اسلام آباد کی سرکاری تعلیم: مسائل اور مشکلات —– قاسم یعقوب

0
  • 147
    Shares

جان ڈیوی نے کہا تھا کہ تعلیم زندگی کے لیے تیار نہیں کرتی بلکہ ازخود زندگی ہے۔ یعنی تعلیمی کا حصول ہی زندگی کا مقصدِ اولیں ہے۔ اگر ڈیوی کی اس بات کو نظامِ تعلیم اور تعلیمی حصول کی تگ و دو میں مصروف طلبہ و طالبات پہ اطلاق کیا جائے تو یقینا تعلیم حاصل کرنا ہی زندگی کا بہترین عمل قرار پائے گا۔ کہتے ہیں کسی بھی معاشرے میں سب سے مقدس سرگرمی کسی عبادت گاہ اور سکول (تعلیمی ادارے) کے کلاس روم میں ہو رہی ہوتی ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں تعلیم حیاتِ رواں کا بہترین اور مقدس حصہ تصور کی جاتی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اگر ہم زندگی کے بہترین حصے کا انتخاب کریں تو یقینا نوجوانی ہی سب سے زرخیز حصہ ہے۔ یہی وہ عمر ہے جب انسان اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں اپنے بہترین وقت کا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ گویا طالبعلمی بذات خود مقدس عمر اور بہترین زندگی کا حصہ ہے۔

کیا ہمارا سماج اپنے بچوں کو بہترین تعلیم مہیا کر رہا ہے؟ سماج کے سب ادارے جن میں گھر، حکومت، سکول، مسجد وغیرہ کیا اپنے نوجوانوں کو وہ بہترین مواقع مہیا کرر ہے ہیں جو بچوں کو تعلیم کا حصول ہی ان کی بہترین زندگی قرار دے سکے؟ ٍپاکستانی سماج میں تعلیمی مسائل ’مسئلۂ لا ینحل‘ بنا ہُوا ہے۔ آپ کسی سے پوچھیں کہ ہمارے سماج کا بڑا مسئلہ کیا ہے تو تعلیم کو سرفہرست بتایا جائے گا۔ ہر حکومت تعلیم پہ بے پناہ توجہ صرف کرتی ہے مگر یہ محنت بے نتیجہ ہی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اب تعلیم کی بہتری کے لیے وقف نان گورمنٹل اور سرکاری، دونوں طرح کے ادارے سال ہا سال محنت کرنے کے باوجود بہتر نتائج نہیں لے پاتے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مثال سامنے کی ہے۔ بے تحاشا پیسا خرچ کرنے کے باوجود ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیمی معیار میں بہتری نہیں آ سکی۔

ان سب مسائل کی وجہ کیا ہے؟ اس ہر ایک کا موقف الگ الگ ہو سکتا ہے مگر وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیمی پالیسیوں کے نام پہ وقت ضائع کرنے کی بجائے صرف اسی بات پہ فوکس کریں تو شاید کچھ بہتری آئے کہ ہمارے سماج میں تعلیمی مسائل میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، کمی کیوں نہیں آ رہی۔ بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ وہ کون سی جگہیں ہیں جہاں بہتری کی ضرورت باقی معاملات سے زیادہ ضروری ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس ’’روٹ کاز‘‘ کی طرف توجہ دینی چاہیے تا کہ ہم ان جڑوں سے جڑی بیماری تک پہنچ سکیں جو پورے پیڑ کو دیمک کی طرح کھانے لگی ہوئی ہے۔

میرا تعلق اسلام آباد کے سرکاری کالجوں کے نظامِ تعلیم ’’ماڈل سیٹ اپ‘‘ سے ہے۔ اگرچہ میری ساری بنیادی اور روایتی تعلیم لائل پور سے ہے۔ میرے والد بھی ایک ٹیچر تھے اس لیے مجھے روایتی تعلیم کے دو اہم ادارے سکول اور گھر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ عموماً گھروں کو روایتی تعلیم سے نکال دیا گیا ہے۔ والدین نے تمام ذمے داری سکولوں اور مدرسوں پہ ڈال رکھی ہے۔ بچے صرف گھر میں رات گزارنے آتے اور صبح ہوتے ہی دوبارہ تعلیمی ریز گاری اکٹھی کرنے نکل پڑتے ہیں۔ اسلام آباد کا سرکاری تعلیمی نظام ’ماڈل سیٹ اپ‘ اپنی نوعیت کا سب سے مختلف سیٹ اپ تھا۔ جب ہم اپنے نظامِ تعلیم میں کسی قسم کی بہتری کی گنجائش نہیں دیکھتے تو ہمیں ان وجوہات کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے کسی نظامِ تعلیم کو ٹیسٹ کیس بناکے دیکھنا چاہیے اور ان نتائج کی روشنی میں کچھ فیصلے کرنے چاہیے۔ ’ماڈل سیٹ اپ‘ اس سلسلے میں بہترین معاون ہو سکتے ہیں۔ میں چوں کہ ان اداروں کا خود حصہ ہوں لہٰذا میں اپنے تجربات کو ہی پیش کروں گا۔

سکولوں کا ’ماڈل سیٹ اپ‘ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے ساتھ ہی آغاز کیا گیا تھا۔ چوں کہ اسلام آباد دارلخلافہ تھا اس لیے یہاں تعلیمی اداروں کو بھی مثالی بنانے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ ماسٹر پلان کی تیاری میں اُردو ادب کی بہترین شخصیات بھی پیش پیش رہیں۔ ’ماڈل سیٹ اپ‘ کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے رہائشیوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرنے تھے۔ ان اداروں کو ماڈل اس لیے کہا گیا کہ یہاں پہلی کلاس کا بچہ داخل ہونے کے بعد سولہ کلاسز یعنی ماسٹرز تک کی تعلیم حاصل کرسکے گا۔ یوں ان اداروں کو ایک ہی جگہ تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا حصہ پرائمری یعنی پانچ کلاسز تک تھا۔ اس حصے کو صرف خواتین ٹیچرز کو پڑھانے کا ٹاسک دیا گیا۔ آج بھی پرائمری سیکشن کو صرف خواتین ٹیچرز پڑھاتی ہیں جنھیں جونیئر لیڈی ٹیچرز کہا جاتا ہے۔ یہ لیڈی ٹیچرز بوائز کالجز میں بھی ہوتی ہیں خواتین کالجز میں بھی۔ دوسرا حصہ ہائر سکولنگ کے لیے بنایا گیا جس میں بارہویں کلاس تک کی تعلیم رکھی گئی۔ تیسرا حصہ یونیورسٹی ڈگری کی سطح کی تعلیم کے لیے بنایا گیا۔ جو گریجویشن اور ماسٹرز کی کلاسز پہ مشتمل تھا۔ پاکستان بھر میں ایسا نظامِ تعلیم اور کہیں موجود نہیں کہ ہائر سکولنگ اور ڈگری کلاسز دونوں سیٹ اپس کے لیے صرف پروفیسرز تعلیم دیتے ہوں۔ یعنی سکول اور یونیورسٹی دونوں حصوں کے طلبہ کے لیے پروفیسرز مہیا کیے جائیں گے۔ آج بھی اس ’ماڈل کالج سیٹ اپ‘ میں چھٹی سے ماسٹرز تک پروفیسرز حضرات اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے ہائر سکولنگ کے لیے پروفیسرز کے سطح کی تدریس معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ’ماڈل سیٹ اپ‘ کے پلان میں شامل تھا کہ یہ تعلیمی ادارے میں پرائمری سکولنگ سے بتدریج ہائر سکولنگ اور پھر یونیورسٹی تعلیمی سہولیات میں اضافہ کرتے جائیں گے۔ ہر ماڈل ادارہ پوسٹ گریجویشن کی سطح کا تعلیمی ادارہ بنایا جائے گا۔ یہ تمام ادارے جن کی آج کل تعداد بیس کے لگ بھگ ہے پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم کے لیے مختص کر دیے جا ئیں گے۔ یہاں پہلی جماعت میں داخل ہونے والا بچہ ماسٹرز تک کی تعلیم حاصل کرنے کی تمام سہولیات کا حق دار سمجھا جائے گا۔ ٍ چوں کہ یہ نظام فیڈرل ایریا میں تھا اس لیے اساتذہ کو بھی پورے ملک سے اکٹھاکیا گیا۔ آپ یوں سمجھ لیجئے کہ پورے ملک سے بہترین سٹف اکٹھا کرنے کا ماسٹر پلان بھی ان اداروں کی فاونڈیشن میں موجود تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے حالات بدلنے لگے تو یہاں ایک اور سیٹ اپ بھی متعارف کروادیا گیا جس کو ’ایف جی سیٹ اپ‘ کا نام دیا گیا۔ ان اداروں کو ’ماڈل سیٹ اپ‘ سے علیحدہ بنیادوں پہ استوار کیا گیا۔ ’ایف جی سیٹ اپ‘ کے تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچے کو تین علیحدہ علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پرائمری سکولنگ کے لیے علیحدہ ’ایف جی سکولز‘ بنائے گئے، پھر ہائر سکولنگ کے لیے علیحدہ سے ’ایف جی ہائر سکولنگ‘ اداروں کو چارٹر دیا گیا اور ساتھ ہی الیون سے پوسٹ گریجویٹ تعلیمی سیٹ اپ کے لیے ’ایف جی کالجز‘ کے نام سے تعلیمی ادارے بنا دیے گئے۔ اس سیٹ اپ کی تشکیل کا بنیادی مقصد اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی آبادی کو تعلیمی سہولتیں دینے اور پہلے سے موجود تعلیمی سہولیات کو Extend کرنا تھا۔

اب ہم ان اداروں کی آج کی صورتِ حال کی طرف آتے ہیں۔ ہُوا یہ کہ ان اداروں کو بے لگام چھوڑدیا گیا۔ جس طرح ہم کسی بھی ادارے کی پلاننگ کے وقت کرتے ہیں ان اداروں کی فاونڈیشن کے لیے بھی بہترین منصوبہ بندی کی گئی اور بہترین سٹرکچر کے ساتھ آغاز کر دیا گیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کو توجہ دینے والی اہلیت کا خاتمہ ہوتا گیا اور یہ ادارے بے یارو مدد گار ہوگئے۔ پہلی بات یہ کہ اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میں شروع سے ہی یہ دوئی رکھ دی گئی کہ یہ ماڈل ادارے ہیں ، یہاں ’ہائلی پیڈ‘ اساتذہ یعنی پروفیسرز پڑھاتے ہیں جب کہ ایف جی سیٹ اپ کے سکولوں میں کم تنخواہ دار اور کم تعلیم یافتہ اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ صرف اساتذہ کا ہی فرق نہیں رکھاگیا بلکہ بجٹ اور دیگر سہولیات میں بھی ایف جی سیٹ اپ اور ماڈل اداروں میں بے حد تفاوت رکھی گئی جس سے طلبہ کا زیادہ رجحان ماڈل سیٹ اپ کی طرف ہونے لگا۔ رفتہ رفتہ ایف جی سیٹ ناکام تعلیمی سیٹ اپ بننے لگا۔ اب صورتِ حال یہ آ گئی ہے کہ ایف جی سکولوں میں طلبہ و طالبات کی کل تعداد بیس (۲۰) ماڈل اداروں سے کم ہے۔ یاد رہے کہ ایف جی سکولوں کی کل تعداد سینکڑوں میں ہے۔

نوے کی دہائی کے آغاز کے ساتھ ہی جمہوری حکومتوں نے اپنے بچوں کے ’’بہترین مستقبل‘‘ کو تابناک بنانے کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سرکاری سکولوں کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے کھولنے کا لائسنس دے دیا۔ یاد رہے کہ نوے کی دہائی کے آغاز تک اسلام آباد میں کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ نہیں تھا۔ ماڈل سیٹ اپ اور ایف جی سیٹ اپ ہی یہاں کے بچوں کو تعلیم دیتا رہا تھا۔ ہُوا یہ کہ ماڈل سیٹ اپ کچھ بہتر سہولیات اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسرز کی وجہ سے کچھ بہتر کارکردگی دکھا رہے تھے جس کی وجہ سے ایک سیلاب ان اداروں کی طرف لپکنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماڈل سیٹ اپ اپنی صلاحتیوں سے زیادہ بوجھ اٹھانے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے ایف جی سیٹ اپ ویران ہونے لگا۔

اگر ہم دونوں سیٹ اپس کے موجودہ مسائل کو دیکھیں تو واضح طور پر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ماڈل سیٹ اپ ہے جب کہ دوسری طرف ایف جی سیٹ اپ بھی کھڑا ہے۔ دونوں سیٹ اپس میں پڑھنے والے بچوں کی مالی حیثیت میں بھی واضح امتیاز موجود ہے۔ نہایت غریب اور نان گزیٹڈ (جنھیں کلاسوں میں تقسیم کرنا نہایت غلط روش ہے) نے ایف جی سیٹ اپ میں ہی اپنی ’اوقات‘ کو محدود کر دیا اور دوسری طرف ’’مڈل کلاسیے‘‘ طرز کے سرکاری ملازمین اور دوکان داری یابزنس سے وابستہ افراد نے ماڈل سیٹ اپ کو اپنا لیا۔ یہ صریحاً اخلاقی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جسے اسلام آباد جیسے مرکزی اور دالخلافہ جیسے شہر میں روا رکھا ہُوا ہے۔

دونوں سیٹ ایس میں دو طرح کے مسائل اتنے شدید ہو چکے ہیں کہ تعلیم کے نام پہ ووٹ لینے والوں اور نام نہاد این جی اوز نے بھی اس طرف کبھی توجہ نہیں دی۔ یہ مسائل مندرجہ ذیل قسم کی واضح تقسیم رکھتے ہیں:

۱۔ انتظامی مسائل جسے حکومتی سطح پہ حل کیا جانا ضروری ہے، جس کے لیے نئی قانون سازی بھی مطلوب ہے۔

۲۔ دوسرا اہم مسئلہ ایف ڈی ای اور اُس اندرونی ڈھانچے (Internal Structure) کا ہے جس کی کمانڈ اور نگرانی قسم کا کوئی انتظام موجود نہیں۔  اب ہم دونوں قسم کے مسائل پہ تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے انتظامی مسائل:
انتظامی طور پر بڑے بڑے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ماڈل سیٹ اپ میں شام کی کلاسزبھی ہو رہی ہیں۔ یہ ایک صریحاً غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے کہ طلبہ و طالبات رات گئے تک تعلیمی اداروں میں موجود رہتے ہیں جب کہ اسی ایک ادارے میں صبح کی کلاسز میں بچے بہت جلد گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ یہ فرق صرف صبح و شام کا ہی نہیں، بلکہ دونوں شفٹوں کے انتظامی امور اور کوالٹی آف ایجوکیشن میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ شام کی شفٹ کے وقت پرنسپل، انتظامی عملہ، حتیٰ کہ اساتذہ تک پوری طرح موجود نہیں ہوتے۔ لائبریری، لیبارٹریاں وغیرہ بند ہوتی ہیں۔ اکثر تعلیمی اداروں میں شام کے وقت بے یارومدد گار ماحول ہوتا ہے۔ عموماً ایسے بچے جو تعلیمی قابلیت میں کمزور ہوتے ہیں انھیں شام کے وقت داخلہ دیا جاتا ہے گویا نالائق، پڑھائی میں کمزور اور مالی حیثیت میں کمزور بچوں کو شام کے وقت جگہ دی جاتی ہے۔ حال ہی میں روزنامہ ’ایکسپریس‘ کے صفحۂ اول پہ یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ماڈل سیٹ اپ کے بچوں کی تعداد پورے ایف سیٹ سے کہیں زیادہ ہے دو دو شفٹوں میں بچوں کو پڑھانے کے باوجود کلاسز میں متعین تعداد سے زیادہ بچے موجود ہیں۔
    سوال یہ ہے کہ ایف جی سیٹ اپ کے کئی تعلیمی ادارے خاموش کمروں کا نظارے پیش کررہے ہوتے ہیں مگر ماڈل سیٹ اپ کو کیوں اتنا دبائو میں رکھا جارہا ہے؟ انتظامی طور پر یہ بڑ اقدام ہوگا کہ دونوں شفٹوں کو فورا ختم کیا جائے۔ تاکہ معیاری تعلیم کے علاوہ کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکی جائے۔
  2. ایف جی سیٹ اپ اور ماڈل سیٹ اپ کی دوئی کوبھی فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔ کمزور اور نالائق بچوں کوکم سہولتوں والے اداروں میں بھیجنے کی انتظامی بد اخلاقی فوری ختم ہونی چاہیے۔ ایک ہی سیٹ اپ متعارف کروایا جانا چاہیے۔ کوئی بچہ نالائق یا کمزور نہیں ہوتا۔ اس کا تعلیمی ماحول اسے نالائق کرتا ہے۔
  3. لائبریری، لیبارٹریاں، اور انتظامی عملہ جیسے ڈرائیورز، لائبریرین، ٹائپسٹ، اکائونٹنٹ وغیرہ کی کمیوں کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی ناکافی ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے اخلاقی اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں ناکامیوں کا سامنا ہے۔
  4. پرنسپلز کی تعیناتی سینیارٹی کی بنیاد کی بجائے الگ سے انتظامی سیلکشن سے ہونی چاہیے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ماڈل اور ایف جی سیٹ اپ کے پرنسپلز ناکام ترین سربراہ ثابت ہوتے ہیں۔ چوں کہ ان کا کوئی انتظامی تجربہ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ بیوروکریسی سے انتظامی اور تکنیکی معاملات طے کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اس لیے یہ پرنسپل صاحبان دفتری امور میں مکمل ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ کالجز اور سکولز بغیر کسی سرپرستی کے چلائے جاتے ہیں۔ پرنسپلز کو صرف انتظامی پوسٹس کے ذریعے ڈائریکٹ سلیکشن سے آنا چاہیے۔ یہ الگ بات کہ ڈائریکٹ سلکشن میں اسی سیٹ اپ میں موجود اساتذہ یا کسی بھی ادارے کے اساتذہ کو ترجیح دینی چاہیے۔

اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے سرکاری اساتذہ اور ملازمین تمام ملک سے اپنی خدمات کے لیے FPSC کے ذریعے منتخب ہوکے یہاں آتے ہیں۔ ان کے لیے رہائشی سہولیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ بھونڈے انداز سے انھیں ہائرنگ کے نام پہ چند پیسے دیے جاتے ہیں جن میں ڈھنگ سے کوئی مکان نہیں ملتا۔ ہائرنگ کے سلسلے میں بہت اذیت دی جاتی ہے اور سال ہا سال ان کے واجبات ادا نہیں ہو پاتے۔ سرکاری اساتذہ دور دراز اور نہایت کم معیاری گھروں میں رہ نے پہ مجبور ہوکے اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں رہائش اختیار نہیں کر پاتے۔ ہائرنگ کا پراسس تذلیل کی طویل عبارت ہے جسے تعلیمی معیار کی بلندی کے دعووں کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری رکھا ہُوا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ سرکاری گھروں کی نہایت اعلیٰ رہائشی سکیم ان اساتذہ کے لیے بنائی جائے تاکہ تعلیمی مقاصد کو حاصل کرنے میں اساتذہ کو تذلیل جیسے احساس سے بچایا جائے ورنہ اعلیٰ اور معیاری تعلیم ایک خواب ہی رہ جائے گا۔

اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندرونی ڈھانچے کے مسائل
اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کا اندرونی ڈھانچہ جسے کسی مالی یا انتظامی تبدیلیوں کے بغیر بہتر کیا جا سکتا ہے مگر پرنسپل اور ایف ڈی ای (انتظامی ادارہ) کی نااہلی کی وجہ سے اس کے ڈھانچے کو بہتر نہیں کیا جا سکا۔ کچھ مسائل مندرجہ ذیل ہیں:

  1. وفاقی نظامتِ تعلیمات (FDE) ایسا ادارہ ہے جو اسلام آباد کے تمام سرکاری کالجوں اور سکولوں کو کنٹرول بھی کرتا ہے اور پالیساں بھی مہیا کرتا ہے۔ یہی ادارہ اساتذہ کے انتظامی معاملات کو بھی مانیٹر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جہاں Chain سلسلے کے ادارے ہوتے ہیں وہاں انتظامی احکام کے ذریعے پالیسیاں یونیفارم رکھنے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں بھی جتنے پرائیویٹ ادارے جو Chain میں موجود ہیں ان کو ایک یونیفارم پالیسی کے مطابق چلایا جاتا ہے مگر افسوس سے کہا جارہا ہے کہ ایف ڈی ای ایک ناکام اور تعلیمی یونیفارمیٹی میں کسی حد تک بد انتظامی کا باعث ادارہ ہے۔
    Chain سسٹم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ Chain سسٹم میں کوئی ادارہ خودمختار نہیں ہوتا۔ یعنی تمام اداروں میں ایک ہی قسم کی پالیساں نافذ ہوتی ہیں جو مرکزی بورڈ یا ڈائریکٹوریٹ سے ہدایات لیتے ہیں۔ اپنی مرضی سے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ بچوں کے پروگراموں کا شیڈول، سکول ٹائمنگ، یونیفارم، پیپرز کا انتظامات، سٹیشنری، سلیبائی، چھٹیوں کے اوقات، اسمبلیاں اور اجتماعات وغیرہ مرکزی بورڈ سے طے ہوتے اور ان پہ عمل درآمدر کروایا جاتا ہے۔ اگر یہیں پرائیویٹ اداروں کی Chain سسٹم کو ملاحظہ کیا جائے تو ان کے باقاعدہ شیڈول میں چھپے بہترین انتظامات کو جانا جا سکتا ہے۔ ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق سپورٹس، جسے مرکزی ادارہ کنڑول کرتا ہے، طے شدہ امتحانات کا شیڈول، بچوں کے ٹوورز (سیاحتی ٹرپس کو لازمی سمجھا جاتا ہے اور انھیں باقاعدہ شیڈول کے مطابق اداروں میں نافذ کیا جاتا ہے) نافذ کیے جاتے ہیں۔ لائبریریوں، لیبارٹیریوں، حتی کہ دیواروں، عمارتوں اور کلاس رومز میں ہونے والے رنگوں تک کو یونفارم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ایف ڈی ای کا بنیادی کام ہی یہ ہے جسے مکمل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ نیوز لیٹر اور مرکزی رسائل کے ذریعے Chain سسٹم کو ایک جگہ دکھانے کے انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔
  2. بچوں میں تخلیقی سرگرمیوں کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ماڈل اور ایف جی سیٹ میں تخلیقی سرگرمیوں کی باقاعدہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ کچھ پرنسپل صاحبان نے اپنے اداروں میں رسائل کا اجرا کیا اور سائنس اور فلاور نمائش کے خوبصورت بندوبست کیے جو نہایت قابلِ تحسین عمل ہے مگر یہ سب انفرادی سطح پہ دہائیوں میں کبھی کبھار ہوا ہے، ایسا کوئی باقاعدہ انتظامی سطح پہ شیڈول موجود نہیں ہوتا جس سے ان اداروں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھایا جا سکے۔
  3. ماڈل سیٹ اور ایف جی سیٹ میں چند ایک اداروں کو چھوڑ کے گندگی کے بہترین نمونے دیکھنے کو ملیں گے۔ انتہائی گندگی اور صفائی کے غیر معیاری انتظامات سے تعلیمی اداروں کو بس سینڈ بنادیا گیا ہے۔ ان میں پرنسپل حضرات کا زیادہ عمل دخل ہے۔ آپ باآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ پرنسپلز کے کمروں میں اعلیٰ سہولیتیں موجود ہیں مگر بچوں کے لیے پینے کا صاف پانی تو دور کی بات گندہ پانی بھی مہیا نہیں ہوتا۔ فٹ پاتھ اور راستے اُکھڑے ہوئے ملیں گے۔ ڈسپلن کی شدید کمی دیکھنے کو ملے گی۔ بچوں کے لیے کسی بھی اعلیٰ سہولت کی دستیابی معجزے سے کم نہیں۔ یہی صورت ِ حال پرائیویٹ اداروں میں کہیں بہتر بلکہ مثالی سطح پہ موجود ہے، حالاں کہ جگہ، پیسے اور Man power کے اعتبار سے ماڈل اور ایف جی سیٹ اپ زیادہ بہتر ہیں۔
  4. اسلام آباد کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھایا جانا والا نصاب منتشر انتخاب ہے۔ اسلام آباد چوں کہ وفاقی ایریا ہے اس لیے یہاں الگ سے انتخاب منتخب کرنے کی بجائے، پنجاب، کے پی کے وغیرہ کے ٹیکسٹ بورڈوں سے ادھار نصاب بھی لے لیا گیا ہے۔ چوں کہ صوبوں کے نصابات ان کی دیہی ضروریات کو بھی مد نظر رکھ کے بنائے جاتے ہیں اس لیے ان کے ہاں کم استعداد والوں کے لیے اشیا بھی مل جاتی ہیں۔ ایف ڈی ای کو نصابات کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم کے زیرِ اہتمام اپنا الگ سے انتظام کرنا چاہیے جو وفاقی طلبہ کے معیارات کے مطابق یا کم از کم صوبوں کی کتب کی بجائے اپنی کتب پہ مشتمل ہو۔
  5. اسلام آباد کے تعلیمی اداروں (ماڈل سیٹ اپ اور ایف جی سیٹ اپ) کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انتظامی امور زیادہ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ کلاس روم سرگرمی یعنی ٹیچنگ کسی کی ترجیح نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پوسٹنگ، پرنسپل شپ کی لڑائیاں، ایف ڈی ای میں ڈائرکٹرز کے تبادلے، ہائرنگ اور سرکاری گھروں کے قبضے وغیرہ زیادہ نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹیچر سے زیادہ انتظامی افسر مضبوط ہے۔ پنجاب، کے پی یا سندھ کے کالجز کی نسبت وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کا استاد اپنے انتظامی ملازمین کا زیادہ محتاج ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں پوری تہذیب کی نفسیات ہے، ایسی فضا میں آپ کبھی بھی بہتر نتائج نہیں حاصل کر سکتے۔ یہاں کلرک، ایڈمن آفیسر، پرنسپل، ڈائریکٹر یا متعلقہ آفیسر ایک پروفیسر یا استاد سے زیادہ طاقتور پوزیشن میں ہوتا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک روش ہے۔ ان حالات میں آپ اربوں روپیہ بھی خرچ کر دیں مگر یہ تعلیمی ادارے ٹھیک نتائج نہیں دے سکیں گے۔ یہ وجہ بھی ایسی ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں ہو سکتی۔ استاد کا وقار غیر مرئی طور پر کلرکوں اور انتظامی عملے سے زیادہ ہونا چاہیے۔ طلبہ ان چیزوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ایف ڈی ای تک میں استاد اور پروفیسر کی کوئی عزت نہیں۔ استاد کو سب سے زیادہ تحقیر اگر کسی عمارت میں جا کے محسوس ہوتی ہے تو وہ تھانہ یا جیل نہیں بلکہ ایف ڈی ای کی عمارت ہے۔ یہاں پروفیسروں کو بےوقار انداز سے ڈیل کیا جاتا ہے۔ حتی کہ یہاں ایک وقت تھا جب ڈائریکٹرز نے لکھوایا ہُوا تھا کہ پروفیسر اور اساتذہ فلاں سے فلاں اوقات تک تشریف لائیں، ان کے علاوہ ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔

اساتذہ کی عزت، گو یہ مسئلہ تو مجموعی نظام کا ہے مگر ایسی سطح شاید کہیں بھی نہیں۔ ایک یونیورسٹی استاد وائس چانسلر کی موجودگی میں بھی نہایت طاقت ور اخلاقی پوزیشن میں ہوتا ہے مگر یہاں کلرک کے سامنے ایک استاد کی عزت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کلیریکل عملہ پروفیسروں کے لیے واقعی ایک عملے سے بڑھ کے نہیں۔ ماڈل اور ایف جی سیٹ اپ کے اساتذہ شدید خوف میں مبتلا سرکاری ملازم تصور کیے جاتے ہیں جنھیں ایف ڈی ای اور کالج انتظامی عملہ کسی نوک پہ نہیں رکھتا۔ اس تصور کو بدلے بغیر کسی بھی قسم کی بہتری ممکن نہیں اور اس کے لیے کسی بجٹ کی ضرورت نہیں صرف اساتذہ کی توقیر کی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی اداروں میں بہتری پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ معیاری تعلیم کے بغیر ہم کسی خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد میں مرکزی حکومت بھی اس وقت اسی پارٹی کی ہے جو اس وقت تین صوبوں میں اقتدار رکھتی ہے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ مسائل کو بنیادی سطح پہ سمجھا جائے اور ان پہ بے دریغ پیسہ لگانے کی بجائے صرف ان اشوز کو نپٹایا جائے جو واقعی حل طلب اور فوری ضرورت کے ہوں۔ ورنہ قومی پالیساں اور پھر بند دفتروں میں تعلیمی نظام کی بہتری کے دعوے خلا میں ہی رہ جائیں گے۔

یہ بھی دیکھئے: بچوں کی تعلیم کا مسئلہ: سب سے پہلے کیا کیا جائے؟ نئیر عباس
(Visited 30 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: