مغربی سائنس پرستوں کے تاریخی جھوٹ —- عمر ابراہیم

0
  • 86
    Shares

پانچ صدیوں سے پہلے، تاریخ تہذیبوں کا عروج و زوال تھی، مگر اس کے بعد یہ انسانی تہذیب کا مجموعی زوال بن گئی۔ تہذیب ثقافت سے خاندان، اور پھر خاندان سے فرد کی تنہائی، اور تنہائی سے خودکشی پر پہنچ گئی۔ یہ تہذیب کشی کی تاریخی مہم کا نتیجہ ہے۔ یہ مہم کوئی الزام، سازشی کلیہ، یا دعویٰ نہیں، بلکہ سائنس پرستوں کا وہ ارادہ ہے، جسے برملا ظاہر کیا گیا، اور کیا جارہا ہے۔ یعنی، انسانی تہذیب کی نمو جدیدیت کی موت اور جدیدیت کی زندگی تہذیب کشی میں ہے۔ یہی مغربی سائنس کی تاریخ کا اصل بیانیہ ہے۔

جدید مغربی سائنس کا دعوٰی ہے، کہ زرعی عہد اور مقدس مذاہب نے انسان کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، بلکہ ترقی کی راہیں مسدود کیں۔ یہ نامبارک عہد تھا۔ مغربی یورپ کی سائنسی پیشرفت سے جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے۔ علوم الٰہیات، ریاضیات جیسے عملی مضامین میں ڈھل گئے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں عسکری ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ مغربی یورپ اور برطانیہ، جنہوں نے انسانی تہذیبوں کی تشکیل میں پندرہویں صدی تک کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا، وہ اب تاریخ میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور جدید سائنس کے رومان نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ باقی دنیا میں کچھ نہیں ہو رہا تھا، صرف مغربی یورپ ہی تھا، جو سمندری مہمات پر نکل کھڑا ہوا تھا، اور سائنسی دریافتیں کر رہا تھا۔ مختصر یہ کہ جو انسانی تہذیب زرعی دور میں استوار ہوئی، وہ درحقیقت جنگلی انسان کی غیر فطری پیشرفت تھی، اس مبینہ ’جہالت‘ کا خاتمہ پانچ سو سال قبل جدید سائنسی دورکی ابتدا سے ہوا۔

جدید مغربی سائنس کا یہ دعوٰی سراسر جھوٹ پر گھڑا گیا ہے۔ اس کی وجہ ہے سائنس پرستی۔ واضح رہے سائنس پرستی اور سائنس نہ صرف یکسر الگ اور متحارب اصطلاحیں ہیں، بلکہ عملی سائنس کی ابتدا بھی ’سائنس‘ کی اصطلاح سے نہیں ہوئی تھی، یہ لاطینی زبان کے scientia سے ماخوذ ہے، یہ عربی سے لاطینی تراجم کے دوران استعمال ہوا۔ مسلم اندلس میں ’حکمت‘ کی اصطلاح رائج تھی۔ اس اسلامی ’حکمت‘ یا عملی سائنس کی تاریخ بارہ سو سال پرانی ہے۔ عملی سائنس کی اصل تاریخ کا مختصر جائزہ واضح کرسکے گا کہ انسانی تہذیب آج مجموعی طور پر کیوں رو بہ زوال ہے، اور کس طرح اس کا احیا ممکن ہوگا۔

جدید سائنس کی تاریخی عمارت جھوٹ کی ان بنیادوں پر کھڑی کی گئی، کہ چرچ سائنسی علوم کا مخالف تھا، اورعملی سائنس کا آغاز اٹلی سے ہوا۔ یہ دونوں غلط بیانیاں ہیں، جن پر جدید سائنس کا مذہب مخالف بیانیہ استوار ہوا۔ یہاں ادب اور مغرب کے معروف اور معتبر نقاد محمد حسن عسکری کی دانش رہنما ہوگی، ’ نشاۃ ثانیہ: جدیدیت کا آغاز‘ میں لکھتے ہیں کہ

’’عام طور سے یورپ میں مشہور ہے کہ ’نئی دنیا‘ یعنی جدیدیت کا آغاز 1453سے ہوتا ہے جب ترکوں نے قسطنطنیہ فتح کیا، اور یونانی عالم اپنی کتابیں لے کر وہاں سے بھاگے اور سارے یورپ میں پھیل گئے۔ انہوں نے یونانی علوم یورپ والوں کو پڑھائے۔ اس دور کو ’نشاۃ ثانیہ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یونان اور روم کے زوال کے بعد یورپ کا ذہن گویا مرگیا تھا، اور ہزار سال تک مدفون رہا۔ پندرہویں صدی میں جب یونانی علوم پھیلے تومغرب کا ذہن دوبارہ پیدا ہوا۔ یہ بیان سراسرغلط ہے۔ یونانی علوم ازامنہ وسطٰی میں بھی رائج تھے، مگر انہیں ثانوی حیثیت دی جاتی تھی، سب سے بڑا درجہ دینی علوم کا تھا، پندرہویں صدی میں سب سے اونچی جگہ یونانی علوم کو دی گئی۔ یہ علوم وحی پر مبنی نہیں تھے، بلکہ عقلی تھے۔‘‘

تاریخ پر لکھی گئی نئی کتاب The Silk Roads کے مصنف پیٹر فرینکوپین نے تعارف میں لکھا ہے کہ

’’دمشق، اصفہان، سمرقند، کابل، کاشغراور دیگر ایسے کئی (مسلم) شہرتھے، جو وقت کے بڑے عالم فاضل لوگوں کی آماجگاہ تھے۔ ان میں سے محض مٹھی بھر لوگوں کے نام ہی آج سنائی دیتے ہیں۔ جیسے ابن سینا، البیرونی، اور الخوارزمی، جو علم فلکیات اور طب وادویات میں اوج پر تھے۔ دور جدید کے آغاز سے صدیوں پہلے دنیا میں آکسفورڈ، کیمبرج، اور ہارورڈ جیسے علوم کے اعلٰی ترین مراکز یورپ یا مغرب میں نہیں تھے۔ بلکہ بغداد، بلخ، بخارا، اور سمرقند میں تھے۔‘‘

ایک صدی پیچھے جائیں، تو 1919کی ایک اہم کتاب The Making of Humanity کے مصنف رابرٹ بریفالٹ نے دارالحکمت The House of Wisdom کے واضح عنوان سے باقاعدہ باب رقم کیا، اور واضح کیا کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ پندرہویں صدی میں نہیں ہوئی، بلکہ اس وقت شروع ہوچکی تھی جب یورپیوں نے عربوں سے اکتساب علم کیا، یورپ کی دوسری پیدائش کا گہوارہ اٹلی میں نہیں، مسلم اندلس میں تھا۔ بریفالٹ نے کافی تفصیل سے یورپی مؤرخین کی منظم بددیانتی کا ذکر کیا ہے، اور آٹھویں سے پندرہویں صدی تک مسلمانوں کی عملی سائنس پر پردہ ڈالنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کو بے نقاب کیا ہے۔ غرض مغرب میں اس تاریخی جرم کا اعتراف تو درکنار، ذکر بھی گنتی کے دیانت دار مؤرخین نے کیا ہے، رابرٹ بریفالٹ ان میں سے ایک ہیں۔

رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں

’’ہم جسے یورپ میں سائنسی انقلاب کہتے ہیں، یہ تحقیق کی نئی روح اور اُس کا نتیجہ تھا، تحقیق کے نئے عملی طریقے، تجربے، مشاہدے، پیمائش، اعداد و شمار اور ریاضیات کی وہ صورتیں تھیں، جن سے یونانی قطعی نابلد تھے۔ سائنس کی یہ روح یہ طریقے یورپی دنیا میں عربوں نے متعارف کروائے تھے۔۔۔ نہ صرف یہ کہ عربوں نے ریاضیات کے وہ اصول تخلیق کیے، جن پرسائنسی تجزیوں نے انحصار کیا، انہوں نے تجرباتی تحقیق کے وہ طریقے بھی رائج کیے، جن پر جدید مغربی سائنس کی بنیاد رکھی گئی۔۔۔ پندرہویں صدی کے بعد یورپ کی ہر سائنسی سرگرمی عربی علم و حکمت کی مرہون منت رہی، مگر اسے کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔۔۔‘‘

غرض یہ کتاب اور اس کا یہ باب ہر مسلمان محقق کے مطالعہ میں لازما آنا چاہیئے۔ اس باب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ واسکو ڈے گاما کی سمندری مہم جوئی میں عرب اور یہودی اساتذہ کی بحریہ اکیڈمی کا کردار رہنما تھا۔ کولمبس کا سمندری سفر بھی ممکن نہ ہوتا، اگر البطانی کی جدول پرسمندری تقویم معلوم نہ کی جاتی، یوں نئی دنیاؤں کی دریافت بھی مسلمان سائنسی حکماء کی بلواسطہ مرہون منت رہی ہے۔ مگر مغربی سائنس کی تاریخ میں منظم انداز میں اور مستقل مزاجی سے یہ جھوٹ لکھا گیا اور کہا گیا، کہ یونان کے بعد مغربی یورپ ہزار سال کی نیند سے از خود بیدار ہوا، یہ تاریخی احسان فراموشی اور علمی کم ظرفی کی بدترین مثال ہے۔

یہاں ان اقتباسات کا مقصد جدید سائنس کے تاریخی جھوٹ نمایاں کرنا ہے، کیونکہ بعد کی تاریخ کا رجحان اور نفسیات ان ہی جھوٹی بنیادوں پر استوار ہوئی، یہ تہذیب کش اور مذہب دشمن تاریخ تعلیمی درس گاہوں میں رائج ہوئی، یہ عالمی اکادمی فساد تھا۔ مغربی جامعات سے مشرقی درس گاہوں تک مذہب کی منظم کردار کشی کی گئی۔ یہ سلسلہ آج بھی عام ہے۔

غرض، حسن عسکری نے یورپ کے مسلمان عالم رینے گینوِں (عبدالواحد یٰحی) کے حوالے سے لکھا ہے کہ چودھویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی کے آخر یا پہلی جنگ عظیم تک دین کی مخالفت اور دین پر حملوں کا زمانہ ہے۔۔۔ وہ ’ازمنہ وسطی دور‘ کے باب میں لکھتے ہیں کہ

Rene Guenon with Frithjof Schuon

’یہ دور تقریبا پانچویں صدی عیسوی سے لے کر پندرہویں صدی تک ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دور کو سمجھنے میں بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ پروٹسٹنٹ مذہب رکھنے والے مصنفوں نے، پھر اٹھارویں صدی کے متشککین نے اس دور کے متعلق بڑی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں۔۔۔ یہ تصویر بڑی حد تک خیالی ہے۔ ازمنہ وسطی کے ادب کے بارے میں زیادہ تر تحقیق بیسویں صدی میں ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ازمنہ وسطٰی میں جویورپ کی تہذیب نے جو لطافت اور علو حاصل کرلیا تھا وہ اسے پھر کبھی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ازمنہ وسطی کے مغربی ادب اور علوم پر عربوں کا گہرا اثر ہے، طب نجوم فلسفہ وغیرہ میں تو یونانیوں کے بعد عرب مصنفوں کو ہی سند مانا جاتا تھا۔ رازی، ابن سینا، امام غزالی کے نام یورپ میں اسی طرح مشہور تھے جس طرح مسلمانوں میں۔۔۔ خالص عقل کے میدان میں ازمنہ وسطی کے مفکرین کا یہ حال تھا کہ ارسطو کی منطق میں جو خامیاں تھیں وہ ان لوگوں نے دور کی تھیں۔ یونانی فلسفہ اس دور میں بھی پڑھایا جاتا تھا، البتہ یہ لوگ فلسفے کو اپنے دین کے تابع رکھنا چاہتے تھے۔‘‘

اس ساری صورتحال میں بگاڑ کیسے پیدا ہوا؟ اس کے لیے ہم ایک اور اقتباس کی جانب بڑھتے ہیں۔ مغربی ماہر الٰہیات ایڈون اے برٹ کتاب Philosophy of Relgion کے باب ’پروٹیسٹنٹ نقطہ نگاہ سے سائنس اور مذہب‘ میں لکھتے ہیں

’’پروٹیسٹنٹ نقطہ نگاہ سے مذہب کا تصور جدید سائنس کی نشونما میں مددگار ثابت ہوا، لیکن دوسرے لحاظ سے ان دونوں میں مطابقت بہت مشکل ہوگئی۔ جب اس نے فکر، تقریر اور تحریر کی آزادی پر زور دیا تو اس سے سائنسی تحقیقات میں بڑی مدد ملی۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ سترہویں اور اٹھارہویں صدیوں میں جدید سائنس کی ترقی پروٹیسٹنٹ ملکوں میں ہوئی۔ جب پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں اور خود پروٹسٹنٹ گروہ کے مختلف فرقوں کے درمیان مسلسل الٰہیاتی جھگڑے شروع ہوئے تو اس سے مخالفین نے یہ دعوی کرنا شروع کیا کہ ان اختلافات سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بائبل کی تفسیر اور الٰہیاتی تعبیر و تاویل کا طریقہ حق و صداقت تک پہنچے کے لیے بالکل ناکافی ہے (ہمارے مغرب زدگان بھی یہی دلیل اسلام کے خلاف استعمال کرتے ہیں) اور کم از کم جہاں تک اس طبعی و مادی دنیا کے علم کا تعلق ہے، صحیح طریقہ عقلی استدلال اور تجربہ ہے۔ اٹھارہویں صدی میں عقلیت (عقلیت پرستی) کا دور شروع ہوا جس کا آغاز علم ہیئت میں نیوٹن کے اکتشافات کی کامیابی کے بعد ہوا۔ اس کے باعث سائنس اور اس کے طریقہ کار کے متعلق ایک ایسا عظیم الشان اعتماد پیدا ہوا جو آج تک قائم ہے۔‘‘

انیسویں صدی تک سائنس پرستوں نے مذہب کی حیثیت کسی نہ کسی درجے میں برداشت کی، مگر جب نظریہ ارتقاء کی آمد ہوئی۔ گویا جدیدیت کے ہاتھ ایک ایسا عقیدہ لگ گیا، جس نے مذہبی تہذیبوں کی روح مجروح کی۔ یہ نظریہ جدید مغرب کا مذہب بن گیا، اس کے خلاف کوئی بات کوئی دلیل نہ دی جاسکتی ہے نہ سنی جاسکتی ہے۔ اس پراسلامی عالم حسین نصر نے بطور عینی شاہد بھرپور تبصرہ کیا ہے، کتاب ’سائنس اور اسلام کا تصور جہاں‘ میں ارتقاء پر مکالمہ میں کہتے ہیں

’’جدیدیت کے عقیدے کی عمارت کی بنیاد نظریہ ارتقاء پر ہے، اگر یہ بنیاد اکھڑ جائے، تو جدیدیت کاسارا ڈھانچہ دھڑام سے نیچے آگرے گا۔ اس لئے جدیدیت کے پاسبانوں کی طرف سے اسے ایک مذہبی عقیدے کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ اگر چہ صحیح معنوں میں اسے سائنسی نظریہ بھی نہیں کہنا چاہیئے، جیسا کہ اس کے دفاع کرنے والوں کا دعوٰی ہے۔ ۔ ۔ اٹلی کے جی سر میونٹے اور آرفونڈی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Doloo Darwin (ڈارون کے بعد) ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹلی، فرانس اور جرمنی میں ماہرین حیاتیات یقین رکھتے ہیں کہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے حیاتیات کے شعبہ کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے، اور پھر ارتقاء کا نظریہ اس حیاتاتی مواد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، جو کہ ٹھوس سائنسی تجربات سے اکھٹا کیا گیا ہے کیونکہ فوسلز کی مدد سے ملنے والا مواد ایک بڑی چھلانگ کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ بتدریج ارتقائی عمل کوہمارے سامنے لاتا ہے۔ ۔ ۔ ماضی قریب میں مختلف سائنسی نظریات پیش کیے گئے ہیں، جیسے طبیعی نظریہ کائنات یا کوانٹم میکانیت کا نظریہ ہے، اگر کوئی سائنسی میدان میں ان نظریات کی مخالفت کرے یا چیلنج کرے، تو کم از کم اس کے لیے جامعہ یا ادارے کا دروازہ بند نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے برعکس نظریہ ارتقاء یکسر مختلف معاملہ ہے، اگر آپ مغربی دنیا میں ارتقاء کے نظریے پر، خالصتا سائنسی بنیادوں پر تنقید کرتے ہیں، نہ صرف آپ کو سختی سے رد کردیا جائے گا بلکہ آپ کو عہدے سے برطرف کردیا جائے گا، حتٰی کے آپ کے شعبہ جات کے لوگ سمجھیں گے کہ آپ کا دماغی توازن درست نہیں ہے، اور اس مؤقف کے ساتھ آپ کو کسی ادارتی ترقی کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیئے۔‘‘

یعنی سائنس پرستوں کیلئے نظریہ ارتقاء ایمان کا درجہ رکھتا ہے، جس کے خلاف برداشت، آزادی اظہارکا حق، اور انسانی حقوق وغیرہ کوئی درجہ نہیں رکھتے، اس رویے میں انتہا پسندی کس قدر نمایاں ہے۔

مغربی سائنس کی تاریخی بددیانتی کی وضاحت کے بعد، یہ سمجھنا آسان ہوگیا کہ مذہب دشمنی نے کس طرح انسانی تہذیب کی تباہی و بربادی کا سامان کیا۔ صنعتی دور کی مصیبتوں کی تفصیل تاریخ کی گواہی ہے۔ ارتقاء کے نظریہ کی بنیاد پر نسل پرستی کا فساد، اور اس کے نتیجے میں عالمی جنگوں کی خونیں داستانیں بھی کوئی راز نہیں۔ آخری گواہی آخری مشہور ماہرفلکیات اسٹیفن ہاکنگ کی دانش ہی سے محقق کرتے ہیں۔ وہ (’زمین پر انسان کی بقاء ؟) کے سوال پر کہتے ہیں

’’گھڑی کی تاریخ بھی دلچسپ ہے، یہ سن ۱۹۴۷ میں شروع ہوئی، جب کہ (کچھ ہی عرصہ قبل 1945 میں) ایٹمی عہد کا آغاز ہوچکا تھا۔ رابرٹ اوپن ہئیمر، مینہٹن پراجیکٹ کا سربراہ سائنسدان ہے، اس نے پہلے ایٹمی دھماکے پر کہا تھا کہ ’میں جانتا ہوں اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔‘ اس کی اس بات پربہت سے لوگ ہنسے، کچھ روپڑے، باقی خاموش رہے۔ مجھے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کی وہ سطریاد آئی کہ ’اب میں موت بن چکا ہوں، دنیاؤں کوتباہ و برباد کرنے والا‘۔ تب سے دنیا روز حشر سے پہلے کی نسبت بہت زیادہ قریب ہوچکی ہے۔۔۔ بطور سائنسدان، ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ نیوکلئیر ہتھیار کتنے تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ کس طرح جدید انسان کی سرگرمیاں اور ٹیکنالوجیز موسم اور ماحول میں ایسی تبدیلیاں لارہے ہیں، جو زمین پر زندگی کو ہمیشہ کیلئے بدل کر رکھ سکتی ہیں۔ بطور دنیا کے عالمی شہری، یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کو خبردار کریں، اس غیرضروری رسک سے، جو ہم روزانہ کی بنیاد پر لے رہے ہیں۔ اگر حکومتوں اور معاشروں نے کوئی قدم نہ اٹھایا، نیوکلیئر ہتھیاروں کو تلف نہ کیا اور موسم و ماحولیاتی تبدیلی کو نہ روکا، تو ہم (زمین پر) عظیم تباہی و بربادی دیکھ رہے ہیں۔‘‘

اب جبکہ مغربی ماہرین حیاتیات اور ماہرین فلکیات و طبیعات باہم متصادم ہیں، اور زمین پر انسانی زندگی کی کوئی نوید سنانے سے گریزاں ہیں، کیا رستہ اختیار کیا جاسکتا ہے؟ زمین کو فساد سے کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے؟

معروف مؤرخ ول ڈیوراں اور ایرل ڈیوراں نے ساری تاریخ چھاننے کہ بعد جو چند سبق سیکھے، ان میں سے ایک کا ذکر انہوں نے The lessons of history کے باب Religion and History میں یوں کیا ہے

’’تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، کہ کسی معاشرے میں مذہب کی معاونت کے بغیر اخلاقیات کا کامیابی سے نفاذ ممکن ہوسکا ہو۔ فرانس، امریکا، اور دیگر ممالک کی حکومتیں چرچ سے علیحدہ ضرور ہوئیں، مگر معاشرتی نظم قائم رکھنے کیلئے انہیں مذہب کا سہارا لینا پڑا ہے۔‘‘

یہ وہ تاریخی سبق ہے، جو جھوٹی تاریخ کے محافظوں نے بھی سیکھا ہے۔ یہی وہ تاریخی سچ ہے، جسے جتنا چھپایا جائے گا، اتنی ہی مایوسی ہوگی۔ یہی وہ تاریخی سبق ہے، جو آج بھی سائنس پرستوں کیلئے واحد سبق ہے، جسے سیکھے بغیر نہ انسانی تہذیب کی کسی کامیاب پیشرفت کا امکان ہے، اور نہ ہی زمین پر عالمگیر فلاح کی کوئی امید۔

یہ بھی پلاحظہ کیجئے: اسلامی تصور جہان اور جدید سائنس (جز اول) — حسین نصر/ تدوین: اطہر وقار عظیم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: