خوش آمدید شاہد صدیقی صاحب ——– قاسم یعقوب

0
  • 89
    Shares

یہ 2011 کی سخت گرمیوں کی بات ہے۔ مجھے انجم سلیمی کا فون آیا کہ فوراً آجائو، تمھیں ایک صاحب سے ملواتے ہیں۔ میں فوراً نکل پڑا اور انگریزوں کی قدیم یادگار چناب کلب (لائل پور) جا پہنچا۔ وہاں میرا سواگت انجم سلیمی اور سہیل صدیقی کے ساتھ شاہد صدیقی نے کیا۔ میں شاہد صدیقی کو نہیں جانتا تھا۔ سہیل نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ لاہور سے مہمان آئے ہیں ایک نیا ناول بھی ساتھ لائے ہیں۔ مگر ہم پہلے آپ لوگوں سے سنیں گے پھر ان سے۔ میں نے کچھ غزلیں سنائیں، انجم سلیمی نے بھی خوب محفل گرمائی۔ سہیل صدیقی لائل پور کے شاندار سینئر شاعر نصرت صدیقی کے بیٹے ہیں اور خوب محفل آرائی جانتے ہیں۔ اگرچہ انگریزی ادبیات کے پروفیسر ہیں مگر شعر کا ذوق انھیں والد کی طرف سے ملا۔ صدیقی صاحب نے بعد میں اپنے زیرِ طبع ناول کے چند ٹکڑے سنائے۔ شاہد صدیقی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی، شاہد صاحب نے خود میرا ذکر کیا اور مجھے بلانے کا کہا۔ وہ لاہور میں میرے رسالے’نقاط‘ کے قاری تھے۔ میں بعد میں دیر تک سوچ کے حیران ہوتا رہا کہ آج کے دور میں بھی ایک بڑا آدمی شوق سے کتاب خریدتا اور ادب پروری کے مجذوبانہ خبط کو سراہتا ہے۔

اس کے بعد میرا صدیقی صاحب سے رابطہ جاری ہو گیا۔ وہ اکثر سماجی سائٹس پہ مجھے پیغام بھیجتے اور مختلف کتابوں کے بارے میں پوچھتے۔ میں بھی انھیں ’نقاط‘ کے تازہ شمارے اور اپنی کتابیں بھجواتا۔ مجھے اُس وقت زیادہ حیرانی ہوئی جب میں نے ان کا ناول ’آدھے ادھورے خواب‘ دیکھا۔ یہ ناول خوب صورت نثر میں استاد اور طالب علم کی سماجی تفکر میں ڈوبی گہری کہانی کا فلسفہ ہے۔ مجھے ان کی نثر نے حیران کیا۔ میرے لیے حیرانی تھی کہ انگریزی کا استاد اتنی اچھی نثر بھی لکھ لیتا ہے!

شاہد صدیقی صاحب ایک علمی گھرانے سے وابستہ سرتا پا ادیب ہیں۔ میں نے ان کی زندگی کو ایک ادیب کا خارجی تخلیقی روپ دیکھا۔ وہ ادب اور ادبیت کی جمالیات سے پوری طرح واقف ہیں۔ ان کا مطالعہ بنیادی طور پر تین جہتوں میں پھیلا ہُوا ہے۔ ایک جہت ان کی انگریزی ادبیات کی طرف ہے۔ دوسری تعلیمی فلسفہ اور تیسری جہت اُردو ادب کا در کھولتی ہے۔ اُردو ادب کی جہت ان کی دوسری جہتوں پہ غالب ہے۔ وہ ادب کو سماجی جدلیات کے معنوں میں لیتے ہیں۔ ان کا ناول تعلیمی فلسفے کے موضوع پہ سماجی جدلیات کا عمدہ نمونہ پیش کرتا ہے۔ اپنی جڑوں کی تلاش میں لکھا گیا ناول ’’آدھے ادھورے خواب‘‘ کا پنجابی ترجمہ ہمیں مٹی سے اور بھی قریب کر دیتا ہے۔ انھوں نے بطور ماہرِ تعلیم، تعلیم کے بنیادی مسائل اور متاثرہ فریقین کے تناظر میں مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح ایک ادیب دانشور مکالمے کے لیے کردار گھڑتا ہے، جملے بھرتا ہے، خالی لفظوں میں معنی کی شیرینی انڈیلتا ہے، بالکل اسی طرح شاہد صدیقی کی تعلیم شناسی ان کے ادبی سفر کا بیرونی پھیلائو ہے۔ جب وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے تو گویا ان کے ہاتھ وہ خزانہ لگ گیا جس کی قیمت ادا کر کے وہ اپنے اندر کے لکھاری کو ’سنومین‘ کی طرح اپنے باہر بنا سکیں گے۔ یونیورسٹی میں مکالمے اور گفتگوئوں کا کلچر شروع ہو گیا۔ ملک بھر سے ادیب، تاریخ دان، صحافی، دانش ور، ایجوکیشنسٹ بھاگے بھاگے اوپن یونیوررسٹی کے میلوں کی رونقوں کا حصہ بننے لگے۔ شاہد صدیقی صاحب کسی بھی پروگرام کو بے دلی سے منعقد نہیں کرواتے بلکہ اس میں خود بھی اکیلے شریک نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ساتھ اپنے اندر کے ’بھرے انسان‘ کو اپنے ساتھ لاتے۔ رئوف کلاسرا نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ وہ ایک پروگرام میں سٹیج پہ ہمیں بٹھا کے خود نیچے بیٹھ گئے، کلاسرا صاحب کے لیے یہ انہونی بات ہوگی مگر وہ اصل میں اپنے اندر اُس ناول نگار کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرتے جو انھیں اس قسم کی تصنع اور خود نمائیوں سے بچائے رکھتا۔

شاہد صدیقی ایک بہترین منظم کے طور پر اوپن یونیورسٹی کے سربراہ رہے۔ ان کا دور یونیورسٹی کا زرخیز ترین دور تھا۔ اس دور میں جامعہ میں تحقیقی جرائد کی کہکشاں کھل اٹھی۔ پاکستان بھر سے کسی یونیورسٹی کے اتنے جرائد نہیں جو اپنے معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے اہمیت کے حامل ہوں۔ اس کی بڑی وجہ ان کی خود سرپرستی کرنا تھا۔ تحقیقی حوالے سے بھی جامعہ نے اپنے پہلے ادوار کی نسبت کئی درجے زیادہ ترقی کی۔ جامعہ میں ہر شعبے نے عالمی سطحوں کی کئی کانفرنسیں کروائیں جن میں عالمی سطح کے دانش ور، محقق اور سائنس دان اکٹھے کئے گئے۔ اوپن یونیورسٹی پاکستان کی سب سے ریسورس فل یونیورسٹی ہے جس کا بہترین علمی تعارف صدیقی صاحب نے کروایا۔

جامعہ میں اکادمک سطح کے علاوہ انتظامی سطح پر بھی قابلِ قدر کام کیے گئے۔ کئی بلاکس کی رسمِ افتتاح ہوئی۔ ملازمین کی پروموشن اور طلبہ و طالبات کے لیے کئی اچھے اقدامات کی خبریں بھی سنائی دیتی رہیں۔

شاہد صدیقی صاحب نے کچھ عرصے سے کالم نگاری کا آغاز کر رکھا ہے۔ ان کے موضوعات، تہذیب، ماضی آفرینی، تعلیم، ادب، خاکہ نگاری پہ مشتمل ہیں۔ وہ ملکی، سیاسی انتشار اور بے معاشرت سے خود کو ہی نہیں اپنے پڑھنے والوں کو بھی بچاتے ہیں۔ انھوں نے کبھی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے کام نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنا ’ٹے نیور‘ پورا کرکے خوشی سے چلے گئے۔ ان کے کالموں کے موضوعات ہی بتاتے ہیں کہ وہ اپنے قارئین کو تہذیب کی کس دنیا میں خوش آمدید کہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے اساتذہ کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔ آپ خود بھی اپنے اردگرد یا اپنے آپ سے پوچھیے کہ اپنے استادوں کو ہم کتنا یاد کرتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ان کے لیے کسی تحریر کا اہتمام کیا؟یہ شاہد صدیقی جیسا بڑا آدمی ہی ہے جو ماضی آفرینی کے دوران اس راکھ سے چنگاریاں اٹھا لاتا ہے۔

ایک دفعہ نیشنل بُک فائونڈیشن کے سالانہ کتاب میلے میں وہ مجھے دور سے پکڑ لائے اور کہنے لگے کہ جلدی سے اندر آئو اور ہماری ایک تصویر بنائو۔ میں حیران تھا کہ وہ کن کے ساتھ تصویر بنانے کے لیے بے چین ہوئے جا رہے ہیں۔ میں جب کمرے میں داخل ہوا تو وہ آفتاب اقبال شمیم صاحب کو تصویر کے لیے تیار کر رہے تھے۔ میں نے ان کی تصویر بنائی تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔

انھوں نے اپنے کالموں میں اپنے سنئیرز، دوست اور استادوں، جاوید اقبال سید، شیخ سجاد، ماسٹر فضل صاحب، انعام بھائی وغیرہ پہ خوب جذبات سے لکھا۔ لال کرتی، سرسید کالج کی یادیں اور خاص طور پر اپنی والدہ کے لیے ان کی تحریر بہت اداس کر دینے والا مرقع ہے۔

ان کی تحریریں مٹی سے جڑے شخص کا اظہاریہ ہیں۔ وہ شکیل عادل زادہ اور شاکر شجاع آبادی کو یونیورسٹی لانے کے لیے اتنے بے چین نظر آتے جس طرح نام وری کے شوقین بڑے بڑے سیاست دانوں کو بلانے کے لیے بھاگ رہے ہوتے ہیں مگر وہ ادب نواز اور ادب دوست تھے اس لیے انھیں قلم کار ہی اچھے لگتے۔ وہ اکثر یونیورسٹی میں اکیلے گھومنے نکل پڑتے۔ عوامی اجتماعات پہ انھیں اکیلے سفر کرنے میں مزہ آتا۔ ایک دن مجھے وہ ایک بُک شاپ پہ مل گئے۔ انھیں نے کافی کتابیں خرید رکھی تھیں۔ میں جس بُک سٹال پہ موجود تھا میرے کہنے پہ انھیں نے کئی کتابیں اٹھا لیں۔ کتاب پڑھنا ان کا پسندیدہ شوق ہے۔ میں نے انھیں اپنے چند ایک سیشنز میں بطور صدربھی بلایا ہے، ان کی گفتگو ان کے علمی تجربے کا ملخص پیش کرتی ہے۔

تعلیم کی زبوں حالی کا انھیں بہت دکھ پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں ایک ماہر تعلیم کے طور پر نہیں ایک درمند استاد کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ بلوچستان اور دور دراز علاقوں میں تعلیم کے لیے انھوں نے اوپن یونویرسٹی کے پلیٹ فارم کابھی خوب استعمال کیا۔
ٍ
یونیورسٹی کی سوشل سائنس فیلکٹی کی ڈین ثمینہ اعوان نے ان کے لیے یونیورسٹی سے رخصتی کے وقت ایک الوداعی ڈنر کا اہتمام کیا تو میں بھی اس میں شریک تھا۔ سب احباب بڑھ چڑھ کے انھیں الوداع کہہ رہے تھے۔ الوادعی کلمات لکھنے کے لیے جب میرے پاس بُک آئی تو میں کچھ دیر سوچتا رہا کہ میں ان کے لیے کیا لکھوں! پھر میں نے ان کے لیے کچھ نہیں لکھا اور کتاب بند کر کے آگے بڑھا دی۔ کیوں کہ دوست، استاد، رہنما اور خوبصورت ادیب کے لیے الوادعی کلمات نہیں کہے جاتے۔ قلم کا رشتہ سب سے مقدس رشتہ ہے جو کبھی نہ ملنے والوں کے درمیان بھی موجود رہتا ہے اور جو روز ملتے ہوں ان کے درمیان مضبوط تر ہوتا رہتا ہے۔

____خوش آمدید شاہد صدیقی صاحب____

(Visited 41 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20