سیرت نگار اور خطاط مولانا محمد اسلم زاہد سے گفتگو ۔۔۔۔۔۔۔ عبدالستار اعوان

0
  • 9
    Shares

حکومت پاکستان کی جانب سے ’’سیرت ایوارڈ‘‘ اور بہترین خطاطی پر ’’خطاطی ایوارڈز‘‘ حاصل کرنے والے معروف سیرت نگار اور خطاط مولانا محمد اسلم زاہد کی خصوصی گفتگو

مولانا محمد اسلم زاہد معروف عالم دین ہیں۔ قلم کتاب کے آدمی ہیں اور ہر وقت مطالعہ میں مصروف رہتے ہیں۔ 1987ء سے مسلسل خدمت دین میں مصروف ہیں۔ مولانا کی زندگی کا مقصد صرف سیرت النبیؐ  کا عمیق مطالعہ اور سیرت نگاری ہے۔ تحقیق اور مصنف و مولف کی ذمہ داریوں اور غرض و غایت کو خوب سمجھتے ہیں۔ محض کتاب کا پیٹ بھرنے کے لیے ادھر اُدھر سے مواد لے کر خانہ پری نہیں کرتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کام منفرد اور اچھوتے موضوع پر ہو۔
مولانا محمد اسلم زاہد کی اب تک بہت سی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ان میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد شباب، مختصر بخاری شریف، مسند ابوہریرہؓ دو جلدیں، آغوش پیمبر (اللہ کے رسول بچوں کے درمیان)، عہد نبویؐ کی قرآنی خواتین، اصحاب رسولﷺ کے القاب، علمی مجالس، آثار قیامت، مرنے کے بعد کیا ہوا؟، تحفۃ الاطفال اور علمی جواہرات وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا کی زیر طبع کتابیں یہ ہیں: انا وحبیبی (میں اور میرے محبوبﷺ۔ حضرت سیدہ عائشہ ؓ  کے سیرت کے بیانات)۔ انا و خلیلی (میں اور میرے سچے دوست۔ بیانات سیرت حضرت ابوہریرہ ؓ )۔ انا و جبریل (میں اور جبریل۔ نبی کریم ﷺ اور جبریل کی ملاقاتوں کے احوال) اور رسول اللہ ﷺ کا ذوق جمال۔ مولانا کی کتاب ’’حدائق الصالحین شرح زاد الطالبین‘‘ کا فارسی ترجمہ ایران کے ایک عالم دین نے کیا اور یہ تہران سے شائع ہوا ہے۔

مولانا کی شہرہ آفاق کتاب ‘‘آغوش پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم (اللہ کے رسول بچوں کے درمیان)‘‘ نے حال ہی میں سیرت ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وزارت مذہبی امور کی جانب سے منعقد ہونے والی رحمۃ اللعالمین کانفرنس میں دیا۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں جامعہ الازہر مصر سمیت تیرہ اسلامی ممالک کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔ گزشتہ دنوں ہماری مولانا سے تفصیلی گفتگو ہوئی جو قارئین کی نذرکی جا رہی ہے۔

سوال :سب سے پہلے آ پ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں گفتگو کے لیے وقت دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہم آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ آپ کی کتاب ’’آغوش پیمبر (اللہ کے رسول بچوں کے درمیان) کو 2018ء کے سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا اور حال ہی میں آپ نے وزیر اعظم پاکستان سے یہ ایوارڈ وصول کیا۔ ازراہ کرم آپ اپنے الفاظ میں ہمارے قارئین کو اپنے تعارف اور حالات سے آگاہ فرمائیے۔
جواب: جی آپ کا بھی بہت شکریہ کہ آپ نے زحمت کی اور میرا پیغام سیرت پورے ملک میں میڈیا کے ذریعے پہنچانے کا انتظام کیا۔ جہاں تک میرے تعارف کا تعلق ہے تو میرا نام محمد اسلم زاہد اور میرے والد صاحب کا نام حکیم الرحمان ہے اور ہمارا آبائی علاقہ گائوں جمشیر چک نمبر 24 پتوکی ضلع قصور ہے۔ میں نے ناظرہ قرآن پاک مولانا عبد السبحان سے پڑھا اور قاری محمد اسماعیل شہید سے بصیر پور میں قرآن پاک حفظ کیا اور 1987ء میں درس نظامی کیا۔ اس کے علاوہ 1998ء میں یونیورسٹی آف پنجاب سے ایم اے اسلامیات کیا۔ چونکہ میرے والدین دین اسلام سے سچی محبت رکھتے تھے اور انہوں نے مجھے دین کی تعلیم اور اس کے بعد اشاعت دین کے لیے وقف کر دیا۔

سوال: تحصیل علم کے بعد تعلیمی و تدریسی میدانوں میں کن امور پر زیادہ توجہ رہی؟
جواب:  یہ اساتذہ اور والدین کی دعائوں کی برکت ہی تھی کہ مجھے نورانی قاعدہ سے لے کر بخاری شریف تک تدریس کی توفیق ملی۔

سوال:  اب تک کتنی کتابیں آپ لکھ چکے ہیں؟ اور سیرت نگاری کے فن میں آپ کس سیرت نگار سے متاثر ہیں؟
جواب : اب تک میری پچاس کے قریب کتابیں طبع ہو چکی ہیں۔ سیر ت کے متعلق دو چیزیں بڑی اہم ہیں۔ ایک ہے تحقیق اور دوسری ہے ترتیب۔ تحقیق میں مجھے سب سے زیادہ مولانا محمد ادریس ؒ کی سیرت المصطفیٰ ﷺ، مولانا شبلی نعمانی ؒ کی سیرت النبی ﷺ اور علامہ منصور پوری کی رحمۃ اللعالمین ﷺ نے تالیف سیرت کے کئی نئے رخ دکھائے۔ جب میں نے انہیں پڑھا اور خصوصاً سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ فرمان پڑھا کہ ’’کان خلقہ القرآن‘‘ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا جامع ترین بیان قرآن کریم ہے۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول قرآن کریم کے خلاف نہیں۔ اس حقیقت کے کھل جانے کے بعد میری ہر تصنیف اور تالیف کا محور اور مرکز قرآن کریم ہی ہے۔ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا کوئی واقعہ یا کوئی حدیث پڑھتا ہوں تو قرآن کریم سے ضرور رجوع کرتا ہوں۔ یہ تو ہے تحقیق کا اسلوب (جو آپ کو میری سیرت کی ایک درجن کتابوں میں نظر آئے گا) اس کے ساتھ ساتھ جہاں تک بات ہے طرز نگارش کی، تو اس ضمن میں مشکور ہوں جناب طالب الہاشمی ؒ کا جن کی کتابوں کے مطالعہ اور ان کے میرے مضامین کی اصلاح فرمانے کی وجہ سے میرے کام میں ایک انفرادیت پیدا ہوئی؟ اسی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ میری تمام کتابوں میں قرآن کریم، احادیث اور آثار کے ساتھ ساتھ تجزیہ نگاری اور سبق آموزی کی چاشنی بھی غالب رہتی ہے۔

سوال: کیا آپ باقاعدہ طالب الہاشمی ؒ صاحب سے اصلاح لیتے رہے ؟
جواب:  جی ہاں، انہو ں نے میری کافی اصلاح فرمائی اور میرے کام میں بہتری بھی ان کی نظر نوازی کے سبب ہے۔

سوال: لکھنے کی جانب کیسے متوجہ ہوئے؟ اس کے ابتدائی محرکات کیا تھے؟
جواب: دوران تعلیم ہی خطاطی کا شوق تھا اور مجھے یہ شوق آخر کار سید نفیس الحسینی شاہ ؒکی خدمت میں لے گیا۔ حضرت شاہ صاحب صرف خطاط ہی نہیں بلکہ ایک شیخ وقت، قادر الکلام شاعر اور بہت اچھے نثر نگار بھی تھے۔ انہوں نے مجھے مضمون نگاری کی تربیت بھی دی۔

سوال: ہم نے دیکھا ہے کہ آپ کی کتابوں میں قر آن کریم کی آیات کا استعمال بہت ہوا ہے اور یہ عام اسلوب سے ہٹ کر ہیں۔ اس کی خاص وجہ کیا ہے؟
جواب: صحابہ کرام ؓ کے انداز ِ سیرت بیانی کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں بھی قرآن کریم سے استدلال کی خوشبو نظر آتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : اگر تم چاہو تو قرآن کریم پڑھو۔ اس میں بھی وہی ملے گا جو حضور اکرم ﷺ کیا کرتے تھے۔ دیگر اصحاب رسول میں بھی یہ قدر مشترک نظر آتی ہے۔ مطالعے کے اس انداز سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ جب میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’عہد شباب‘‘ پر قلم اٹھایا تو قرآن کریم کی کتنی ہی آیات ایسی نظر آئیں گی جن سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن سے پہلے ہی اس کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے۔ اسی لیے میری دیگر کتابوں میں تو یہ رنگ غالب آنا ہی تھا کہ وہ نزول قرآن کے بعد کے حالات ہیں۔

سوال : کیا آپ ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس نہیں کرتھے جو عام فہم ہو اور اس میں صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا قرآنی بیان ہو؟
جواب: جی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اس پر بھی کافی کام کر چکا ہوں جو جلد منصہ شہود پر آ جائے گا۔

سوال: آپ کی نظر میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تاریخ کیا ہے؟
جواب : دیکھیں، دو چیزیں ہیں۔ سیرت بیانی اور سیرت نگاری۔ سیرت بیانی کا سلسلہ تو ہمیشہ سے ہے۔ کتب سابقہ میں اور انبیاء علیہم السلام کے بیانات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و خصائل کا ذکر ملتا ہے۔ یہی چیز ابتدائے اسلام میں رہی۔ جہاں تک ’’سیرت نگاری‘‘ کا تعلق ہے تو جتنی قدیم تاریخ قرآن اور حدیث کو لکھنے اور اس کے بعد اس کی تدوین کی ہے۔ یہی رفتار سیرت نگاری کی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اولین مآخذ ہیں۔ عہد صحابہ میں سیرت بیانی کے چند نکات یہ ہیں: (1) وہ حضرات قرآن کریم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اور ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر تینوں چیزوں کی خوشبو کا مرکب پیش کرتے تھے۔ (2) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی حکمت اور علامات نبوت بیان کرتے۔ (3) کسی ایک عمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف اقوال اور اعمال میں تطبیق بیان کرتے۔ (4) اور اس کے ساتھ ساتھ معترضین کے اعتراضات کے جوابات بھی دیتے۔

سوال: مولانا! سیرت نگاری کے ساتھ ساتھ آپ نے ’’سیرت بیانی‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے کہ اس کا کیا مقصد ہے؟
جواب: یہ تقسیم اس لیے کی جا رہی ہے کہ ’’سیرت بیانی‘‘ قدیم اور ہر دلعزیز فن ہے جس کی سندیں انبیاء سے ملتی ہیں۔ اسی تناظر میں ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ لکھ نہ سکے۔ تب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات بیان کرنے چاہییں اور دفاع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فریضے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

سوال: آپ نے درست فرمایا۔ آپ بیان فرما رہے تھے کہ سیرت نگاری کی تاریخ یہ ہے۔ ظاہر ہے کہ تاریخ تو بڑی قدیم ہے لیکن ہم چاہیں گے کہ آپ یہاں چند نکات بیان کر دیجیے۔
جواب: عہد صحابہ و تابعین میں سیر ت نگاری کا آغاز ہو چکا تھا۔ قرون اولیٰ میں بھی سیرت کا تالیفی کام ہوا۔ اسے باقاعدہ فن کی حیثیت دی گئی۔ اس کے لیے روایات کو ترجیح دی گئی۔ اور اس کا معروف حصہ ’’مغازی‘‘ کے نام سے مکتوب ہوا۔ بظاہر نظر آتا ہے کہ ’’مغازی‘‘ سے مراد غزوات اور سرایا کے احوال ہیں لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ان میں اکثر کتابیں پوری حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرحاوی ہوتی تھیں۔ تاہم اس طرز پر لکھنے والے قدیم ترین سیرت نگار حضرت ابان بن عثمان ، ابو الحسن علی بن احمد الواحد (م 468ھ1075/ء) اور عبدالرحمن بن محمد الانصاری (م584ھ1188/ء ) تک بڑے بڑے اساطین علم ہیں جنہوں نے اس فن شریف کی خدمت کو اپنے لیے سرمایہ افتخار سمجھا۔ المنجد کی فہرست میں ’’مغازی نگاروں‘‘ کی تعداد 58 ہے جس میں ایک تہائی جدید اہل قلم کی بھی ہے۔ باقی سلف سیرت نگار ہیں۔ اس کے علاوہ خالص غزوات اورسرایا مغازی نگاری کا رجحان بھی دوسرا ذوق ہے۔ لیکن دوسری صدی ہجری / آٹھویں عیسوی میں یہ رجحان تبدیل ہو گیا۔ پھر سیف بن عمر تمیمی (م180ھ / 796ء) اور محمدبن ہارون بن شعیب (م 353ھ / 964ء) مولف صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے تحقیق نگار آئے ہیں جنہوں نے یا تو صرفا ایک واقعہ کو موضوع سخن بنایا یا سیرت کے کسی ایک موضوع پر مکمل کتابیں لکھیں۔ ایک تیسری قسم ہے ’’جامع سیرت نگاری‘‘ اس میں سب سے زیادہ شہرت علامہ واقدی (محمدبن عمرالواقدی 207 ھ / 722ء) کو ملی۔ ابن اسحاق (محمد اسحاق بن یسار 150۔ ۔ ۔ ۔ 85ھ/ 67۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 704ء ) اور بہت سے مصنفین معروف ہوئے۔ جنہوں نے ابتدائے آفرینش سے اور بعض انبیائے سابقین سے سیرت نگای کا آغاز کیا۔ اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ یہ عنوانات موضوع بحث رہے۔ مثلاً کتب مبحث و مغازی جیسے کتاب کتاب التاریخ والمبعث والمغازی محمد بن فضل التیمی (م535ھ / 1140ء) کتاب المبعث المغازی اور پھر سیرت میں تاریخ خلافت کو شامل کر دیا گیا۔ بعد میں سیرت اور تاریخی علاقہ کو جمع کیا گیا اور کسی دور میں’’موضوعاتی سیرت نگاری‘‘ کو بھی موضوع سخن بنایا گیا۔

سوال: آپ نے جو اصناف سیرت کی بیان کی ہیں۔ کیا ان پر اب بھی کام ہو رہا ہے؟
جواب: جی ان تمام قسموں پر اور مختلف موضوعات پر اس انداز سے کام ہو رہا ہے کہ جو پہلے نہیں ہوا تھا اور اب تو ’’حرمین شریفین کی تاریخ‘‘ کے ساتھ بھی سیرت کا سلسلہ جاری ہے۔ ’’ریاست مدینہ ‘‘ پر کام ہوا۔ داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو موضوع سخن بنایا گیا۔ تمدن، معاشرت، اور قوانین اسلام وغیرہ بے شمار موضوعات ہیں جن پر عربی، اردو اور فارسی میں انگلش میں کام ہوا اور ابھی ہو رہا ہے۔

سوال: درس نظامی پاک و ہند کا مقبول ترین نصاب تعلیم ہے۔ جس شخص نے یہ کورس نہ کر رکھا ہو بڑی سی بڑی ڈگری والا بھی ہو تو عام طور پر لوگ اسے اپنا امام و خطیب بنانا پسندنہیں کرتے۔ اس نصاب میں سیرت اور تاریخ اسلام کی کون سی کتابیں شامل ہیں؟
جواب: اس سلسلے میں گزارش کہ ان اہم ترین موضوعات پر کوئی باقاعدہ فنی کتاب تو شامل نصاب نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختصر احوال پر مشتمل چھوٹی چھوٹی کتابیں جن سے مکی اور مدنی زندگی، غزوات کا تعارف اور وہ بھی ابتدائی سالوں میں پڑھا دیا جاتا ہے۔ نحو اور منطق کی کتابیں کئی سال پڑھائی جاتی ہیں۔ فقہ اسلامی پر جتنی کوشش کی جا رہی ہے اسی قدر ’’سیرت‘‘ کو بھی شامل نصاب ہونا چاہیے۔ اگرچہ ’’درس نظامی‘‘ کی برکت سے بہت سی دینی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ تا ہم سیرت کے مبادیات اور امہات الکتب کے تعارف کے لیے بھی علماء کو الگ سے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کے موقر جریدہ کے توسط سے حکومت پاکستان سے مطالبہ کروں گا کہ عصری اداروں کی ہر کلاس میں سیرت کے مضامین ہونے ضروری ہے۔

سوال: اس سلسلے میں کیا آپ اپنے ہم عصر علما، دینی و عصری علوم کے طلبہ، نئے لکھاریوں اور عوام کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: جی، پیغامات تو بڑے لوگوں کے ہوتے ہیں۔ تا ہم بطور طالب علم میرے دل کی یہ آواز ہے کہ ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اوصاف و کمالات حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ علو م ہر انسان کو دارین میں کامیابی کا راستہ بتاتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان کو ان کامطالعہ کرنا، ’’سیرت بیانی‘‘ اور ’’سیرت نگاری کا ذوق رکھنا بہت ضروری ہے۔ اور نئے لکھنے والوں سے گزارش کروں گا کہ سیرت پر ہزاروں صفحات لکھنے کے باوجود ابھی تک میں ’’نو وارد‘‘ہوں۔ بڑے اور مستند سیرت نگاروں کی کتابوں کو اصل ماخذ کی تحقیق کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ ممکن ہو تو ان سے بالمشافہ سیکھتا بھی ہوں۔ مضامین کی اصلاح کرواتا ہوں۔ تنقید کا منتظر رہتا ہوں۔ مثبت تجاویز کو تسلیم کرتا ہوں اور بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تمام عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم لکھاریوں کے لیے بھی یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ اسی نہج پر سوچیں اور لکھیں۔

سوال: آپ دورِ حاضر اور دورِ قریب کے کس دانشور، مصنف اور قلم کار سے متاثر ہیں؟
جواب: جی، میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر مدح نگار کو پڑھتا ہوں۔ البتہ دور حاضر میں انڈیا کے ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی کے طرز تحقیق اور موضوعات کے تعین کے سلسلے سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ انہوں نے الشریعہ اکیڈمی گوجرانولہ میں ایک خطبہ دیا جو الشریعہ رسالے کے صفحات پر شائع ہوا اور میں نے مطالعہ کیا۔ اس کے بعد تو ان کی کتابوں کو حاصل کر کے دیکھا تو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے کے بہت سے در کھلے۔ مولانا زاہد الراشدی کا کوئی بھی کالم جو سیرت پر ہو اور ریاست مدینہ کی تشکیل کے موضوع پر ہو تو پڑھے بغیر نہیں رہتا۔ ماضی قریب میں مولانا ابو الحسن علی ندوی، ان سے پہلے مولانا ابو الکلام آزاد، سید سلمان ندوی، قاضی سلمان منصور پوری، مولانا غلام رسول مہر، مولانا عبد الماجد دریا بادی اور مولانا مناظر احسن گیلانی، علامہ طالب الہاشمی کے طرز نگارش نے بہت متاثر کیا۔ مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی کے مسودات کی تیاری کرتا رہا۔ اس سے انداز تحقیق میں بڑی مدد ملی اور جہاں تک ’’سیرت بیانی‘‘ اور تدریسی انداز کا تعلق ہے تو اس میں اپنے استاد مولانا ہارون الرشید رشیدیؒ سے متاثر ہوا، اسی طرح سلسلہ تحفیظ میں قاری جان محمد رحیمی اور قاری محمد ابراہیم مفید رحیمی سے اثر لیا۔

سوال: معلوم ہوا ہے کہ آپ نے خطاطی ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ یہ آپ نے کیسے سیکھی، اس سلسلے میں ذرا بتائیے۔
جواب: سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ میرے خطاطی کے استاد ہیں۔ انہوں نے محبت اور بے لوثی کے ساتھ اس ہنر سے آشنا کیا۔ یہ ا ن کا فیض ہے کہ ہزاروں طالب علموں کو میں نے ’’خوش خطی‘‘سکھائی اور اس فن پر ’’چھ راہنماء کار‘‘ رسالے تحریر کیے۔ جو بہت سے سکولوں اور مدارس میں نصاب مدارس ہے۔

سوال: بچوں کے ادب میں آپ کس سے متاثر ہیں؟
جواب: بچوں کے معروف ادیب اشتیاق احمد سے خطاطی کے سلسلے میں پہلی ملاقات دوستی میں بدل گئی۔ ان کا طرز نگارش دیکھا، اپنے بچوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیا، بہت متاثر کیا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین

سوال: آپ کے اس تحقیقی کام میں معاونت بھی کوئی کرتا ہے یا نہیں؟
جواب: جی یہاں میں اپنی اہلیہ محترمہ کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے ہر تحقیقی اور علمی کام میں میری خوب معاونت کی۔

سوال:  خوش خطی کے سلسلے میں آپ قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: پہلی وحی اقراء سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ’’علم بالقلم‘‘ فرما کر قلم کو علم کی ترقی کا راز بتا دیا۔ سائنس جتنی بھی ترقی کرتی جائے، انسان قلم سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے تمام مکاتب، اسکول و کالجز کے طلبہ کے لیے’’خطاطی‘‘ یا کم ازکم ’’خوش خطی ‘‘لازم ہونی چاہیے۔ یہ اسلامی ورثہ ہے۔ اس فن لطیف پر گورنمنٹ کو بھی توجہ دینی چاہیے۔

سوال:  ملکی سیاست اور مذہبی تعصبات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
جواب: ملکی سیاست کے سلسلے میں کوئی صاحب رائے نہیں ہوں۔ یہ کہنا کہ اسلامی جماعتیں بالکل ناکام ہیں درست نہیں۔ ان مذہبی جماعتوں کو اگر کچھ مشترکہ امور پر جمع کر لیاجائے تو ان کا اتحاد انتہائی موثر سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ باقی جہاں تک مسلکی تعصبات کی بات ہے، یہ غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے، تمام مسالک اور گروہوں کو باہم مل جل کر اور اتحاد و یگانگت کے ساتھ رہنا چاہے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

سوال: اب آپ سیرت کے کون سے موضوعات پر کام کر رہے ہیں؟
جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوق جمال، اللہ کے رسول ؐسے اعرابیوں کے مکالمات، میں اور میرے محبوب، میں اور میرے سچے دوست، میں اور جبرائیل۔ (یہ کتابیں جلد منظر عام پر آجائیں گی)۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: