اصغر یزدانی کی ادب گردی‎ ——– ذیشان حسین

1
  • 71
    Shares

ہم ٹی وی والوں کا زندگی کے بارے رویہ وہی ہوتا ہے جو ایک بے شرم کا تھا جسے بھرے بازار بتایا گیا کہ اسکی پیٹھ پر رنڈ کا درخت اگ رہا ہے۔ سننے والوں کی تو چیخیں نکل گئیں لیکن موصوف فرماتے ہیں “چلو کوئی گل نئیں چھاویں بیٹھاں گے” یعنی انہوں نے ذلت اور رسوائی میں بھی اپنے لیے سکون ڈھونڈ لیا۔

مجھے یاد ہے میں ایک بار بجلی چوری اور کنڈوں پر شارٹ فلم بنانے ہڈیارہ گیا اور چھپ کر کام کرنا چاہا مبادا گاوں والے مار پیٹ ہی شروع نہ کر دیں لیکن گاءوں والوں کو جب علم ہوا کہ جیو والے آئے ہیں (یہ اچھے دنوں کی بات ہے) انہوں نے آو بھگت شروع کر دی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ ہم تو کنڈے اور بجلی چوری دکھانے آئے ہیں، ٹی وی پر چلائیں گے اور آپ کی تو بینڈ بج جائے گی جس پر انہوں نے کہا “جو مرضی کرو جی پر کھانا اساں کھوا کے ہی بھیجاں گے” اور انہوں نے کنڈے دکھانے میں بہت مدد کی۔ اب وہ مرحلہ آگیا جسے میں سب سے آ سان سمجھ رہا تھا لیکن وہ سب سے مشکل ثابت ہوا۔ گاوں والوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے میں نے دور کھڑے ہو کر کہا کہ مجھے گالیاں بکیں اور برا بھلا کہتے ہوئے مجھے مارنے کے لیے دوڑیں۔ سارے گاوں نے انکار کر دیا۔ بڑی مشکل سے منایا لیکن اب مشکل یہ کہ بھاگتے ہوئے ان میں سے کچھ ہنس رہے تھے۔ انہیں خوب ڈانٹ ڈپٹ کی اور بار بار ٹیک کی حتیٰ کہ کامیاب ہو گئے۔ جب پروگرام چلا تو ناظرین نے ہڈیارہ والوں کو بہت برا بھلا کہا کیونکہ فلم میں ہم دوڑتے دوڑتے گر جاتے ہیں اور گاوں والے ہمیں روندتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔ شاندار ڈرامہ بنا اور پروگرام میں مطلوب ہیجان انگیزی پیدا ہو گئی۔

ٹی وی پروڈیوسر کا ہاتھ ہمیشہ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ کامیڈی اور دہشت گردی میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں کو اپنا آپ منوانے کے لیے وکٹمز (شکار) چاہیے ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب کسی کے موٹاپے، کمزوری، کم علمی، اجڈ پن، حماقت وغیرہ کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور ناظرین کو کہہ کہہ کر یقین دلایا دیا جاتا تھا کہ فلاں بہت کھاتا ہے، فلاں بہت جاہل ہے، فلاں بہت کالا ہے وغیرہ۔ آفتاب صاحب نے آ غا ماجد کا نام آڑو گرنیڈ اتنا پکا کر دیا تھا اور اس کے بے تحاشا کھانے کا اتنا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ لوگوں کو اس کا اصل نام شاید ہی پتہ ہو حالانکہ آ غا ماجد بہت کم کھاتے تھے۔ لوگ اس کامیڈی پر ہنستے ہنستے آگے بڑھنے لگے تو ہم لوگ اپنے شکار میں مزید نکھار لے آئے۔ ارسطو کہتا ہے المیہ جتنے بڑے آدمی کے ساتھ ہوگا حاضرین (اور اب ناظرین) کا اتنا ہی کتھارسس ہو گا۔ یہی کچھ کامیڈی کے ساتھ بھی ہے یعنی جسے تختہ مشق بنانا ہو اسے اتنا ہی معصوم دکھاؤ تاکہ ناظرین کو اس پر ہنسی بھی آئے اور ہمدردی بھی محسوس ہو لیکن گاہے گاہے لوگ اس گھڑے ہوئے یقینی پن کو بھی سمجھنے لگے اور ہم نے حقیقی کردار پیش کرنا شروع کر دیئے اور ان کرداروں کو کچھ طبقات کے لیے قابل عزت اور کچھ کے لیے قابل نفرت بنا دیا۔ ایسے کردار بھی بنائے جن سے لوگ واقعتاً چڑنے لگے اور ناظرین کا چڑنا بھی ڈرامیٹک کا حصہ بنا۔

پچھلے دنوں خبرناک کے پروفیسر اصغر یزدانی پر الیاس بابر اعوان صاحب کا مضمون (اس مضمون کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے) پڑھا اور یقین کیجیے بہت خوشی ہوئی کیونکہ فلسفہ اور ادب پڑھا ہوا کوئی ںشخص اگر خبرناک کے کسی سیگمنٹ پر علمی اعتراض کر ریا ہے تو اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں کیونکہ زیادہ تر علم دوست حضرات کامیڈی شوز کو بھانڈوں کا شو کہہ کر ایک لحظہ میں جھٹک دیتے ہیں۔ اپنے مضمون کے شروع میں لیوتار، دریدہ، فوکو وغیرہ کے نظریات بیان کرتے ہوئے اعوان صاحب نے بتایا کہ کوئی حتمی سچائی موجود نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی سچائیاں زیادہ پر اثر ہیں۔ یزدانی صاحب کے تنقیدی زاویے پر ان کا اعتراض بالکل درست ہے لیکن بہرحال ان کا زاویہ نگاہ بھی ایک سچائی ہے۔ شعر میں زندگی کو المیہ، طربیہ، جد وجہد، بے معنی، ایبسرڈ یا عنایت سمجھنا خالصتاً انفرادی زاویہ ہے اور ما بعد جدید شعراء عظیم بیانیوں کی بجائے چھوٹی چھوٹی اور ادھر ادھر بکھری انفرادی سچاءیوں کو رئیل (Real) مانتے ہیں۔ ادب دراصل زندگی کی وہ تشریح ہے جو ادب پارہ تخلیق کرنے والے کے ذہن پر منکشف ہوتی ہے اور اس انکشاف کے سوتے لاشعوری محرکات، شعوری تجربات، حساسیت، تخیل سے پھوٹتے ہیں۔ اب ایک تشریح وہ ہے جو قاری کرتا ہے۔ ظاہر ہے قاری بھی مخصوص شعوری اور لا شعوری محرکات کے زیر اثر ہے لہزا اس کا زاویہ نگاہ ایک ہی تجربہ سے متعلق فرق ہو گا۔ اب اصغر یزدانی نے زندگی کا وہ پہلو کیوں نہیں دیکھا جو دراصل شاعر پیش کرنا چاہ رہا تھا یا اس نے شعر سے مترشح زندگی سے متعلق رویہ رد کیوں کیا یا اسے تیس سالوں میں کوئی اچھا شعر کیوں نہیں ملا، یہ تنقید اس فلسفہ تنقید کے خلاف ہے جو مابعد جدیدت کے حامی اپناتے ہیں۔ اس پر اگر لسانیات کی کم مائیگی کا تڑکا لگا دیا جائے تو اصغر یزدانی کا دفاع مزید مضبوط ہو جائے گا۔

اگر ہم یہ مان لیں کہ اصغر یزدانی یاد ماضی میں کھویا ہوا ایسا انسان ہے جو خوشی کشید ہی ماضی میں کرتا ہے تو کسی حد تک یہ معاملہ ہر انسان کے ساتھ ہے۔ ہم میں سے بہت سے ہیں جو پرانی موسیقی، بوسیدہ عمارات، کھوئے ہوئے لوگوں اور اقدار سے وابستہ ہونے اور ان میں زندگی بسر کرنے میں زیادہ لطف حاصل کرتے ہیں۔ مجھے ایک بار آفتاب اقبال صاحب نے محترمہ نسیم آفتاب اقبال سے شادی کے بارے بتایا کہ محبت کے علاوہ جس خیال نے انہیں شادی کے لیے تحریک دی وہ ناسٹیلجیا کا دفاع کرنا تھا۔ وہ ناسٹیلجیا کی تاب نہیں لا سکتے تھے۔ اصغر یزدانی بھی ماضی کی محبت میں پیوست ایسا ہی ایک شخص یے۔ آپ یقین کیجیے مجھے کرکٹ کھیلنے سے عشق تھا لیکن وسیم اکرم اور برائن لارا کے بعد میں نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ دی اور دیکھنا بھی۔ یہی معاملہ پسند اور ناپسند کا ہے۔ میں میر تقی میر کی مداح سرائی میں ایک ہزار لفظوں کا مضمون تو لکھ سکتا ہوں لیکن اس سے وہ لطف نہیں اٹھا سکتا جو غالب سے ملتا ہے۔ موضوع سے ہٹ کر ایک دلچسپ بات سنتے جائیے۔ ہم نے ایک محفل میں غالب کا بر محل شعر سنایا تو احمد جاوید صاحب نے بہت داد دی اور ہم نے سوچا لگے ہاتھ میر کو بھی رگید ڈالیں۔ “احمد صاحب ! دیکھیے کیا خیال باندھا ہے غالب نے اور اب بھی بہت سے بے وقوف میر کو بڑا شاعر مانتے ہیں”۔ جاوید صاحب شعر پر سر دھنتے جا رہے تھے اور میری بات کو نظر انداز کر رہے تھے کہ میں نے پوچھ ہی ڈالا، “سر! آپ کیا کہیں گے” تو احمد صاحب کہنے لگے “بھائی میں انہی بےوقوفوں میں سے ہوں” اور ساری محفل کو زعفران زار بنا دیا۔

ویسے ہم اصغر یزدانی صاحب پر تنقید کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں اور انہیں ناراض بکرا، ماضی میں پیوست ایک بیمار ذہنیت کا شخص، سستی شہرت کا متلاشی، متعصب بلا اور مایوسی کا مارا وغیرہ کہتے رہتے ہیں تاکہ عوامی جذبات کی نمائندگی بھی ہو اور ہم خود کو یزدانی صاحب سے لاتعلق بھی کر سکیں لیکن کامیڈی، میں پھر کہوں گا، شکار مانگتی ہے اور فرانز کافکا کے افسانے “بھوکا فنکار” کی طرح شکار بدلتا رہتا ہے کیونکہ ناظر کا ذوق بدلتا رہتا ہے۔ ہو سکتا کل اصغر یزدانی صاحب جدید شعرا کا دفاع کرتے نظر آئیں لہذا خاطر جمع رکھیے۔ اعوان صاحب کی تنقید بہر حال بہت ہی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کیونکہ لبرلز اور ادب شناس عام طور پر کامیڈی شوز کو بھانڈ میراثیوں کا شو سمجھ کر بغیر دیکھے برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ پروفیسر اصغر یذدانی کا اس پروگرام میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کامیڈی کے روایتی انداز سے بہت آگے بڑھ گیا ہے اور اعوان صاحب کی تنقید ہی ہماری کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 10
(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. دونو مضامین میں کام کی باتیں بھی ، اور کچھ نکمی بھی
    اس سے یاد آیا آج کاشعر کل پہ ڈالنا کیا ضروری ہے

    کوئی مھڑکی کھلی بھی رہنے دو
    صبح لوٹے گا شام کا نکلا
    ایک نمبر لکھا تھا کونے میں
    ردی مضمون کام کا نکلا
    دور ہوٹل میں شاہزاد ے پر
    سارا غصہ غلام کا نکلا
    رشتہ، پستول اور خنجر میں
    کچھ دعا اور سلام کا نکلا
    میر ہوتے تو ٹویٹ فرلیتے
    زور و زر سب حرام کا نکلا
    شہر زندہ ہے، لاش کے حق میں
    پھر جلوس اک عوام کا نکلا

Leave A Reply

%d bloggers like this: