کنوار کدہ ——– ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 33
    Shares

یہاں پانچ کنوارے جسم رہتے ہیں۔ دو جسموں کے کنوار پن کو تو زمانے گزر گئے اور باقی تین مرتبان میں پڑے ہیں۔ زمانہ انھیں شیرے میں لپیٹ کر ان کا رس کشید رہا ہے۔ ان کی پھانکیں کٹ چکی ہیں اور یہ ہر زبان کا ذائقہ بننے کو تیار ہیں لیکن کوئی انھیں تالو پر رکھنے کو راضی نہیں۔ سیب، گاجر، آملہ اور ہرڑ کی قاشیں تہہ در تہہ پڑی ہیں۔ مرتبان کی دیواریں جب گریہ کرتی ہیں تو آنسو اس کے پاتال میں گرتے ہی شیرے کو زہر بنا دیتے ہیں۔ جلد ہی یہ مرتبان سفید رنگ کا جالا بن دے گا اور سارا مربہ کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے گا۔ یہ پانچوں کنوارے جسم ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، اکٹھے سانس لیتے ہیں اور ایک ساتھ موت اوڑھ لیتے ہیں۔ دو کنواروں کی بوڑھی آنکھیں اب خواب نہیں دیکھتیں بس مرتبان میں پڑیں اونگھتی رہتی ہیں۔ باقی تین جسموں میں عالیہ سب سے بڑی ہے اور راشدہ چھوٹی، صفدر نے ابھی پھپوندی لگے شیرے میں ڈبکی لگائی ہے۔ بیبا جی گھر کے بڑے بزرگ ہیں اور ان سے چھوٹے دو کنوارے جسم ان کے چھوٹے بھائی، جو تنہائی کی زمین پر بڑھاپے کی سرحد عبور کرچکے ہیں۔

بیبا جی اگرچہ پہلوانوں جیسے کثرتی وجود کے مالک ہیں لیکن دل جیسے موم کا دیا۔ ان کے سر اور پلکوں کے بال بھی سفید ہیں مگر چہرے مہرے اور چال ڈھال میں ابھی جان باقی ہے۔ ان کا صحن پھولوں سے بھرا ہے لیکن تعجب کی بات یہی ہے کہ مہک کسی میں بھی نہیں۔ ان کی سیڑھیوں پرگملوں میں لگی کنوار گندلیں اوپر سے کتنی ہی سرسبز نظر آتی ہوں لیکن اب اندر سے سوکھ رہی ہیں۔ کنوارگندلوں کی رالیں اب پیلی پڑگئی ہیں اور ان کی سختی نرمی میں بدلنے لگی ہے۔ بھربھرے اور بے جان جسم موسموں کی ترشی سہنے کے قابل نہیں رہے۔ اب ان زہریلی بوٹیوں کے جسموں پر اگنے والے کانٹے بھی سامنے والوں کو محتاط رہنے کی تلقین نہیں کرتے۔

ماں تو اس گھرمیں ہے نہیں، بس ایک بوڑھی پھوپھی پرانے دنوں کی یادگار ہے جو دو دن کی سہاگن بنی اور پھر سدا کی بیوگی سمیٹ کر واپس لوٹ آئی۔ بوڑھی پھوپھی اب سارا دن دروازہ کھول کر باہر سیڑھیوں پر بیٹھی رہتی ہے۔ عالیہ گھر کے سناٹوں سے گھبرا کر چھت کے کونوں میں چھپنے لگی ہے۔ بس ایک راشدہ ہے جو خاموشی میں بھی گونجتی رہتی ہے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب لائبریری اسسٹنٹ راشدہ کتابوں سے سجے ریکس پر خود کو بھی رکھ چکی تھی۔ اسے بولنے کی بیماری نے گھیر لیا تھا۔ اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ سیمنٹ کی مضبوط دیوار بننے لگا تھا جس میں وقت نے دراڑیں ڈال دی تھیں۔ سب کے غم کھاتی، گھر سنبھالتی راشدہ عرف رشو اب نن بن چکی ہے۔ بوڑھی پھوپھی کا ذہنی مرض بڑھنے لگا تھا، موٹے موٹے شیشوں سے جھانکتی آنکھیں رشو کو دیکھتے ہی پکار اٹھتیں: ’’ہتھی لائیاں گنڈاں منہ نال کھولنیاں پیندیاں نے۔‘‘ رشو کو لگتا جیسے اس کے ہاتھ باندھ دئیے گئے ہوں وہ جلدی سے ہاتھ جھاڑتے ہوئے آگے بڑھ جاتی۔ لائبریری میں ہر آتا جاتا رشو کی توجہ کا مرکز بنا رہتا تھا، اس کی بے تکان گفتگو پڑھنے والوں کو کھلتی تو تھی لیکن وہ کچھ کہنے کے قابل کہاں تھے۔ فربہ جسم پر گندمی رنگت والی رشو، باجرے کا سٹہ بن گئی جو منہ سے انتہا کا گندمی اور نیچے سے کھلا ہوا سبز ہوتا ہے۔ اس کے بے شمار شوق تھے لیکن گرمیوں میں وہ کروشیے کی تاریں بنتی اور سردیوں میں اون کے گولے لے کر بیٹھ جاتی۔

بڑے بھائی سب سے الگ تھلگ رہتے تھے، ہر وقت باپ سے خائف اور سنکی سے دکھائی دینے لگے تھے۔ انھیں منہ میں کچھ بڑبڑانے کی بیماری سی ہو گئی تھیں اور جیسے ہی وہ بیبا جی کو دیکھتے دائیں بائیں تھوکنے لگتے۔ انھی دنوں انھوں نے شادی کی رٹ لگا دی، ناشتے اور کھانے کے وقت بس ایک ہی بات کرتے کہ جلدی سے کوئی لڑکی دیکھو۔ رشو کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے، اسے کوئی لڑکی پسند ہی نہ آتی تھی۔ کسی کی ناک لمبی تھی تو کسی کے ہاتھ مردانہ لگتے تھے۔ پھر بالاخر اسے کلثوم بھاگئی، پھولی سرسوں جیسی لڑکی بڑے بھائی کے کھیت میں بوئی جارہی تھی۔ دانے پکنے میں ابھی وقت تھا کہ سرسوں پھولنا بھول گئی۔ منگنی کیا ٹوٹی، بڑے بھائی جی بھی ذہنی مریض بن گئے۔ انھیں مرگی کے دورے پڑنے لگے تھے، پہلے تو وہ گھر کے صحن میں گر جاتے تھے لیکن اس دن تو حد ہی ہو گئی۔ وہ سر بازار اچانک بولتے بولتے گر گئے، ان کا کثیر جثہ دھڑام کی آواز سے نیچے پڑا تھا۔ ہاتھ پاؤں مڑ چکے تھے اور ان کا کنوارا جسم پوری طاقت سے ہل رہا تھا جیسے بجری کوٹنے والی مشین گھر گھر گھر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہو۔

جس گھر میں کنوارے جسم بھرے پڑے ہوں وہ لاشوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ بے کفن، بے گور لاشیں، جن سے کوئی رشتہ رکھنا پسند نہیں کرتا، پھر کلثوم کیسے ان لاشوں کے ساتھ رہتی جن کے پیٹ بھی پھول چکے تھے اور گھر تعفن زدہ تھا۔ ان دنوں بھائی جی جذباتی صدمے سے دوچار تھے، وہ سارا دن اپنے کمرے میں پڑے رہتے۔ عالیہ چھت کے کونوں میں دبک جاتی اور بوڑھی پھوپھی دروازے کے باہر سیڑھیوں پر جا بیٹھتی۔ چھوٹا کنوارا جسم صفدر کا تھا جس کا زیادہ وقت باہر ہی گزرتا۔ وہ خود سے خائف رہتا تھا۔ اسے پیسے چاہیے تھے جو رشو اس کی جیب میں ڈالتی رہتی اور وہ مزے سے سگریٹ پھونکتا رہتا۔ دو بڑے جسم کوڑھیوں کی طرح بند کمرے میں رہتے تھے، جو اس خدشے سے باہر ہی نہیں نکلتے تھے کہ کہیں سورج کی کرن ان کی آنکھیں نہ نوچ لے۔ رشو نے ان سب کو اپنے پروں میں سمیٹ رکھا تھا۔

لائبریری کاسارا سٹاف رشو کے سر پر اگنے والی چاندی گننے لگا تھا۔ اگر کبھی کسی نے آگے بڑھنا بھی چاہا تو اس کے گھر میں اگی کنوارپن کی فصل دیکھ کر الٹے قدموں واپس ہو لیتا۔ وہ پتنگ اڑانے والے کی طرح خالی ہتھیلی پر ڈور باندھتی رہ جاتی اور پتنگ بو ہو کر کسی اور چھت پر جا گرتی۔ کتنی خاموش محبتیں اس کے دل میں پرورش پاتی رہیں اور وہ کنوار کدے کے مکینوں سے ڈر کر ان کے گلے گھونٹتی رہی۔ رشو کے آئیڈیل بیباجی ہی تو تھے، جنہوں نے اسے حوصلے اور ہمت کی گھٹی سیمنٹ اور ریت میں ملا کر کھلا دی تھی۔ ’’ہمت نہ ہارو، صبر سے کام لو، حوصلہ ہی سب سے بڑی قوت ہے۔‘‘ بیباجی ایسی ہی باتوں کا فولاد اس کے نازک جسم میں بھرتے رہے تھے۔ اسی لیے رشو سٹیل مل بن گئی جس میں دل تو تھا لیکن فولادی پلیٹوں میں لپٹا ہوا۔ بڑے بھیا کو باپ کی ان باتوں سے کافور کی بو آتی تھی اسی لیے وہ اپنی ماں کی طرح جذباتی عورت بن چکے تھے جس نے آہستہ آہستہ گھل گھل کر جان دے دی۔

پھر ایک دن بھائی بغل میں درمیانی عمر کی عورت کو گھسیڑے گھر میں داخل ہوئے۔ تالاب کے پانی پر ذرا سا ارتعاش پیدا ہوا، منڈیروں پر بیٹھے کبوتروں نے غٹرغوں کرتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ بھائی جی نے ہُررررر کہتے ہوئے گھگیوں کو اڑایا اور جھٹ پٹ عورت کو لیے کمرے میں گم ہو گئے۔ رشو بلی کی طرح دم ہلاتی صحن میں کھڑی تھی، عالیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھرئی ہوئی تھیں۔ بوڑھی پھوپھی ہوا میں انگلی سے دائرے بناتی اور پھر بغلوں میں ہاتھ دے کر کندھے ہلانے لگ جاتی۔ دو بوڑھے جسم کھڑکی کی جالی سے لگے باہر کا جائزہ لے رہے تھے۔ گرد آلود جالی سے ٹکی ان کی ناک پر پورا نقشہ بن چکا تھا۔ بھیا جی نے رات کھانے کی میز پر ہولناک خاموشی کا فیتہ کاٹتے ہوئے بتایا کہ نجمہ ان کی بیوی ہے۔ کنوار کدے کی دیوار میں پہلا سوراخ ہو چکا تھا۔

پکی عمر کی عورت اپنی خاموشیوں کے ساتھ ایک کمرے میں منتقل ہو چکی تھی۔ بیباجی روزانہ زبردستی صفدر کو موٹر سائیکل کے پیچھے بٹھا کر دکان روانہ ہو جاتے۔ کنوارے جسموں کا رہٹ اسی مستقل مزاجی سے چل رہا تھا۔ سب بیل بنے رہٹ کو دھکیلنے میں جتے ہوئے تھے اور زندگی کے ڈونگے چھپاچھپ پانی گرا رہے تھے۔ لوگ بیبا جی سے کنوارے جسموں کے رشتوں کی بابت پوچھتے اور وہ سفید پلکیں جھپکاتے ہوئے بے بسی سے نفی میں سر ہلا دیتے۔ صفدر آرے کی ہتھی پر بازو کا پورا زور لگاتے ہوئے لکڑی کو چھیلنے لگتا۔ چھلی ہوئی لکڑی گول گول دائرے بناتی میز سے نیچے گرتی اور ساری چھال صفدرکا منہ چڑانے لگتی۔ وہ غصے سے دوبارہ آرے پر جھک جاتا اور بیباجی کن انکھیوں سے اس کا جائزہ لیتے رہتے۔

ان دنوں رشو کی زندگی میں مراد نامی طوفان آچکا تھا، وہ پانی کی اتنی بڑی لہروں کو اپنی جانب آتا دیکھ کر بے دست و پا ہونے لگی۔ ’’یہ مرد کا ساتھ کتنی عجیب چیز ہے، جیسے کوئی سوتے میں گدگدا رہا ہو۔‘‘ رشو آئینے میں دیکھتے ہوئے بڑبڑائی اور سیدھی مانگ کھینچ کر بالوں کی تہیں جمانے لگی۔ مراد اسے لائبریری سے لینے آ یاتھا، دونوں آئس کریم پارلر میں بیٹھے تھے۔ رشو اپنی تمام تر توانائیاں سمیٹ کر بول رہی تھی، چالیس کا سن لگتے ہی اس کے جذبے انگیٹھی کی جالی بن چکے تھے، جس پر مراد اپنی تمناؤں کی دیگ چڑھا چکا تھا۔ وہ اپنے چاہنے والوں پر ایسے پیسہ نچھاور کرتی جیسے تماش بین طوائفوں پر روپیہ اڑاتے ہیں۔ بدلے میں ایک مسکراہٹ یا تھپکی وصول کرنے کی حرص ہونٹوں میں دبے سگریٹ کی طرح سلگ کر ختم ہو جاتی اور سامنے والا اس پر راکھ جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا۔ وہ اس بار بھی جوا کھیلنے کو تیار تھی، سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ مراد کو کاروبار کروادینے کے باوجود اس کے رونے ختم ہونے کو نہیں آتے تھے۔ آئس کریم کا بل دے کر وہ مراد کے پیچھے سیڑھیاں اتر گئی، خالی پیالیاں اس پر ہنستے ہوئے تالیاں پیٹ رہی تھیں۔

مراد نے گل گھوٹو بیر کی طرح رشو کا گلا بند کر دیا تھا۔ وہ اپنی آخری امید کا جنازہ اٹھنے پر ملول تھی۔ سہاگن نہ سہی لیکن محبت کی عدت گزارنے کا حق تو اسے حاصل تھا۔ عالیہ ناخن کترتے ہوئے اسے روتا دیکھتی رہی پھر یکدم اس کے بازو پر دانت گاڑتے ہوئے اسے نوچنے لگی۔ ’’حرام زادے، سب مرد حرام زادے۔ تو اس سے بڑی حرام زادی۔‘‘ عالیہ چیختی چنگھاڑتی چھت کے کونے کھودنے لگی۔ بھیاجی کمرے سے نکلتے ہوئے ہانپنے لگے، تھوک جھاگ بن کر ان کے ہونٹوں کے کناروں سے ابل رہا تھا۔ ’’پاگل کی اولادو، جینے نہیں دیتے تو مرنے ہی دو۔‘‘ نجمہ اپنے پاگل کے بازوؤں سے لپٹتے ہوئے اسے گھسیٹنے لگی۔ وہ بھی غصے سے بڑبڑا رہی تھی۔ پورے گھر میں شور و غوغا تھا جیسے پرندوں کا پنجرہ بند کر دیا گیا ہو اور وہ چیخ چیخ کر حلق پھاڑ رہے ہوں۔ کھڑکی کی جالیوں سے لگے چار ہاتھ اور بیس انگلیاں پیلاہٹ سے بھری ہوئی اور خون سے نچڑی لگ رہی تھیں۔

رشو ان دنوں بھی اتنا ہی بولتی تھی جتنا مراد کے زندگی میں آنے سے پہلے بولا کرتی تھی۔ لائبریری کی الماریوں کے ریکس چم چم کرتے تھے اور وہ ان میں قرینے سے کتابیں لگاتے ہوئے اپنے بھاری وجود کو ایڑیوں سے اوپر اٹھا کر پڑھنے والوں کو متوجہ کرنے لگ جاتی۔ وہ بھی ایسی ہی ایک بوسیدہ الماری میں پڑی اپنی باری کی منتظر تھی لیکن دیکھنے والے اسے ریک سے نکالتے، صفحات پلٹتے، اور بے دردی سے دوسری کتابوں کے اوپر پھینک جاتے۔ اس کی جلد بری طرح اکھڑ چکی تھی، اس کے تو صفحات بھی تیرہ تیرہ تھے لیکن وہ اس خستگی کے عالم میں بھی کسی قدردان کے ہاتھوں مجلد ہونے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ بوڑھی پھوپھی اپنے خوابوں کا بورا اٹھا کر زمین بوس ہوگئی۔ ’’ٹوٹے گا، سب کا دل ٹوٹے گا، ٹوٹے گا۔‘‘ پھوپھی کی گونج رشو کے کانوں کے پردے پھاڑنے لگتی۔

اتنے بہت سارے دیوانے ایک چھت تلے بے یارو مددگار پڑے تھے۔ عالیہ کے دورے اب مستقل ہونے لگے، وہ چھت کی چھوٹی دیواروں کی اینٹیں اکھیڑ کر ان کے سرخ رنگ پتھروں کو کچلتی اور ذرہ ذرہ کھاتی رہتی۔ سلو پوائزنگ دھیرے دھیرے جاری تھی لیکن پھر ایک دن اسے نجانے کیا ہوا کہ دیوار پر کھڑی ہوکر نیچے چھلانگ لگا دی۔ رشو کی دیگر مصروفیات میں ایک اور کا اضافہ ہو چکا تھا۔ اب اسے آدھی بچی کھچی عالیہ کو ہسپتال دیکھنے جانا پڑتا تھا۔ بھیاجی پر پڑنے والے مرگی کے دوروں میں کچھ کمی آ گئی تھی لیکن بیباجی کو دیکھتے ہی وہ دوبارہ آپے سے باہر ہونے لگتے۔ ان دنوں ایک اور دیوانہ رشو کو شمع بنا کر اوپر منڈلانے کے چکروں میں تھا۔ رشو کا دل کبھی دھڑکتا اور کبھی ونڈ سکرین پر چلنے والے وائپر کی طرح آہستہ آہستہ ہلتے ہوئے درمیان میں ہی رک جاتا۔ اس بار اس کی توجہ بٹتی چلی جارہی تھی، وہ پروانے کے پروں کو انگلیوں میں دبوچ لینا چاہتی تھی لیکن اب اس کی ہڈیاں بے جان تھیں۔ ’’ہتھی لائیاں گنڈاں منہ نال کھولنیاں پیندیاں نے۔‘‘ اسے بوڑھی پھوپھی کا جملہ یاد آتا تو وہ ہتھیلیاں کھول دیتی۔ اب وہ پرانے ریکارڈ لگا کر سننے لگی تھی اور بیباجی نے بھی گھر کے باہر مستقل بورڈ لگا دیا تھا، کنوار کدہ!

(Visited 33 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: