ایک نئے مکالمہ کی ضرورت ——- سلمان عابد

0
  • 18
    Shares

پاکستان عملی طور پر ایک نئے مکالمہ کا تقاضہ کرتا ہے۔ ایک ایسی ریاست اور حکمرانی کانظام جو اپنے اندر کئی طرح کے سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی تضادات رکھتا ہو اور جہاں علمی اور فکری طور پر ایک بڑا ٹکراو ہو اس میں افہام تفہیم کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں جو اس وقت جو بڑی تقسیم ہے اس نے معاشرہ کو مجموعی طور پر انتشار کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دوسری جانب طاقت کے مراکز کے درمیان جو باہمی ٹکر او ہے اس نے بھی ادارہ جاتی سطح پر کئی طرح کی مشکلات پیدا کر رکھی ہے۔ بنیادی طور پرکسی بھی معاشرے میں حکمرانی کا نظام اپنے سیاسی، سماجی، جمہوری، آئینی اور انتظامی ارتقائی عمل اور عوامی اور ریاستی مفادکو سامنے رکھ کر خود کو زیادہ موثر، شفافیت و جوابدہی کے ماتحت کرتا ہے۔ تاکہ اس کی سیاسی ساکھ ہر سطح پر قائم رکھی جاسکے۔

ہمارا مسئلہ عوام حکومت اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ اس خلیج نے عملی طورپر ریاست, عوام اور حکومت کے درمیان ایک ایسی بداعتمادی کی فضا قائم کی ہوئی ہے کہ تمام فریقین ٹکراو کی سیاست کا شکار ہیں۔ ہر ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ کہ اس کی ناکامی کی وجہ وہ خود نہیں بلکہ دیگر ادارے ہیں جو اپنی سیاسی اور آئینی حدود سے تجاوذ کرکے نظام میں مداخلت کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سوچ اور فکر عملی طور پر ریاستی و حکومتی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ کوئی بھی نظام جامد نہیں ہوتا۔ اس میں نئی نئی تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لیے جب بھی نظام میں بہتری کے لیے کوئی نئی بحث سامنے آتی ہے یا کوئی فرد یا ادارہ نئی تجویز کو مباحثہ کے لیے پیش کرتا ہے تو اس پر فوری طور پر دروازہ بند کرنے کی بجائے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نئی بحث یا نئی فکر پر مکالمہ کی بجائے اس میں سازشی تھیوریوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ عمومی طور پر نظام میں بہتری اور نئی بحثوں کی گنجائش کو محدود کرتا ہے۔ مکالمہ کا بنیادی جز کھلا ذہن ہوتا ہے اور جب تک ہم نئی بحثوں کے لیے اپنے دلوں کو کشادہ نہیں کریں گے تو نیا علم اور نئی طرز کی حکمرانی کے نظام میں تبدیلیوں کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

اس وقت طاقت کے مراکز میں جو ٹکراو ہے اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ ایک نئے مکالمہ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک تجویز نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے موجودہ حالات میں بگاڑ کے تناظر میں پیش کی ہے۔ ان کی تجویز ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ملک میں جمہوریت بھی او رجمہوری حکمرانی بھی۔ پارلیمنٹ کی موجودگی میں اس طرز کی تجویز کو بہت سے لوگ سیاسی حدود قیود سے باہر سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ایک بڑا طبقہ کے بقول جو بات چیف جسٹس نے کی ہے وہ معروضی حالات میں ایک بہتر تجویز ہے اور اس کو آگے بڑھانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے اس طرز کی تجویز پر کون پہل کرے گا یا بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

چیف جسٹس کے بقول صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی سربراہی میں پارلیمانی، عدالتی، انتظامی قیادت بشمول فوج اور ایجنسیوں کے درمیان ریاستی و حکومتی امور چلانے کے لیے عملی پالیسی فریم ورک بنانے، باہمی اعتماد کو پیدا کرنے، آئین کی حکمرانی و جمہوریت کی مضبوطی کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے اور فریقین کے درمیان مکالمہ درکار ہے۔ اس تجویز کے پیچھے بنیادی طور پر ہمارے ریاستی اداروں اور حکومتی نظام میں جو ٹکراو کی کیفیت یا بری حکمرانی کی جو شکلیں ہیں اس کی واضح اور صاف عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے قبل یہ تجویز سابق چیرمین سینٹ رضا ربانی بھی دے چکے ہیں، لیکن ان کی تجویز پر کوئی بڑی پذیرائی نہیں دیکھی جاسکی۔

عمومی طو رپر اس طرز کی تجویز پر یہ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم بلاوجہ عدلیہ اور فوج کو سیاسی معاملات میں یا تو الجھا رہے ہیں یا ہم ان کو سیاسی نظام میں فریق کے طو رپر شامل کر رہے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ کسی ایک فریق کا دوسرے فریق پر سیاسی برتری کا نہیں بلکہ عملی طور پر ریاستی و حکومتی نظام کو شفافیت کی طرف لانا ہے۔ کیونکہ آج پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر جو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اس کا مقابلہ روائتی طرز سے نہیں بلکہ غیر معمولی اقدامات کی مدد سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس ریاستی نظام میں موجودہ بحران اور مشکلات کی اول تو سنگینی کا احساس کرنا ہوگا اور دوئم اس حکمت عملی سے گریز کرنا ہوگا کہ ہم کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ ڈسپرین کی گولی سے کریں۔

پاکستان عملا جس طرز کے بحران کا شکار ہے اس کے لیے ہمارے تمام ریاستی فریقین، اہل دانش اور پارلیمان کو کھلے ذہن کے ساتھ کچھ نئی سوچ اور فکر کو تقویت دینی ہوگی۔ لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب تمام فریقین ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کریں۔ سیاسی او رجمہوری پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ ایسا فورم ہوتا ہے جو اس طرح کے مباحثہ کو آگے بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ مگر یہاں معاملہ پارلیمانی بحران کی عکاسی کرتا ہے اور اس نے اس نظام کو غیر موثر کردیا ہے۔

اسی طرح کے سیاسی خلا میں بعض اہم باتیں پارلیمنٹ یا سیاسی قوتوں سے نہیں بلکہ غیر سیاسی لوگوں یا دیگر فریقین کی جانب سے آتی ہیں۔ سیاسی فریقین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب وہ اپنی حکمرانی کے نظام کی مدد سے کچھ بہتر بنانے کی بجائے ایک بڑا سیاسی خلا پیدا کرتے ہیں تو پھر ان کی اہمیت پر بھی سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے جمہوری استحکام کے لیے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے دونوں جماعتوں نے اس میثاق جمہوریت کو اپنے اقتدار کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ اگر واقعی یہ دونوں بڑی جماعتیں خلوص کے ساتھ میثاق جمہوریت کے اس معاہدہ کو آگے بڑھاتی تو ہماری جمہوری سیاست کافی بہتر ہوتی۔

ایک مسئلہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ملک کو اس وقت ایک بڑے سیاسی، سماجی، معاشی اور قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی جمہوری نظام کی بنیاد پر نظام کو چلانا ہے تو اصلاحات کا عمل تیز بھی کرنا ہوگا اور اسے موثر اور شفاف بھی بنانا ہوگا۔ اس لیے اگر موجودہ نظام میں بگاڑ کے تناظر میں ایک نئے مکالمہ یا نئے مباحثہ کی ضرورت ہے تو اس سے کسی بھی طور پر گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مسئلہ محض بڑے بڑے سیاسی اور آئینی سمیت انتظامی مسائل ہی نہیں بلکہ پورا حکمرانی کا نظام جو عوام کے بنیادی حقوق سے جڑا ہے اس میں بڑا بگاڑ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حکمرانی کا نظام عام آدمی سے زیادہ ایک طبقاتی نظام یعنی طاقتور افراد کے ماتحت اور ان کے حقوق کو یقینی بنانا جبکہ عام آدمی کے استحصال سے جڑا ہے۔ اس لیے ہمیں ایک باہمی اتفاق رائے درکا ہے اور تمام فریقین کے درمیان حکمرانی کے نظام میں ایک نئی جہت اور نئے فرئم ورک کی ضرورت ہے، یہ ہی قومی مفاد ہوگا اور اسے ہی مقدم ہونا چاہیے۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20