دس مرچیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شفیق زادہ

2
  • 97
    Shares

خبر 1: سہیل منصور کلفٹن میں لٹ گئے (جنگ)
مرچی: غیر متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی کو کراچی میں لوٹ لیا گیا۔ دیّا رے دیّا، اب یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ واہ کسی نے کیا خوب کہا تھا ’ہم کیا شریف ہوئے پورا شہر بدمعاش ہو گیا‘۔ موصوف چند دن پہلے دارلخلافہ میں پُر تعیش گاڑیوں کی نیلامی میں ٹہل قدمی کرتے نظر آئے تھے۔ اس نیلامی میں بچ جانے والی بیش قیمت مرسیڈیز میں بیٹھ کے انہوں نے کھڑے گھاٹ مبلغ آٹھ کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی اور یہ کہہ کر چل دیے تھے کہ منظور ہو تو رابطہ کر لینا۔ قومی اثاثوں کی نیلامی کرنے والوں نے تو ان کو منہ نہیں لگا یا مگر ’کمر ٹُٹّے‘ اٹھائی گیروں نے ’آسامی‘ تاڑ لی تھی۔ موصوف جب تک متحدہ میں تھے، کسی میں ہاتھ ڈالنے، لگانے و پھیرنے کی ہمت نہ تھی۔ جب سے پیّاں پیّاں چلنا شروع ہوئے، سر منڈاتے اولے ہی پڑ رہے ہیں۔ لُوٹنے والوں نے جاتے جاتے سوا لاکھ روپے کی نصیحت پھوکٹ میں ہی پکڑا دی یعنی کہ ان کے کان کے قریب ’کٹا‘ ٹکا کر بولے ’سُدھر جاؤ‘۔ پتہ نہیں پپی بھی لی کہ نہیں؟ ہیں بھی تو اتنے ڈیسشنگ۔ پچھلی پارلیمان کے سب سے زیادہ انکم ٹیکس بھرنے والے سابق رکن قومی اسمبلی سے تازہ تازہ گرما گرم منی لانڈرنگ کیس بھی یہی کہہ رہا ہے ’سُدھر جاؤ‘۔

خبر 2: کوئی کیس ایسا نہیں ملا جس میں منشیات کی آمدن دہشت گردی کے لیے استعمال ہوئی ہو (ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس)
مرچی: گئے گزرے بزرگوں کی کرامات ہیں، ورنہ آج کل اتنے سادھو سنت منشیاتی اسمگلر ز نصیب والے ملکوں کو ملتے ہیں جو منشیات کی آمدنی سے کوئی غلط کام نہ کرتے ہوں۔ ویسے اگر دہشت گردی کی فائنانس میں حرام کی دولت نہ کھپے تو پھر یہ دولت کدھر پچتی ہے۔ یار یہ نہ سوچنا کہ بس کچھ نہ سوچنا۔ کبھی کبھی یہ شیطانی خیال آتا ہے کہ دہشت گردی کرنے والے ٹیرر فائنسنگ کے لیے کون سی انڈسٹری چلاتے ہوں گے، مگر اداروں پر مضبوط یقین رکھ کر ذہن سے کھرچ کر پھینک دیتے ہیں۔ توبہ توبہ، ورنہ نارکوس، مارکوس اور مادر کوس ٹائپ کی نیٹ فلیکسی کرائم تھرلر دیکھ دیکھ کر تو ہم یہی سمجھتے رہے کہ منشیات فروشی دراصل دہشت گردی کے انجن کا ایندھن ہے۔ اب دیکھ لیجئے دنیا بھر میں فنانشل ٹاسک فورس کی آڑ میں ہمارے پونے بارہ بجانے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور آنٹی نارکوسمٹک والے سنی لیونی کو اسٹیچو آف لبرٹی بنا کر پیش کر رہے ہیں، وہی! لوووونگ آئی لینڈ والی، کنواری کنہیّا آف امریکہ شریف۔ رئیس بھیا جی کی امّی اور گل خان کی خالہ جانی ٹھیک ہی بولتی تھیں ’کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا، دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا، جو دھندے کے لیے صحیح وہ صحیح، جو دھندے کے لیِے بُرا وہ بُرا‘، دھندِ باد، اووپس سوری دھنِ باد۔

خبر 3: امریکہ نے عزت دینے کے بجائے رسوائی سے دوچار کیا (مولانا فضل الرحمان)
مرچی: جب تک آنے والی ہر حکومت امریکہ کو دولہا بنا ئے خود پلاسٹک کی رنگ اُڑی نتھ پہنے، حجلہء عروسی میں لالچ کا گھونگٹ کاڑھے، حق مہر میں قرضے لینا بند نہ کرے گی، دولہے راجہ عزت لیتے رہیں گے۔ ریاست سہاگن ہو کر بھی ابھاگن ہی رہے گی۔ بس آپ اور آپ کے برادرِ خُورد یہ طے کر لیں کہ آج بلکہ ابھی سے ایک وقت کا کھانا بند، تو یقین کریں چھ ماہ بعد امریکہ سے عزت لینے کی بجائے امریکی عزت لینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ’’جیسے کو تیسا‘‘ نیت صاف منزل آسان اور اس سے بھی آسان ہے، حکومت میں رہ کر ککھ نہ کرنا اور باہر رہ کر باتیں کرنا، جو سارے سابق عشاقِ اقتدار کرتے ہیں، چاہے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہو کر یا سیاست کے لوکل وِن ڈیزل کا دیسی ورژن بن کر۔

خبر4: کرپشن کا نشانہ بننے والا بھوکا شیر مٹی کھانے لگا (چینی خبار)
مرچی: چلتے ہو تو چین کو چلیے جدھر شیر وہ بھی اصلی تے وڈا، مٹی کھانے لگا ہے۔ چینی تیسری دنیا میں اپنی تھرڈ کلاس کوالٹی کے لیے مشہور ہیں، اس لیے یہ خبر پڑھ کر ہم بیچارے مضروب ِ کرپشن شیر کو بھی ’چینی کوالٹی‘ والا شیر ہی سمجھے۔ تصویر سے پتہ چلا کہ بیچارہ سفید پوش یعنی سفید شیر ہے، کمیاب اور خاندانی۔ ملک عزیز میں بھی جو خاندانی ہیں وہ کمیاب ہیں اور جو وافر مقدار میں جمہوری مصیبت کو گود میں بٹھائے ہوئے ہیں وہ کمین ہیں۔ بہت بھولا شیر ہے، کرپشن کا نشانہ بننے پر مٹی کھا رہا ہے۔ بیچارہ چائینیز کرپشن کا شکا رہوا اور اپنی منظور شدہ خوراک کو دوسرے کے منہ میں جاتے دیکھ کر میاؤں میاؤں بھی نہ کر سکا تو احتجاجاً مٹی کھانے لگا۔ شیر پاکستان میں بھی ہوتے ہیں اور کرپشن کے ہتھیار سے شکار کرتے ہیں۔ پاکستانی شیر اتنا بے وقوف نہیں ہوتا ہے کہ دھول دھبڑے پر گذارہ کرے، اسی لیے اپنی کچھار ملک سے باہر بناتا ہے جس میں مالِ غنیمت اور سیاہ کاریوں کو سفید کرنے کا پورا پورا انتظام ہوتا ہے۔ پاکستانی شیر وقتاً فوقتا ً جبڑے دانتوں کے چیک اپ کے بہانے اپنے مال کو دیکھ بھی آتا ہے۔ پر بُرا ہو، اس پنامہ کی پنوتی کا، منحوس کی وجہ سے دیسی شیر بھی فی زمانہ مٹی چاٹنے پر مجبور ہے۔ اسی بہانے شیروں سے متعلق صدیوں سے چلی آتی یہ غلط فہمی تو دور ہوئی کہ شیر مرتا مر جائے گا مگر گھاس نہ کھائے گا۔ خالی پیٹ بھرنے کے لیے جب شیر مٹی چاٹ سکتا ہے اور کھا بھی سکتا ہے تو، یہ تصّور کرنا محال نہیں ہو گا کہ، جان بچانے کے لیے بیچارہ کون کون سے کڑوے گھونٹ پینے کو تیار ہو سکتا ہے ؟ ایک واری فیر، شیر! سننے کے لیے کان ترس گئے ہیں، پتہ نہیں دوبارہ کب بجیں گے، کان! ’ایک واری فیر، شیر‘ بج رہے ہیں شاید، کاش ایک واری فیر۔۔۔۔

قید میں ہے بلبل صیّاد مسکرائے
کچھ کہا بھی نہ جائے چپ رہا بھی نہ جائے

لگتا ہے ہمارے بھی کان بج رہے ہیں، مجھ کو آتی ہے چاہ ِیوسف رضا گیلانی سے صدا ’ایک واری فیر، شیر‘۔ بس کرتے ہیں ورنہ سچ مچ ہی مصیبت نہ آ جائے، عابد شیر علی مت سمجھیے گا۔ ویسے کچھ لوگ سخت سردی میں گِچی کے گرد موٹا اونی مفلر لپیٹ کر خود کو ببر شیر کیوں سمجھنے لگتے ہیں، اک واری پھر شیر۔

خبر 5: شیخ رشید نے اپنی جنسی شناخت چھپا رکھی ہے (رانا ثناء)
مرچی: شیخ رشید کی جنسی شناخت کے بارے میں تشویش تو پنڈی بوائز کو ہونی چاہیے۔ رانا ثناء اس چکر میں کب سے پڑ گئے۔ جب تک شیخ رشید کی جنسی شناخت چھپی ہے، نون لیگیوں کی اصلیت بھی عوام سے اوجھل ہے۔ شیخ رشید حرم سرا کا وہ ہرکارہ ہے جو آمریت کے قلعوں سے جمہوریت کے حرم سرا کے ہر بند دروازے کی چوکیداری کر چکا ہے۔ اسے چٹکی کاٹو گے تو یہ دروازوں کے پٹ کھول دے گا، پھر دیکھتے رہنا ’بلا تکار‘ سیاسی تھیڑ کے نیٹ فلیکس پر، فری سبس ’کَرپشن‘ آفر پر۔ ویسے بھی آج کل کی جدید یو ایس بی اور کلاؤڈ اسٹوریج کے زمانے میں شیخ رشید وہ آڈیو / وڈیو کیسٹ ہے جو دونوں طرف سے بجائی جا سکتی ہے، یعنی اپوزیشن اور حکومت میں رہ کر۔ شیخو کہنے کو تو بندہ اکیلا ہے مگر ہے ون مین ’آرمی‘ اور جس کے پاس آرمی ہو اس کی تو بلے بلے۔

خبر 6: آندھرا پردیش میں ’بیمبو بریانی‘ کی مقبولیت (خبر)
مرچی: ادھر ملک عزیز میں اس سے ملتی جلتی ڈش وافر مقبول ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ واہگہ کے اِس طرف بریانی الگ اور بیمبو الگ مہیّا کی جاتی ہے۔ ہر دو کا مزہ مختلف و تجربہ انوکھا ہوتا ہے۔ آندھرا والی بیمبو بریانی تو صرف لذتِ دہن میں کام آتی ہے، اِدھر والی کمبی نیشن بریانی پیٹ کے ساتھ عقل بھی ٹھکانے لگانے میں مستعمل ہے۔ کھانے والا ظاہر اور باطن دونوں سے ہی تونگر ہو جاتا ہے۔ عام طور پر جمہوریت اور آمریت کی درمیانی مدت میں یہ بیمبو پکوان سیاست دانوں اور عوام کی جمہوری اشتہاء کو حد میں رکھنے میں کام آتا ہے۔ اس بریانی کے ہضم ہونے کے بعد اِسی بیمبو سے جمہوریت اور جمہوری ادارے قابو کر کے اوقات میں رکھے جاتے ہیں۔

خبر 7: جو سلوک ہو رہا ہے باہر آ کر بتاؤں گا (نواز شریف)
مرچی: ہم ہمہ تن گوش ہیں، کان کھڑے کیے منتظر، ایک ایک لفظ سننے کے لیے مستعد۔ بتائیں کہ جیلیں کس معیار کی ہیں، جیلوں کا انتظام کیسا ہے، جیلوں میں سہولیات کیسی ہیں؟ کیا جیلیں مجرموں کو کارآمد شہری بنانے میں معاون ہیں؟ اور بھی بہت کچھ بتائیں، ہم سننا چاہتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں اور ہاں آپ بھی سن لیں، آپ تیس سال، یعنی تین دہائیاں کسی نہ کسی انداز میں حکومت کرتے رہے ہیں، جیلیں اور نظام انصاف کیا ایسا ہے جیسا ہونا چاہیے، باہر آ کر یہ بھی بتائیے گا!

خبر 8: پاکستان کو اُدھار تیل کی سہولت مل گئی (خبر)
مرچی: بلاک بسٹر فلم ’مہان‘ کے ایک منظر میں جانکی دیوی (وحیدہ رحمان) کو غنڈے اس کے شوہر امیت (امیتابھ بچن) سے ملاقات کروانے کے بہانے اغوا کر لیتے ہیں۔ یہ ملاقات دونوں کے درمیان برسوں کی جدائی کے بعد ہونے والی تھی اور مشہور گانا ’جدھر دیکھوں تیری تصویر نظر آتی ہے‘ بھی اسی ملاقات کے پس منظر میں فلمایا گیا۔ اغواء کی اس واردات کے دوران جانکی اپنے اغوا کار (مکموہن) سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھتی ہے کہ وہ (امیت) کدھر ہیں، تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر خباثت سے ہنس کر جواب دیتا ہے ’ وہ! آپ کے پتی؟ وہ تو تیل لینے گئے ہیں‘۔ بچپن سے لڑکپن و جوانی و ادھیڑ عمری تک پہنچ گئے مگر یہ ڈائلاگ پوری طرح اس خبر کو پڑھ کر سمجھ میں آیا۔ کیا ہی بالغ النظر اور دور اندیش لکھاری تھے جو مستقبل میں جھانک لیا کرتے تھے۔ ہمارے حکمرانوں کو اب تیل لینے کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ تیل خود بہہ کر بہ شکل اُدھار دہلیز پار کیے گھسے چلا آتا ہے۔ زیادہ کچھ لکھنے سے ڈر ہے کہ جس شہوانی ’بنیاد‘ پر خارجہ پالیسی ٹکی ہوئی ہے وہی دو ٹکے کی ہو کر نہ رہ جائے۔ پھر بھی بہ طور شرارتِ طبع کچھ ’چکنے‘ محاورے پیش ہیں، انجوائے کریں: تیل دیکھ اور تیل کی دھار دیکھ، اِن تِلوں میں تیل نہیں، پڑھو فارسی بیچو تیل، تیل نہ مٹھائی چولہے دھری کڑھائی، تیل تِلوں سے ہی نکلتا ہے، تیل ڈال کمبلی کا ساجھا، تیل جلے گھی گھی جلے تیل، تیل تلی نہ اوپر پلی وغیرہ وغیرہ۔ ویسے تو ان تیلی محاروں کے مطالب تو آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں، ایک محاورے کا مطلب ہم سمجھا دیے جاویں ہیں، جو کہ یوں ہے ’تیل تیلی کا او ر بھگت بھیّا جی کی، تماش بین کا کیا گیا‘ جس کا مطلب ہے خرچ کسی کا، محنت کسی کی اور مزے کسی اور نے لیے۔ بس اہل وطن تیل دیکھیں اور تیل کی دھار مگر یہ خیال ضرور رکھیں کہ ’تیل کی جلیبی مُوا دور سے ہی دکھائے‘ یعنی دھوکا دینا لیکن وعدہ پورا نہیں کرنے والا معاملہ نہ ہو جائے، لہٰذا جاگدے رہیو، میرے تے نہ رہیو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ’تیلی خصم کیا اور رُوکھا ہی کھایا‘ کے مصداق یہ سارے قسمیں وعدے’ تیل ہو کے بہہ جائیں‘ اور پھر نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی‘ اور نہ اب کسی دھرنے کی گنجائش ہے۔ مملکت خداداد اب ’تیلی کا بیل مرے کمہاری ستی ہوئے‘ کی متحمل نہیں ہو سکتی، تیلی کی جورو ہو کر بھی پانی سے نہائے تو اس سے اچھا ہے کہ عوام ’تیلیا راجہ‘ ہی رہے جہ بہر حال ڈنکی راجہ سے بہتر ہے۔

خبر 9: عمران کے دورہ ترکی میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھانے کا جھگڑا (امّت)
مرچی: جس ملک پر قرضے پر قرضہ چڑھا ہوا ہے، جدھر بازاروں گلیوں میں اتنا ہجوم اور اِزدِحام ہو کہ کھوّے سے کھوّا چھل رہا ہو، جدھر ہر کمزور پر ہر طاقتور سوار ہو، جدھر صنف نازک ہر مردانہ اعصاب پر سوار ہو، جدھر آبادی کا یہ عالم ہو کہ بندے پر بندہ چڑھا ہوا ہو، جدھر ہر شئے دوسری شئے پر چڑھائی کیے ہوئے یا کرنے پر تُلی بیٹھی ہو، اُس ملک کا وزیر آعظم اگر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا ہے تو آپ کو یہ نارمل سی حرکت نہیں لگتی؟ نہیں لگتی! کیاؤں؟ شکر کر پگلے کہ وزیر آعظم ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھا ہے، ورنہ ملک کا بھٹّہ بیٹھ چکا ہوتا۔ رب کا شکر ادا کر بھائی، باقی رہی چالیس لیٹر والی، وہ ہالینڈ سے منگوا لیں گے، ڈَچ رول والی، ٹھمک ٹھمک چلنے والی، ٹینشن ناٹ۔

خبر 10: بسیں کاغذوں سے نکل کر سڑکوں پر کب آئیں گی (بلاول کا سوال)

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

مرچی: حکومت آپ کی، سرکار آپ کی، اختیار آپ کا، پارٹی آپ کی، بجٹ آپ کے قابو میں، فنڈز آپ کے کنٹرول میں، انتظامیہ آپ کے گھر کی لونڈی، ووٹر آپ کا غلام، ووٹرنی آپ کی باندی اور آپ پوچھو ہو ’بسیں کاغذوں سے نکل کر سڑکوں پر کب آئیں گی‘۔ یہ سوال سنتے سنتے نسلیں گذر گئیں، اب تو تمنّا ہے کہ اکسفورڈ و کیمبرج کا پڑھا لکھا کوئی اس سوال کا صائب جواب لائے۔ چھوڑو میاں بلاول، فکر کراچی اور اس کے لیے بسوں کی، کیوں کہ یہ آپ کی بس کی بات نہیں کہ شہری آبادی کے فلاح و بہبود کے فیصلے کر سکیں۔ اگر آپ کچھ کر سکتے ہیں تو براہِ کرم اندرونِ صوبہ پانی کا کوئی انتظام کر دیں کہ لوگ صرف غذائی قلت سے ہی مر سکیں، پیاس سے نہیں۔

(Visited 22 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. Naeem Mahmood Malhi on

    واہ یہ مرچیاں نہ جانے کہاں کہاں آگ لگا چکی ہوں گی۔۔۔۔۔۔کمال کر دیا بھائی صاحب ۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: