انسانیت کے لئے تباہ کن نظام: ہم لاعلم کیوں؟ —- جوناتھن کک

0
  • 267
    Shares

عرض مترجم: درج ذیل تحریر ایوارڈ یافتہ برطانوی صحافی جوناتھن کک کے ایک مضمون “Why we’re blind to the system destroying us” کا ترجمہ ہے۔ جوناتھن 2001ء سےمشرق وسطی ٰ میں مقیم ہیں۔ وہ سیاست، مذہب، مشرق وسطی کی مبینہ تشکیل نو اور فلسطین میں جنم لینے والےانسانی حقوق کے المیے جیسے موضوعات پر کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ 2011ء میں انہیں صحافت سے متعلق ’مارتھا گل ہارن‘ انعام ملا۔ اسی سال، ’پراجیکٹ سینسرڈ‘ نامی ادارے نے جوناتھن کی ”اسرائیل غزہ سے مغربی کنارے میں داخلے پر پابندی لگا رہا ہے“ کے موضوع پر رپورٹ کو سال 2009-2010ء کے دوران سینسر شپ کا سامنا کرنے والی اہم ترین رپورٹوں میں شامل کیا۔


تحریر لکھنے کا میرا مقصد کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ اِس کے زریعے میں پڑھنے والوں کو کسی خاص سمت میں سوچنے پر مجبور کروں۔ میری کوشش ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ اقتدار کے مراکز، ہمیں جن باتوں پر یقین کرنے کے لئے قائل کرنا چاہتے ہیں، ہم کم از کم انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی عادت اپنائیں اور اُن پر تب تک یقین نہ کریں جب تک کہ ہمیں اُن باتوں کے ناقابلِ تردید شواہد نہ مل جائیں۔

ہم سب نے یہ محاورے سن رکھے ہیں کہ ”علم بڑی طاقت ہے“ اور ”طاقت بدعنوانی کی راہ دکھاتی ہے اور مطلق طاقت سراسر بدعنوان بناتی ہے۔“ یہ مختصر اور بامعنی وعظ بھرے جملے اس لئے اہم ہیں کہ یہ دنیا کو دیکھنے کے ہمارے زاویہء نگاہ کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ افراد جو کہ کسی بھی قسم کی طاقت اور اختیار (چاہے وہ کتنا ہی محدود اور مُستعار کردہ ہو) کےمالک ہوتے ہیں، اکثر اِس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ طاقت اور اختیار کا یہ غلط استعمال کبھی لا شعوری اور غیر محسوس انداز میں ہوتا ہے اور کبھی واضح اور ارادی طور پر۔

اگر ہم مناسب حد تک خود شناس ہوں تو ہم اپنے آپ میں موجود طاقت کے غلط استعمال کی استعداد کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ چاہے اس کا تعلق جیون ساتھی کے ساتھ ہمارے رویے سے ہو یا پھر ہمارے بچوں، دوستوں، ملاِزم سے ہو یا پھر زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے سماجی رتبے اور تعلقات کے استعمال سے ہو۔

طاقت کا یہ استعمال عام طور پر غیر ارادی اور بدنیتی سے پاک ہوتا ہے۔ معروف اصطلاح میں دنیا کا سب سے مشکل کام اپنی نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی کمزوریوں کو پہچاننا ہوتا ہے۔ جو لوگ پیدائشی اور خاندانی اعتبار سے طبقاتی، صِنفی یا نسلی برتری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، اُن کے لئے یہ ماننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ انہیں سماجی اعتبار سے، بغیر کسی محنت کے، طاقت اور کامیابی تک براہ راست رسائی میسر ہے۔ بہرحال، انفرادی سطح پر طاقت کی یہ تمام شکلیں اقتدار کے حامل ڈھانچوں، جیسا کہ مالیاتی (بینکنگ) سیکٹر، ملٹی نیشنل کمپنیوں، میڈیا، سیاسی جماعتوں اور دفاعی اداروں کی مجموعی طاقت کے مقابلے میں انتہائی کمتر حیثیت رکھتی ہیں۔

لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ہم انفرادی سطح پر طاقت اور اختیار کے غلط استعمال کو تو فورا پہچان لیتے ہیں لیکن طاقت کے مرکزی ڈھانچوں اور ریاستی اداروں کے مجرمانہ استحصال سے خوفناک حد تک لاتعلق رہتے ہیں۔ ہم درسگاہ میں پڑھانے والے استاد یا ایک سیاستدان کو تو اپنی طاقت کے کے غلط استعمال پر خوب برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اس تعلیمی اور سیاسی نظام پر تنقید کی جرات کم ہی کرتے ہیں جس میں یہ (استاد اور سیاستدان) کام کررہے ہوتے ہیں۔

اسی طرح ہم ریوپرٹ مرڈوک (میڈیا انڈسٹری کا بڑا اور طاقتور ترین نام جو فاکس ٹی وی سمیت بیسیوں نشریاتی اداروں کا مالک ہے) کی بے انتہا انفرادی طاقت کو تو خوشی خوشی پہچان لیتے ہیں، لیکن اس کارپوریٹ سلطنت کے وجود سے لاعلم رہتے ہیں جس کی سرپرستی میں اِس طرح کے افراد ذاتی دولت اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اِس سب سے بڑھ کریہ کہ ہم نظریاتی سطح پر موجود اُس فکری ڈھانچے کو محسوس کرنے سے عاری ہیں جو طاقت کی اِن تمام انفرادی اور اجتماعی شکلوں کو باہم مربوط اور منظم کرتا ہے۔

بیانیے پر اجارہ داری:-
یہ بات سمجھنا نسبتا ًآسان ہے کہ آپ کا مینجر آپ کے خلاف اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ اُس کی طاقت انتہائی محدود ہونے کے باوجود واضح ہوتی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر آپ کی اور آپ کے اردگرد موجود چند افراد کی ذات پر پڑ رہا ہوتا ہے۔ لیکن جس کمپنی میں آپ ملاِزم ہیں، اُس کی استحصالی پالیسیوں، جن میں تنخواہوں، اوور ٹائم اور سہولتوں میں کمی اور یونین سازی کے راستے میں مشکلات پیدا کرنا شامل ہیں، کو پہنچاننا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ ہم لوگ یہ بات بھی نظر انداز کررہے ہوتے ہیں کہ ہمارا مینجر اپنے ذاتی فائدے کی بجائے کمپنی کے منافعوں میں اضافے کے لئے ڈانٹ رہا ہوتا ہے اور ہم سے زیادہ سخت ڈانٹ وہ اپنے سے بالا نظم یا کمپنی کے مالک سے کھا رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ سب نہ کرے تو اگلے ہی دن اُسے کمپنی سےفارغ کردیا جائے گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم اپنے مینجر سے تو نفرت کر رہے ہوتے ہیں لیکن کمپنی کے مالک کو (جو مینجر کے برے رویے کا اصل ذمہ دارہے) اپنا آئیڈیل بنا رہے ہوتے ہیں۔

نیو لبرل نظریات کی حامل موجودہ عالمی اشرافیہ مُطلق العنان اقتدار کی اُس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں انسانی تاریخ میں آج تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکا، اور چونکہ طاقت، وسائل اور اختیارت پر اُن کی اجارہ داری تقریبا حتمی ہے، اسی لئے ریاستی بیانیوں اور ہمارے دشمنوں کی تشکیل پر بھی انہیں مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ اِن فرضی دشمنوں کی اکثریت اُن ممالک اور جماعتوں پر مشتمل ہے جو اِس اشرافیہ کے عالمی غلبے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

اِسی طرح رابرٹ میکس ویل (سابقہ برطانوی پارلیمنٹیرین اور میڈیا انڈسٹری کا بے تاج بادشاہ جس نے لوگوں کی پنشن کے کروڑوں ڈالر غیر قانونی طور پر اپنی کمپنیوں کے منافع کے لئے استعمال کئے) اور رچرڈ نکسن (سابقہ امریکی صدر جس کے دور ِحکومت میں جنوبی امریکہ کے ملک چِلی میں جنرل پنوشے کی آمرانہ حکومت قائم کروائی گئی اور جسے 1974ء میں واٹر گیٹ سکینڈل کی زد میں آکر استعفی دینا پڑا) کی کرپشن کی کہانیوں کے مقابلے میں ریاستی اداروں کی اجتماعی بے راہ روی اور لاقانونیت کو پہچاننا زیادہ مشکل کام ہے۔ لیکن یہ ادراک حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہے کہ جھوٹ اور بدعنوانی اِس سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کی فطرت اور نظریاتی بنیاد میں شامل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بیان کیا گیا تھا کہ مُطلق طاقت کا انحصار علم پر مکمل اجارہ داری پر ہے اور اِسی اجارہ داری کا حصول وسیع ترین بدعنوانی کو جنم دیتا ہے۔

معاشروں میں حقیقی طاقت شخصیات کی بجائے ریاستی بیانیوں، آئیڈیالوجی اور اداروں سے جنم لیتی ہے۔ مرڈوک، ٹرمپ یا کوئی بھی اور شخصیت ان ڈھانچوں کے سامنے معمولی سی حیثيت بھی نہیں رکھتی۔ اِن شخصیات کو تب تک ہی برداشت کیا جاتا ہے جب تک کہ یہ طاقت کے مراکز سے وفادار رہتے ہیں۔ کسی بھی حکم عدولی یا انحراف کی صورت میں انہیں ٹشو پیپر کی طرح اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

نیو لبرل نظریات کی حامل موجودہ عالمی اشرافیہ مُطلق العنان اقتدار کی اُس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں انسانی تاریخ میں آج تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکا، اور چونکہ طاقت، وسائل اور اختیارت پر اُن کی اجارہ داری تقریبا حتمی ہے، اسی لئے ریاستی بیانیوں اور ہمارے دشمنوں کی تشکیل پر بھی انہیں مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ اِن فرضی دشمنوں کی اکثریت اُن ممالک اور جماعتوں پر مشتمل ہے جو اِس اشرافیہ کے عالمی غلبے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

سکرپلز سے متعلق کامل خاموشی:-
طاقت اور معلومات پر عالمی اشرافیہ کی اجارہ داری کو سکرپل خاندان کے واقعے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرجیو سکرپل ایک روسی نزاد برطانوی جاسوس ہے جسے 2006ء کے دوران روس میں دس سال قید کی سزا سائی گئی تھی۔ (2010ء میں قید شدہ جاسوسوں کے تبادلہ پروگرام کے دوران سکرپل کو رہائی ملی۔ سرجیو سکرپل روس او ر برطانیہ کی دوہری شہریت رکھتا ہے اور آج کل برطانیہ میں مقیم ہے۔) 4 مارچ 2018ء کو سکرپل اور اس کی بیٹی کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی لیکن اتفاق سے دونوں باپ بیٹی اس حملے میں بچ گئے اور علاج معالجے کے بعد اب ہسپتال سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اِس واقعے میں برطانوی سیاستدانوں اور میڈیا ہاؤسز نے سی سی ٹی وی کیمرہ کی مدد سے الیگزینڈ پیٹروو اور رسلان بوشیروو نامی دو روسی افراد کو نامزد کیا اور ان پر سرجیو سکرپل اور اس کی بیٹی یولیا سکرپل کو کیمیائی مواد دے کر قتل کرنے کی کوشش کا الزام لگا گيا۔ (اس واقعے کے بعد برطانیہ اور اس کے ہم خیال اٹھائیس دیگر ممالک کے روس کے ساتھ تعلقات کشیدگی اختیا رکرگئے اور مجموعی طور پر 153 روسی سفارت کاروں کو مختلف ممالک سے بے دخل کردیا گیا۔ روس نے اپنے اوپر عائد تمام تر الزامات کی پرزور تردید کی۔)

میڈیا کیسے ہماری رائے کو ایک خاص سمت میں مرکوز کرتا ہے، اِس بات کو سمجھنے کے لئے ہم سی سی ٹی وی کیمرہ میں پکڑے گئے اُن دو افراد سے متعلق تشکیل کردہ بیانیے کو پیش کرسکتے ہیں جنہیں ہمارا میڈیا اور سیاستدان سرجیو سکرپل اور اس کی بیٹی یولیا پر مارچ 2018 میں کیمیائی مواد کے زریعے قاتلانہ حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ الیگزینڈر پیٹروو اور رسلان بوشیروو روسی ایجنسیوں کے لئے کام کرتے ہیں یا نہیں یا پھر انہیں ولادی میر پیوٹن نے ایک خفیہ مشن پر سکرپلز کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا یا نہیں۔ لیکن یہ بات واضع ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں، برطانوی کارپوریٹ میڈیا کو اپنی پسند کا بیانیہ فراہم کرتی رہیں اور میڈیا نے کسی مقام پر بھی اس بیانیے کی حقانیت کا جائزہ لینے میں دلچسپی ظاہر نہ کی۔ کارپوریٹ میڈیا اور اس کے گاہک، یعنی ہم عوام اس سارے معاملے میں مکمل طور پر غیر فعال اور مجہول رہے۔

اگر آپ ایک باراشرافیہ کے وفادار کارپوریٹ میڈیا کے تخلیق کردہ منظر نامے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں اور کریگ مرے جیسے آزاد فکر اور کسی زمانے میں گھر کے بھیدی رہنے والے صحافی کی رائے سے واقفیت حاصل کریں تو آپ کے ذہن میں کارپوریٹ میڈیا کے تخلیق کردہ بیانیہ سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوجائیں گے۔ سن2002ء سے سن 2004ء تک ازبکستان میں برطانوی سفیر رہنے والے کریگ مرے نے اس واقعے سے متعلق تخلیق کردہ بیانیے پر سنجیدہ سوالات قائم کئے ہیں۔ یہ اعتراضات چاہے درست ثابت ہوں یا غلط، لیکن موجودہ صورت حال میں، جبکہ حقائق تک پہنچنے کا واحد زریعہ خفیہ ایجنسیوں کی چھانٹی کردہ معلومات ہیں، کسی بھی سنجیدہ صحافی کو تمام تر معاملے کو تحقیقانہ شک و شبے کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ تاہم، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ان سوالات و اعتراضات پر تفتیشی عمل کو آگے نہیں بڑھایا جاتا، بلکہ طاقتور طبقات کے مفادات اور احتسابی عمل سے فرار کی کوششوں کو بے نقاب کرنے والے افراد کی آراء کو فوراً ”سازشی نظریات میں یقین رکھنے والا“ یا پھر ”پیوٹن کا وفادار“ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سنجیدہ تنقید اور اعتراضات کا منطقی رد پیش کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ بہت سے سوالات، مثلا یہ کہ سکرپل خاندان اور حملہ آوروں کی حرکات و سکنات پر مبنی سی سی ٹی فوٹیج میں اتنی کمزوریا ں کیوں موجود ہیں، کا تبھی جواب دیا جاسکتا ہے اگر کارپوریٹ میڈیا اور ریاستی اداروں اس عمل میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ سنجیدہ مکالمے سے انکار اور مخالفین کی کردار کشی یہی ثابت کرتی ہے کہ طاقتور ادارے اور شخصیات اپنے آپ کو مخفی اور احتساب سے بالاتر رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے نزدیک فرضی اور جھوٹے بیانیے کی تشکیل سچائی اورحقائق کی تلاش سے زیادہ اہم اور فائدہ مند ہے۔ یہی وجہ کافی ہے کہ ہم ہر تخلیق کردہ بیانیے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اِس سے متعلق سوالات کو قائم کرنے کا رویہ اپنائیں۔

سکوت زدہ تالاب میں لہروں کا ارتعاش:-
اہل صحافت کا طاقت کے مراکز کے ساتھ تعلق، عام طور پر غیر انفعالی (مفاہمتی) ہوتا ہے لیکن تاثر یہی پیش کیا جارہا ہوتا ہے جیسے یہ لوگ عوامی مفاد کے انتھک اور نڈر محافظ ہیں۔ بیانیے پر حاکمیت سے زیادہ اہم وہ نظریہ (آئیڈیالوجی) ہوتی ہے جو ان بیانیوں کو رخ دے رہی ہوتی ہے۔ آئیڈیالوجی اِس اَمر کو یقینی بناتی ہے کہ طاقت کا ڈھانچہ نہ صرف اُن سے پوشیدہ رہے جِن کا اس نظام کے زریعے استحصال کیا جارہا ہوتا ہے، بلکہ بیشتر اوقات نظام سے فائدہ اٹھانے والے طبقات بھی اِس ڈھانچے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ طاقت کا دائمی ارتکاز افراد کی بجائے فکر و فلسفہ (آئیڈيالوجی) اور اُس پر مبنی ڈھانچوں میں وجود رکھتا ہے جس کا مشاہدہ کرنا انتہائی مشکل عمل ہے۔ ہمارے معاشروں میں موجود بیانیوں کو شخصیات کے گرد تخلیق کیا جاتا ہے تاکہ طاقت سے متعلق نظریات اور اُن پر مبنی عملی ڈھانچوں کو پوشیدہ رکھا جاسکے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے اخبارات اور ٹی وی شوز انفرادی واقعات، اہم شخصیات، شاہی خاندانوں، مجرموں اورسیاستدانوں سے متعلق کہانیوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ اِن سب کو غیر ضروری اہمیت اور تشہیر دینے کے پیچھے یہی مقصد کار فرما ہوتا ہے کہ ہم اُن نظریاتی ڈھانچوں اور عملی اداروں کی طرف متوجہ نہ ہوسکیں جو ہماری زندگی میں تمام عوامل کو تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔ خبریں اور تفریح تالاب میں پیدا ہونے والی لہروں کی طرح ہیں، لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ان لہروں کا وجود تالاب کا ہی مرہون منت ہے۔

سکرین کے بالکل سامنے کھڑے ہونا:-
اگر یہ بات آپ کو مبالغہ آرائی لگ رہی ہے تو آئیے کچھ دیرکے لئے اپنے موجودہ نظریاتی نظام یعنی نیو لبرل اِزم سے کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور اِس امکان کو قبول کریں کہ ماضی میں موجود نظریات کا مطالعہ، موجودہ مسائل کو بہتر تناظر میں سمجھنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔ فی الحال تو ہمارا حال اُس شخص کی طرح ہے جو آئی میکس سینما کی سکرین کے اتنے قریب کھڑا ہے کہ اسے یہ احساس بھی نہیں ہے کہ اس کے سامنے کوئی سکرین اور اس پر نظر آنے والی مکمل تصویری فلم بھی موجود ہے۔ سکرین کے اتنا قریب ہونے کی وجہ سے اسے صرف متحرک رنگ اور پکسل ہی نظر آرہے ہیں اور وہ ان حرکت پذیر رنگوں کے زریعے کسی چہرے، سواری کے پہيے یا بندوق کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہا ہے۔ (انسانی آنکھ کی بناوٹ کچھ اس طور پر ہوئی ہے کہ کسی بھی چیز کو مکمل طور پر دیکھ پانے کے لئے اس چیز کو کم از کم 25 سینٹی میٹر دور سے دیکھنا پڑتا ہے۔ طبیعات کی زبان میں اس فاصلے کو ”واضع بصارت کا کم سے کم فاصلہ“ کہا جاتا ہے۔)

نیو لبرل اِزم سے پہلے بھی انسان ديگر نظاموں کے ماتحت زندگی گزارت رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماضی میں انسانی معاشروں پر جاگیرداری نظام کا غلبہ تھا جس نے جاگیر پر قبضے کے ذریعے ایک مخصوص طبقے کے سیاسی غلبے کی راہ ہموار کی۔ عوام کو دن رات زمینوں پر محنت کے عوض محض چند پھوٹے کوڑے سکے ديے جاتے تھے تاکہ ان کی محنت سے پیدا شدہ محلات کی شان و شوکت، مذہبی طبقے کی سماجی طاقت، عالیشان عمارتیں، آرٹ و کلچر اور فوجی ساز و سامان پیدا کیا جاسکے۔ اِس اقلیتی اشرافیہ کی طاقت و اقتدار کو صدیوں تک کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

لیکن پھر کاروباری نودولتیوں کا ایک طبقہ ابھرا جس نے جاگیردارانہ اشرافیہ کی اجارہ داری کو جدید ذرائع پیداوار کے زریعے چیلنج کیا۔ اُنہوں نے فیکٹریاں میں اشیاء کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو ممکن بنا کر پیداواری لاگت کو گھٹایا اور بے پناہ منافع کمایا۔ پیداوار اور منافعوں کے اس اضافے نے مراعات یافتہ طبقے کے دائرے کو وسیع کیا اور ایک نئے متوسط طبقے (مڈل کلاس) کو وجود بخشا۔ صنعتی اشرافیہ اور اپنے آقا کے چھوڑے ہوئے باسی ٹکڑوں پر پلنے والی مڈل کلاس نے فیکٹریوں میں کام کرنے والے کمسن بچوں اور دیہات سےشہروں کا رخ کرنے والے مزدوروں، جو گٹھن اور تعفن زدہ رہائش گاہوں میں رہنے پر مجبور تھے، کی محنت پر اپنی عیش و عشرت کی زندگی قائم کی۔

یہ اَدوار منظم بدعنوانی پر مبنی تھے جو سیاسی اور معاشی اشرافیہ کو اپنی طاقت کو وسعت اور استحکام فراہم کرنے کے قابل بناتے تھے۔ ہر دور کی اشرافیہ استحصال ذدہ طبقات کے ذہنوں میں اپنی قبولیت پیدا کرنے کے اور ظلم و استحصال پر مبنی نظام کو فطرتی اور کمزور لوگوں کے لئے مفید ثابت کرنے کے لئے مختلف طرح کی توجیہات گھڑتی رہی ہے۔ بادشاہی نظام بادشاہ کو خدا کا نمائندہ بنا کرپیش کرتا تھا جبکہ سرمایہ داری نظام میں منڈی کے ”خودکار انصاف“ اور ”مواقع کی مساوات“ کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ آنے والے سو سالوں میں، اگر ہم بطور نوع انسانی کے بچ پائے، تو موجودہ سرمایہ داری نظام شاید ماضی کے نظاموں سے زیادہ بدعنوان نظر آئے گا۔

نیولبرل اِزم، یعنی سرمایہ داریت کی ناقابل اصلاح شکل یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کا طبقاتی اقتدار، آپ اِسے جو بھی نام دے لیں، اِس نظام نے ایک محدود ترین اقلیت کو لامحدود دولت اور طاقت کے ارتکاز کا مالک بنا دیا ہے جِس کا جاگیرداری دور کا کوئی شہنشاہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اور چونکہ اِس اشرافیہ کا دائرہء اثر پورے کرہ ارض پر محیط ہے، اِس لئے اِس کی بدعنوانی اور استحصال بھی زیادہ وسیع، ہمہ گیراور مہلک ہے جس کی اِس سے پہلے انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسی پر قابض سیاسی اور معاشی اشرافیہ اِس کرہ ارض کو جوہری ہتھیاروں کے زریعے کئی مرتبہ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک عالمی کارپوریٹ اشرافیہ سمندروں کو ہمارے استعمال کردہ کوڑے کرکٹ سے بھر رہی ہے، پام اور دیگر درختوں کے جنگلات، جو کہ ہمارے سیارے کے لئے پھیپڑوں (انسانی جسم میں ہوا صاف کرنے والے اعضاء) کا کام کرتے ہیں، کو اتنہائی تیزی سے کاٹا جارہا ہے تاکہ بسکٹ اور کیک کے لئے ہماری شہوت کو تسکین دی جاسکے۔ جاسوسی ایجنسیاں اور ہمارا میڈیا، جس میں ہالی وڈ کی فلمیں اور روزانہ نشر ہونے والے حالاتِ حاضر کے پروگرام بھی شامل ہیں، مشترکہ طور پر خلائی مخلوق اور جیمزبونڈ کی فلموں میں موجود وِلن جیسے ناگہانی آفات پر مبنی بیانیے عوام کے ذہنوں میں انڈیلنے میں مصروف ہیں تاکہ ہمیں خوفزدہ اور فرمانبردار رکھا جاسکے (اور ہماری توجہ ثانونی یا غیر ضروری موضوعات پر مرکوز رہے)۔

متبادل کی عدم موجودگی کا گمان:-
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو حاصل شدہ اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بیشتر اوقات یہ عمل نیک نیتی پر مبنی ہوتا ہے۔ ہم اپنی اولاد کو ڈانٹ کر یا جسمانی زدوکوب کرنے کے بعد اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ ایسا کرنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ وہ شرارتی اور نافرمان بنتے جارہے ہیں۔ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہم نے آغاز سے ہی اپنے بچوں کے ساتھ گفت و شنید، دلائل اور ایک دوسرے کو قائل کرنے کی بجائے طاقت کے ذریعے معاملات حل کرنے کا رویہ اپنایا ہے اور لاشعوری طور پر انہیں سکھایا ہے کہ زور زبردستی اور طاقت کا استعمال والدین کا اَبدی اور اخلاقی حق ہے۔

نسبتاً زیادہ طاقت کے حامل افراد، جن میں میڈیا انڈسٹری کے مدیر اور تجزیہ کار سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلی افسران شامل ہیں، بیشتر اوقات والدین کی طرح ہی اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ نیولبرل سیاسی و معاشی نظریات اور سرمایہ داریت کے فطرتی اور ناقابل متبدل ہونے کے دعوے کو چیلنج کرنے سے اِسی طرح قاصر ہوتے ہیں جس طرح معاشرے کا ایک عام فرد ہوتا ہے۔

”میڈیا لنز“ نامی ادارے سے منسلک ڈیوڈ کروم ویل اور ڈیوڈ ایڈورڈز نے میڈیا کے تناظر میں دو مثالیں پیش کی ہیں، جن کے زریعے واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح مختلف افراد، گروہ اور ادارے لاشعوری طور پر ہئیتِ مقتدرہ اور طاقت کی بنیاد پر قائم نظاموں کی مدد اور اُنہیں مضبوط کرتے ہیں۔ بیشتر اوقات، وہ اس امر سے مکمل طور پر لاعلم ہوتے ہیں کہ وہ ایک ایسے نظام میں حصہ دار اور شریک ِکار ہیں جو اس کرہء ارض کے لئے عموماً اور انسانیت کے لئے خصوصاً نقصان دہ ہے۔

پہلی مثال: مچھلیوں کا ایک غول جب پانی میں اپنی سمت کو دفعتا ًبدلتا ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سمت کی یہ تبدیلی مچھلیوں کی راہنمائی کرنے والی ایک قوتِ محرکہ کا نتیجہ ہے۔ یہی حال ایک سرمایہ دارانہ ریاست کے ماتحت لامحدود منافع کو بڑھانے کے خواہشمند میڈیا ہاؤسز میں کام کرنے والے صحافیوں کا ہوتا ہے۔ انہیں بھی جب کسی خاص سمت میں ہانکا جاتا ہے، تو وہ دریا میں تیرتی مچھلیوں کی طرح فوراً اپنی سمت تبدیل کرلیتے ہیں۔

دوسری مثال: ایک ہموار سطح پر لکڑی کا بنا چوکور ڈبہ رکھیں اور اس کے اندر بال بئیرنگ، ٹینس بال، سنگ مرمر اور مختلف گول اشیاء ڈالتے جائیے۔ کچھ گیندیں اچھل کر باہر نکلیں گی لیکن زیادہ تر اشیاء ڈبے کے اندر تہ در تہ بیٹھنے لگیں گی اور بالآخر ڈبے کے اندر اہرام (Pyramid) کی شکل بن جائے گی۔ یہ تجربہ ہمیں بخوبی سمجھاتا ہے کہ اگر آپ ایک سیاسی اور معاشی عمل متواتر کرتے رہیں تو کیسے غیر ارادی طور پر مختلف طبقات اور طاقت کےمراکز پیدا ہونے لگتے ہیں۔

نظام چاہے جاگیرداری کا ہو، سرمایہ داری کا ہو یا پھر نیولبرل نظام ہو، درحقیقت اُن شخصیات اور گروہوں کی زمینی حقائق کی روشنی میں کی گئی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن کا واحد مقصد بے رحم مقصد طاقت کا حصول ہو۔ ایک زمانے میں، جب زمین پیداوار کا بنیادی زریعہ تھی، تو ایک ایسا طبقہ (جاگیردار) وجود میں آیا جس نے زمین پر اپنی ملکیت اور قبضے کے حق میں قانونی، مذہبی اورعقلی دلائل اور جواز تراشے۔ ساتھ ہی ایک ایسے طبقے (کسان) کی موجودگی پر اصرار کیا جو اس زمین پر محنت کرکے پیداوار فراہم کرسکے۔ اسی طرح صنعتی انقلاب کے بعد جب سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوا، تو ایک ایسا طبقہ (تاجر/سرمایہ دار) وجود آیا جس نے صنعتی وسائل اور علوم پراپنی قانونی اجارہ داری اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لئے ایک دوسرےطبقے (یعنی مزدور) کی موجودگی کے لئے عقلی اور مذہبی دلیلیں تراشیں۔

طبقاتی نظام میں ہمارے مقام کا تعین:-
اس صورت حال میں ہمیں ڈارون کے نظریہ ارتقاء میں بیان کردہ ”طاقتور ترین کی بقاء“ کے اصول کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وہ محدود اقلیت جو کہ طاقت اور وسائل پر قبضے کی لامتناہی حوس، بدترین بے رحمی اور اپنے سے کمزوروں کا استحصال کرنے پر یقین رکھتی ہے، وہی اس طبقاتی ڈھانچے کی چوٹی تک پہنچ پاتی ہے۔ یہ اقلیت اِس استحصال کو جواز بخشنے کے لئے معاشرے میں موجود طبقاتیت کو خدائی تقسیم (یعنی خدا نے رزق تقسیم کرتے وقت کسی کو امیر اور کسی کو غریب بنا دیا ہے)، اُن کی ذہانت اور محنت کا نتیجہ اور ایک شفاف اور منصف مزاج مارکیٹ کی فرمانروائی قرار دیتے ہیں۔ (آج بھی زوال پذیر اور پسماندہ معاشروں میں سرمایہ داری اور جاگیرداری نظام کے تحت ہونے والے ظلم اور استحصال کو مذہبی پیشواؤں اور دانشوروں کے زریعے خداکی تقسیم اور عین فطرت ثابت کیا جاتا ہے۔)

اس بالائی سطح کے نیچے وہ لوگ (مڈل کلاس) موجود ہوتے ہیں جو کہ اعلی طبقات کی طاقت بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ مڈل کلاس لوگ اُن صلاحیتوں، تعلیم اور سماجی روابط کے حامل ہوتے ہیں جو اشرافیہ کے برانڈز کو بیچنے اور ان کے منافعوں میں اضافے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

طاقت کا یہ سارا کھیل انتہائی عام فہم ہے۔ آخر ہم سب بھی تو اپنی زندگیوں میں محدود طاقت کے اسی طرح کے مظاہرے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر طاقت کی کمتر مقدار اپنی حدود سے تجاوز کررہی ہوتی ہے تو لامحدود طاقت الگ سے برتاؤ کیوں کرے گی! بالفرض طاقت کے ڈھانچے کی چوٹی پر موجود لوگ طاقت کے مریضانہ حد تک حریص نہ ہوتے، اور اس کے برعکس انسان دوست، ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے، اپنے ملاِزمین اور اس کرہءارض یعنی ہمارے سیارے کی بہتری سوچنے والے ہوتے، تو وہ میڈیا اور اسلحہ بنانے والی سلطنتوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی بجائے سماجی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی شعور بیدار کرنے والے کارکنوں کے طور پر زندگی گزار رہے ہوتے۔

اگرآپ اپنی سیاسی بصیرت اور دنیا کو دیکھنے کے انداز کو اِن واضع سچائیوں پر قائم کریں گے اور طاقتور ترین طبقات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھیں گے (کیونکہ یہی طبقات طاقت کے بدترین استعمال کا اختیار اور خواہش رکھتے ہیں)، تو آپ کو حقارت آمیز تمسخر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کو سازشی نظریات اور خیالی دنیا میں رہنے والا کہا جائے گا۔ آپ کو انگور کھٹے ہونے، احساس کمتری کا شکار، امریکا کا مخالف، ایک جھگڑالو، ماضی پرست، اسرائیل مخالف، مغربی تہذیب کا مخالف، روسی صدر پیوٹن اور بشار الاسد کا حامی یا مارکسسٹ ہونے کا طعنہ دیا جائے گا۔

اور اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ طاقت کا نظام اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جب میڈیا، سیاستدانوں اور تعلیمی نظام آپ کے ماتحت ہو تو مخالفین کے دلائل کا منطقی جواب دینے کی بجائےانہیں حقارت سے ”مخبوط الحواس“ قرار دلوادینا زیادہ آسان اور بااثر کام ہوتا ہے۔

درحقیقت، یہ بہت اہم ہے کہ کسی بھی تبادلہ خیال یا حقیقی بحث کو وقوع پذیر ہونے سے روکا جائے، کیونکہ جس لمحے ہم مختلف دلائل کو شعوری اور تنقیدی انداز میں تولنا شروع کرتے ہیں، عین اُس لمحے یہ امکان پیدا ہونے لگتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے آگے موجود پردے غائب ہونے لگیں گے۔ ایسے میں یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ ہم سکرین سے پیچھے ہٹ کر مکمل تصویر دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔

کیا ہم سالیسبری میں سکریپل کو ذہر دینے والے معاملے یا پھر ٹرمپ کی صدر امریکہ بننے کو، یا پھر یوکرین میں آنیوالی سیاسی تبدیلی کو، یا شام، اور اس سے پہلے لیبیا اور عراق، میں ہونے والی قتل و غارت گری کے اسباب و محرکات کو، یا لیبر پارٹی کے راہنما جیرمی کوربین کو بدنام کرنے کی مہم کو یا پھر ایک دہائی قبل آنیوالے بینکنگ سیکٹر کے بحران کی مکمل تصویرکو اپنے درست سیاق و سباق میں دیکھ سکتے ہیں؟

اخلاقی اقدار کی جگہ منافع کے حصول کی بالادستی:-
جس طرح جاگیردار اشرافیہ کے اعمال و کردار اخلاقیات کی بجائے زمین پر قبضے کے زریعے طاقت اور دولت کی لامتناہی حوس کے ماتحت ترتیب پاتے تھے، اور جس طرح ابتدائی سرمایہ دار اشرافیہ کی تگ ودو کا محرک اخلاقی اقدار کی بجائے مشین پر قبضے کے زریعے طاقت اور دولت کا حصول تھا، اسی طرح نیو لبرل اِزم بھی کسی اخلاقی قیدوبند کی بجائے پورے کرہء ارض پر کنٹرول اور حاکمیت کے زریعے دولت اور طاقت حاصل کرنے پر یقین پر رکھتا ہے۔

دور حاضرکی واحد سچائي یہی ہے کہ مغربی سیاسی و معاشی اشرافیہ اپنی طاقت اور اثر پذیری کو مکمل طور سے پورے کرہء ارض پر نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اِسےآپ یا آپ کی آنے والی نسلوں کی بھلائی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ ایک جابر اور بے حِس نظام ہے جس میں احساس اور ہمدردی نام کی کوئی شئے موجود نہیں ہے۔ اِس کا واحد مقصد لامحدود دولت کا ارتکاز ہے چاہے ہمارے کرہ ءارض کو آنے والے سالوں میں اِس کی انتہائی خوفناک قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

یہی وجہ ہے کہ جو بھی فرد، گروہ یا ریاست اِس کی مکمل اجارہ داری کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گي، یہ نظام اسے بدنام، ناکام اور تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا۔

کسی سیاستدان کی تقریر سنتے وقت، اخبار کا مطالعہ کرتے ہوئے، کوئی فلم یا ٹی وی شو دیکھتے وقت، کسی اشتہار کو اپنے دل و دماغ میں جذب کرتے ہوئے یا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے اگر درج بالا اصول کو اپنی دماغی ترجیحات میں اہم ترین پوزیشن نہیں دیں گے، تو غالب امکان یہی ہے کہ ہم ایک ایسے مستقبل میں قدم رکھیں گے جسے اِس محدود ترین اقلیت نے ڈیزائن کیا ہے جو کہ انتہائی طاقتور، بے حد سفاک اور عام انسانوں کے حوالے سے مکمل طور پر لاتعلق اور بے حِس ہے۔

ایک قدم پیچھے ہٹائیے اور منظر نامے کو اپنی کاملیت میں دیکھنے کی کوشش کیجئیے۔ پھر سوچیئے کہ کیا واقعی یہ وہی مستقبل ہے جو آپ اپنی آنے والی نسلوں کو دینا چاہیں گے؟

(Visited 123 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: