میرے والد گرامی: محمد سلیم ساقی—– اعجاز الحق اعجاز

0
  • 78
    Shares

میرے والد گرامی محمد سلیم ساقی جو حال ہی میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں، ایک صاحب اسلوب مصنف تھے۔ وہ نوجوانی میں شاعری بھی کرتے تھے اور ساقی تخلص اختیار کیا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ تصنیف و تالیف میں بسر ہوا۔ انھیں اردو، انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں پہ عبور حاصل تھا۔ عربی میں وہ نامور عالم فاضل احمد صاحب کے شاگرد تھے۔ والد گرامی کا ادبی ذوق بلند پایہ تھا۔ انھیں سیکڑوں اردو اور فارسی اشعار یاد تھے جن کا وہ اپنی گفتگو اور تحریروں میں حوالہ دیتے رہتے۔ علامہ اقبال سے عشق تھا۔ قائد اعظم کی شخصیت سے بہت متاثر تھے اور ان کی سیرت و کردار پہ ان کی گہری نظر تھی۔ مولانا ظفر علی خاں، عطا اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری سے بھی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی زندگی کے حالات اور علمی و ادبی کارہائے نمایاں سے ہمیں باخبر رکھنے کی کوشش کرتے۔ شورش کاشمیری سے بھی ان کی ملاقاتیں رہیں۔ ان کے رسالے چٹان میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سے بھی ان کے گھر جا کر ملاقاتیں کرتے تھے اور ان کی محافل میں شرکت کرتے تھے البتہ جماعت اسلامی کا باقاعدہ حصہ کبھی نہ رہے اور ان کی سیاسی حکمت عملی پر اپنے مضامین میں تنقید کرتے تھے۔

والد محترم نے ہمیں جو ماحول دیا وہ بے حد علمی تھا۔ ہر وقت فکر و خیال کی شمعیں جلائے رکھتے۔ وہ علم کا ایک سائباں تھے جس کے سائے تلے ہم رہتے تھے۔ جب ہم نے ذرا ہوش سنبھالا تو ان کی بیش بہا کتابوں سے سجی الماریاں ہماری منتظر تھیں۔ انھوں نے ہمارے لیے علم و ادب کی ایک خوبصورت دنیا سجائی تھی۔ کبھی حکایاتِ رومی و سعدی سناتے تو کبھی اقبال اور غالب کے کسی شعر کی تشریح کر رہے ہوتے یا کیمیائے سعادت اور کشف المحجوب کا کوئی اقتباس بلند آواز سے پڑھتے۔ کبھی منطق الطیر پر روشنی ڈالتے تو کبھی مجدد الف ثانی کے کسی خط کی وضاحت کرتے یا حجتہ اللہ البالغہ کے کسی نکتے پر غور و فکر کی دعوت دیتے۔ ہر ماہ اردو بازار کا چکر لگاتے اور وہاں سے کئی ایک اچھی اچھی کتب ہمارے لیے لے آتے۔ ہفتے میں ایک آدھ بار پنجاب پبلک لائبریری کا چکر بھی ضرور لگاتے۔ میں بھی پہلی مرتبہ ان کے ساتھ ہی وہاں گیا تھا۔ لائبریری کا عملہ ان کی بہت قدر افزائی کرتا تھا۔ بعد ازاں جب میں اکیلا جاتا تھا تو یہ عملہ میرے ساتھ والد صاحب کی وجہ سے بہت تعاون کرتا اور میں جو کتاب بھی کہتا فوراً نکال کر لائی جاتی۔ ان کے دینی مطالعات بے حد عمیق تھے اور وہ روح دین کے بہت اچھے شناسا تھے ۔ تاریخ بالخصوص تاریخ اسلام کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔

سیاسیات عالم پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ تحریک پاکستان پہ بے حد محققانہ دسترس رکھتے تھے۔ اقتصادیات سے ان کی دلچسپی بنک کی نوکری کے دوران پیدا ہو گئی تھی۔ انگریزی زبان و ادب سے بھی اچھی خاصی آشنائی تھی۔ بہت عمدہ انگریزی نثر لکھنے پہ قادر تھے۔ اردو اور انگریزی دونوں میں بہت خوشخط تھے۔ بنک سے آتے ہی لکھنے پڑھنے بیٹھ جاتے۔ حقے کے شوقین تھے۔ جب ہم ان سے درخواست کرتے کہ یہ نہ پیا کریں کہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں تو ہمیں یہ کہہ کر لاجواب کر دیتے کہ علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان بھی تو حقہ پیا کرتے تھے۔ حقے کے چند ایک کش لگا کر وہ گہری سوچ میں گم ہو جاتے۔ چائے کے بھی بہت شوقین تھے۔ جب وہ لکھ رہے ہوتے تو چائے کے کئی ادوار چلتے۔ خود بھی بہت اچھی چائے بنا لیتے تھے۔ لکھنے کا سلسلہ اکثر رات گئے تک جاری رہتا۔

ریٹائرمنٹ پہ انھیں جو رقم ملی اس میں اچھی خاصی رقم سود کی بھی شامل تھی جو لینے سے انکار کر دیا ۔ بینک انتظامیہ نے کہا کہ ہم یہ رقم نہیں رکھ سکتے کیوں کہ ہمارے پاس کوئی ایسا کھاتا نہیں کہ جہاں یہ رقم رکھی جا سکے ۔ والد صاحب نے یہ رقم لے تو لی مگر انھیں اس کا کوئی اور حل نہ سوجھا سوائے اس کہ یہ غربا میں تقسیم کر کے ہی گھر آیا جائے ۔ 

والد گرامی گوجرہ کے ایک نواحی گائوں پسیانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد محمد اسحق ایک مذہبی آدمی تھے جن کے شب و روز کا بیشتر حصہ عبادت میں گزرتا۔ انھوں نے پاکستان کے سب سے پہلے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور علاقے کے ایک کانگریسی پس منظر کے حامل ایک بڑے جاگیردار ملک شیر محمد ٹوانہ کو شکست سے دوچار کیا تھا ۔ دادا جان نے اس الیکشن کے بعد سیاست میں مزید حصہ لینا چھوڑ دیا ۔ والد صاحب نے سیاست میں براہ راست حصہ تو نہ لیا البتہ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ وہ اپنے علاقے کے پہلے طالب علم تھے جنھوں نے ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا اور وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے سیاسیات کے پہلے بیچ کا حصہ تھے۔ انھیں ڈاکٹر منیر الدین چغتائی، ڈاکٹر دلاور اور دیگر نامور اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اکثر وہ ہمیں ڈاکٹر دلاور جن کی کلاسیں پڑھنے وہ ایم اے او کالج جایا کرتے کی تبحر علمی اور دلچسپ شخصیت کے قصے سنایا کرتے۔ والد صاحب نے مڈل اور میٹرک میں علاقے بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر وظیفہ حاصل کیا تھا۔ بی اے انھوں نے گورنمنٹ کالج سرگودھا سے کیا تھا۔ اس وقت وہاں خان عبد الغفار خاں کے بیٹے اور ولی خاں کے بھائی ڈاکٹر علی خاں پرنسپل تھے۔

والد صاحب ڈاکٹر علی خاں کے ڈسپلن کے بہت مداح تھے۔ بتایا کرتے کہ ڈاکٹر علی خاں نے اس کالج کو اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں سے کس طرح بام عروج پہ پہنچا دیا۔ ڈاکٹر صاحب بظاہر بہت سخت گیر مگر بباطن بہت نرم دل اور اچھے انسان تھے اور اپنے طلبہ کی بہت قدر کرتے تھے۔  اسی کالج میں والد صاحب کے ایک استاد پروفیسر غلام جیلانی اصغر بھی تھے جو والد صاحب کو بہت عزیز رکھتے اور شفقت فرماتے۔ وہ ان سے ملنے اکثر سرگودھا جاتے تھے۔ ایم ۔ اے کے بعد اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں ملازمت اختیار کر لی تھی اور بینک کے پیشہ ورانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے گئے اور ایک اعلیٰ عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ البتہ وہ بنک کی نوکری کو اچھا نہ سمجھتے تھے اور یہ ان کے مزاج کے مطابق بھی نہ تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سود سے نفرت کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ پہ انھیں جو رقم ملی اس میں اچھی خاصی رقم سود کی بھی شامل تھی جو لینے سے انکار کر دیا۔ بینک انتظامیہ نے کہا کہ ہم یہ رقم نہیں رکھ سکتے کیوں کہ ہمارے پاس کوئی ایسا کھاتا نہیں کہ جہاں یہ رقم رکھی جا سکے۔ والد صاحب نے یہ رقم لے تو لی مگر انھیں اس کا کوئی اور حل نہ سوجھا سوائے اس کہ یہ غربا میں تقسیم کر کے ہی گھر آیا جائے۔  والد صاحب کی عمر عزیز کا ایک بڑا حصہ قادیانیوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرا۔ وہ عالمی تحریک ختم نبوت کے ایک اہم رہنما تھے۔ اس جہاد میں متین خالد اور طاہر رزاق بھی ان کے ہم قدم تھے۔ چٹان، ختم نبوۃ اور لولاک جیسے رسالوں میں انھوں نے قادیانیوں کی علمی بیخ کنی پر مشتمل مضامین کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ قادیانیوں کے رسالے مہارت میں وہ قادیانی علما سے طویل بحث مباحثہ کرتے رہے۔ قادیانی جماعت ان سے زچ آچکی تھی۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے ایک ویڈیو خطاب میں ان کے بارے میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور انھیں ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے مگر ان کے پایہ استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ ان کا کردار مجاہدانہ تھا۔ قادیانیوں نے متعدد مرتبہ کتب فروشوں سے ان کی کتابیں خرید کر تلف کردیں۔ حتیٰ کہ لائبریریوں سے ان کی کتب ایشو کر ا کے انھیں واپس نہ کیا جاتا اور جرمانے بھر دیے جاتے۔ مگر والد صاحب یہ رد قادیانیت مواد دوبارہ شائع کرا دیتے۔ اپنی کتابوں ’’قادیانی فلسفہ‘‘، ’’مرزا قادیانی کا پوسٹ مارٹم‘‘، ’’قادیانی چیلنج کو چیلنج‘‘، ’’مرزا قادیانی: خلیفہ ربوہ‘‘ میں انھوں نے قادیانی عقاید و نظریات کا نہایت موثر و مدلل رد کیا ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنی کتاب ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ میں ان کی خدمات کا ذکر کیا ہے اور انھیں ’’عالمی مجلس ختم نبوت کے نامور رہنما اور صاحب اسلوب ادیب‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ مولانا نے ان کی قادیانیوں کے حوالے سے لکھی گئی تین کتب کا ذکر کیا ہے۔ طاہر رزاق صاحب نے اپنی مرتب کردہ ایک کتاب ’’نغمات ختم نبوت‘‘ شائع کی تو اس میں والد محترم کی ایک مشہور نظم ’’مرزا قادیانی کی اصلیت‘‘ بھی شامل کی۔

1995ء میں جب ان کی کتاب ’’مقام و احترام قائد اعظم‘‘ شائع ہوئی تو اس کی تقریب رونمائی لاہور پریس کلب میں ہوئی تھی۔ اس میں ڈاکٹر نسیم حسن شاہ، ڈاکٹر منیرالدین چغتائی، مجید نظامی، عطاالحق قاسمی اورپروفیسر طارق زیدی نے شرکت کی تھی۔ اس کی صدارت فرزند اقبال جناب ڈاکٹر جاوید اقبال نے کرنا تھی مگر وہ اچانک مصروفیت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ اس تقریب کے اسٹیج سیکرٹری علی اصغر عباس تھے۔ عطاالحق قاسمی نے اس کے حوالے سے ایک کالم بھی لکھا تھا۔ جب ان کی کتاب ’’وحدہ لاشریک‘‘ شائع ہوئی تو میں نے استاد گرامی جناب ڈاکٹر وحیدالرحمن خاں کو یہ کتاب پیش کی۔ اس کتاب کا نام بھی ڈاکٹر صاحب ہی نے تجویز کیا تھا جو والد صاحب کو بہت پسند آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب کے مطالعے کے بعد مجھے ایک خط لکھاجس میں اس رائے کا اظہار فرمایا: ’’آپ کے والد گرامی کی تصنیف فکر کی راستی، عقیدے کی درستی اور دلیل کی پختگی کی مظہر ہے۔ اقبالیات کے ذوق نے اسے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ میرے والد صاحب کی اولین تصنیف ’’خیال و نظر‘‘ کا انتساب کچھ یوں تھا: فکر سلیم کے نام! ایک مدت تک میں اس کی معنویت سے لاعلم رہا ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ فکر کی سلامتی اور راستی کس قدر اہم ہوتی ہے۔‘‘ والد صاحب حقیقتاً ایک راست افکار، راست گفتار اور راست کردار شخص تھے۔ ان میں تصنع اور ریاکاری نام کو بھی نہ تھی ۔ جو کچھ کیا بے لوث کیا۔ ایسی بے غرض اور طمع و لالچ سے پاک زندگی بہت ہی کم لوگوں کی ہوتی ہے۔ انھیں دولت کا لالچ تھا اور نہ ہی شہرت کی طلب۔ بے حد صاف گو تھے۔ جو کہا منہ پر کہا ۔ جو دل میں تھا وہی زبان پہ تھا ۔ ظاہر و باطن ایک تھا۔ زندگی بے غرضی اور سادگی کا نمونہ تھی۔ رشتے داروں اور دوستوں کو نوازتے رہتے تھے۔ طبیعت میں غنا اور توکل تھا۔ سادہ اتنے کہ ایک عرصے تک گھر کے لیے صوفے اور قالین نہ خریدنے دیے کہ یہ سامان تعیش ہے۔

والد محترم ایک علم پرور انسان تھے۔ ہمارے بہت سے رشتے دار ہمارے ہاں تعلیم و تعلم کے لیے ٹھہرتے۔ والد صاحب ان کی طرح سے مدد کرتے۔ ان کی فیسیں ادا کرتے کتابیں لے کر دیتے۔ وہ اپنی تنخواہ کے پیسے اپنے پاس نہ رکھتے تھے بلکہ ایک کھلی شیلف میں رکھتے تا کہ جسے ضرورت ہو وہاں سے لے لے۔ اس طرح سے ان کی بدولت خاندان میں تعلیم کو فروغ ملا۔ یونیورسٹی کے زمانے اور بنک ملازمت کے ابتدائی ایام میں زیادہ تر انگریزی سوٹ یا شیروانی زیب تن کرتے تھے مگر بعد میں یہ لباس تقریبا ترک ہی کردیا۔ ان کا لباس سادہ مگر صاف ستھرا ہوتا۔ انھیں قیمتی لباس یا جوتوں کا بالکل بھی شوق نہ تھا۔ ان کے ذاتی اغراض و اشواق بہت کم تھے البتہ مقاصد جلیل تھے۔ وہ اپنی زندگی کے محور سے کبھی نہ ہٹتے تھے۔ ایک قسم کی رواقیت ان کی زندگی میں در آئی تھی۔ ہم نے اپنے باپ کو ہمیشہ ایک بڑے انسان کے روپ ہی میں دیکھا ہے مگر ان میں اپنی عظمت کا رتی بھر بھی احساس نہ تھا۔

مہمان نواز اتنے کہ ایک وقت تھا کہ ہمارے گھر اعزہ و اقربا کا تانتا بندھا رہتا مگر وہ خندہ پیشانی سے خود بھی ان کی خدمت فرماتے اور ہمیں بھی ہدایات دیتے کہ ان کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا جائے۔ مجلسی آدمی تھے۔ لوگ پہروں ان کی گفتگو بے حد دلچسپی اور توجہ سے سماعت کرتے تھے۔ ان کی بیٹھک رات گئے تک جمی رہتی اور وہ گھنٹوں ہر موضوع پر گفتگو کرتے رہتے اور لوگ ہمہ تن گوش رہتے۔ ان کی باتوں سے علم چھلکتا اورخلوص جھلکتا تھا۔ مال و دولت جمع کرنے یا جائیداد بنانے سے انھیں ذرا بھی دلچسپی نہ تھی ۔ ان کے دوست اور کولیگ جب پراپرٹی کی باتیں کرتے تو چڑ جاتے ۔ انھوں نے ہمارے اندر بھی متاع دنیا کے لیے ایک قسم کی بے رغبتی پیدا کر دی تھی۔ وہ سراسر ایک علمی آدمی تھے۔ ان کا منحنی سا وجود زبردست قوت ارادی کا حامل تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بیماری کے خلاف لڑتے ہوئے گزارا۔ مگر وہ مجسم تسلیم و رضا تھے۔ کبھی کوئی شکوہ ان کے لب پہ نہ آیا۔ اللہ تعالی ٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: