خبرناک میں خطرناک 1۔دبی نمائندگی —– الیاس بابر اعوان

0
  • 122
    Shares

جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر دکھایا جانے والا معروف پروگرام ’’خبرناک‘‘ اس لحاظ سے منفرد نوعیت کا ہے کہ اس میں زندگی کے مختلف طبقات کو علامتی کرداریت سے پیش کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ الیکٹرانک میڈیا نے دنیا میں بالعموم اور برصغیر میں بالخصوص اپنے گہرے اثرت مرتب کیے ہیں۔ بصری بیانیے کس طرح سے کردار سازی کرتے ہیں اس بارے میں بہت زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں کہ کم و بیش ادب کا ہر طالب علم یہ جانتا ہے۔ ہم سائبر سپیس میں کہیں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں جہاں حقیقت پلاسٹک کی طرح ہوتی ہے، حقیقت کا یہ تصور بدلتے نظر یات کے ساتھ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ (یاد رہے میں حقیقتِ مطلقہ سے متعلق بات نہیں کر رہا، میرا موضوع خالصتا ًادبی ہے)۔

نطشے نے تصورِ خدا کی موت کا اعلان کرکے ہمارے فکری کلامیوں سے مابعد الطبیعاتی عناصر کو رد کردیا تھا۔ دریدا نے اپنے طریقِ ردِ تشکیلیت سے بتایا کہ بغیر کسی مشار الیہ کے تمام متون محض فکشن ہیں۔ اور ایسے متون جو کسی اور متن کی طرف اشارہ کرتے ہوں دراصل ایک لامتناہی سلسلے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لیوتارد نے لسانی کھیلوں (گھمبیرتا) کی طرف اشارہ کیا اس کے نزدیک متون کی گھمن گھیری اتنی زیادہ تیز ہوتی ہے کہ ان کی درک تک تقریباً ناممکن ہوتی ہے. ان کھیلوں یا ترکیب سازی سے لسانی سطح پر نئے نئے سانچے بنتے جاتے ہیں لہٰذا کسی مہابیانیے کا وجود ناممکن ہے۔ یعنی مذکورہ بالا تینوں فلسفیوں نے معنوی اور لسانی حتمیت سے انکار کیا۔ فُوکو نے اپنے طریق ِکار سے یہ کہا تمام متون ترجمانی ہوتے ہیں۔ ہر سماج کا علاحدہ سچ اور علاحدہ سیاسی نظام ہوتا ہے اور یہ سب باہم مربوط ہوتے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

عام قاری کے نزدیک مذکورہ بالا فلسفیوں کے بیانیوں سے یہ تاثر ابھرے گا شاید وہ مابعد جدیدیت کے تمہیدی منظر نامے سے شناسا ہوا ہے اور آگے چل کر اسے مابعد جدیدیت کے خصائص سے آگاہی دی جائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ مذکورہ بالا چاروں فلسفیوں کے بیانیے اگرچہ مابعد جدیدیت کی حاشیہ کاری کرتے ہیں تاہم اس کے متوازی لبرل ہیومن ازم کا بیانیہ جس میں جوہر، سچ، حقیقت، مواد، ذات، سائنس، منطق وغیرہ مرکزی جواہر تھے جوفی زمانہ قدرے غیر ضروری ہوگئے ہیں۔ اگر مابعد جدیدیت کے پیمانوں سے انکار بھی کیا جائے تو بھی فلسفیانہ کلامیوں کی غیر مرکزیت سے انکار ممکن نہ ہوگا۔ ان تمام باتوں کو تحریر کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ کسی بھی متن کی تفہیم میں حتمیت کا عنصر ایک بے معنی، غیر ضرور ی اور جبر کی نمائندہ چیز ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اردو زبان کا تنقیدی اثاثہ زیادہ تر تبصراتی اور تاثراتی رہا ہے اور جو چند ایک نام نئے یا معاصر تنقیدی تصورات کے تناظر میں متون کی تفہیم کرتے رہے ہیں اول تو انہوں نے تناظر کو لادرست طور پر سمجھا یا پھر تھیئری یا تناظرات کو بعینہِ اپنی فہم کا نام دے کر سرقہ کے مجرم ٹھہرے۔

خبرناک میں ایک اردو کے پروفیسر صاحب جن کا نام اصغر یزدانی ہے، شعر و اد ب پر اپنی رائے دیتے پائے جاتے ہیں۔ بلاشک کسی بھی متن پر کسی بھی قسم کی ( بری یا بھلی) رائے دینا کس بھی شخص کا حق ہے لیکن جب بات ہو بصری میڈیا سے متعلق تو تنقیدی گفتگو کرنے والی شخصیت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ تنقیدی لوازمات سے بخوبی آگاہ ہوگی۔ ۲۰ جنوری ۲۰۱۹ کے پروگرام کے حوالے سے میزبان عائشہ جہاں زیب نے یہ کہا کہ پروفیسر یزدانی صاحب کو پچھلے تیس برس میں کوئی ایک شعر بھی پسند نہیں آیا۔ یزدانی صاحب اس پروگرام میں یہ فرماتے ہوئے بھی پائے گئے کہ وہ ہتھیلی پر چراغ لیے گھوم رہے ہیں کہ کوئی انہیں ایسا شاعر ملے جو اچھے شعر کہتا ہو۔ مجھے لفظ ’اچھے‘ پر اعتراض ہے یہ خالصتاً غیر تنقیدی لفظ ہے۔ ادب میں اچھا برا کچھ نہیں ہوتا۔ متعلقہ یا غیر متعلقہ ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ ادب پارہ بنیادی تکنیکی معیارات پر پورا اترتا ہو، تاہم کسی بھی تخلیق کو اچھا یا برا کہنا خالصتاً ذاتی جمالیاتی، لسانی، معروضی، ساختیاتی، سماجی، سیاسی اور تنقیدی تربیت یا عدم تربیت کی بنا پر ہوتا ہے۔

پچھلے تیس چالیس برسوں میں بیسیوں شعرا ایسے آئے ہیں جنہوں نے اپنے اشعار سے ادبی ڈسکورس میں اپنی جگہ بنائی۔ جیسے کہ اختر عثمان، عباس تابش، شاہین عباس، اکبر معصوم، ضیا الحسن، حمیدہ شاہین، ادریس بابر، سعود عثمانی، آفتاب حسین، آفتاب مضطر، رحمان حفیظ، انجم سلیمی، مقصود وفا، عابد سیال، کاشف غائر، اظہر فراغ، تہذیب حافی، ، عنبرین صلاح الدین، سجاد بلوچ، اختر رضا سلیمی، افضل گوہر رائو، ڈاکٹر تیمور حسن، حماد نیازی، عمران عامی، احمد ادریس، محمد ندیم بھابھہ، قمر رضا شہزاد، صغیر انور، علی ارمان، ضیا المصطفیٰ ترک، احمد عطا اللہ، احمد رضوان، محمد حفیظ اللہ بادل، احمد جہانگیر، رمزی آثم، منیر فیاض، رفاقت راضی، اختر عبدالرزاق، علی زریون، ندیم راجہ، شعیب زمان، محمد مختار علی، احمد شہریار، شمشیر حیدر، شمامہ افق، احمد فرہاد، سعید شارق وغیرہ ، جب کہ بھارت سے ابھیشیک شکلا، سالم سلیم، عزیز نبیل، امیر حمزہ ثاقب، تصنیف حیدر، لتا حیا، شیخ خالد کرار، عالم خورشید، خوشبیر سنگھ شاد، فوزیہ وہاب وغیرہ نے اپنی حیثیت منوائی [یاد رہے یہ سارے نام غزل کے حوالے سے تحریر کیے گئے ہیں]۔ حیرت ہے کہ پروفیسر صاحب کو شعرا کے اس ریلے میں سے کوئی ایک شعر بھی ایسا نہ ملا جسے وہ ’ اچھا‘ گردان سکیں۔ اس کا معنی یہ نہ ہوا کہ مذکورہ بالا شعرا نے عمدہ اشعار نہ کہے بلکہ اس کا معنی یہ ہُوا کہ مذکورہ بالا شعرا کے اشعار پروفسیر صاحب کی جمالیاتی پہنچ سے باہر تھے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دُور رکھیں مجھے لگتا ہے تمام ’اچھے‘ اشعار پروفیسر صاحب کی پہنچ سے دُور رکھے گئے۔

۲۰ جنوری کے پروگرام میں اختر سعید کا ایک شعر پیش کیا گیا:
تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے
زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی (اختر سعید)
پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ شاعری اگر بزدلانہ اور مایوس خیالات کی ترویج کا نام ہے تو یہ بہت اچھا شعر ہے۔ یعنی پروفیسر صاحب کے نزدیک شعر صرف ان تصورات کو ہی متن کرنے کا پیمانہ ہے جو خوش گوار اور روشن فکر، اور امید افزا ہوں۔ یہ خالصتاً سماجی جبر ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ ہمارے ہاں Escapism یا Absurd Literature کی روایت نہ رہی ورنہ پروفیسر صاحب تو سیمیوئیل بیکٹ اور پنٹر کو تو سزائے موت دے دیتے۔

پروفیسر موصوف مزیدفرماتے ہیں کہ زندگی جیسی حقیقت کو کہانی تک محدود کر دینا کیا ظلم نہیں ہے! پروفیسر صاحب کے ہاں زندگی ایک ایسا مہا بیانیہ ہے جو کہانی جیسے منی نیریٹو کے لیے موزوں نہیں ہے۔ یہ خالصتاً پروفیسر صاحب کا اختراعی فارمولا ہے، ادب و تنقید کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یوں بھی ہم انگریزی ادب کے مطالعے کے دوران جس صنف سے سب سے پہلے متعارف ہوئے تھے وہ رزمیہ نظم تھی۔ اور رزمیہ نظم کی ساخت کہانی کی شکل میں ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام مہابیانیے (بھلے آفاقی آدرش ہی کیوں نہ ہوں)، تاریخی ٹائم لائن پر ایک کہانی کی شکل میں ہی سامنے آئے ہیں۔ لہٰذا زندگی کو کہانی میں قید کرنے والا اعتراض لادرست معلوم ہوتا ہے۔

ایسے ہی عماد اظہر کے شعر
ابھی سے ڈال دے تو کشتیاں سمندر میں
ابھی سکون ہے آب ِ رواں مناسب ہے
پر پروفیسر صاحب یوں معترض ہوئے: ’’مجھے تو دونوں [اختر سعید اور عماد اظہر] بھائی لگتے ہیں۔ دونوں شاعروں کا زندگی سے متعلق رویہ ایک سا ہے۔ اختر سعید تو بالکل راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عماد میں کچھ جنبش نظر آتی ہے لیکن ٹھہرے ہوئے پانیوں میں اور پرسکون ماحول میں کشتی اتارنا چاہتے ہیں ‘‘۔

پروفیسر صاحب سے عرض یہ ہے کہ کائنات کاہر مرکزی بیانیہ ’توازن‘ پر قائم ہے۔ ہر وہ قدم جو عدم توازن کر بر سطحِ معنی لائے وہ خلافِ فطرت ہے۔ تاہم فطرت کی طرف سے دویعت شدہ عدم توازنیت کے خلاف برسرِ پیکار ہونا خالصتاً انسانی جوہر ہے جسے معروف کلامیوں میں مزاحمت کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک بلاجواز اور غیر ضروری حریت پسندی کی تحلیلِ نفسی کی جائے تو یہ ایک دفاعی مورچے کے طور پر سامنے آتی ہے جو کہ ایک عارضہ ہے۔ ایسے ہی پروفیسر صاحب کے سامنے اردو ادب کے اہم ترین شعرا میں سے ایک احمد مشتاق کا شعر:
جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ
مدتوں دھیان ترے سایہ ِ در پر رکھا (احمد مشتاق)
پڑھا گیا تو پروفیسر صاحب فرمانے لگے ’’احمد مشتاق کا شاعری میں ایک نام ہے لیکن اس شعر میں انہوں نے کیا کیا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ جب میں شعری تلازمات کا ذکر کرتا ہوں تو آپ انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ احمد مشتاق نے اپنے محبوب کو دھوپ کہا ہے آپ بتائیے کہ کیا کوئی شاعر اپنے محبوب کے چہرے کو دھوپ کہتا ہے؟‘‘۔ تو عرض یہ ہے کہ اس شعر میں تلازمے کا کوئی مسئلہ نہیں، دوسری بات محبوب کے چہرے کو دھوپ سے منسوب کرنے کے حوالے سے پروگرام کی میزبان نے بتلایا بھی کہ علامت کے مختلف ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تخلیق کار رہتا کہاں ہے، اگر وہ لندن میں رہتا ہے تو ممکن ہے دھوپ اسے رحمت لگے اور صحرا میں ہو تو دھوپ اسے زحمت لگے۔ لیکن پروفیسر صاحب فرمانے لگے کہ ظرافت اپنی جگہ لیکن اردو شاعری میں ہمیشہ محبوب کے چہرے کو چاند سے تشبیہہ دی گئی۔ اور انہوں نے ابنِ انشا کے شعر کا حوالہ بھی دیا۔ لہٰذا یہ طے ہوگیا کہ پر پروفیسر یزدانی صاحب ہمارے ہاں کے کالجز اور جامعات کے اردو شعبہ جات کے نمائندہ کردار ہیں۔ یعنی جس طرح کی تحقیقی و تنقیدی صورت ِ حال سے ہمارا اردو ادبی منظر نامہ دو چار ہے اس کی نمائندگی درست طور پر ہو رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مجھے یہ کالم لکھنے پر کس بات نے اکسایا؟ بنیادی طور پر میں اردو تنقیدی حوالے سے جمود کے شکار عہد کی غیر ضروری نمائندگی سے خائف ہوں۔ ہمارے ہاں تو افسوس کے ساتھ اردو تنقید لبرل ہیومن ازم کا بھی درست طور پر تتبع نہیں کررہی، نئی بات تو دور کی بات ہے۔ پروفیسر صاحب نے تاریخی سطح پر ادب کی جو صورتِ حال پیش کی اس میں نوجوانوں (جو، اب اتنے نوجوان بھی نہیں ہیں) کو حاشیے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ نو مرکزیت نئی ادبی نو آبادیات قائم کرنے کے مترادف ہے۔ باوجودیکہ پروفسیر صاحب کے ہاں خود زبان کی اغلاط موجود ہیں، ان کی جمالیاتی ساخت جدید و مابعد جدید پیمانوں سے بالکل مختلف ہے، ان کا یک طرفہ تاثراتی اظہاریہ ثنویت کے لازمے کی نامکمل کڑی ہے۔ پروفسیر صاحب سامعین کے اذہان کی نئی ادبی نو آبادیاتی تشکیل کررہے ہیں۔ یہ یک طرفہ نوآبادیات کم از کم مجھے قبول نہیں۔

[گزشتہ روز میری پروفیسر صاحب سے عمدہ گپ شپ ہوئی اور وہ اس بات پر خوش ہوئے کہ ان کے خلاف کوئی مزاحمتی آواز بھی اٹھ رہی ہے، امید ہے کہ یہ کالم ایک صحت مند مکالمے کو جنم دے گا نہ کہ کیفیتِ نزع کو۔ شکریہ]

یہ بھی ملاحظہ کریں:   سوشل میڈیا کا ادب اور خواتین : احمد اقبال

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: