ادب میں حزن و ملال کا رجحان —– لالہ صحرائی

0
  • 138
    Shares

ادب نگاری اپنی اصل میں ایک باشعور اظہارِ بیان کا نام ہے جو انسان کے متفرق معاشرتی مقدمات اور اچھے برے درپیش حالات میں انسانی جذبوں کے مختلف پہلو بیان کرنے پر مامور ہے۔

اس حساب سے تو ہر انسانی جذبہ ادبِ عالیہ میں بیان ہونا چاہئے لیکن اس کے مجموعی بیانیئے کے اندر ہمیں درد، فراق، المیے اور حزن و ملال کا واضح غلبہ دکھائی دیتا ہے، گفتگو کا یہ مدار وصل اور طرب و نشاط کے لمحے نہ ہونے کے برابر قلمبند کرتا ہے، یہ دردِ جدائی پر تو تڑپتا ہے لیکن راحتِ وصل کے بعد خاموش ہو جاتا ہے، یہ کم مائیگی کا رونا تو بہت روتا ہے مگر گراں مائیگی کا شرف بیان کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے۔

اس رویئے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متفرق موضوعات پہ باشعور بیانیہ ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ ادب اپنے معاشرتی ضمیر کا عکاس اور استحصالی رویوں کا ناقد یا کسی حد تک محتسب بھی ہوتا ہے۔

گویا یہ معاشرے کی وہ بالغ نظر ہے جو رویوں اور جذبوں کے بگڑتے ہوئے یا گھٹتے بڑھتے اخلاقی توازن کو پرکھ کے انسانی حقوق کی پاسداری کی آواز اٹھاتا ہے اور اسی آئینے میں عوامی رویئے کو درست کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

جہاں استحصال کُش ٹرینڈسیٹنگ ممکن نہ ہو سکے وہاں کم از کم سطح پر بھی یہ ایک ایسا آئینہ لے کے ضرور کھڑا ہو جاتا ہے جس میں ناپسندیدہ معاشرتی کرداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کو استحصال شکن راہوں کا بھی کچھ نہ کچھ پرتو نظر آتا رہتا ہے، اسلئے ادب کا ایک بڑا حصہ المیہ نگاری کی طرف مائل رہتا ہے۔

خوشی بیان کرنے کیلئے ادب کی اتنی ضرورت بھی نہیں ہوتی کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو جس کو حاصل ہو وہ اسے تن تنہا یا دوسروں کو ساتھ ملا کر جس طرح بھی چاہے اس کیساتھ گزران کرنے میں خود کفیل ہوتا ہے۔

خوشی سیلیبریٹ کرنے کیلئے ساتھ دینے والوں کی کمی سے فرد کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خوشی بذات خود ایک ہمت افزاء عنصر ہے جو اپنے حاملین کیلئے ایک بہترین بلکہ طاقتور ساتھی کا کردار بھی ادا کرتی ہے جبکہ المیہ ایک مخالف قوت ہے جو انسانی ہمت کو توڑتی ہے، المیئے کی تخریبی قوت میں تعمیری قوت بھی موجود ہوتی ہے مگر ہر انسان کیلئے ممکن نہیں کہ اس تعمیری قوت سے فائدہ اٹھا سکے کیونکہ ایسے انسان کی حالت وہی ہوتی ہے جو کسی عرقاب ہونے والے جہاز کے اس مسافر کی ہوسکتی ہے جو ایک تختے کے سہارے ایک بحرِ بیکراں میں کنارے کی تلاش میں ہو۔

لہذا سماج کو بنیادی خطرات المیے سے لاحق ہوتے ہیں جس میں متاثرین کے ساتھ ساتھ اردگرد کا معاشرہ بھی ڈسٹرب ہونے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک نہر جاری ہے اور زمینوں کو سیراب کررہی ہے، یہ اچھی بات تو ہے مگر خبر نہیں ہے کیونکہ وہ اپنا طے شدہ کردار ادا کر رہی ہے اور متعلقہ سماج اس سے مستفیض ہو رہا ہے، لیکن جب نہر بند ہو جائے تو دیہی سماج جس کا روزگار اس نہر کی سیرابی سے وابستہ ہے وہ بلاواسطہ متاثر ہوتا ہے اور معاشرہ بھی بالواسطہ طور پہ لازمی متاثر ہوتا ہے، کسان کا دکھ فوری ہے اور معاشرے تک یہ دکھ قحط کے وقت پہنچے گا اس لئے بیدار ذہن لوگ اسے کسان کا مسئلہ سمجھ کے چپ نہیں رہ سکتے، وہ کھوج لگائیں گے کہ بندش کی وجہ کیا ہے، کوئی استحصال کر رہا ہے یا کوئی حادثہ ہوا ہے، اس کے اچھے برے سب پہلو قلمبند کئے جائیں گے تاکہ آئیندہ یہ کجی وقوع پزیر نہ ہو اور اس کے اسباب کا سدباب کرنے کیلئے مستقبل میں ہر کوئی ہوشیار اور مستعد رہے۔

بیدار اذہان، یعنی ادب نگاروں، کا یہی رویہ لین دین، پیار محبت، بے راہروی، اچھائی کے فقدان، برائی کے فروغ، سرقہ، دہشت، دھوکہ دہی، غنڈہ گردی، بے وفائی اور دیگر عوامل کی طرف بھی ہوگا جن سے انفرادی یا معاشرتی المیوں کا جنم ہوتا ہے اور یہی ازل سے معاشرتی ادب کا طریقِ بیان رہا ہے۔

جذبے ہر دور میں ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پرانے دور کی المیہ نگاری آج بھی اتنی ہی بامعنی اور پر اثر ہے جتنی اس دور میں تھی کیونکہ دل ٹوٹنے کی آواز ہر دور میں یکساں ہوتی ہے۔

وصل، طرب، طمانیت اور خوشی ادب میں اسی لئے کم ہے کہ پامالیٔ حقوق کی روک تھام جیسے فریضے کے آگے اس کام کی حیثیت محض ثانوی ہے، پھر بھی ادب میں طرب و نشاط کی کوئی ضرورت بنتی ہے تو صرف اتنی کہ ضرورتمندوں کیلئے خوشیوں کا اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کی داد و تحسین کی جائے اور ان کے کام، خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو باقیوں کیلئے مثال کے طور پر اجاگر کیا جائے۔

ایک طرف المیہ نگاری معاشرتی کرداروں کو جھنجھوڑنے کے کام آتی ہے اور دست درازوں، کم ظرفوں اور المیہ سازوں کو یہ باور کراتی ہے کہ تمھارے لئے میدان خالی نہیں کیونکہ باشعور لوگ جاگ رہے ہیں اور جگانے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف المیہ نگاری ان لوگوں کے دل کی آواز بنتی ہے جو دل شکنی کو برا جانتے ہیں مگر ان کے پاس مذمت کیلئے الفاظ نہیں ہوتے اور متاثرین رنج و الم کے آنسو پونچھنے کے کام بھی آتی ہے کیونکہ دکھی انسان کیلئے سماج کی طرف سے ہمدردی کی آواز اخلاقی مدد کا کام کرتی ہے جس سے ٹوٹے ہوئے دل کو کافی حوصلہ میسر آجاتا ہے۔

ادب سے سماجی اصلاح بہت کارگر طریقے سے ممکن ہے لیکن اس کا دارومدار ادب کے پھیلاؤ پر منحصر ہے اس لئے کہ ادب برائی کے مواخذے کیلئے اپنے اصولوں کی بنیاد کسی مذہب کی بجائے عام فہم اخلاقی اصولوں پر رکھتا ہے جو کثیرالمذہبی دنیا میں ہر کسی کو قابل قبول ہوتے ہیں، ادب کا اسلوبِ بیان واعظ جیسے تحکمانہ انداز کی بجائے اپنی منظرکشی کی قوت سے دِلوں کو متاثر کرتا ہے اور انہیں بے احتیاطی، بے وفائی، قطع رحمی اور خودغرضی سے پیدا ہونے والے دکھ محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ادب کے ماخذات میں طرب و نشاط اور حکایاتِ وصل کی بجائے حکایاتِ خونچکاں کا غلبہ نظر آتا ہے۔

(Visited 43 times, 5 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: