خودبینی و خودنمائی ——- احمد جاوید

0
  • 213
    Shares

آج ہم ایک ایسے مرض کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے، جو خاص طور پہ ہمارے دور میں بہت خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ جدید زندگی کی بناوٹ ہی ایسی ہو گئی ہے کہ اس میں شامل رہنے کے لیے، اس مرض میں مبتلا رہنا، لگتا ہے کہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس مرض کا تعلق تکبر کے خاندان سے ہے، آپ جانتے ہی ہیں کہ تکبر تمام گناہوں کی جڑ ہے اور شرک ہے۔ اس تکبر کے بیج سے جو چیز بھی پیدا ہو گی اس میں شرک کا عنصر ضرور ہو گا۔ اس میں گناہ کی مشرکانہ صورت ضرور ہو گی۔ گناہ تو بہت سے ہیں، ممکن ہے ان گناہوں کے ارتکاب میں کہیں بے بسی شامل ہو، کہیں کمزوری کا ہاتھ ہو، کہیں کسی مجبوری کا ہاتھ ہو، لیکن تکبر جیسی خطرناک بیماری کا لازمی عنصر ہوتا ہے دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اورحقارت کی نظر سے دیکھنے میں صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ لوگ بےچارے کوئی گھٹیا کام کر رہے ہوں اور میں انہیں حقارت سے دیکھ رہا ہوں، بلکہ دوسرے چونکہ مجھ سے چھوٹے ہیں، لہٰذا ان سے تحقیر کا رویہ اختیار کرنا نہ صرف ضروری ہے، بلکہ میری ذمہ داری ہے۔

تو جس کسی کو اللہ کے فضل سے اپنا تزکیہ مطلوب ہے، وہ یہ بات جان لے کہ حقارت سے دوسرے کو دیکھنا، چاہے کسی سبب سے ہو، چاہے بلا سبب ہو، دونوں صورتوں میں تکبر کی نشانی ہے۔ یعنی آپ کے پاس کسی کی حقارت کا کوئی سبب بھی اگر ہو اور اس سبب کی آڑ لے کر اگر آپ کسی کی تحقیر و توہین کریں، تو اس کا قوی امکان ہے، کہ جس خرابی کی بنیاد پہ آپ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اس سے کہیں بڑی خرابی میں آپ خود مبتلا ہیں۔

تکبر کا ایک لازمی عنصر ہے دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، جیسا کہ عرض کیا اور یہ خودبینی و خودنمائی میں پوری طرح کارفرما ہے۔

خودبینی کہتے ہیں ہر صورتحال میں اپنی بڑائی اور اپنے مفاد کو ترجیح دینا، خود ہی کو دیکھتے رہنا، زندگی گویا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر گزار دینا اور یہ بھی کہ اگر کوئی ماحول خودبین آدمی کی بڑائی قبول نہ کرے، تو وہ یا تو اس ماحول سے نکل جائے گا یا اس میں فساد پیدا کر دے گا، دوسرا یہ کہ ہر صورت میں اپنے مفاد، فائدے اور راحت کو مقدم رکھنا، یہ خودبینی کا دوسرا پہلو ہے۔

یعنی جہاں ہم بیس آدمی ہیں، یہاں کسی ایک آدمی کو ایثار کرنا چاہیے، کیونکہ کھانا انیس آدمیوں کا ہے۔ تو اگر بیس آدمیوں کے مجمعے میں ہر شخص یہ پیشکش اور اصرار نہیں کرے گا کہ میرا پیٹ بھرا ہوا ہے تو وہ انسانی معاشرت کا کوئی فعال حصہ نہیں ہے، وہ رسول اللہﷺ کے بنائے ہوئے نظام تعلق کا کوئی کارآمد پرزہ نہیں ہے۔

خودبینی آپﷺ کی بنائی ہوئی معاشرت اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی ہوئی فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم اس کی طرف یکسو رہیں، نہ یہ کہ اپنی طرف منہ کر کے کھڑے رہیں۔

اگر کسی شخص میں خودبینی اور خودنمائی، دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئی ہیں، کہ وہ ہر مجلس کا صدر اور مرکز بننا چاہتا ہے اور ہر فائدے کا لپک کر خود طلبگار ہے اور اس میں ایسی شدت ہے کہ کسی کے نقصان کی قیمت پر بھی اپنا فائدہ حاصل کرنے کو یہ مقصود رکھتا ہے، کسی کی تکلیف کی اسے پرواہ نہیں، کسی کے نام پہ سیاہی لگ جائے تو اسے کوئی فکر نہیں ہے، اسے بس اپنے نام کو سب سے اونچی جگہ ایک نیون سائن کی طرح چمکائے رہنا ہے۔ اگر یہ دونوں علامتیں کسی بیچارے میں جمع ہیں تو وہ یقیناً متکبر ہے، اس کا کوئی بھی وصف، اس کی کوئی بھی خوبی قابل اعتبار نہیں ہے اور پھر جس آدمی کواپنی بڑائی، صرف اپنی بڑائی عزیز ہو، وہ بڑائی کو ثابت کرنے والی صلاحیتیں بھی حاصل کرے گا، وہ خوب قابلیت بھی پیدا کرے گا کیونکہ اسے اپنے مفاد عزیز ہو گا، وہ اس مفاد تک پہنچنے والے راستے ہم سب کے مقابلے میں زیادہ جانتا ہو گا۔ اس میں ذہن بھی بہت ہو گا، سکلز (skills) بھی بہت ہوں گی، تو گویا یہ شخص بڑے بڑے اوصاف، بڑی بڑی فضیلتیں واقعتاً حاصل کرتا ہے، یہ شخص تہجد کو دو گھنٹے تک چلا دینے کی مشق رکھتا ہے، یہ شخص ہر رکعت میں سو آیتیں پڑھنے کی پریکٹس کیے ہوئے ہے اور یہ شخص دنیا میں فائدہ پہنچانے کی جتنی openings ہیں، سب کو اندر سے جھانک لینے والی نظر اور قابلیت بھی رکھتا ہے۔ ان تمام اچھی باتوں کو اس نے حاصل اس لیے کیا ہے، کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں خود کو بڑا بنا لے، تاکہ اس کی بڑائی کا دعویٰ دوسروں کے لیے سہولت اور آمادگی سے قابل قبول ہو جائے، دوسرے اسے بڑا مان لیں اور یہ کہ یہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے مفادات تک زیادہ تیزی سے دوڑ کر انہیں حاصل کر سکے۔

یہ صلاحیتیں وہ اس لیے حاصل کرتا ہے۔ تو یہ چیز جدید آدمی کا مرض ہے۔ جن لوگوں نے بھی جدید زندگی کو اختیار کر رکھا ہے، چاہے نوکری کی سطح پر، چاہے پسند ناپسند کی سطح پر اور چاہے تعلیم کی سطح پر، ان پر اللہ کا کوئی خاص کرم ہو تو شاید وہ اس خودبینی سے بچ گئے ہوں، ورنہ جدید تعلیم سے لے کر جدید معاشرت تک، سب میں یہ تاثیر پائی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو خودبینی میں مبتلا کر کے رہتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جدید تعلیم کا خاصہ خودبینی کیوں ہے۔ اصل میں جدید تعلیم بازاری مسابقت پر کھڑی ہے، Market competition پہ۔ انسانوں میں مسابقت ہوتی ہے، مقابلہ ہوتاہے۔ یہ ماحول بھی فطری ہے مقابلے کا اور ایک دوسرے سے نکل جانے کی دوڑ بھی نیچرل ہے، مگر جدید تعلیم میں یہ مسابقت بنیوں جیسی ہے۔ یہاں ہر علم اپنے آخر پر ایک پروانہ ملازمت حاصل کر لینے کا نام ہے، جب کہ ہمارے روایتی نظام تعلیم میں سبقت لیتے تھے، آگے بڑھتے تھے اخلاقی طور پر۔ اب جدید زندگی دکھاوے پر کھڑی ہے، جدید تعلیم شکاری کتوں کی دوڑ ہے، جدید زندگی کے تمام اقدار دکھاوے پر قائم ہیں، جو آپ نہیں ہیں، وہ خود کو ظاہر (pose) کریں۔ آپ امیر نہیں ہیں، آپ امارت پوز کریں۔ آپ ذہین نہیں ہیں، لیکن کانٹ اور افلاطون بھی آ کر آپ سے اپنا فلسفہ بیان کریں تو آپ بہت سرپرستانہ اور مربیانہ انداز میں اپنا سر ہلائیں، کہ ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو۔ آپ بااخلاق ہیں نہیں، لیکن اخلاق پوز کر رہے ہیں، کہ بہت نرم گفتار ہیں، بہت شیریں کلام۔

اخلاق جتنا دنیا کا میٹیریل بن سکتا ہے، وہ اس جدید دنیا کا اسم اعظم ہے، سودا بیچنے والوں کا اخلاق، انشورنس ایجنٹوں کا اخلاق، سیلز مینوں کا اخلاق، اسی لیے اس زندگی میں حمیت اور صلاحیت، دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

ایک اور پہلو سے عرض کرتا ہوں، یہ لوگ بہت اخلاق اخلاق کرتے ہیں نا، کہ انسانی حقوق فلاں ڈھمکاں، دل آزاری نہ کرو، ہر ایک کو آزادی سے بات کرنے دو، اس طرح کے بہت سارے جدید تہذیب کے ڈھکو سلے ہیں۔ اخلاق کہتے ہیں اس نرم دلی کو جو مضبوطی کے ساتھ ہو، مطلوب اخلاق یہ ہے، فطری اور حقیقی اخلاق یہ ہے، کہ آدمی مضبوط ہو، دل نرم ہو۔

مضبوط آدمی کی نرم دلی، یہ اخلاق ہے، حق کے ساتھ وفادار اور خلق کے ساتھ شفیق، یہ ہے اخلاق ہے، اخلاق شخصیت کا وہ انداز تعمیر ہے، جس میں حسن بھی ہو اور مضبوطی بھی۔ صاحب اخلاق وہ ہے، جس سے حق کا دشمن خوفزدہ رہے اور کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونےپائے کہ یہ بھی ہماری طرح کا ہے یا اس کا اور ہمارا کسی قیمت پر اتفاق ہو سکتاہے اور اس طرح اس کا دوست اس کی طرف سے بے فکر رہے، دشمنوں پر ہیبت اور دوستوں کی تسکین کا ذریعہ ہونا، یہ آپ ﷺ کا برتا ہوا، بتایا ہوا اخلاق ہے، جسے قرآن نے آئیڈیل کی شکل دی ہے، اسوہ حسنہ کو آئیڈیل کی شکل دی ہے۔

جدید آدمی کی الماری اگر کھنگال کے دیکھیں تو اس میں دو چار سو نقابیں ہوتی ہیں، جو وہ روز بدل بدل کر منہ پہ چڑھا کے نکلتا ہے۔ یہ وہ بدنصیب مخلوق ہے، جس نے اپنے آپ کو اپنے لیے خالی کیا ہوا ہے، ایک خالی ہیولہ اور ایک وہمی وجود کو ‘میں ‘کہہ کراس کی طرف متوجہ ہے، اس نے self-abstraction کی انتہا کر دی ہے، اس کی کوئی ٹھوس چیز جبلی اور حیوانی سطح سے اوپر کی نہیں ہے۔

جدید زندگی میں غیرت سے پیدا ہونے والی مضبوطی کے تمام عناصر کو بازار کی قربان گاہ پر پچھاڑ کر ان کا گلا کاٹ دیا ہے۔ جدید آدمی مضبوطی کے تمام غیرشخصی مقاصد کو بھول چکا ہے، اس کے لاشعور میں بھی یہ نہیں رہا کہ میرے لیے مضبوطی اور صلابت کی بنیاد حق ہے، میں خود نہیں، یا یہ بازار نہیں ہے، یا میرے یہ ادنیٰ اور گھٹیا مقاصد نہیں ہیں کہ میں ان کی طرف سے صاحب استقامت ہو کر دکھاؤں۔ اسی لیے آج کا آدمی بازار کے ٹائم کا اتنا ہی پابند ہے، جتنے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ اپنے معمولاتِ عبادت کے تھے، یعنی جدید کامیاب آدمی پابندی وقت (punctuality) کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے اور پابندی وقت کی عین اسی سطح پر ہے جس درجے پر صحابہ، اولیا اللہ اور بڑے بڑے ائمہ ہوتے تھے، لیکن اس کی ساری punctuality کا سینٹر، مقصود اور منزل دنیا ہے اور دنیا کا مرکز خود اس کی ذات ہے۔ یعنی اس کا تصور دنیا بھی اتنا ناکارہ ہے کہ اس کا مرکز اور منتہیٰ بھی یہ خود بنا ہوا ہے۔ اس نے اللہ کی طرف سے بندگی کےلیے فراہم کی گئی تمام قوتوں کو دنیا پر نثار کر کے، خود کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ اس کے اندر اس طرح کے جذبات، احساسات اور تصورات رہ ہی نہیں گئے جو اس کی ذات کی، اس کی خواہشات کی نفی کر سکیں۔

یہ جو جدید آدمی ہے، یہ کراس لگانے کے سو طریقے سیکھ کر آیا ہے، کچھ فلسفے سے، کچھ سائنس سے، کچھ ادھر سے کچھ ادھر سے۔ “نہ” کہنے کے ہزار طریقے جانتا ہے، لیکن نہیں جانتا تو اپنی نفی کا کوئی طریقہ نہیں جانتا۔ تو وہ آدمی انسان نہیں ہے، محض ایک حیوانی وجود (biological being) ہے، جو اپنی نفی کا مسلسل اظہار نہیں کرتا۔

اپنی نفی کرنا انسانی ضرورت ہے، خودبینی اس بنیادی انسانی ضرورت کے خلاف ہے، کیونکہ جب آپ اپنی نظر میں رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں، آپ اپنی ہی نظر کاہدف بنے رہنے کےلئے بہت سارا میک اپ (make up) خود پہ تھوپتے رہتے ہیں۔ جدید آدمی کی الماری اگر کھنگال کے دیکھیں تو اس میں دو چار سو نقابیں ہوتی ہیں، جو وہ روز بدل بدل کر منہ پہ چڑھا کے نکلتا ہے۔ یہ وہ بدنصیب مخلوق ہے، جس نے اپنے آپ کو اپنے لیے خالی کیا ہوا ہے، ایک خالی ہیولہ اور ایک وہمی وجود کو ‘میں ‘کہہ کر اس کی طرف متوجہ ہے، اس نے self-abstraction کی انتہا کر دی ہے، اس کی کوئی ٹھوس چیز جبلی اور حیوانی سطح سے اوپر کی نہیں ہے۔ محض حیوانی جبلت پر کاربند رہنے کے لیے خود کو اور دوسروں کو دینے کےلیے، دھوکہ ہے، کہ ’’دیکھتے نہیں ہو میں نے NGO بھی بنا رکھی ہے دیکھتے نہیں ہو میں نے گلی کے نکڑ پر ڈسپنسری بھی بنا رکھی ہے، تم دیکھتے نہیں ہو میرے پانچ مقالے فلاں فلاں رسالے میں چھپ چکے ہیں‘‘۔ تو یہ زندگی کے انسانی سطح کے اعمال کا جو بھی شبہ (illusion) پیدا کرتا ہے، اس کا اس کے حقیقی وجود کی تعمیر میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔

خودبینی کی جڑواں بہن ہے ’’خودنما‘‘ ’’خودبینی خود پر خود کو impose کئے رکھنا‘‘ اور ’’خودنمائی خود کو دوسروں پر impose کرنا‘‘ ہے۔ دنیا میں ایک آدمی ہمارے پاس ہمیشہ موجود ہے وہ ہمیں خدا ماننے کو بھی تیار ہے، نبی ماننے کو بھی تیار ہے، عظیم فاتح ماننے کو بھی تیار ہے، خلاصہ وجود ماننے کو بھی تیار ہے، ہر آدمی کے پاس ایک ایسا آدمی ضرور ہے اور وہ آدمی وہ خود ہے۔ اس مسخرے نے اپنی اس طرح کی فرضی شکل خود کو باور کروا رکھی ہے۔ یہ اس کا میک اپ کر کے دوسروں سے اصرار کرتا ہے تو بھی میرے self-image پر ایمان لے آ۔ یہ اپنی جھوٹی self-image کو دوسروں کےلئے binding بناتا ہے کہ میں خود کو آئن سٹائین سے بڑا سائنسدان سمجھتا ہوں، لہٰذا دیکھتے نہیں ہو میں نے سفید کوٹ بھی پہن رکھا ہے اور اس کی طرح بال بھی اوپر کر رکھے ہیں اور مجھے حساب بھی آتا ہے، لہٰذا تم پہ لازم ہے کہ تم بھی اسی یقین کے ساتھ اس حقیقت کو مانو کہ میں آئن سٹائین ہوں جس یقین کے ساتھ میں خود مانتا ہوں اور جتنی آپ مزاحمت کریں گے اس کی ضد کے آگے، وہ اس کا نتیجہ یہ نکالے گا کہ آپ میں اس جیسی پہچان نہیں ہے، کیونکہ آپ چھوٹے لوگوں میں رہنے کے عادی ہیں۔ تو جو عظمت وہ رکھتا ہے، اس کا کوئی تجربہ مشاہدہ اور علم آپ کو حاصل ہی نہیں ہوا، تو آپ اسی لئے اسے پہچاننے سے قاصر ہیں ۔ وہ آپ سے مسکرا مسکرا کے ملتا رہے گا، ہو سکتا ہے، ناراض نہ ہو۔ یہ ہے وہ تحقیر، جس کا ہم ذکر کر رہے تھے۔ دنیا میں اجتماعی سطح پہ انسانوں کے ساتھ ایسا تمسخر کبھی نہیں ہوا، جیسا تمسخر جدیدیت نے آئین ِدنیا بنا کر دکھا دیا ہے۔ وہ تمسخر یہ ہے، تم اپنے آپ کو وہ دیکھو جو تم نہیں ہو اور دوسروں کو بھی اپنا وہی معدوم چہرہ دکھاؤ اور اسی پر اصرار کرو کہ میں یہ ہوں اور وہ نہیں ہوں، جو تم مجھے دیکھ رہے ہو۔

خود بینی اور خود نمائی ایک ہی آدمی کے دو امراض ہیں۔ اگر ہمیں ان سے بچنا ہے کہ جھوٹی آنکھ سے خود کو نہیں دیکھنا اور دوسروں سے بھی نہیں لڑنا کہ تم اپنی آنکھ نکال کر میری بنائی ہوئی آنکھ اپنے سر میں لگا لو جو غیر موجود کو موجود دیکھتی ہے اور موجود کا انکار کرتی ہے۔ تو پوری جدیدیت اسی اصول پر کھڑی ہے نا کہ موجود کا انکار کرو اور معدوم کا اثبات کرو، تو یہ ایک بہت بڑی روایت ہے کہ حاضر کو دکھاؤ اور غائب کو چھپاؤ، لیکن ان مسخروں نے آئیڈیلز کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ اب اگر ایک ایسا ماحول ہے، جس میں ہر طرف بیماری پھیلی ہو، مثلاً الرجی ہی کو لے لیں اور ایک آدمی آکر کہتا ہے مجھے تو کبھی چھینک بھی نہیں آئی، تو ایسے آدمی پر شک کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے۔ آج کے دور میں کوئی شخص اگر خودنمائی اور خودبینی سے بچا ہوا ہونے کا دعوی ٰکرتا ہے تو اس پر شک کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے۔ مدرسے اور یونیورسٹی میں پڑھانے والے دونوں ایک ہی پھندے کے دو رنگ کے قیدی ہیں اور وہ ہے جدیدیت کا پھندا اور جو نہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر شک کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے۔

اب عملی پہچان عرض کر رہا ہوں، اس کی عملی پہچان ہے، تنقید کو ناپسند کرنا خواہ ایسا شخص بازاری اخلاق یعنی مارکیٹ کا بھی mannerism ہوتا ہے نا، اس کے طور پر لوگوں سے ہنس ہنس کے ملتا رہے لیکن اندر سے اپنے اوپر ہونے والی کسی بھی تنقید کو پسند نہیں کرتا۔ اس مزاج کی دو عمومی نشانیاں ہیں۔ ایک یہ کہ تنقید پہ غصہ آئے اور دوسرایہ کہ آپ کا اور میرا تعلق ویسا نہ رہے، جیسا تنقید سے پہلے تھا اور تیسری چیز شیطان کے خاص مصاحبوں کو ودیعت ہوتی ہے کہ آپ نے مجھ پر سخت تنقید کر دی، تو میں آپ کے پاس پہلے پندرہ دن میں ایک بار آیا کرتا تھا، اب ہفتے میں ایک بار آیا کروں گا، آپ کے گلے میں ہاتھ ڈال ڈال کر کر تصویریں کھنچواؤں گا اور تمہارے بچوں کو باور کراؤں گا کہ تمہارے باپ کا عاشق ہوں اور یہ سب کچھ عناد، عداوت، کینے اور بغض کے ساتھ ہو گا اور اس جذبے کے ساتھ ہو گا، کہ میری کیا شان ہے کہ میں ایسے گھٹیا ناقدوں اور دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتا ہوں۔

تو تنقید کا غلط اور درست ہونا بعد میں دیکھا جاتا ہے، لیکن پہلا تاثر ہی اگر ناگواری کا ہے تو یہ خودبینی ہے اور میں چونکہ ٹوپی پہن کے باہر نکلتا ہوں تو اگر کوئی دوست ملنے آئے اور میں نے گھر میں ٹوپی نہ پہن رکھی ہو تو پہلے اسے گیٹ تک جانے میں جتنا فاصلہ طے کرنا ہے، اس فاصلے سے زیادہ فاصلہ طے کر کے جہاں ٹوپی رکھی ہوئی ہے اسے اٹھاؤں اور سر پہ رکھوں اور پھر گیٹ کھول کر اس سے ملوں تو یہ خودنمائی ہے۔ اسی طرح اگر میں آپ کے سوال کا جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتا، لیکن میں اس سوال کا جواب نہ دے سکنے کے صاف اظہار کی بجائے اس کو ٹالوں یا ادھر ادھر کی سخن سازی کروں اور کبھی ایسا نہ کروں کہ آپ سے کہہ دوں کہ “بھائی یہ سوال میری سمجھ میں نہیں آیا” یا “سوال تو میری سمجھ میں آ گیا ہے لیکن اس کا جواب دینا میرے بس سے باہر ہے” یا “میرا علم اتنا نہیں ہے کہ اس کا جواب دے سکوں” یا اگر یہ ٹائپ ہے کہ آدمی ہر سوال کا جواب دینے والا بنا ہوا ہے تو یہ بھی خودنمائی ہے۔ آپ اگر کیمسٹری کا سوال مجھ سے پوچھنے آئیں گے تو مجھے ڈر جانا چاہیے نا کہ میرے اندر کیا خودنمائی ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہو گئی کہ میں کیمسٹری بھی جانتا ہوں۔ تو خودنمائی ہماری اصطلاح میں وبا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے علاج یا بچاؤ کا مسلسل اہتمام کرتے رہیں اور اس طرف سے غافل نہ رہیں۔ عین ممکن ہے کہ خدا کے فضل سے یا کسی اچھی صحبت کی وجہ سے فی الحال میں خودبینی اور خودنمائی ایسے امراض کو اپنے اندر واقعتاً موجود نہیں پاتا تو یہ اس بات کی ہرگز کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کل یہ مرض مجھ پر کامیابی کے ساتھ حملہ آور نہ ہو گا۔ تو گناہ سے بچتے ہوئے گناہ سے ڈرتے رہنا ایک نارمل انسانی شخصیت کا مستقل رویہ ہے اور یہ ہمیں اختیار کئے رکھنا چاہیے۔

نوٹ: تسوید کے دوران خطیب کے الفاظ اور جملے اسی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں، جیسے لکچر میں موجود ہیں، البتہ کہیں کہیں تقریر کو تحریر کے اسلوب میں ڈھالنے کے لیے جملے کے ابتدائی حصہ کو آخری اور آخری کو درمیانی بنایا گیا ہے، لیکن یہ معدودے چند مقامات ہیں۔

تسوید: بابر نثار، ابو عمر

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  میرا ذوق مطالعہ اور پسندیدہ کتب —— احمد جاوید (1)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: