عدلیہ کا کردار: جسٹس سر عبدالرشید سے جسٹس آصف کھوسہ تک —- اے خالق سرگانہ

0
  • 128
    Shares

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی کہانی مجموعی طور پر زیادہ خوشگوار نہیں، اِکا دُکا ایسی شخصیات عدلیہ کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان رہیں جن پر بلاشبہ فخر کیا جا سکتا ہے۔ پہلے چیف جسٹس سرعبدالرشید کو جب وزیر اعظم کی طرف سے ایک تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تو انہوں نے اپنے سٹاف سے دریافت کیا کہ کیا حکومت کا کوئی کیس عدالت میں زیرسماعت تو نہیں جب انہیں بتایا گیا کہ ایک کیس عدالت کے زیرغور ہے تو انہوں نے تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی اور اعلیٰ عدالتی روایات کو سربلند رکھا۔ پھر جسٹس کار نیلس اور جسٹس ایم آر کیانی جیسے چند جج قابل فخر ورثہ چھوڑ گئے۔ گویا آغاز تو ہمارا اچھا تھا لیکن معاشرے اور اداروں کے زوال کے ساتھ ساتھ عدلیہ جیسا مقدس اور باوقار ادارہ بھی اپنی ساکھ بحال نہ رکھ سکا۔

اعلیٰ عدلیہ، اسٹیبشلمنٹ اور مقننہ ریاست کے انتہائی اہم ستون میں جن کی کارکردگی کا براہ راست امورِ ریاست پر اثر پڑتا ہے۔ اگرچہ پریس کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے لیکن اُس کی نوعیت تھوڑی سی مختلف ہوتی ہے۔ مقننہ عوام کی نمائندہ ہونے کی بناء پر قانون سازی کا حق رکھتی ہے اور یوں اُس کا مرتبہ کافی بلند ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ، بشمول فوج، ملک کی سلامتی اور روز مرہ کاروبار چلانے کی ذمہ دار ہے اور عدلیہ عوام کے علاوہ اداروں کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتی ہے لیکن افسوس کہ عدلیہ نے تاریخ کے ہر دور میں بہت سے ایسے اہم فیصلے کئے جن کے ہماری قومی زندگی پر دوررس منفی اثرات پڑے۔ جسٹس منیر سے جسٹس ثاقب نثار تک بہت سارے فیصلوں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ عدالت عدلیہ اداروں کے درمیان جھگڑوں میں غیر جانبدار ثالث نہیں بلکہ فریق بن گئی ہے۔ سیدھی سی بات ہے عدلیہ نے فوجی طالع آزمائوں کے اقتدار پر قبضے کو مثبت سرٹیفکیٹ جاری کئے حتیٰ کہ آئین میں تبدیلیوں کا اختیار بھی دیا۔شنید ہے کہ ایک چیف جسٹس نے تو بعد از ریٹائرمنٹ جنرل پرویز مشرف سے دوران ملاقات نئی ملازمت کے لئے درخواست تھما دی۔ بقول عینی شاید کے جنرل صاحب خود بھی اس حرکت پر ششدر رہ گئے۔ اس قسم کے واقعات سے اعلیٰ عدلیہ کا وقار عوام کی نظروں میں گِر گیا اور سپریم کورٹ سے عوام کی مایوسی کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ملک کی سلامتی یلئے بہت خطرناک ہے۔ یہاں میں چرچل کے مشہور قول کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ جب انہیں جنگ عظیم کے دوران معیشت کی زبوں حالی کا بتایا گیا تو انہوں نے سوال کیا کہ عدالتوں سے عوام کو انصاف مل رہا ہے؟ مثبت جواب سن کر انہوں نے کہا کہ برطانیہ محفوظ ہے۔

عدلیہ کی حالیہ تاریخ میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کا دور قابل ذکر ہے۔  یہ عدلیہ کی فعالیت کا دور تھا جنرل پرویز مشرف نے جسٹس چوہدری سمیت کئی جج حضرات کو عدلیہ سے فارغ کر دیا تھا۔ جسٹس چوہدری کی بحالی کیلئے ایک غیر معمولی تحریک چلی جس میں وکلاء اگرچہ ہراول دستہ تھے تاہم سول سوسائٹی اور معاشرے کے دوسرے طبقوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ چوہدری صاحب بحال ہو گئے اور یوں عدلیہ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اُن کی بحالی کے کئی اثرات ہماری قومی زندگی پر ظاہر ہوئے۔ سب سے اہم بات یہ کہ پہلی بار یہ تاثر قائم ہوا کہ اعلیٰ عدلیہ کسی اور طاقت کے زیر اثر نہیں بلکہ آزاد ادارہ ہے جیسا کہ آئین میں طے کیا گیاہے۔ اس بے مثال تحریک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہمارا معاشرہ ابھی جاندار ہے اور لوگ حق کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ وکلاء کا رویہ غیر معمولی حد تک جارحانہ ہو گیا۔ انہوں نے اپنی مرضی کے فیصلے لینے کے لئے عدالتوں پر رعب جمایا اور بعض جگہ تو معاملہ غنڈہ گردی کی شکل اختیار کر گیا۔ افسوس کہ اس رحجان پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوموٹو اختیار کا کافی استعمال کیا اور کئی جگہ تجاوز بھی کیا۔ انہوں نے بہت سارے فیصلے ایسے کئے جن کے نتائج حکومت اور ریاست کو بھگتنے پڑے۔ لیکن بلاشبہہ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کا وقار بلند کیا اور کئی جرأت مندانہ فیصلے کئے مثلاً اصغر خان کیس اور جنرل پرویز مشرف کا کیس، افسران کی ترقیوں کا کیس اور خود مختار اداروں کے سربراہوں کے تقرر کیلئے اشتہار اور دوسرے پروسیجر کی پابندی وغیرہ لہٰذا مجموعی طور پر جسٹس چوہدری کا دور عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔ البتہ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آنے کا اُن کا فیصلہ انتہائی غیردانشمندانہ تھا جس کی ہرگز ضرورت نہ تھی۔ سیاست ایک بالکل مختلف کھیل ہے یہ ججوں اور جرنیلوں کے بس کا روگ نہیں۔

جسٹس چوہدری کے بعد دو تین حضرات نے یہ منصب سنبھالا اور اپنا وقت خاموشی سے پورا کیا اور کوئی خاص ورثہ چھوڑ کر نہیں گئے لیکن جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس چوہدری کے نقش قدم پر چل کر ایک دفعہ پھر سپریم کورٹ کو زندہ کیا۔ اُن کے دور میں بہت سے کام ہوئے ایک تو انہوں نے بقول عرفان قادر سوموٹو کے سلسلے میں انتہا کر دی دوسرا انہوں نے انتظامی معاملات بھی ہاتھ میں لینا شروع کر دیئے۔ انہوں نے سکولوں اور ہسپتالوں کے دورے کئے جو مناسب نہ تھا۔ پھر انہوں نے ڈیم بنانے کا بیڑہ اُٹھا لیا اور اُس کے لئے چندے کی بھرپور مہم چلائی اُس کے لئے سائلوں سے سودے بازی تک کی کہ اگر وہ ناجائز ذرائع سے اکٹھی کی ہوئی دولت سے ڈیم فنڈ میں جمع کرا دیں تو اُن کو ریلیف دیا جا سکتا ہے پھر انہوں نے چندے کیلئے غیر ملکوں کے دورے کئے یہ سارے معاملات اُن کے مینڈیٹ میں شامل نہ تھے۔ بادی النظر میں انہوں نے اپنی قانونی حیثیت کا غلط استعمال کیا۔ عدالتوں میں لاکھوں کیس زیر التواء پڑے ہیں جن پر انہوں نے کوئی توجہ نہ دی گویا اپنے اصل فرائض میں ناکام رہے۔ پھر انہی کے دور میں کچھ انتہائی اہم مقدمات کی سماعت ہوئی۔ میاں نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نااہل قرار دیا گیا اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا وہ مناسب نہیں تھا۔ اس طرح انہوں نے سپریم کورٹ کو وہیں لا کھڑا کیا جہاں وہ جسٹس چوہدری سے پہلے تھی۔ ایسا نہیں کہ اُن کے سارے فیصلے غلط تھے بہت سے فیصلوں سے لوگوں کو ریلیف ملا اور کچھ طاقتور لوگوں کو بھی پیغام ملا لیکن مجموعی طو پر اُن کا رویہ اُن کے مرتبے اور اعلیٰ عدلیہ کی روایات کے منافی تھا۔ اپنے تبصروں اور فیصلوں سے انہوں نے جانبداری کا تاثر دیا۔ پانامہ کیس کے دوران ٹی وی چینلز کے بحث مباحثوں پر مکمل خاموشی رکھی حالانکہ یہ ایک مستحکم قانونی روایت ہے کہ جب عدالت کوئی کیس سُن رہی ہو تو کیس کے میرٹس پر کوئی بحث نہیں کی جاتی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار نے اگرچہ بڑی محنت کی لیکن عدلیہ کے لئے مجموعی طور پر کوئی قابل تقلید روایات قائم نہیں کرسکے یہ میری رائے نہیں بلکہ اُن کے جانشین جسٹس کھوسہ نے اپنی تقریر میں جسٹس ثاقب نثار کے رویوں سے بریت کا اظہار کیا اور بڑے خوبصورت انداز میں ڈیم بنانے سے متعلق ثاقب نثار کے فیصلے کو ہدف تنقید بنائے بغیر کہا کہ وہ بھی ڈیم بنائیں گے لیکن جھوٹے گواہوں کے خلاف اور انصاف میں تاخیر کے خلاف وغیرہ۔ سوموٹو پر بھی انہوں نے محتاط رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے اپنے اصل کام یعنی عدلیہ کی اصلاح اور جلد انصاف کی فراہمی کو اپنا مطمع نظر بنایا اس پر انہیں داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے کم از کم اپنے ہدف صحیح رکھے ہیں اور اُن کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں کیونکہ ان کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ اگر وہ اپنے مقاصد میں پچاس فیصد بھی کامیاب ہو گئے تو عدلیہ کی تاریخ میں اپنا نام بلند کر جائیں گے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عدلیہ بحالی تحریک کے مضمرات : محمد خان قلندر
(Visited 23 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20