شہری مسائل اور بدلتا ہوا معاشرہ —– عبدالخالق سرگانہ

0
  • 25
    Shares

وقت کبھی ساکت نہیں رہتا ہر چیز تبدیلی کی زد میں آتی ہے لہٰذا ہمارا معاشرہ بھی کافی تبدیل ہوا ہے اور ہو رہا ہے اور تبدیلی کی رفتار کافی تیز ہے۔ موجودہ حکومت تو تبدیلی کے نعرے پر آئی ہے لیکن تبدیلی کا ابھی انتظار ہے اگر حکومت نہ بھی آتی تو پھر بھی تبدیلی کا عمل تو جاری رہتا۔ زندگی میں تیز رفتار تبدیلی کی وجہ گلوبلائزیشن، میڈیا کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔ اب دنیا سکڑ گئی ہے اور کینیڈا کے ماہر ابلاغیات مارشل میکلوہان کا یہ قول سچ ثابت ہو گیا ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن جائے گی۔

وقت کے ساتھ کئی رحجانات تقویت پکڑ رہے ہیں مثلاً دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہجرت، ہجرت اِس صدی کی شاید سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بھی تو ہجرت ہوئی تھی اُس کے بعد اسلام پھلا پھولا، ہجرت کے فلسفے پر ایران کے ایک دانشور ڈاکٹر علی شریعتی نے بہت کچھ لکھا ہے۔ ہجرت کے پیچھے عموماً ترقی کی خواہش ہوتی ہے بعض دفعہ مخصوص حالات کی بناء پر ہجرت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آبادی کے تازہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ تیزی سے دیہی علاقے سے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں لہٰذا دیہی اور شہری آبادی کا تناسب کافی بدل گیا ہے اور مسلسل بدل رہا ہے۔

آزادی کے وقت صرف 10 لاکھ لوگ شہروں میں رہتے تھے اور اب 30 ملین لوگ شہروں میں رہتے ہیں۔ کراچی جو اب آبادی کے حساب سے پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کے چند بڑے شہروں میں شامل ہے، آزادی کے وقت مچھیروں کی ایک بستی تھی۔ 1947ء میں تقریباً 8 ملین لوگ ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ جن میں سے بہت سے لوگ کراچی میں آباد ہوئے۔ اس وقت کراچی کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ، لاہور کی آبادی تقریباً ایک کروڑ اور اسلا م آباد کی آبادی 21 لاکھ ہو چکی ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں کئی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ایک بڑا مسئلہ ٹریفک ہے۔ بڑے شہروں میں بے ہنگم ٹریفک دیکھ کر انسان پریشان ہو جاتا ہے ایک تو گاڑیوں کی تعداد حیرت انگیز حد تک بڑھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی قوت خرید بڑھی ہے۔ ایک بڑی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم دستیابی ہے۔ تین کمپنیاں یہاں گاڑیاں بنا رہی ہیں اور تین اور کمپنیاں بھی اگلے سال تک گاڑیاں بنانا شروع کر دیں گی۔ ری کنڈیشنڈ گاڑیاں منگوانے کی بھی اجازت ہے۔ ٹریفک کے معاملے میں سب سے بڑا مسئلہ لاقانونیت ہے۔ جہالت اور قانون شکنی کا مجموعی رحجان ٹریفک سے پیدا ہونے والے مسائل کی بڑی وجہ ہے پھر پلازوں کے ساتھ پارکنگ نہیں بنائی گئیں۔ ٹریفک پولیس اِس معاملے میں ناکام ہو چکی ہے لہٰذا پولیس کو مضبوط کرنے اور بے روزگار نوجوانوں کی رضاکار کے طور پر خدمات حاصل کرنے کی ضرور ت ہے۔

دوسرا مسئلہ جرائم کا ہے، دنیا کے ہر بڑے شہر میں جرائم کا مسئلہ درپیش ہے ہمارے ہاں کراچی طویل عرصے تک جرائم کا گڑھ رہا ہے جب مواقع اور وسائل کم ہوں تو پھر چھینا جھپٹی تو ہو گی، اتنی آبادی کیلئے رہائش، کھانے پینے اور ملازمت کا انتظام کسی بھی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اتنے لوگوں کو رہائش کی فراہمی کے معاملے میں سرکاری ادارے مثلاً کے ڈی اے، ایل ڈی اے، سی ڈی اے وغیرہ کرپشن اور نااہلیت کی وجہ سے بری طرح ناکام رہے ہیں مثلاً اسلام آباد میں سی ڈی اے تیس پینتیس سال میں ایک سیکٹر آباد کرتا ہے البتہ اس شعبے میں بحریہ ٹائون اور ڈی ایچ اے نے اس کمی کو پورا کیا ہے لیکن وہ بھی خامیوں سے مبرا نہیں بحریہ ٹائون کے مالک اس معاملے میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے آجکل سپریم کورٹ کی زدمیں ہیں۔ ڈی ایچ اے ویلی کچھ مسائل کا شکار ہے۔

شہروں میں جگہ جگہ تجاوزات اور Slums بن چکی ہیں، کچی آبادیاں قانون کی خلاف ورزی تو ہیںہی جرائم کا گڑھ بھی بن چکی ہیں۔ جب لوگوں کو روزگار نہیں ملتا تو ظاہر ہے وہ جرائم پر آمادہ ہوں گے۔ شہروں میں امیر طبقے کی شہ خرچیاں دیکھ کر بھی غریب لوگوں کے دلوں میں غصہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ دراصل آبادی میں اس قدر بے ہنگم اضافے کے مسائل کوئی حکومت تسلی بخش طریقے سے حل نہیں کر سکتی پھر پانی کی فراہمی، گندگی اور ماحولیات سے پیدا ہونے والے مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہماری آبادی کم تعلیم کی وجہ سے اِن چیزوں سے پیدا ہونے والے مسئلوں کا شعور نہیں رکھتی اور متعلقہ سرکاری ادارے کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے ان مسئلوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔

بنیادی مسئلہ آبادی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ بڑے پیمانے پر شہروں اور غیرملکوں کی طرف ہجرت اس کا لازمی نتیجہ ہے لیکن افسوس کہ طویل عرصے سے اِس بنیادی مسئلے پر کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ موجودہ حکومت اِس سمت کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو حوصلہ افزاء ہے۔ 1947ء سے لیکر اب تک آبادی میں 8 گنا اضافہ ہوا ہے اور اب آبادی کے حساب سے پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔

ماضی میں کسی حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی اور پھر شہروں کی طرف ہجرت سے پیدا ہونے والے مسائل کا سرے سے ادراک نہیں کیا۔ روایت ہے کہ علامہ اقبال نے یورپ کے دورے کے دوران مسولینی سے ملاقات کی تو انہوں نے علامہ صاحب سے کہا کہ وہ انہیں کوئی حکمت کی بات بتائیں۔ علامہ صاحب نے فرمایا کہ جب شہر ایک حد سے بڑھنے لگیں تو نئے شہر بسائے جائیں چونکہ اس نصیحت میں ایک جہان ِمعنی پوشیدہ تھا اس لئے مسولینی نے اس بات پر بڑی پسندیدگی کا اظہار کیا جب علامہ نے انہیں یہ بتایا کہ یہ دراصل ہمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے تو مسولینی اِس پر بہت حیران ہوا۔ روس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ رہائش کی منتقلی کیلئے حکومت سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنی زراعت کو ترقی دینی ہوگی اور زندگی کی جدید سہولتیں دیہات تک پہنچانی ہوںگی۔ دیہات میں رہنے والی آبادی بنیادی طور پر زراعت پر ہی انحصار کرتی ہے اور زراعت کو ہم نے قومی سطح پر منصوبہ بندی میں کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ پچھلی حکومت نے کم از کم اندرون پنجاب موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا ہے گویا دیہات کی ترقی کیلئے ایک بنیادی کام تو ہو چکا ہے اب تحصیل بلکہ یونین کونسل کی سطح پر پیشہ ورانہ تربیت اور چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے صوبائی حکومتوں اور لوکل باڈیز کا کردار اہم ہے۔ لوکل باڈیز کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔ زیادہ تر دیہاتوں میں اب سڑکوں کے علاوہ سکول ، ہسپتال ، بجلی اور موبائل فون کی سہولتیں تو دستیاب ہیں لہٰذا اب صرف گلیاں پختہ کرنے اور سیوریج کا نظام بچھانے کی ضرورت ہے۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ہمارے پاس پانچ دریا اور سمندرہیں لیکن بغیر کانٹے کے مچھلی ہم ویت نام کی کھاتے ہیں۔ ہر قسم کا فروٹ ہمارے ہاں وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے لیکن Tinfruit ہم انڈونیشیا اور ملائشیا سے درآمد کر رہے ہیں۔ ویلیو ایڈیشن کی طرف توجہ ضروری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: