کتاب چوری: پی ڈی ایف کا مسئلہ — منور راجپوت

0
  • 56
    Shares

کتاب چوری: دکھ سہیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں


منور راجپوت

نہ جانے سعود عثمانی نے کیا دیکھ کر کہا تھا ؎

کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے، کتابوں سے عشق کی

مگر آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ ماہ کراچی میں ہونے والے کتاب میلے میں پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی اور خریداروں میں بڑی تعداد نوجوانوں اور بچّوں کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود، موجودہ نسل کا کتاب سے رشتہ برقرار ہے، تو نئی نسل بھی ہاتھوں میں کتاب لیے آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم، اس کتاب دوستی کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے اور ہمارا موضوع وہی ہے۔

’’انجمن ناشران و تاجرانِ دینی کتب، پنجاب‘‘ اِن دنوں پی ڈی ایف (Portable Document Format) کتابوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے، جس کی دیگر پبلشرز تنظیمیں بھی حمایت کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں تنظیم کے صدر، ناصر مقبول کا کہنا ہے کہ ’’بعض اداروں اور افراد کی جانب سے نئی اور پرانی کُتب پی ڈی ایف کی صورت میں فیس بُک پیجز اور ویب سائٹس پر اَپ لوڈ کی جا رہی ہیں، جنھیں وہاں سے مفت ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ صُورتِ حال پبلشرز، خاص طور پر تحقیق و ترجمہ کرنے والوں کے لیے نقصان کا باعث ہے، کیوں کہ جب مفت کتاب مل رہی ہو، تو خرید کر کون پڑھے گا؟‘‘ بلاشبہ یہ ایک فکر انگیز معاملہ ہے اور چوں کہ اس کا تعلق علم سے ہے، تو اس کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سو، ہم نے پبلشرز، اُن کے نمایندوں، پی ڈی ایف کتابوں کے کام سے منسلک افراد اور دیگر شائقینِ مطالعہ سے گفتگو کی، تاکہ اس معاملے کے اہم پہلو قارئین کے سامنے آ سکیں۔

گگن شاہد

اشاعتی ادارے ’’بُک کارنر‘‘ کے سی ای او، گگن شاہد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’’پی ڈی ایف کُتب کی اِس قدر فراوانی سے صرف پبلشرز ہی نہیں، مصنّفین کو بھی نقصان پہنچتا ہے کہ اُن کا رائلٹی سسٹم متاثر ہو رہا ہے، کیوں کہ پی ڈی ایف مواد موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر پر با آسانی پڑھا جا سکتا ہے۔ کتاب بہت محنت سے شایع کی جاتی ہے، مصنّف خود کو کھپا دیتا ہے، تو پبلشر بھی بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے، مگر وہ کتاب پی ڈی ایف کی شکل میں آجائے، تو ساری محنت اور سرمایہ کاری رائیگاں چلی جائے گی،کسی کی محنت کو یوں استعمال کرنا جرم ہے۔ ہمارے ہاں کاپی رائٹ کے نام سے ایک قانون موجود ہے، مگر اُس پر عمل درآمد کم ہی ہوتے دیکھا گیا ہے، جب کہ یورپ میں اس حوالے سے کافی سختی کی جاتی ہے۔ وہاں کُتب پر پبلشر نوٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ ’’اِس کتاب کو الیکٹرانک، میکینیکل، فوٹو اسٹیٹ یا کسی اور صورت میں شایع نہیں کیا جا سکتا‘‘، یعنی اُسے کتاب کے علاوہ کسی اور میڈیم میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

پاکستان پبلشرز اینڈ بُک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین، عزیز خالد کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ

’’کتابوں کی پی ڈی ایف کاپیوں کا سلسلہ اب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور اس کے انڈسٹری پر انتہائی منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ کہنے کو قوانین تو موجود ہیں، مگر یہاں تو لوگ کتابوں تک کے جعلی ایڈیشن چھاپ دیتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا۔ بعض اداروں نے انفرادی طور پر اس کے خلاف بھاگ دوڑ کی تھی، جیسے آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس یا پیراماؤنٹ، مگر لوگ دو نمبری سے پھر بھی باز نہیں آتے۔‘‘

’’ایمل پبلی کیشنز، اسلام آباد‘‘ کے چیف ایگزیکٹو، شاہد اعوان کی رائے ہے کہ

شاہد اعوان

’’ہمارے ہاں ایک تو پہلے ہی کتابیں ہزار، پانچ سو کی تعداد میں چَھپتی ہیں اور اگر اُنھیں بھی پی ڈی ایف کی صُورت میں عام کردیا جائے، تو پھر کتابیں کون اور کیوں خریدے گا۔ گو، ہمارا قانون پبلشرز کو سپورٹ کرتا ہے، مگر دیگر قوانین کی طرح اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، اس لیے بعض افراد اس کا ناجائز طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دیکھیے، اگر کوئی پبلشر ایک ہزار کتابیں چھاپتا ہے، تو اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا خرچہ نکل آئے۔ نیز، اُسے اور مصنّف کو چار پیسے بھی بچ جائیں۔ اب اگر کوئی اُس کتاب کو پی ڈی ایف میں ڈھال دے، تو کاروباری مفادات تو متاثر ہوں گے۔ اس صورتِ حال میں پبلشرز مایوس ہو کر نئی کتابیں چھاپنا بند کر دیں گے، جو مُلک و قوم کے لیے کوئی اچھا اقدام نہیں ہوگا۔ ترقّی یافتہ ممالک میں اب بھی، جہاں تقریباً ہر شخص کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے، کتابیں چَھپ رہی ہیں اور بڑی تعداد میں چَھپ رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پرنٹ اور ای بُک کے حوالے سے قوانین کی پاسداری کی جاتی ہے۔‘‘

فضلی پبلشرز کے اونر، ساجد فضلی کا کہنا تھا کہ

ساجد فضلی

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ ای بُک یا پی ڈی ایف کاپی پڑھنا کوئی آسان کام نہیں اور بہت کم افراد کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ کتاب کا پرنٹ لے کر اُس کی جِلد وغیرہ بنوا سکیں۔ دراصل، پی ڈی ایف ایڈیشنز کا مسئلہ زیادہ تر مذہبی کتب کے ساتھ ہو رہا ہے اور اُن کی دھڑا دھڑ پی ڈی ایف کاپیاں بن رہی ہیں، شاید لوگ ایسا ثواب سمجھ کر کرتے ہوں، لیکن اس سے پبلشرز کو بہرحال نقصان ہوتا ہے۔‘‘

بچّوں کے معروف ادیب، ابنِ آس محمّد بھی اس صُورتِ حال پر دِل گرفتہ ہیں۔ اُن کے مطابق ’’یہ سب کچھ علم و ادب کی خدمت کے نام پر ہو رہا ہے، مگر دراصل اس کے پیچھے بھی مالی مفادات ہی کارفرما ہیں۔ بعض شاطر افراد مختلف کُتب کی پی ڈی ایف فائلز اس لیے اپنی ویب سائٹس یا فیس بُک پیجز پر اَپ لوڈ کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے اُنھیں زیادہ سے زیادہ کِلکس یا وزیٹرز ملیں، جو ای-بزنس کی ایک شکل ہے۔‘‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’اگر بالفرض یہ سب کچھ اچھے جذبات کے تحت ہو رہا ہو، تب بھی کسی کی محنت کو یوں چُرانا درست نہیں۔ جب آپ کسی ادیب کی کتاب فیس بُک یا ویب سائٹ پر ڈال دیں گے، تو لوگ کتاب نہیں خریدیں گے، جس کا زیادہ نقصان مصنّف ہی کو ہوتا ہے کہ اُس کا حق مارا جاتا ہے۔ اس صُورت میں کتاب کم بِکنے کی وجہ سے پبلشر اُسے رائلٹی دینے پر تیار نہیں ہوتا۔‘‘

مسعود احمد ایک ایسے فیس بُک پیج اور ویب سائٹ کے ایڈمن ہیں، جس پر مختلف کُتب پی ڈی ایف کی شکل میں اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ ہمارے سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ’’دیکھیں جی! ہم ایسی کُتب ہی عوام کے لیے پیش کرتے ہیں، جو برسوں قبل شایع ہوئیں اور اب نایاب ہیں۔ پھر یہ کہ اُن پر حقوقِ ملکیت کا قانون بھی لاگو نہیں ہوتا کہ اُن کی اشاعت کو دہائیاں گزر چُکی ہیں اور مصنّفین کے ورثا کا بھی کچھ اَتا پتا نہیں۔‘‘
’’آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ اس سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا مقصد پُرانی کُتب کو محفوظ کرنا ہے تاکہ محقّقین اُن سے استفادہ کر سکیں۔ ہم یہ سہولت مفت فراہم کررہے ہیں، جب کہ کئی پبلشر پُرانی کتابوں کا عکس لے کر یا نئی کمپوزنگ کرواکر دوبارہ شایع کروا رہے ہیں، مگر اُن کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے، تو کئی بار جدید اشاعت کے چکر میں کتاب میں بہت سی تبدیلیاں بھی کر دی جاتی ہیں، جو خیانت کے ساتھ، محقّقین کے لیے بھی مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔‘‘
عبدالمالک بھی یہی کچھ کرتے ہیں، مگر اُن کی ویب سائٹ اور فیس بُک پیج پر بہت سی ایسی کُتب بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو اشاعت کے چند ماہ بعد ہی اُن کی ویب سائٹ کی زینت بنیں۔ ہم نے پوچھا ’’کیا یہ اخلاقی اور قانونی طور پر درست ہے؟‘‘ تاہم اُنھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے کی بجائے کتابوں کی قیمتوں کو اس کا ذمّے دار ٹھہرایا۔

اس پورے معاملے میں کتابوں کی قیمتوں کا ایشو نہایت اہم ہے کہ ہم نے جس سے بھی بات کی، اُس نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ضرور ذکر کیا اور اسے پی ڈی ایف کاپیوں کے فروغ کا بڑا سبب قرار دیا۔ محمد عُمر فاروق مطالعے کے رسیا ہیں اور ہر ماہ اپنی آمدنی کا ایک حصّہ کتابوں کی خریداری پر صَرف کرتے ہیں، مگر اب وہ بھی انٹر نیٹ ہی پر مطالعے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ’’ کتابوں کی قیمتوں کو تو پر لگ گئے ہیں، ایسے میں کون دو، دو ہزار روپے کی کتابیں خریدے؟ جب کہ ویب سائٹس پر سب کچھ مفت مل جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ای بُک پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے، لیکن کتب کی قیمتوں پر بھی کچھ کنٹرول ہونا چاہیے۔ تاہم مَیں سمجھتا ہوں کہ چھوٹی کُتب و رسائل کو تو پی ڈی ایف کی صورت دینے میں حرج نہیں، مگر بڑی کتابوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا جانا چاہیے، خاص طور پر تحقیقی کتب کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔‘‘

اس حوالے سے شاہد اعوان کا کہنا تھا کہ

’’مفت کے مقابلے میں کتاب کتنی ہی قیمت میں کیوں نہ ملے، مہنگی ہی لگے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ مہنگی اور سستی کی تعریف کون کرے گا؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ کتاب مہنگی ہے، ہم کہتے ہیں، سستی ہے۔ ہم اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتے ہوئے گھڑی بَھر نہیں سوچتے، چاہے کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہوں، آخر کتاب ہی کے بارے میں یہ بات کیوں کی جاتی ہے کہ مہنگی ہے!! پھر یہ کتاب مہنگی ہونے کا واویلا دراصل کتاب پر لکھی قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، حالاں کہ بیش تر کُتب چالیس سے پچاس فی صد رعایت پر بھی مل جاتی ہیں۔‘‘

عزیز خالد اس معاملے کو ایک اور رُخ سے دیکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ

عزیز خالد

’’واقعی کتابوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، مگر اس کے ذمّے دار پبلشرز نہیں، بلکہ پیپر مینو فیکچررز ہیں۔ پاکستان میں پانچ، چھے پیپر مینوفیکچررز ہیں اور وہی کاغذ کی قیمت کا تعیّن کرتے ہیں۔ نہ صرف ادبی بلکہ تعلیمی کتابوں کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، اس سال اپریل میں دیکھ لیجیے گا کہ درسی کُتب کی قیمتیں کہاں جاتی ہیں، کیوں کہ ان پیپر مینوفیکچررز نے کاغذ کے نرخوں میں مَن مانا اضافہ کردیا ہے۔ پھر یہ کہ پبلشرز امپورٹڈ کاغذ بھی استعمال نہیں کر سکتے کہ اس پر بھی ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے اور مقامی کاغذ غیر معیاری ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ہماری کتابیں خُوب صورت نہیں رہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت کاغذ سے ڈیوٹی یک سَر ختم کردے، لیکن اس میں کمی تو کی جا سکتی ہے، پھر کوئی ایسا نظام بھی وضع کیا جانا چاہیے کہ ٹیکس پیڈ پبلشرز کو بھی کاغذ درآمد کرنے کی اجازت مل جائے، اس سے کتابوں کی قیمتوں میں کمی ہوگی اور پی ڈی ایف سمیت کتاب دشمن اقدامات کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔‘‘

اس ضمن میں ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ ترقّی یافتہ ممالک میں پبلشرز اپنی کتاب کی ای-کاپی بھی جاری کرتے ہیں، جو کہ مختلف سائٹس پر قیمتاً پڑھی جا سکتی ہیں اور اسے کاپی، پیسٹ کیا یا کسی کو بھیجا نہیں جا سکتا، جیسا کہ ریہام خان نے کیا تھا، تو پاکستانی پبلشرز کو بھی پی ڈی ایف بُکس سے خوف زَدہ ہونے کی بجائے خود یہ سلسلہ شروع کردینا چاہیے۔نیز، آن لائن ایڈیشن کی قیمت اتنی کم ہو کہ مفت پڑھنے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

انجمن ترقّیٔ اُردو، پاکستان کی معتمد، ڈاکٹر فاطمہ حسن بھی اس تجویز کی حامی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ

’’علم کی اشاعت میں ای- بُکس کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی بہ دولت ہی ہم دیگر مُمالک کے ادب سے روشناس ہو رہے ہیں کہ دُور دُور سے کتابیں منگوا کر پڑھنا ہر ایک کے بس میں نہیں۔ البتہ، یہ ضرور ہے کہ ای-بُکس کا کام قانون کے دائرے ہی میں رہ کر کیا جانا چاہیے اور ناشر و مصنّف کے حقوق کا تحفّظ بھی لازم ہے۔ یہ سُن کر افسوس ہوتا ہے کہ کئی لوگ ان باتوں کا خیال نہیں رکھ رہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں۔‘‘

اس تجویز پر ساجد فضلی نے کہا

’’سرِدست تو یہ ممکن نہیں کہ ہم دیگر ممالک کی طرح ای بُک ایڈیشن بھی جاری کرسکیں، جسے قیمتاً پڑھا جا سکتا ہو، کیوں کی کئی تیکنیکی مسائل موجود ہیں، البتہ مَیں سمجھتا ہوں کہ پبلشرز کو اپنی نئی آنے والی کتاب کی خود پی ڈی ایف بنا کر قارئین کے لیے شئیر کردینی چاہیے، جس میں کتاب کا ٹائٹل، ابتدائی صفحات، اہلِ علم کی آرا اور کچھ اقتباسات شامل ہوں، گویا بیس پچیس صفحات پر مشتمل ایک تعارف جاری کردیا جائے۔‘‘

شاہد اعوان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ای -بُکس اور پی ڈی ایف کاپی میں فرق سامنے رکھنا چاہیے۔ پی ڈی ایف کاپی، کتاب کے اسکین شدہ صفحات کا نام ہے، جب کہ ای-بُکس کے لیے پورا طریقۂ کار وضع کرنا پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اُردو کتابوں کا الیکٹرانک ورژن پڑھنے والوں کی تعداد ابھی خاصی کم ہے، پھر اُردو سافٹ وئیر بھی اتنی سپورٹ نہیں کرتے کہ ترقّی یافتہ ممالک کے معیار کی ای- بُکس تیار کی جاسکیں۔ نیز، ای-بُکس سے پبلشر کو آمدنی ہوتی ہے اور پی ڈی ایف کاپی اُن کی محنت پر ڈاکا ہے۔‘‘

گگن شاہد کا کہنا تھا کہ ’’ترقّی یافتہ دنیا میں ای- بُک سسٹم موجود ہے، خواہ وہ اینڈرائیڈ ایپلی کیشن کی شکل میں ہو یا kindle کی طرح کچھ اور۔ پبلشر کسی ادارے کو باقاعدہ لائسنس دیتے ہیں کہ وہ اس کتاب کو انٹرنیٹ پر جاری کر سکتے ہیں اور اس کے بدلے میں اُسے کمیشن ملتا ہے۔ تاہم، ہمارے ہاں اسے متعارف کروانے میں ابھی وقت لگے گا کہ ہم اس کے لیے درکار ٹیکنالوجی میں کافی پیچھے ہیں اور ابھی ہمارے ہاں ای-بُکس کی اتنی طلب بھی نہیں ہے۔‘‘

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پی ڈی ایف بُکس کی یلغار کی وجہ سے پبلشرز اور مصنّفین کے حقوق بُری طرح پامال ہو رہے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی ترقّی یافتہ ممالک کی طرح انٹیلکچوئل پراپرٹی رائٹس کا اطلاق اُس کی اصل رُوح کے مطابق ہونا چاہیے۔تاہم، اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہمارے ہاں بھی آن لائن مطالعے کا رجحان مسلسل فروغ پا رہا ہے، سو، اگر پبلشرز نے خود آگے بڑھ کر اسے کوئی قانونی شکل نہ دی، تو اس خلا کو پی ڈی ایف بُکس کی شکل میں پُر کرنے کی کوششوں کو روکا جانا ممکن نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: