صوبائی خزانے کا پرنالہ —— لالہ صحرائی

0
  • 100
    Shares

ہر گھر میں کچھ افراد کم اور کچھ زیادہ کماتے ہیں لیکن ہر ماں کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ ہر فرد سے اس کی آمدنی لیکر تمام اہل خانہ کو ایک جیسی بودوباش فراہم کرنے کے علاوہ کم آمدنی والوں کو دوسروں کے برابر لانے کی بھی کوشش کرے، قومی فیڈریشنز بھی اسی اصول پر چلتی ہیں۔

دنیا کی ہر فیڈریشن میں شہری آبادی کی نسبت دیہی آبادی اگرچہ کم ٹیکسز دیتی ہے لیکن ملک بھر کو زرعی اجناس، ڈیری اور لائیواسٹاک کی ضروریات سے متعلق ہر خام مال یہی علاقے فراہم کرتے ہیں، پھر ان کی ترقی بھی ٹیکس جنریشن سرگرمیوں میں برابر اضافے کا باعث بنتی ہے، اسلئے آئینی طور پر دیہی علاقوں کو بھی قوم کے پیسے سے ترقی کرنے کا یکساں حق دیا جاتا ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر سماج سے بنیادی اقسام کے تمام ٹیکسز مرکز وصول کرتے ہیں جسے قومی آمدنی کہا جاتا ہے، سماج میں سے ریوینیو کا بڑا حصہ جب مرکز اٹھالے تو صوبوں کو ایک معاشی خلاء کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ورٹیکل فسکل امبیلنس یا افقی عدم معاشی توازن کہتے ہیں، یعنی سماجی ریونیو کا پیسہ سارا مرکز کے پاس چلا گیا تو اب صوبے اپنا انتظام چلانے کیلئے پیسے کہاں سے لائیں؟

پھر دیہی آبادی کی طرح بعض صوبے بھی قومی آمدنی میں کم حصہ ڈالتے ہیں لیکن انہیں بھی قوم کے پیسوں سے یکساں ترقی کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، ایسا نہ کریں تو ہاریزنٹل فسکل امبیلینس یا عمودی عدم معاشی توازن پیدا ہوتا ہے یعنی کم آمدنی والے صوبوں کو ان کی آمدنی کیمطابق کم حصہ ملے گا تو وہ دوسرے صوبوں کے برابر آنے کیلئے فالتو پیسہ کہاں سے لائیں گے‌؟

قطع نظر اس کے کہ دو صوبوں کی آمدنی بقیہ دو سے کم ہے یا ہر صوبے میں دیہی آبادی کی آمدنی شہری آبادی سے کم ہے، قوم کو یکساں طور پر ترقی دینے کیلئے ہر صوبے کو یکساں حصہ دیا جاتا ہے تاکہ چھوٹے بڑے صوبے اور دیہی شہری کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر سب کو یکساں ترقی کا موقع ملے۔

مرکز اور صوبوں کے درمیان متذکرہ بالا دونوں اقسام کے عدم توازن رفع کرنے کیلئے نیشنل فائنانس کمیشن کام کرتا ہے جس کے ممبران مرکزی و صوبائی فائنانس منسٹرز ہوتے ہیں، فیڈرل فائنانس منسٹر ان کا چیف ایگزیکٹیو ہوتا ہے اور اس کمیشن کے نگران اعلیٰ اور منصف صدرِ پاکستان ہوتے ہیں۔

ہر نئی گورنمنٹ اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت کیلئے مرکز اور صوبوں میں قومی وسائل کی تقسیم کا ایک معروضی تعین کرتی ہے تاکہ مرکز اور صوبے اس اندازے کیطابق اپنے پانچ سالہ منصوبے ترتیب دے سکیں، اس تعین کو این۔ایف۔سی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔

فیڈرل فائنانس منسٹر اپنے دور حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرنے سے ایک دو ماہ قبل مختلف قومی بیوروز سے حاصل شدہ سماجی و معاشی شماریات کی بنیاد پر اس ایوارڈ کی صورت گری کرتا ہے جس میں قابل تقسیم آمدنی کی 82% رقم آبادی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہے، 05% فیصد ٹیکس کلیکشن ریوارڈ، 10.30 فیصد پسماندگی اور 2.70 فیصد نامسائد حالات کی وجہ سے نقل مکانی کرنیوالوں کی بحالی کیلئے دیا جاتا ہے۔

فیڈرل منسٹر دستیاب وسائل و شماریات کی تفصیل، آئندہ پانچ سال میں آنے والی گروتھ کا پروویژنل پروفائل اور آئینی فارمولے سے ہر صوبے کیلئے مجوزہ حصے کا حجم اس کمیشن کے سامنے پیش کرتا ہے، صوبائی منسٹر اس پورٹفولیو سے اتفاق کرلیں تو آئندہ پانچ سال میں ملنے والی رقوم کے پیرامیٹرز پر سب کا اتفاق ہو جاتا ہے۔

کسی اختلاف کی صورت میں معاملہ صدرِ پاکستان کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے، وہ منسٹرز کو کسی طرح سے راضی کرلیں تو بھی متفقہ ایوارڈ ہوجاتا ہے ورنہ اختلافات کو نظر انداز کرکے اس کی منظوری دے دیں تو پھر بھی ایوارڈ منظور ہو جاتا ہے مگر اس صورت میں اسے غیر متفقہ ایوارڈ کہا جاتا ہے۔

ہمارے اب تک کے تقریباً نصف ایوارڈ متفقہ اور نصف غیرمتفقہ رہے ہیں، عمومی طور پر مرکز کا حصہ، فوجی بجٹ اور صوبوں کا حصہ آئینی طور پر طے شدہ ہے اسلئے غیر متفقہ ایوارڈ میں بھی کسی کی بہت بڑی حق تلفی نہیں ہوتی البتہ شماریات سے اختلاف کی بنیاد پر کسی کو چند کروڑ روپے سالانہ کا خسارہ ضرور لگ سکتا ہے۔

قومی بیوروز کے اعداد و شمار ان کے ذاتی یا آزادانہ حاصل کردہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی کلیکشن میں صوبائی ادارے مکمل طور پر شامل حال رہتے ہیں اسلئے پیش کی گئی شماریات پر اعتراضات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی لیکن جب صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت کی مخالف پارٹی سے ہوں تب ہر معاملے میں مخالفت برائے مخالفت کا رجحان ہمارے ہاں ضرور آجاتا ہے اسلئے حتمی فیصلہ صدرِ مملکت کے ہاتھ میں رکھ دیا گیا ہے تاکہ قومی شماریات کا کوئی حصہ واقعی مستند نہ ہو تو اس کی درستی کرا لیں اور اگر معاملہ واقعی ممبران کی بدنیتی کا ہو تو انہیں سمجھا بجھا لیں یا پھر ممبران کی ہٹ دھرمی کو نظرانداز کرکے اپنی صوابدید پر منظوری کا فیصلہ دیدیں۔

ہر ایوارڈ کیلئے یہ بھی ایک آئینی شرط ہے کہ ہر سال بٹنے والی رقم پچھلے سال سے دس فیصد زائد ہوگی، اسلئے مرکزی حکومت ہر سال ریوینیو بورڈ کو نیا پروگریسیو ٹارگیٹ دینے پر مجبور رہتی ہے۔ اس شرط کا مطلب یہ تھا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنی توانائی انفراسٹرکچر اور تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کیلئے صرف کریں تاکہ اس دس فیصد میں انفلیشن ایڈجسٹ ہوتی رہے یا گروتھ ملتی رہے، مگر کاروبار اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی بجائے شہزادے حکمران صرف ریوینیو بورڈ کی سرکاری مشینری کے ذریعے ہی دھونس دھمکی سے ٹارگیٹ پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

بہرحال جب ایوارڈ فائنل ہو جائے تو صوبے بھی مرکز سے ملنے والے حصے میں اپنے لوکل فنڈز ملا کر اپنے پانچ سالہ منصوبے اور بجٹ پیش کرتے ہیں جس میں سروسز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس و ٹرانسفر فیس، وہیکل ٹیکس و ٹرانسفر فیس، انڈسٹریل گراؤنڈ رینٹس، ڈویلپمنٹ سیسز، صوبائی کارپوریشنوں کے منافع جات اور اسی طرح کے دیگر صوبائی وسائل سے حاصل ہونے والے محصولات شامل ہوتے ہیں۔

ہم نے جو دو عدم توازن ڈسکس کئے تھے وہ این۔ایف۔سی ایوارڈ کے بعد ختم ہوجاتے ہیں، یعنی مرکز جب اپنا خرچہ رکھ کے باقی رقم صوبوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہے تو مرکز اور صوبوں کے درمیان پیدا ہونیوالا افقی عدم توازن رفع ہو جاتا ہے، اور صوبوں کے درمیان یہ پیسہ جب برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوجاتا ہے تو عمودی عدم توازن بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد یہی دونوں عدم توازن صوبائی حکومت اور اضلاع کے درمیان پیدا ہو جاتے ہیں، سماج سے اکٹھا ہونے والا پیسہ جب صوبے کے خزانے میں رہے گا تو اضلاع اپنا کام کیسے چلائیں گے؟ اور کم آمدنی والے اضلاع کو کم حصہ ملے گا تو وہ بھی باقی اضلاع سے پیچھے رہ جائیں گے۔

لہذا قومی وسائل کی تقسیم کا سائیکل یہاں پر مکمل نہیں ہوتا بلکہ آئینی طور پر اگلے مرحلے میں صوبائی فائنانس کمیشن یہ پیسہ انہی اصولوں کیساتھ اضلاع تک پہنچانے کا ذمہ دار بنتا ہے جن اصولوں پر یہ خود مرکز سے حاصل کرتا ہے، جو اختلافات صوبے کو مرکز کیساتھ پیش آتے ہیں عین وہی اختلافات اضلاع کو بھی صوبے کیساتھ پیش آسکتے ہیں مگر یہاں راوی ہمیشہ خاموش ہی رہتا ہے۔

اس چین میں ڈویژن اور تحصیل کی سطح پر کوئی باڈی ہوتی یا نہیں، اس کا مجھے علم نہیں البتہ صوبائی فائنانس کمیشن اور ضلع کونسلز اس چین کے اہم ارکان ہیں، پھر اضلاع کے بعد یہ رقم یونین کونسلز تک بھی پہنچنی چاہئے۔

اس گفتگو کے آئینے میں ایک اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضلعی حکومتوں کو ان کے آئینی حقوق کیمطابق فنڈز ملتے ہیں یا نہیں، اگر ملتے ہیں تو پھر پسماندہ اضلاع کی تعلیم، صحت، مواصلات اور انفراسٹکرچر میں ترقی کیوں نہیں آتی؟

اس سلسلے میں حقیقت بالکل عیاں ہے کہ صوبے کی مرکزی قیادت ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ صوبائی بجٹ اس نے کہاں کہاں خرچ کرنا ہے، قطع نظر اس کے کہ آئینی طور پر ایک پسماندہ ضلعے کو کیا ملنا چاہئے صوبائی قیادت اپنی صوابدید پر پسماندہ اضلاع میں تھوڑی بہت لیپاپوتی کرکے باقی سب کچھ اپنی مرضی کی جگہوں پر ہی استعال کرجاتی ہے۔

ہماری سیاسی پارٹیوں کے کارکن جتنا زور اپنی پارٹی کے دفاع اور مخالفین کی چھترول میں لگاتے ہیں اس سے آدھا زور لگا کے بھی کبھی اپنی پارٹی سے نہیں پوچھتے کہ مرکز کی چھت سے جاری ہونے والا پرنالہ زمین تک پہنچنے کی بجائے کہیں اوپر ہی اوپر کیوں غائب ہو جاتا ہے؟

اسی طرح ہمارے دانشوروں کو بھی اس بات کا ادراک نہیں کہ پسماندہ علاقوں کی اضطرابی لہروں کے حق میں مرکز، فوج اور پنجاب کیخلاف باغیانہ تنقید و شاعری کرنے کی بجائے اپنی دانش کا عوام دوست استعمال اس سے بہتر کوئی نہیں کہ صوبائی فائنانس کے پرنالے کا بہاؤ درست کرانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

اور سیاستدانوں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ جو قومی وسائل کو صرف مخصوص مراکز پر ہی خرچ کرے ایسی قیادت کو سماجی فلسفے میں لیڈرشپ کی قابلیت سے عاری اور ایسے سماج کو استحصال زدہ ہی گردانا جاتا ہے۔

دنیا بھر کی فیڈریشنز میں این۔ایف۔سی ایوارڈ کا مرکزی تھیم بھی یہی ہے کہ فیڈریشن کے اندر عمودی عدم توازن کا خاتمہ کیا جائے خواہ اس کیلئے پہلے افقی عدم توازن ہی کیوں نہ پیدا کرنا پڑے۔

یعنی مرکز کو کیا چاہئے؟ صرف اپنے خرچے کے پیسے، یہ خرچہ مرکز کو اس طرح سے بھی دیا جا سکتا ہے کہ صوبے اپنا ہر قسم کا ریوینیو خود جمع کرلیں اور ایک مقررہ شرح سے مرکز کو اس کا حصہ دیا کریں لیکن اس طریقہ کار میں جو صوبہ امیر ہے وہ امیر تر ہوتا جائے گا اور چھوٹا صوبہ پیچھے رہتا جائے گا۔

این۔ایف۔سی کے طریقہ کار میں مرکز کے پاس چھوٹے صوبوں سے کم پیسہ اکٹھا ہوتا ہے لیکن ان سب کے درمیان آبادی کی بنیاد پر یکساں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ بڑے صوبے میں اگر فی۔کس چھبیس ہزار روپے سالانہ خرچ ہو رہا ہے تو باقی صوبوں میں بھی اسی ریشو سے خرچ ہو، عوام کے درمیان صرف اس توازن کو قائم کرنے کیلئے پہلے افقی عدم توازن پیدا کیا جاتا ہے پھر ان دونوں کو سیدھا کر دیا جاتا ہے۔

اس بات کا صاف ستھرا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر بڑا صوبہ چھوٹے صوبے کے مقابلے میں زیادہ پیسہ دیتا ہے لیکن تقسیم کے وقت چھوٹے صوبے کے برابر حصہ اٹھاتا ہے، جو لوگ پنجاب پر چھوٹے صوبوں کا حق کھانے کا الزام لیپتے ہیں وہ چاہیں تو قیام پاکستان سے اب تک کی تاریخ پڑھ لیں، اسی فورم پر این۔ایف۔سی کے نام سے دو قسطوں میں موجود ہے۔

پنجاب کو کبھی بھی دوسروے صوبوں سے زیادہ کچھ نہیں ملا لیکن گزشتہ بیس سال کے پنجاب کا جائزہ لیں تو جہاں اس نے بھی اپنے پسماندہ اضلاع کیلئے کچھ نہیں کیا وہاں کم از کم اتنا ضرور کیا ہے کہ تمام بڑے شہروں کے ارد گرد بڑی شاہراہوں پر کئی صنعتی زون آباد کئے ہیں جہاں سے پسماندہ علاقے کا بندہ کم از کم روزگار تو کما کے لیجا ہی سکتا ہے، جبکہ باقی صوبوں میں تو یہ انتظام بھی نہیں ملتا بلکہ ان کے بڑے شہروں کے صنعتی زونز بھی اس دوران تنزلی کا ہی شکار ہوئے ہیں۔

جہاں عوامی حقوق کی عدم پاسداری طبقاتی اضطراب کو جنم دیتی ہے وہاں طبقات کو پھلنے پھولنے کا یکساں موقع مل جائے تو وہ ریاست سماجی بے چینی سے پاک ہوکر ترقی کی راہ پر چل پڑتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر پسماندہ قوم جس رفتار سے بھی آگے بڑھی ہے اس میں آبادی کی گہرائی تک عوام کو ان کا حق پہنچانا ہی ان کی ترقی کا بنیادی عنصر رہا ہے۔

بلدیات تک ڈیوولیوشن آف پاور کرکے یا نئے انتظامی یونٹ ترتیب دیکر اس خلاء کو پُر کرنا ہمیں اپنی اولین ترجیح بنا لینی چاہئے ورنہ ریاست کے اندر سماجی ترقی کا خواب صوبائی گوورنینس میں موجود اس فالٹ لائن کو درست کئے بغیر کبھی بھی پورا نہیں ہوگا۔

اس مقصد کے حصول کیلئے سیاسی کارکنوں، دانشوروں اور عوام کا بلاتعصب ایک پیج پر ہونا بہت ضروری ہے تاکہ سیاسی قیادتوں کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے ورنہ اپنی ضروریات کیلئے آپ اسی طرح وسائل اور اختیار اپنے ہاتھ میں لیکر کہیں دور دراز بیٹھے ہوئے کسی مرکزی سیاستدان کو پکارتے رہنے پر ہی مجبور رہیں گے۔

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: