زور دیتی ہیں جیسے کہ سرائیکی وسیب، بعض اپنے جغرافیائی محل وقوع سے شناخت حاصل کرتی ہیں، جیسے کہ سندھی تہذیب، بعض اپنی نسلی یا قبائلی پہچان کو باعثِ عزت و توقیر سمجھتی ہیں جیسے کہ پختون اور بلوچ قوم اور بعض دساور سے درآمد شدہ اشرافیہ کلچر سے جڑے رہنا شان کی بات سمجھتی ہیں جیسے ہم پنجابی۔ ان تحتی تہذیبوں کے اندر بھی چھوٹے چھوٹے تہذیبی دائرے موجود ہیں جو ایک دوسرے سے الگ لسانی، نسلی یا علاقائی شناخت کے دعوے دار ہیں۔ بظاہر یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے۔ پاکستانی تہذیب پر اعتراض کرنے والے اکثر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں ؛ کہ کیا مصیبت ہے، پاکستان کی کوئی ایک تہذیب کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ تو چوں چوں کا مربہ ہے۔ ناقابل حل۔ یہ لوگ ان تمام تحتی تہذیبوں کو تہذیب کی دیگ کا کوکڑو ثابت کرنے پر مصر رہتے ہیں۔

لیکن اس صورت حال کو ایک اور زاویے سے بھی تو دیکھا جا سکتا ہے۔ ’’آہ کیا مصیبت ہے‘‘ کے بجائے ’’واہ! کیا بات ہے‘‘ کا زاویہ۔ اس تہذیبی تنوع کو کمزوری اور پیچیدگی سمجھنے کے بجائے اسے طاقت اور حسن کا منبع بھی تو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ اس ایک مختصر سے خطے میں اس قدر تہذیبی تنوع اس کی تقویت کا باعث ہے۔ یہاں قبائلی تہذیب کی قدیم لوک دانش بھی ہے، صوفی روایت کی ہمہ گیری بھی، اسلامی تہذیب کے الوہی اصول بھی ہیں اور مغربی تہذیب کی سمجھ بوجھ بھی۔ ایسی تہذیبی ثروت مندی کو اپنی طاقت سمجھنے کے بجائے کمزوری سمجھ لینا شایدخود اعتمادی کی کمی کا نشان ہے۔

میرے خیال میں پاکستانی تہذیب ان تمام علاقائی تہذیبوں کا مجموعی پیکر ہے جس میں ہزاروں اختلافات ہوں گے لیکن اشتراکات ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور ہمارے دانش وروں کا فرض ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے، وسیع تر مفاد میں اشتراکات کو نمایاں کریں۔ پچھلے کچھ عرصے سےپاکستان میں علاقائی، لسانی، مذہبی اورفقہی اختلافات کو اچھال کر ان میں دوریاں پیدا کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، بحیثیت ایک عام پاکستانی میں اسے رد کرتی ہوں۔ میں صدق دل سے سمجھتی ہوں کہ یہ اختلافات پاکستانی معاشرے پر تھوپے جا رہے ہیں۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ میں ایک خیالی جنت کی بات کر رہی ہوں جو ہماری زمینی حقائق سے مختلف ہے۔ آپ کسی سے پوچھ لیجیے کہ کیا وہ اپنے سے مختلف مسلک یا علاقائی تشخص رکھنے والوں کو پاکستان سے نکال دینے کے قائل ہیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کی ایک بڑی اکثریت اس تہذیبی تنوع کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اسے اپنا سرمایۂ افتخار بھی سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی ایک مسلک یا لسانی و علاقائی تشخص کی بنیاد پر بننے والی جماعتیں عام انتخابات میں نتیجہ خیز کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود پاکستان کو شدت پسندی کے فروغ کا ملزم قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار دو بڑے ممالک میں مذہبی، قومی اور نسلی تعصبات پریقین رکھنے والی جماعتیں یا افراد برسر اقتدار آ چکے ہیں، پھر بھی وہ انسان دوستی کے نعرے اور دعوے کرنے سے ذرا نہیں جھجکتے۔

ہمیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ پاکستانی تہذیب اس تہذیبی رنگا رنگی اور تنوع سے سجے ہوئے مجموعے کا نام ہے جس کی کئی جہتیں یا سطحیں ہیں۔ ایک سطح عوام کی ہے، ایک سطح فن کاروں کی ہے، ایک سطح دانش وروں کی ہے، ایک سطح اشرافیہ کی ہے۔ ہر سطح پر تہذیب کی ایک مختلف تہہ منکشف ہوتی ہے لیکن کوئی ایک تہہ یا سطح اس کی مکمل پہچان نہیں بن سکتی۔ اس تہذیب کی اصل پہچان دراصل وہ بلند ترین معیارات، وہ آدرش ہیں جو ہم زندگی کے ہر معاملے میں اپنے لیے متعین کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے معاشرتی رویوں پر تنقید کرتے ہیں یا اپنے سماج کی کمزوریوں پر کڑھتے ہیں تو دراصل ہم ان سماجی معیارات، ان آدرشوں سے دور ہوجانےکے دکھ یا اندیشے کا اظہار کرتے ہیں۔ جب تک خود احتسابی کا یہ عمل زندہ ہے، ہمارے آدرش اور معیار قائم ہیں۔ یہی آدرش ہماری تہذیب کی سمت اور صورت کا تعین کرتے ہیں اور یہی ہماری اصل پہچان بنتے ہیں۔ اس لیے صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، ہمیں اپنے خوابوں سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی ضرور پڑھیئے: پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ — خالد بلغاری

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. سعید ابراہیم on

    اس تحریر میں جہاں خلوص اور نیک نیتی کیساتھ ساتھ کچھ عقلمندانہ تجزئیے کی جھلکیاں ملتی ہیں وہیں کچھ ایسے مغالطے بھی ہیں جو ہماری تہذیب کے راستے کا بنیادی پتھر ہیں۔ یعنی یہ دعویٰ کہ اس تہذیب کی روح اسلام کی روحانی قوت سے اخذ کی گئی ہے۔ اگر ہم اس نام نہاد روحانی قوت کے اجتماعی زندگی میں اثرات کا جائزہ لیں تو انتہائی شرمناک حقائق سے سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم ناقابلِ تردید واقعات اور جملہ قومی سوچ کی بنیاد پر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہ مذہب کی روحانی قوت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم اپنے ذاتی اور اجتماعی معاملات میں شدید الجھاؤ کا شکار ہیں اور یہ الجھاؤ ہماری نفسیات میں اس حد تک سرائت کرچکا کہ ہم کسی بھی معاملے میں دلیل کو سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔
    محترمہ نے اگرچہ اس بات کو خوبی کے طور پر بیان کیا کہ پاکستان کی تہذیب کی جڑیں تو زمین میں ہیں مگر اس کا مستقبل آسمانی اڑان سے جڑا ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ ہم نہ تو زمین پہ ہیں اور نہ ہی آسمان پہ بلکہ ان کے درمیان خلا میں یا تو معلق ہیں اور یا پھر بے سمت پروازمیں منہمک۔اور گمان یہ کہ کسی روحانی سفر میں ہیں۔
    محترمہ کا یہ دعویٰ بھی محلِ نظر ہے ہماری تہذیب میں اسلام کے الوہی اصول بھی ہیں اور مغربی تہذیب کی سمجھ بوجھ بھی۔ بصد معذرت ہماری تہذیب نہ صرف لوک دانش سے کٹتی جارہی ہے بلکہ کسی بھی ایسے الوہی اصول سے تہی ہے جسکے اثرات کو عملی صورت میں دکھایا جاسکے۔ اور جہاں تک مغربی تہذیب کا تعلق ہے اس کے ساتھ ہمارا رشتہ بیک وقت نفرت اور مفاد کا ہے۔ یہی وہ بے سوچا سمجھا عمل ہے جس نے ہمیں مقامی دانش سے بھی کاٹ کے رکھ دیا ہے۔

  2. جس طرح فردِ واحد کی زندگی کو پراگندگی سے بچانے اور اس میں ضبط اور نظم پیدا کرنے کے لیے ایک مستقل سیرت کی ضرورت ہے اسی طرح بہت سے اشخاص اور ایک معاشرہ کو انتشار اور تفرقہ سے بچانے اور اسے ایک منظم اور متحد جمعیت بنا دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی اساس مشترک اقدار پر ہو، اس پر ایک ہی رنگ غالب ہو اور ایک ہی رشتہِ اتحاد میں سب جڑے ہوئے ہوں۔

    “اسلامی نظریہِ حیات” از پروفیسر خورشید احمد۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: