خودکشی کی خواہش پالتے سرکاری ملازم Suicide Ideation —- محمد مدثر احمد

0
  • 198
    Shares

خبر سن کر میرا دل ڈوب گیا۔

ناظم صاحب سے میں تین دن قبل ملا تھا۔ ماشاء اللہ ہشاش بشاش تھے اور ہمیشہ کی طرح زندگی سے بھر پور۔ کس نے سوچا تھا کہ عید کی چھٹیوں کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات نہ ہو سکے گی۔ زندگی بڑی بے مہر ہے۔ لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔ جنازے کو کندھا دینے کے سوا۔ سو چل پڑا بوجھل قدموں اور بھاری دل کے ساتھ اُن کے آبائی شہر۔

اسلام آباد سے مردان تک کا سفر کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے کا تو ہو گا۔ یہ وقت بھی کیفیات کے تابع ٹھہرا۔ کبھی اس کا گزر دھیرے سے ہوتا ہے، جیسے شام کو سکردومیں بہتا دریائے سندھ اور یہی وقت کبھی کسی سرپٹ عربی گھوڑے جیسا بھاگتا ہے۔ اس میں ثبات بھی نہیں اور اعتدال بھی نہیں۔ وقت بڑا بے مہر ہے۔ سفر کے دوران ناظم صاحب سے جڑی حسین یادوں کے پٹ کھل گئے۔ ان کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ انتہائی سنجیدہ اور تناؤ کی صورتِ حال بھی ان کے چہرے کی فطری تبسم اور مزاج کی شوخی کبھی نہ چھین سکی۔ گھر کی مشکلات ہوں یا دفتر کی ذمّہ داریاں، دونوں سے بخوبی نباہ کیا۔ زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدمی دکھا ئی اور حادثات کا سامنا مردانگی سے کیا۔ انہوں نے کبھی اپنی نجی زندگی کے مسائل کو سرکاری امور کی انجام دہی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان سے مل کر اعصاب کا بوجھ اُتر جاتا تھا۔ تھکن دور ہو جاتی تھی۔

میں انہی سوچوں میں گم تھاکہ میرے ہمسفر عدیل صاحب نے پوچھا کہ ’’آپ کے خیال میں موت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
عدیل صاحب جانتے تھے کہ بظاہر صحت مند اور توانا نظر آنے والے ناظم صاحب ذیابیطس اور فشارِ خون کے مرض میں ایک مدّت سے مبتلا ہیں۔ ناظم صاحب بہت احتیاط کرنے پر یقین بھی نہیں رکھتے تھے۔ پرہیزی کھانا گھر سے لاتے تھے لیکن دوستوں کی پر تکّلف دعوت بھی گوارا کرلیتے تھے۔

’’سر! ان کی موت کی وجہ شوگر یا بلڈ پریشر نہیں ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
عدیل صاحب ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے اور معنی خیز نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اپنی بات جاری رکھّی۔

بچوں کی تعلیم، شادیاں، گھر، صحت، مستقبل، نوکری، سوسائٹی، فرد کو غیر محسوس کن اندازمیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ فرد اگر ان کو محسوس بھی کرلے تو پھر بھی ناجانے کیوں اُس کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہیں ہوتی۔ ابتدائی طور پر وہ اپنی ذات کی نفی کرتا ہے۔ اپنے اندر کے فرد کا گلا گھونٹ دیتاہے۔ انسان کا بنیادی مزاج خواہ جارحانہ یا تُرش ہی کیوں نہ ہو، وہ خوش مزاجی، حسنِ سلوک اور مصلحت کی چادریں اوڑھ لیتا ہے۔ اپنی ساری ذات سمیٹ لیتا ہے۔ دنیا کی ساری شرطیں مان کر زندگی کو اس کی آخری سطح پر جیتا ہے۔

’’سر! یہ اس نوعیت کا ایک مختصر عرصے میں ہمارے ادارے میں پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے۔ آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ چند ماہ پیشتر عمران صاحب یونہی اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے وفات پاگئے تھے۔ اپنی وفات سے قبل چند ایک دفعہ وہ اپنے بیٹے کی نوکری اور کرائے کے گھر کا مجھ سے ذکر کر چکے تھے۔ اُن کو فکر تھی کہ ریٹائرمنٹ قریب ہے۔ گھرکی چھت چھن جائے گی۔ اگر ان کے صاحبزادے کو سرکاری ملازمت مل جائے تو جہاں آمدن کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا وہاں گھر کے کرائے کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ ہمارے یہ رفیق انہی تفکرات کو جھیلتے جھیلتے ایک دن اچانک ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داغِ مفارقت دے گئے۔ سرکا ر نے سرکاری ملازمین کے دوران ِ سروس وفات کی پالیسی کے تحت اُن کے بچے کو نوکری، پلاٹ کے پیسے اور نقد رقم کے ساتھ دیگر مراعات دے دیں۔‘‘

’’ہاں یار!عمران صاحب اچھے آدمی تھے۔ اللہ ان کو جنت نصیب کرے۔ میں پچھلے دنوںاُن کے بیٹے سے میں ملا ہوں۔ بڑا اچھا بچہ ہے۔ لیکن میں آپ کا نقطہ نظر نہیں سمجھ پا رہا۔ شاید آپ یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ ڈپریشن وغیرہ کی نذر ہوگئے۔ اور شاید ناظم صاحب بھی اندر ہی اندر عملی زندگی کے چیلنجز سے لڑتے لڑتے تھک گئے تھے۔ کمزور ہوتے گئے اور پھر کسی بے قاعدگی یا مسلسل اندیشوں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے۔‘‘

عدیل صاحب نے میرا مدعا سمجھنے کی کوشش کی۔
’’سر ! یہ مسئلہ کا صرف ایک پہلو ہے۔ اصل بات کچھ اور ہے۔ اس سے کہیں زیادہ گہری اور چونکا دینے والی ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ دونوں مرحوم ساتھی گھریلو مسائل کا شکار تھے۔ ذمہ داریوں نے ان کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ بچوں اور بچیوں کی تعلیم، شادیاں، گھر، صحت، مستقبل، نوکری، سوسائٹی انسان کی زندگی کے مستقل موضوعات ہیں۔ یہ فرد کو غیر محسوس کن اندازمیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ فرد اگر ان کو محسوس بھی کرلے تو پھر بھی ناجانے کیوں اُس کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہیں ہوتی۔ ابتدائی طور پر وہ اپنی ذات کی نفی کرتا ہے۔ اپنے اندر کے فرد کا گلا گھونٹ دیتاہے۔ انسان کا بنیادی مزاج خواہ جارحانہ یا تُرش ہی کیوں نہ ہو، وہ خوش مزاجی، حسنِ سلوک اور مصلحت کی چادریں اوڑھ لیتا ہے۔ اپنی ساری ذات سمیٹ لیتا ہے۔ دنیا کی ساری شرطیں مان کر زندگی کو اس کی آخری سطح پر جیتا ہے۔ فٹ پاتھ پر بیٹھے بوڑھے فقیر کی طرح کہ جس کے سامنے سے اسکول کے شر یر بچے چھٹی کے بعد بے دھیان گذرتے جا رہے ہوں جیسے کے وہاں کسی کا وجود ہی نہیں۔

پھر ایک وہ وقت آتا ہے کہ ذات کی قربانی دے کر بھی نیل کا پانی نہیں بہتا، کم مائیگی کا گہرا احساس فرد کے جسم سے امید اور حوصلے کی آخری بوند بھی کشید کر لیتا ہے۔ غیر اعلانیہ شکست اس کے گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ بڑے سے بڑا سورما بھی بے مہر وقت اور بے مہر زندگی سے آبرومندانہ سمجھوتے کر کے فرار کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔

ہماری حکومت نے اپنی طرف سے تو بڑا نیک کام کیا ہے۔ دوران ِملازمت سرکاری ملازم کی وفات پر اس کے خاندان کو وہ سب کچھ دینے کا اعلان کردیا جو اسے اپنی زندگی میں میّسر نہیں آسکتا۔ جیسے کہ پلاٹ، بچے کی نوکری، تنخواہ، پینشن اور نقد رقم۔ اور کیا چاہیے ؟ بھاڑ میں جائے ایسی زندگی جو ہر صبح آنکھ کھلتے ہی سارے دن کے فرائض یاد کرا دیتی ہے۔ گھر کی ذمہ داریاں، دفتر کے فرائض، بچوں کی کالج کی فیس، گھر کا کرایہ، گاڑی کی مرمت، افسر کی جھڑکیں، اپنوں کی بے وفائیاں، پلاٹ کی قیمتیں، سونے کا بھاؤ، نالائق نکھٹو بچے، شادی کے لائق تعلیم یافتہ بچیاں۔ ۔ ۔

آخر کریں کیا؟ ان سب کے لیے پیسہ چاہیے۔ زیادہ پیسہ۔ بہت سا پیسہ۔ لیکن اس کے پاس جو پیسہ ہے اس میں سال کے بعد سات اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے اعصابی تنائو کے دور میں بھلا ہو غریب پرور سرکار کا۔ جس نے موت کو خوشنما بنا دیا۔ ایک ذرا سا جھٹکا اور زندگی کے تمام بکھیڑوں سے مکمل نجات۔ سارے خطرے ختم، ذمہ داریاں ختم، مالک مکان اور ’’صاحب نے یاد کیا ہے‘‘ ختم۔ نہ کرائے کی فکر نہ جہیز کی ضرورت۔ مرنے کے صلے میں سرکار اتنا پیسہ دے گی کہ اپنا گھر بن جائے گا۔ نوکری بھی ملے گی اور شادیاں بھی ہوجائیں گی۔

’’سر! فرد اس دوراہے پر غیر ارادی طور پر لاشعور کی کسی اندھیر کوٹھڑی میں Suicide Ideation کو پال لیتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہیں۔ کون کھڑا ہوگا اس کے ساتھ اور کب تک؟ کون اس کے دکھ کو سمجھے گا؟ کون اس کو کندھے سے لگا کر تھپکی دے گا؟ کوئی ان سے کہے گا کہ فکر نہ کر کہ تیرا دکھ میرا دکھ ہے؟ اسے چھت کون دے گا؟احساسِ تحفظ کون دے گا؟

صرف اور صرف موت۔

یہ جذبہ صرف موت کے پاس ہے۔ جس کی آغوش میں جانے سے اس کو ابدی سکون مل جائے گا اور اس کے خاندان کی جھولی میں وہ خوشیاں آ گریں گی جن کو وہ زندگی بھر کی مشقتوں اور ریاضتوں سے بھی نہیں کما سکتا تھا۔ فرد موت کی واضح خواہش نہیں رکھتا۔ اور نا ہی کھلے بندوں اس کو دعوت دیتا ہے۔ لیکن جب اندر ہی اندر ہم موت کو مسیحا سمجھ لیتے ہیں۔ اس نجات دہندہ کی راہ میں دئیے جلا دیتے ہیں۔ اس کی مورت بنا کر صنم کدہ پر آنکھیں بند کئے بیٹھ جاتے ہیں تو ہمارا لاشعور ہمارے جسم اور روح میں با آوازِ بلند ایک منادی کرا دیتا ہے۔

اے میرے ماتحتو! سن لو۔ خبردار جینے کی خواہش کی۔ سب جان لو۔ ہماری بقا مرنے میں ہے۔ موت کو قبول کر لو۔ اس کے راستے کو سجا دو۔ زندگی سے انکار کر دو۔ ہماری آن، ہماری آبرو خطرے میں ہے۔ آج کے بعد زندگی کی گاڑی روانی سے نہ چلے۔ اس کی رفتار روک دو اور اس کے پہیوں کو واپس گھما دو کہ ہم نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔

لاشعور کی حکم عدولی فرد کے اعضاء کی موت ہے۔ زندگی بڑی بے مہر ہے۔ موت آزادی ہے۔

گاڑی مردان کی حدود میں داخل ہو چکی تھی۔ ڈرائیور جگہ جگہ گاڑی روک کر ناظم صاحب کے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا۔ عدیل صاحب کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ مجھے سامنے ایک مسکراتا چہرہ نظر آرہا تھا۔

(محمد مدثر احمد کی کتاب ”سوچ سرائے ” سے ماخوذ)

(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: