مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے —– ڈاکٹر سعدیہ بشیر

0
  • 140
    Shares

انسانی زندگی کی معنویت بڑی پر پیچ رہی ہے۔
’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘ کے مصداق کائنات کے اسرار و رموز انسانی فطرت کا بھی حصہ ہیں۔ آخر کیوں نہ ہوں یہ ذرہ بے تاب وقت کی موجوں سے کبھی سیپ تلاش کر کے ان کی چمک عریاں کرتا ہے اور کبھی ان قیمتی موتیوں کو اپنی بے اعتنائی اور تعصب کی بدولت گرد میں دبا کر پنہاں کر دیتا ہے اور آنے والی نسل کلچر اور تہذیب کے نام پر ان موتیوں کو تاریخ کا حصہ بنا کر کبھی محقق کہلاتی ہے اور کبھی موجد۔ عریانی و پنہائ کا یہ کلیہ کائناتی نظام کی روح ہے۔ زمین کو آسمان نے ڈھانپ رکھا ہے آسمان کے بہت سے رازوں پر ستاروں کی چھینٹ نے شکوک و اوہام کی مہر لگا رکھی ہے۔ زمین کے اسرار گہرے پانیوں کی تہہ۔ پہاڑوں کی گرفت اور صحراؤں کی ہیبت تلے دفن ہیں جن کی نقاب کشائی کے لیے کبھی ستاروں پر کمندیں ڈالی جاتی ہیں اور کہیں قعر دریا میں سورج کی کرن پہنچنے کی امید رکھی جاتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ
دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

گویا کائنات میں سب سے اہم ڈھانپنا ہے۔ رات دن ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں۔پتے درختوں کا لباس ہیں۔خوشبو کو پھول نے ڈھک رکھا ہے۔ انسانی معاشرت بھی اسی اصول کی تابع ہے۔ انسان ہوں یا جانور اپنے بچوں کو اپنے پروں اور اپنی حفاظت کے سائے تلے ڈھانپ کر زمانے کے گرم و سرد سے محفوظ رکھتے ہیں۔ رشتوں کی صورت بھی ایک دوسرے کا لباس بن کر ان کی خامیوں کو ڈھانپے کی سعی کی جاتی ہے کہیں انسان اپنے زخموں کو ڈھانپے رکھتا ہے کہیں غم کو قہقہوں تلے دفن رکھتا ہے کہ عریانی اس کی عزت نفس کو مجروح نہ کر دے۔۔ اشیا کی صورت بھی ڈبے۔کور۔ریپر ان کو ڈھانپنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ سالن روٹی ہو، کھانے کی کوئی اور چیز ان کو ننگا نہیں رکھا جاتا۔ نقاب سازی کا یہ عمل دفتری، قانونی، حکومتی اور سیاسی امور میں بھی جاری و ساری ہے۔ سر پر چھت اور گٹر پر ڈھکن لگا کر ڈھانپنا ضروری ہوتا ہے۔

وہ چیز جسے اوپر ڈال دینے یا لگا دینے سے کوئی چیز چھپ جاتی ہے یا بند ہو جاتی ہے اسے ڈھانکنے کی چیز یعنی ڈھکنا یا سر پوش کہتے ہیں۔ کئی جگہوں پر تو ڈھکن کے یہ فرائض انفرادی و اجتماعی صورت میں انجام پاتے ہیں۔ “عظیم ہستیاں اقوام کے باطن میں چھپی تخلیقی قوتوں کے ڈھکن کھول دیتی ہیں” (پیش لفظ آتش چنار ١٩٨٥)۔ گویا ہر جگہ پردہ لگانا ضروری نہیں ہوتا، رونمائی کی صورت اس پردہ کا ہٹنا بھی ضروری ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے رسمی تکلفات کے پردے گرانا پڑتے ہیں۔ جس طرح دائی سے پیٹ نہیں چھپایا جا سکتا اسی طرح کسی عزیز دوست کے سامنے اس کی خامیوں یا اپنی مجبورہوں سے پردہ ہٹا کر دکھانا پڑتا ہے تا کہ صورت حال بہتر ہو سکے۔پردہ دل پر زنگ کی صورت ڈھکن بن جائے یا آنکھوں پر پڑ جائے تو اس کا اتارنا فرض ہے اور اگر یہ پردے عقل پر پڑ جائیں تو کہیں کا نہیں چھوڑتے۔ بقول انور مسعود
بھل چک ہوندی انکھیاں کولوں دل جرمانے بھر دا اے

بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جو خود ڈھکن بن کر لڑکھتی پھر رہی ہے اور ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کہاں بساط لپیٹنا ہے اور کہاں پردہ فاش کرنا ہے۔ جہاں دوسروں کی خامیوں کو ڈھانپنا ہو ہم وہاں کاروکاری اور ناک کان کاٹ کر مہر ثبت کرتے ہیں۔ اور کمیٹیاں بنا کر تفتیش پر پردہ ڈال دیتے ہیں کئی رازوں پر تو سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے

پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے۔جلد بازی میں ہم وہ احمق عظیم بن جاتے ہیں جو گٹر کے ڈھکن مشروبات اور بوتلوں کے ڈھکن سے گٹر بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ گٹر کو عریاں کیا جائے یا ڈھول کے پردہ میں سوراخ کیا جائے۔ سزا کی صورت انسانی زندگی یا ساز و راگ کو خراج دینا پڑتا ہے۔ کئی ذہنوں کی سڑاند اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جی چاہتا ہے کہ ڈھکن گٹر کی بجائے ان کی گندی سوچ پر لگا دیا جائے۔ وہ راز جو عوام جاننا چاہتی ہے ان پر گہرے پردے تان دیے جاتے ہیں اور انسان کی ذاتی زندگی سے وہ ڈھکن اٹھا دیے جاتے ہیں جہاں بدن پر رستے لہو سے پیرہن چپک کر رفو کی حاجت ختم کر دیتے ہیں۔ قران اور بے جوڑ شادیوں کے پردے ہوں یا سازشوں کے۔ جتنے بھی بوسیدہ ہوں ان کا ہونا ناگزیر ہے
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچھا ہے سر انگشت حنائی کا تصور
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی

کبھی یہ پردے جرم پر پڑتے ہیں اور کبھی انصاف کی آنکھوں پر۔ کبھی تو محافظوں کی بندوق سے چلنے والی گولی پر پڑے یہ پردے حقیقت کو لہو کر دیتے ہیں
قاطع اعمار ہیں اکثر نجوم
وہ بلائے آسمانی اور ہے

ہمیں تو مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے۔ ہمیں بہاروں کو چھپانے اور خزاں کو دکھانے کا مرض لا حق ہے۔قدرت کے پردے نظام کے تابع ہیں۔ ہمارے بنائے پردے اس نظام کی توڑ پھوڑ کا سبب ہیں بقول شاعر خارزار کو رنگ بہار دینا آتا ہے اور نہ دست جنوں میں آبلہ سائی آتی ہے۔ یہ ڈھکن کاٹے نہیں کٹتے یہ پردے ہٹتے نہیں۔ ان کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جاتا ہے ہمیں کچھ علم نہیں۔ مداری جو دکھانا چاہتا ہے کردار وہی زبان بولتے ہیں۔ سانپ بین پر نہیں ناچتا نہ ہی ٹوکری سےڈھکنا اترتا ہے۔ کچھ فیصلے مصلحت کے پردے میں رہتے ہیں اور ڈھکن لگی زندگیاں سانس لیتی رہتی ہیں اور دعا کرتی ہیں
کہ کبھی صیاد بھی اپنے دام میں آجائے۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: