کیا امام غزالیؒ کا دفاع ممکن نہیں؟ —— لالہ صحرائی

0
  • 336
    Shares

مدرسہ نظامیہ، بغداد

معاصر برقی مجلہ پر چھپنے والے مضمون میں ایک لبرل مصنف فرماتے ہیں کہ امام غزالیؒ کا دفاع ممکن نہیں۔

اس مقدمے میں جن باتوں کو بزعم خویش بھاری بھر کم دلائل کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ دلائل کے بجائے صرف باتیں ہیں۔ موصوف کے مقدمے کا پیٹرن یہ ہے کہ انہوں نے نیوٹن، گلیلیو، ڈارون، فرائیڈ اور مارکس کو سماج کیلئے نافع علمی شخصیات کے طور پر متعارف کروا کے ان کے مقابلے میں الہامی تعلیمات، مابعدالطبیعات، خدا اور ایمان کے تصورات میں تفاوت، علماء کی علمی قابلیت اور اقبالؒ کی فکر کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے اپنی تان اس بات پر توڑی ہے کہ عورت کو ذلیل درجے کی مخلوق اور شیطان کی پیرو کار ثابت کرنے میں امام غزالی جیسی ہستیوں کے اقوال کا بہت دخل ہے، ثبوت کے طور پر امام غزالیؒ کا عورت سے متعلق ایک بیان نقل کیا ہے جو اس مقدمے کی جان سمجھا جا رہا ہے۔

اس مضمون میں ہر بات کا جواب تو ممکن نہیں البتہ یہ مصنوعی جان انشاءاللہ جاتی رہے گی لیکن پہلے اس اعتراض کا ابتدائی حصہ اور اس کا جواب پیش ہے؛

[علم مذہب کی گرفت سے آزاد ہوا تو سائنس نے پہلی بار کھلی آنکھوں کے ساتھ انسان اور کائنات کو دیکھنا شروع کیا۔ گلیلیو، نیوٹن، ڈارون، فرائڈ اور مارکس جیسے نابغوں نے علم کی غیر سائنسی بنیادوں کو الٹا کے رکھ دیا۔ مارکس کے بارے میں تو یہاں تک کہا گیا کہ اس نے سر کے بل کھڑے فلسفے کو پاؤں کے بل کھڑا کردیا۔
یہ بات جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ دنیائے اسلام کے جدید ترین سوچ کا دعویٰ رکھنے والے سکالر اور علماء بھی ڈارون، فرائڈ اور کارل مارکس کے سائنسی تصورات سے بری طرح سے الرجک ہیں۔ جہاں تک ڈارون کی تھیوری کا تعلق ہے اس کے رد کے لیے انہیں قرآن اور حدیث سے عقلی دلائل میسر نہیں آتے سو وہ اس کے رد کے لیے جملہ دلائل مغربی دانشوروں سے ہی حاصل کرنے پر مجبور ہیں]

صاحب گزارش ہے کہ مزکورہ نابغوں نے علم کی غیر سائنسی بنیاد کو الٹ کر سائنسی تو ضرور کر دیا ہوگا مگر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اسلامی اسکالرز نے ڈارون، فرائیڈ اور مارکس کی سائنسی بنیاد پر کونسا حملہ کردیا ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا؟

جس نے علم کو قید کر رکھا تھا وہ بلاشبہ ہمارا مذہب نہیں تھا، عالم اسلام کی بانی جماعت نے تو غیرمسلم قیدیوں سے بھی علم حاصل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا، ان کی اگلی نسلوں کو حصولِ علم کیلئے چین تک جانے کی بھی تاکید ہے اسلئے جب تک سرکاری سرپرستی حاصل تھی انہوں نے بہت گرانقدر کام کیا، بعد میں انفرادی وسائل سے حسب استطاعت کہیں دینی، کہیں عصری اور کہیں جامعۃالرشید کی سائنسی رصدگاہ تک دینی دنیاوی دونوں سلسلے ایکساتھ جاری رکھے ہیں، یہاں تک کہ بنیاد پرست طبقہ زبان دانی کیلئے سبع المعلقات جیسی واہیات شاعری سے سیکھنا سکھانا بھی روا رکھتا ہے، اس سے زیادہ علم دوستی اور روشن خیالی کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟ جو کمی ہے اس کے ذمہ دار صرف حکمران ہیں۔

ڈارون مسلمانوں کی نظر میں:
نظریہ ارتقاء صرف ڈارون کے کریڈٹ پر نہیں بلکہ اس کے دادا سے لیکر جدید ریسرچر تک فرانسیسیوں سمیت بہت سوں کا حصہ اسمیں موجود ہے جبکہ ڈارون بذات خود اس تھیوری کو ارسطو تک لیجاتا ہے اور ارسطو بھی ایک قدیم یونانی فلاسفر ایمپیڈوکلز تک پہنچاتا ہے۔
حوالہ:
دی اوریجن آف سپیئسز، بائی چارلس ڈارون، سکستھ ایڈیشن، چیپٹر: این ہسٹوریکل سکیچ۔

عالم اسلام نظریہ ارتقاء سے کوئی اختلاف نہیں رکھتا ورنہ ڈارون سے سات سو برس قبل مولانا رومؒ اسے ہوبہو الفاظ میں اپنا موضوع نہ بناتے، اور حضرت رومیؒ کے ہوتے ہوئے نہ اقبالؒ انکاری ہو سکتا ہے نہ کوئی عالم نہ فلسفی البتہ رومیؒ صاحب کے ارشاد کا مرکزہ وہ نہیں ہے جو ڈارون سے منسوب ہے، بلکہ حضرت رومیؒ کی بات ارتقاء کی نہایت اعلیٰ توجیح ہے جو کریئیشنسٹ نظریہ کے مطابق ہے اور عین توحید ہے، اس کی تفصیل پھر کبھی دیں گے۔

ہمیں ڈارون کی بیئگل ایکسپیڈیشن سے کوئی اختلاف نہیں، ہمارا اختلاف فقط اس پورشن سے ہے جس میں ایک بندر چلتا چلتا اوور۔آ۔بگ۔لیپ۔آف۔اے۔ٹائم انسان کی صورت میں ڈھل جاتا ہے اور اس کی دُم غائب ہو جاتی ہے۔

صرف یہ ایک عنصر ایسا ہے جو تخلیقِ آدم کے مذہبی تصور سے ٹکراتا ہے اور جتنا ہمارے علماء کی تنقید کا محور رہا ہے اس سے کہیں زیادہ چرچ کی نیچرل تھیولوجی سے وابستہ سائنسدانوں کے ہاں مغضوب رہا ہے۔

اب اس بات کا کیا کِیا جائے کہ مغرب کے مین۔سٹریم سائنسدان بھی اسے قبول کرنے کی بجائے اس بات کی نفی ارسطو تک ہی پہنچاتے ہیں اس تبصرے کیساتھ کہ اوور۔دی۔بگ۔لیپ۔آف۔اے۔ٹائم کوئی جنس اپنی نوع کیلئے مخصوص بیحیوئیر میں طاقتور یا کمزور تو ہو سکتی ہے مگر اپنی جنس کے بنیادی اصول سے انحراف کرکے کسی دوسری جنس میں نہیں ڈھل سکتی کیونکہ اس کی اپنی ہریریکی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسی کنورژن اسکیم۔آف۔کریئیٹر کے خلاف ہے، آگے ارسطو بھی امیئوٹیشنل نظریئے کو اپنے اسی قدیم ماخذ تک پہنچاتا ہے۔

میوٹیشن کیخلاف ہمارا دینی نظریہ صدیوں قبل یہ کہہ چکا ہے کہ ہر چیز خدا کی تخلیق کردہ ہے جو ارتقائی عنصر سے اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتی البتہ خدا چاہے تو اسے بدل سکتا ہے، جیسے کہ مفہوم ہے:

انسان کو بہترین شکل میں پیدا کیا مگر نافرمان قوموں کی شکلیں بدل دیں، میٹھے اور کھارے پانی کے سمندر آپس میں نہیں ملتے کیونکہ ان کے بیچ میں ایک آڑ رکھ دی گئی ہے، دن اور رات ایکدوسرے کے پیچھے چلتے ہیں کیونکہ زمین، چاند اور سورج کی منزلیں طے کر دی گئی ہیں مگر ایک وقت آئے گا کہ سورج مغرب سے بھی طلوع ہوگا، انسان پر ایک ایسا وقت بھی گزرتا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں ہوتا لیکن پھر وہ تڑ تڑ بولنے لگتا ہے۔

ارتقاء کے حق میں اور میوٹیشن کے خلاف ہمارے پاس بہت کچھ ہے لیکن جہاں آپ اسے مانتے نہیں وہاں مغربی ریسرچرز کو ہم اسلئے لاتے ہیں کہ علوم کے معاملے میں ہمیں کوئی تعصب لاحق نہیں بلکہ مغرب سے کوئی مثال اٹھا لانا ہمارے لینئینٹ، اکاموڈیٹیوو اور روشن خیال ہونے کی دلیل ہے لیکن آپ اسے ہماری جہالت گردانتے ہیں۔

صاحب گزارش ہے کہ اسلام کا مقدمہ یہ نہیں کہ وہ آنے والی دنیا کے رنگ برنگے نظریات کا کیس۔ٹو۔کیس جواب دینے کیلئے آیا ہے بلکہ اسلام نے خدا، انسان، معاشرت، ارتقاء اور مابعدالطبیعات کا اپنا ایک نظریہ پیش کیا ہے جسے ماننے یا نہ ماننے کیلئے ہر کوئی آزاد ہے لہذا اسلام اپنے محور کی مبادیات سمجھانے کیلئے ہرجگہ عقلی دلائل دینے کی بجائے موقع کی مناسبت سے کچھ نشانیوں کی طرف توجہ دلا کے انسانی عقل کو ہی دعوتِ فکر دے دیتا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کیلئے۔

اور یہی ایک نکتہ ہے جس کے تحت اسلام میں فلسفے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے تاکہ عقلی دلائل کا تقاضا کرنے والوں کو عقلی جوابات دیدیئے جائیں، اسی گنجائش سے رازیؒ، غزالیؒ، رومیؒ اور اقبالؒ کا فلسفہ پیدا ہوتا ہے، ورنہ شریعت مطہرہ کے ہوتے ہوئے ان مفکرین کی ہمیں کوئی ضرورت نہ تھی، ایک اسی ضرورت کے تحت ہمارے یہ مشاہیر نوع انسانی کی رہبری کرتے آئے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ انہیں پراگندہ کرکے پھینک دیا جائے، مگر یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔

ڈارون کی حقیقی تھیوری کیا ہے؟
یہ ہمارا موضوع تو نہیں لیکن اس چیز کو واضح کر دینا قارئین کیلئے دلچسپی سے عاری نہ ہوگا۔

احمد جاوید صاحب اپنے ایک لیکچر میں کہتے ہیں کہ عالم وہ نہیں ہوتا جو جانتا ہے بلکہ عالم وہ ہوتا ہے جو جاننے کے بعد کماحقہٗ اس بات کو بیان کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو، اس حساب سے دیکھیں تو ڈارون نے کہا کچھ اور تھا لیکن ان کے نمائندوں نے یہاں پہنچایا کچھ اور ہے۔

یہ ساری لڑائی میوٹیشن اور امیوٹیشن کے گرد گھومتی ہے، یعنی ہم کہتے ہیں کہ انسان خدا کا بنایا ہوا زمین پر اتارا گیا تھا، یہ کریئیشنسٹ تھیوری ہے، یہ چونکہ خدا کو نہیں مانتے اسلئے انسانی حیات کو جبلی ارتقاء میں تلاش کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک ارتقاء کا مطلب یہ ہے کہ کسی جاندار کو اگر کسی مخصوص ماحول میں رکھا جائے تو اس کے اثرات سے یہ اپنی ہیئت تبدیل کر سکتا ہے، مثال کے طور پہ آپ چھوئی موئی کے پودے کو چھوئیں تو ماحول کا یہ جبر دیکھ کے وہ فوراً سکڑ جاتا ہے، اگر یہ جبر لمبے عرصے تک رہے تو یقیناً وہ بھی سکڑا رہے گا، ہو سکتا ہے وہ اپنی عادت کو بھول جائے یا کسی اور رویئے میں ڈھال لے۔

مدرسیہ نظامیہ

اسی طرح گھوڑا گھاس کھانے والا جانور ہے لیکن جب اسے کسی ایسی جگہ منتقل کر دیا جائے جہاں گھاس نہ ہو تو وہ مجبوراً کسی اور جڑی بوٹی سے پیٹ بھر لے گا جو گھاس کے برعکس توانائی پہنچائے گی، یعنی اس کے خون میں نئے اثرات پیدا ہوں گے جو اسے اس ماحول میں ایڈجسٹ کرا دیں گے۔

اس نئے ماحول میں نسل بڑھنے کے چانسز دو طرح سے بنتے ہیں، ایک یہ کہ نسل تو گھوڑا اور گھوڑی کے ملاپ سے ہی چلے مگر نئے ماحول کے اثرات سے وہ نئی طرز کی پیدا ہو، پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری آتی جائے، بالکل ایسے ہی جیسے گاؤں کا بندہ شہر آجائے تو کچھ عرصے بعد وہ گاؤں والوں سے مختلف ہو جاتا ہے لیکن گاؤں کی کچھ نشانیاں اس میں رہ جاتی ہیں، پھر اس کی اولاد اس سے بھی زیادہ شہری نکلتی ہے جس میں گاؤں کا کوئی رویہ نہیں ہوتا، یہ نسل جب امریکہ چلی جائے تو یہاں سے بھی بہتر ہو جاتی ہے، پھر ان کی اپنی نسل ان سے بھی زیادہ امریکی نکلتی ہے، اب تیسری نسل جو امریکہ میں پیدا ہوئی اور اس کے متوازی تیسری نسل جو گاؤں والوں کے ہاں پیدا ہوئی ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوگا حالانکہ یہ ایک ہی دادا کی اولادیں ہیں، امیزون کے جنگلی انسان اور ہمارے درمیان بھی یہی فرق ہے حالانکہ ہم دونوں ایک ہی دادا کی اولادیں ہیں۔

اس مثال کو سامنے رکھ کے دیکھیں تو نظریہ ارتقاء یہ کہتا ہے کہ انسان اور بندر کسی ایک ہی باپ کی اولاد ہیں لیکن انسان کسی ایسے خطے میں آباد ہوگیا جس کے ماحول اور خوراک سے نکھرتا چلا گیا، جبکہ بندر کسی پسماندہ علاقے میں وہیں کا وہیں رہ گیا، یہ عام بندر نہیں بلکہ ایپ ہے جو انسان سے قریب تر مماثلت رکھتا ہے۔

کنورژن کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گدھے گھوڑے ایک نئے ماحول میں جانے پر مجبور ہوگئے، وہاں گھوڑیاں اور گدھے سارے مرگئے، فقط ایک گھوڑا اور ایک گدھی بچی تو بقا کیلئے انہوں نے سمجھوتا کرلیا، یوں ان کے ملاپ سے خچر پیدا ہوا، اسی طرح شیر اور چیتی کے ملاپ سے لیوپرڈ پیدا ہوا، یعنی دو مختلف نسلوں کے ملاپ سے ایک تیسری نسل وجود میں آسکتی ہے، اسی طرح ممکن ہے کسی مخصوص حالات میں ایپ کیساتھ کسی سوپیرئیر جنس کا ملاپ ہوا ہوگا جس سے ایک تیسری نسل یعنی انسان پیدا ہوا۔

جو لوگ کریئشنسٹ نہیں یعنی جو انسان کو خدا کا بنایا ہوا نہیں مانتے وہ انہی دو نظریات میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور ہیں، لیکن جس کو چنیں گے اس کیساتھ دُم کا مسئلہ آجائے گا۔

اس دُم سے جان چھڑانے کیلئے ڈارون نے ایپس اور انسان کی مماثلت کا جائزہ لیتے ہوئے ورٹیبراز کی ساخت اور بیٹھتے وقت اس کی حرکیات اور فرِکشن کو موضوع بناتے ہوئے ڈاکٹر اینڈرسن اور بفن کے حوالے سے ایک گفتگو کرکے خیال ظاہر کیا ہے کہ بائیولوجی کے نیچرل سیلیکش پرنسپل کے تحت مخصوص ماحول اور مخصوص غذا سے خون میں ایسی تبدیلیاں ہونا ممکن ہیں جو کسی جاندار کیلئے ناپسندیدہ یا ان۔کمفرٹیبل حصے کو آہستہ آہستہ میوٹ کردیں، یعنی وہ مخصوص حالات میں پرورش پاکے مہذب ہوتا جانے والا انسان جب دُم سے تنگ آیا ہوگا تو اس کی خواہش نے یا خواراک نے بائیولوجیکل تبدیلیوں سے دُم کو کم کرتے کرتے ہزاروں سالوں پر محیط وقت کے دوران بلآخر ختم کر دیا۔
حوالہ:
دی ڈِسّینٹ آف مَین بائی چارلس ڈارون، پیج سکسٹی

ایک کرئیشنسٹ ان چیزوں کو مان نہیں سکتا اور ایک ایولیوشنسٹ کے پاس انہیں ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے، ان حالات میں یہ لوگ اگر اس طرح صراحت کیساتھ اپنا نظریہ بیان کر دیتے تو ہمارا عالم صرف یہی کہتا کہ بھائی یہ تیرا مسئلہ ہے تو جان، ہم اس پخ سے بَری ہیں۔

لیکن جب انہوں نے بات ہی اسطرح بتائی کہ ایک چارٹ پہ بندر چلتا چلتا ہزاروں سال بعد انسان بن گیا اور اس کی دم استعمال نہ ہونے کی وجہ سے غائب ہوتی گئی تو ہمارا عالم اس کا مزاق نہیں اڑائے تو کیا کرے، یا پھر مغرب کی مذہبی دنیا کے نقطۂ نظر کو دیکھ کے ان کے دلائل کو کاپی کرے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  قضیۂ غزالی و ابن رشد اور بدعت شناسانہ میلانات – عاصم بخشی

 

بالفرض اگلے ہزار سال میں اس طرح کی ہزار تھیوریاں اور آئیں اور قرآن پاک ہر تھیوری کا جواب دے تو پھر ایک کتاب کی بجائے کلام اللہ کے کئی والیم درکار تھے، پھر ہزار سال قبل والے کہتے کہ اس کلام کے کئی والیم تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آرہے، پھر ہر دور کا انسان کسی ایک حصے پر ہی عمل کر پاتا جو اس کے عہد سے متعلق تفہیم دیتا، باقی حصے یا ماضی کے متعلق ہوتے یا مستقبل سے متعلق ہوتے، اس کنٹروورسری میں ڈالنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں قیامت تک کیلئے اپنا منشور بیان کردیا ہے جو ہردور کے انسان کو سمجھ آتا رہے گا، چنانچہ ہمارے عالم سے یہ تقاضا کرنا کہ فلاں فلاں نظریات کے حق یا مخالفت میں قرآنی دلائل لاؤ یہ بالکل بیجا بات ہے البتہ ہمارا فلسفی اس معاملہ میں اپنی قابلیت کی بنیاد پر چاہے تو کسی بات کے بھی عقلی دلائل دے سکتا ہے۔

اس معاملے میں غزالی صاحبؒ جیسا متکلم کوئی نہیں جن کے بعد آنے والے ڈیکارٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہوبہو غزالی صاحبؒ کی کاپی تھا مگر آپ تو غزالی صاحبؒ کو ہی تختۂ مشق بنائے بیٹھے ہیں۔

مارکس مسلمانوں کی نظر میں:
مجھ سمیت عالم اسلام کو مارکس سے کوئی اختلاف نہیں، نہ ہی مارکس نے کبھی عالم اسلام کو للکارا ہے جبکہ ٹریبیوں کے صفحات پر برطانیہ کے صنعتی انقلاب میں مزدور کے استحصال، برطانیہ کی کالونیل اینکروچمنٹ، ہندوستان میں برطانوی پالیسیز اور سرمایہ دار نظام رکھنے والی دنیا کو وہ بزرگ آئے دن لتاڑتا رہا ہے۔

مارکس نے داس کیپیٹال اسی سرمایہ دارانہ معیشت رکھنے والے سماج کیخلاف لکھی تھی جسے فاضل مصنف مذہب کی گرفت سے آزاد ایک سائیٹیفک علمی اور عقلی سماج گردانتے ہیں، کیا دنیا کے وسیع ترین سرمایہ دارانہ سماجوں میں مارکس کے افکار کا کوئی عکس نظر آتا ہے آپ کو؟

مارکس نے جس فلسفے کو پاؤں کے بل کھڑا کیا تھا وہ ہتھوڑا اور درانتی لئے سائبیریا کے اطراف میں بذات خود کہیں سر کے بل جا کھڑا ہے۔

عالم اسلام کو مارکس کے نمائندہ سماجی ماڈل کی اخلاقیات سے تو اختلاف رہا ہے مگر مارکس کی ذاتی فکر سے اختلاف اسلئے نہیں ہے کہ اس نے معاش، معاشرت اور بندۂ مزدور کے حق پر جو عمارت کھڑی کی ہے وہ بذات خود اسلامی ماڈل کا ایک جز ہے کیونکہ ریاست مدینہ کا سوشل ماڈل کیپٹلسٹ، سوشلسٹ اور بینویلینٹ سوچ کا کمپینڈئیم تھا۔

آپ مغرب کے سوشل سیکیوریٹی سسٹم کو مارکس کے عکس پر منطبق کرنا چاہتے ہیں تو واضح رہے کہ مغرب اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، یہ آپ کا صرف ذاتی خیال ہو سکتا ہے جبکہ ڈیڑھ سو ممالک میں خالصتاً مارکسی ماڈل دس فیصد بھی دستیاب نہیں پھر بھی آپ اپنی بات پر صرف اسلئے مصر ہونا چاہیں کہ مارکس کا سوشل ویلفئیر کنسیپٹ مغربی نظام میں نظر آتا ہے تو ہم بھی اسی طرح اصرار کرسکتے ہیں کہ مغربی ماڈل دراصل ریاست مدینہ کی سوچ کا عکس ہے جبکہ مغرب اپنے سسٹم میں پے درپے ہونے والے دیوالیہ پن اور کارپوریٹ مرجرز کو کنٹرول کرنے کیلئے اسلامی ماڈل کاپی کرنے کا اقرار بھی کرتا ہے۔

فرائیڈ مسلمانوں کی نظر میں:
فرائیڈ کا معاملہ بھی ڈارون سے مختلف نہیں، ہمیں اس کی کسی تھیوری سے کوئی مسئلہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ہم جنس پرستی کو بیمار سوچ کی بجائے نیچرل ٹینڈینسی قرار دیتا ہے، اور بیٹی کی باپ سے محبت اور بیٹے کی ماں سے محبت کو صنفی دلچسپی کی بجائے ایڈیپس۔کمپلیکس کے تحت جنسی دلچسپی قرار دیتا ہے جو اب الیکٹرا۔کمپلیکس کہلاتا ہے، یہ نظریہ مغرب سمیت ہر جگہ کنٹرورشیئل رہا ہے۔

نیوٹن اور گلیلو کو مصنف نے خود ہی خارج از بحث کر دیا تھا لیکن سرراہ ہماری یہ گزارش ہے کہ گلیلیو کیساتھ جو ظلم ہوا وہ تو چلو مذہب کی قیدی سوسائٹی نے کیا تھا مگر دورِ حاضر میں یورپ و انڈیا سے جو درجنوں سائنسدانوں کی خودکشیوں کو جبری موت اور غیابت کو جبری گمشدگی قرار دیا جاتا ہے اس کے پس پردہ عوامل سے بھی نئی نسل کو روشناس کرانا آپ کا فرض بنتا ہے۔

فاضل مصنف نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اقبالؒ مذہب کا سائنس اور فلسفے سے معانقہ کرانے کی ناکام کوشش میں فقط چند دانشوروں کے مباحث تک ہی محدود ہو کے رہ گئے ہیں جبکہ ڈارون، فرائیڈ اور مارکس کی طرح سماجی رویوں اور عمل میں نتیجہ خیز طور پر منعکس ہونے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

فکر اقبال یہاں انٹیلیجینشیاء اور تعلیمی میدان تک محدود ہے تو ڈارون، فرائیڈ اور مارکس بھی مغربی معاشروں میں ہر کوئی ڈسکس نہیں کرتا، وہ بھی دانشکدے اور تعلیمی میدان تک ہی محدود ہیں، صرف الحاد کا ایسپیکٹ ایسا ہے جو ان صاحبان کی بدولت یورپی سوسائٹیز میں قبول عام کا درجہ رکھتا ہے، اور ان شخصیات کی آڑ میں یہاں بھی یہی لچ تلنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ فرائیڈ کی کتاب “موسیز اینڈ مونوتھیئزم” یعنی موسیٰؑ اور ایک خدا” کے ہوتے ہوئے یہ بھی ایک علمی بددیانتی ہے کہ لوگوں کو الحاد کی تعلیم دی جائے جبکہ بیشتر مغربی فلاسفر آخری عمر میں مذہب میں ہی پناہ ڈھونڈتے پائے گئے ہیں۔

آخر میں فاضل مصنف ان شخصیات کے مقابلے میں امام غزالیؒ کا علمی مقام و مرتبہ گہنانے کیلئے انہیں جس طرح سے پیش کرتے ہیں وہ بھی دیکھ لیجئے؛

[ہمارے قدیم اور جدید مذہبی علماء کی ان مسائل پر کتنی دسترس ہے، یہ سبھی جانتے ہیں۔ فرائڈ کے دریافت کردہ علم کو نخوت بھری ’ہونہہ‘ سے رد کردینے والے جدید مذہبی سکالر علم کے میدان میں اپنے احساسِ کمتری کو چھپانے کے لیے امام غزالی جیسے لوگوں کو اپنے طور پر کتنا ہی بڑا ماہرِ نفسیات ثابت کرنے کی کوشش کیوں نہ کرلیں لیکن ان کے ممدوح امام کے علم کی گہرائی جاننے کے لیے خواتین کے بارے میں ان کے چند تجزیاتی فرمودات بیان کردینا کافی ہوگا۔
عورتوں کی نسل کے بارے میں موصوف کی ریسرچ اتنی گہری تھی ان کی دس اقسام ڈھونڈ نکالیں جو سب کی سب جانوروں سے مشابہ ہیں اور جانور بھی وہ جو عمومی طور پر کسی ضرر یا کمزوری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان جانوروں میں سور، بندر، کتے، سانپ اور بچھو سے لیکر خچر، چوہے، کبوتر، لومڑی اور بھیڑ تک سبھی شامل ہیں۔]

گزارش ہے کہ فاضل مصنف اس بات سے لاعلم ہوتے کہ میٹافر یا تشبیہ کیا چیز ہے تو اور بات تھی لیکن جب وہ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں تو پھر یہی باور کیا جا سکتا ہے کہ علمی بددیانتی ہی وہ کنجی ہے جس کے بغیر حضرت غزالیؒ تک عوامی رسائی کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا تھا لہذا استعمال کر ڈالی۔

تشبیہات آسمانی صحائف میں بھی موجود ہیں اور دنیا کا کوئی ادب بھی اس سے خالی نہیں، اس سے انسانیت کی توہین کرنا مقصود نہیں ہوتی بلکہ کسی اوبجیکٹ کی “غالب صفات” سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

میٹافر کی تعریف یہ ہے کہ کسی چیز کی صفات گنوانے کی بجائے اسے کسی معروف چیز سے تشبیہ دیدی جائے جس کی صفات سے ہر خاص و عام واقف ہو، یعنی کرپٹ عناصر کو کالی بھیڑیں کہنا، بہادر کو شیر، ڈرپوک کو گیدڑ، احمق کو گدھا، چالاک کو لومڑ، بھولے کو اللہ میاں کی گائے، بیہودہ کو جانور اور درندہ صفت انسان کو بھیڑیا کہنا میٹافر کی عام مستعمل مثالیں ہیں، اس کی عملی تفسیر مغربی ادب و سماج سے بھی پیش کر دیتا ہوں؛

شیکسپئیر کے پلے اوتَھیلو کا کیریکٹر “لاگو” مختلف مقامات پر موقع کے حساب سے اوتھیلو کی بیوی ڈیسڈیمونا کو “وہائٹ ایو ewe” یعنی خوشنما بھیڑ، guinea-hen یعنی بھولی مرغی، وائلڈ۔کیٹ یعنی خونخوار بلی کہتا ہے، بری بات تھی تو شیکسپئیر نہ لکھتا۔
حوالہ: اوتھیلو، ایکٹ ٹو۔

جارج اورویل کا ناول دی۔فارم جو روسی سماج میں ڈکٹیٹرشپ کی طنزیہ عکاسی پیش کرتا ہے وہ کلی طور پر میٹافر پر مبنی ہے جس میں تمام جانور پگز کی قیادت میں انسان سے آزادی حاصل کرتے ہیں، یہ پگز کون ہیں؟ عقلمند رہنما یعنی مارکسی طبقہ اور انسان کون یے؟ زارِ روس!، پھر آئینی ترمیمات کے وقت کسی کو گدھا اور کسی کو لومڑی بھی قرار دیا گیا، بری بات تھی تو اورویل بھی نہ کہتا۔

رومیو جب جولیٹ کی تلاش میں مقبرے تک پہنچتا ہے تو دروازے کو بھوکا منہ قرار دیتا ہے اور پھر آگے جاکے اس کے مقبرے کو womb of death کہتا ہے، اس سے شیکسپئیر کے ہاتھوں عورت کی توہین نہیں ہوتی؟

مشہور زمانہ لارڈ Dikkie جس نے ہندوستان کی “منصفانہ” تقسیم کرکے دی تھی، اسنے اپنی نصف بہتر کے سینے کا نام Mutt & Jeff رکھا ہوا تھا، یہ وار میڈل اور وکٹری میڈل کی جوڑی پہلی جنگ عظیم لڑنے والی برٹش فورسز کو ملی تھی، لارڈ ڈکی کے کہنے کا مطلب بھی یہی تھا کہ چھوٹا اور بڑا یعنی دونوں ایک دوسرے سے مختلف، اس سے عورت کی توہین نہیں ہوتی؟

یہی حال ان کے سماج کا ہے؛
مغربی فلاسفرز لیک۔آف اینڈ جانسن نے انسانوں کی خصوصیات جان کر ان کے شر سے بچنے یا دوستی کرنے کے رویئے کو کنسیپچؤل میٹافر تھیوری CMT کا نام دیا ہے جس کے تحت بلغراد یونیورسٹی کی ریسرچر ندیزدا سلاسکی کہتی ہیں کہ اس طریقہ کار میں انسانی رویوں کو ڈیفائن کرنے کیلئے جانوروں کے نام استعمال کئے جاتے ہیں۔

آپ نے امام غزالیؒ پر یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ان کا رویہ مردانہ سماج کی برتری کا عکاس ہے اور مغربی معاشروں میں ڈارون، مارکس اور فرائیڈ کی مثبت انسان دوست سوچ راسخ العمل ہے، اس کے برعکس ندیزدا سلاسکی 2003 کی ایک ریسرچ کے حوالے سے اپنے تھیسس میں یہ بیان دیتی ہیں؛

Western society has been (and still is) mostly governed by men, the patterns and norms of behaviour have been dictated by them. As a consequence, the attributes assigned to each of the sexes in the gender metaphor are highly androcentric since men are taken as the norm of reference. (Fontecha & Catalán 2003)

پھر وہ خود ہی یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا مرد ہی ایسا کرتے ہیں یا عورت کا بھی یہی رویہ ہے، اس چیز کو پرکھ کے اس نے بتایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی ایکدوسرے کو 20 جانوروں سے تشبیہ دیتے ہیں جن میں سے، مچھلی، بلی، بطخ، مرغی، ہنس، بکری، کتیا، بھیڑ گھوڑی، گائے، ٹرکی، خچر، سؤر، یہ 13 گھریلو ہیں باقی 07 جنگلی ہیں جن میں، چیتی، شیرنی، لومڑی، سانپ، ہاتھی، ریچھنی اور زرافہ شامل ہیں۔

ندیزدا سلاسکی نے ان تمام میٹافر کا جو مقام و مقصد برائے استعمال بتایا ہے وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا غزالی صاحبؒ نے بتایا ہے، اور یہ بھی بتایا ہے کہ کونسا میٹافر کتنے فیصد خواتین کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

اس کے بعد فردوسی یونیورسٹی مشہد کیلئے فاختے نخاولی اور اعظم ایستاجی کی مشترکہ ریسرچ اور یونیورسٹی آف جارڈن کیلئے ہادی ہمدان کی ریسرچ بھی انہی باتوں پر مشتمل ہے۔

A Contrastive Study of Animal Metaphors in English and Arabic by Hady Hamdan
Semantic Derogation in Persian Proverbs by Azam Estaji & Fakhteh Nakhavali

غزالی صاحبؒ کی بھیڑ اور مغرب کی بھیڑ میں کوئی فرق نہیں، دونوں نیک خصلت سمجھی جاتی ہیں، خواتین کیلئے غزالی صاحبؒ کے دیگر میٹافر صرف گھریلو ماحول کو ڈسکس کرتے ہیں جبکہ مغربی معاشرت میں جنسی رویوں کے عکاس چِک اور بِچ جیسے میٹافر سے عورت کی جو خاص عزت افزائی ہوتی ہے وہ یقیناً فرائیڈ وغیرہ کی اعلیٰ سوچ سے ہی مزین ہوگی۔

فاضل مصنف اپنے مضمون میں ڈارون، مارکس اور فرائیڈ کے متعلق تو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ؛

[عالم اسلام میں کون ہے جو انکے نظریات کے ابطال کی ذمہ داری علم کی بنیاد پر نبھانے کا اہل ہے؟؟؟]

لیکن حضرت غزالیؒ کے معاملے میں خود ان کا اپنا عمل اپنے ہی نظریئے کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے، آپ امام غزالیؒ کا سارا علمی ذخیرہ صرف اسلئے رد کر دیتے ہیں کہ عورت کے متعلق ان کی رائے ٹھیک نہیں حالانکہ موصوف بذات خود میٹافر کی دنیا سے لاعلم ہیں، یا جان بوجھ کے چھپا گئے ہیں۔

دوستو! میں نے کوشش تو بہت کی ہے مگر امام غزالی صاحبؒ کا دفاع محض اسلئے ممکن نہیں کہ وہ مسلمان ہیں ورنہ صورتحال آپ کے سامنے ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  پڑتال — ایمان و الحاد کی پرانی جنگ اور نئے دانشور —– لالہ صحرائی

 

پڑتال — ایمان و الحاد کی پرانی جنگ اور نئے دانشور —– لالہ صحرائی

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: