سانحہ ساہیوال: کیا یہ ایک سبق ہے؟ —— قانون فہم

0
  • 185
    Shares

تین دن, 72 گھنٹے گذر گئے۔ ایک چھوٹی سی کار پر سفر کرنے والی فیملی کو ساہیوال سے دس بارہ کلومیٹر پہلے سی ٹی ڈی کی گاڑی نے ٹائر پر فائر کرکے روکا۔ گاڑی پر پیچھے سے نہیں آگے کھڑے ہو کر فائر کئے۔ پھر پیشہ ور قاتلوں کے دلوں نے اندر بسنے والے انسان نے چٹکی کاٹی۔ انہوں نے گاڑی کے اندر سے تین بچوں کو بحفاظت نکالا اور باقی چار افراد، ڈرائیور، اس کے ساتھ بیٹھے بچوں کے والد، پچھلی سیٹ پر والدہ اور ایک چھوٹی بہن کو مزید دو درجن فائر کرکے خاموش و ساکن کر دیا۔ قاتل بہت حساس پیشہ ور تھے۔ انہیں یہ خوف تھا کہ کم گولیاں ماری جائیں تو مرنے والے کو جانکنی کی تکلیف سہنا پڑتی ہے۔ انہیں یہ بھی خوف تھا کہ مرنے والوں کی چیخ و پکار ان کے نوعمر بچوں پر تازندگی برے اثرات چھوڑ جائے گی۔ لہذا جلد از جلد کم سے کم وقت میں اپنی سرکاری ذمہ داری ادا کی اور بچوں کو بحفاظت پہلے ایک غیر آباد پٹرول پمپ پر۔ پھر ہسپتال چھوڑ کر افسران بالا سے انعام اور تمغے وصول کرنے کی کوشش میں رپورٹس بنانے میں مصروف ہوگئے۔

ان کیلئے، ان میں سے کسی ایک کیلئے بھی نہ یہ کام نیا تھا، نہ یہ دن۔ فرق صرف یہ پڑا کہ جائے وقوعہ ایک مصروف ترین شاہراہ ہے اور یہودیوں کی اسلام اور پاکستان کی سلامتی کی خاطر ففتھ جنریشن وار میں استعمال کیلئے ایک نہیں کئی بڑے ہتھیار راہگیروں میں سستے داموں بانٹ دیئے گئے ہیں، موبائل فون میں کیمرہ اور فیس بک یا سوشل میڈیا نامی ہتھیار۔ جنہوں نے اس عظیم قومی خدمت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے کارنامہ پر شک و شبہ کے چھینٹے ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

پیشتر اس کے کہ پیشہ ور صحافی سیکیورٹی ایجنسیوں کی اس کامیابی کے ذریعہ پاکستان جیسی عظیم ریاست کے تحفظ میں کامیابی ایک نمایاں کاوش کو منظر عام پر لا سکتے۔ انتہائی غیر پیشہ ور اور غیر منظم جاہل اور ملک دشمن صیہونی لابی نے پوری کاروائی کی مختلف ویڈیوز کے ذریعہ ایک ظلم و بربریت کی داستان کے طور پر پینٹ کرنے کی بھرپور مہم چلا دی۔

آج تین دن بعد کچھ چیزیں سرکاری سطح پر مانی جائیں یا نہیں؛ کافی حد تک طے ہو چکی ہیں:

  1. مارے جانے والے لوگ بے گناہ اور معصوم تھے اور کسی بھی قسم کا کوئی مجرمانہ یا شدت پسندانہ ریکارڈ ہر گز نہ رکھتے تھے۔
  2. مارے جانے سے قبل ایس او پی جو کسی بھی پولیس یا سیکیورٹی ایجنسی کے کارکنان کیلئے بنایا گیا ہے۔ اسے بالکل پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ مذکورہ مشتبہ افراد کی گرفتاری یا انہیں روکنے۔ ان کو روک کر تلاشی لینے یا انکی نگرانی کرکے انہیں سمجھنے کی ہر گز کوئی کوشش نہ کی گئی تھی۔
  3. بادی النظر میں حملہ کرنے والے اہلکاروں کو شوٹ ٹو کل کا حکم دے کر بھجوایا گیا۔ بدقسمتی یا غیر پیشہ ورانہ رویہ کی انتہا ہے کہ ایگزیکیوشن کے ذمہ داروں نے چار جانیں لینے سے قبل دماغ پر ذرا بھی زور ڈالنے کی کوشش نہیں کی بصورت دیگر اس تمام صورتحال سے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔
  4. سی ٹی ڈی یا کسی بھی دیگر ایجنسی کے کسی بھی ذمہ دار آفیسر کو کسی ذاتی رنجش یا رقابت کی بنا پر ان معصوموں کا مزید سانس لینا گوارا نہ تھا۔

سی ٹی ڈی مکمل طور پر پولیس کی زیر قیادت ایک سول سیکیورٹی ایجنسی ہے اور ماضی میں بلاشبہ پنجاب میں دہشت گردی کی عفریت کو اکھاڑنے میں اس کا ایک اہم رول رہا ہے۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے مختصر سے وقت میں بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کی تھیں اور ڈان لیکس کے تنازعہ میں اس ادارہ کی حراست سے پریمئر سیکیورٹی ایجنسی کا دہشت گردوں کو چھڑانے کی بار بار کوشش اور بسا اوقات حملہ کرنا بھی مبینہ طور پر ڈان لیکس تنازعہ کی بنیاد بنا۔ جس پر نواز شریف حکومت کو اپنے بہترین اور وفادار لوگ برطرف کرنا پڑے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو tweet واپس لینا پڑا تھا۔

کچھ ذرائع دو چار ماہ سے اس طرح کے کسی حادثہ کو فور کاسٹ کر رہے تھے۔ ان کا اندیشہ یہ تھا کہ تبدیل شدہ حکومت سی ٹی ڈی کی پچھلے دور میں کامیابیوں پر ناراض ہے مگر فی الوقت اس ادارہ کو چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

کوئی بھی جھوٹی اور من گھڑت اطلاع دے کر سی ٹی ڈی سے کوئی بڑی غلطی کروائی جائے گی اور اس کے بعد اس ایجنسی کا رول محدود کر کے اسکا اختیار سول حکومت سے لے لیا جائے گا۔ مجھے خوف ہے کہ یہ واقعہ کچھ اسی طرح سٹیج کیا گیا ہے۔ مجھے اس مرحلہ پر سی ٹی ڈی پنجاب کی قیادت سے یہ توقع ہے کہ وہ کھل کر اس آپریشن میں اپنی غلطی کو تسلیم کریں۔ اپنے اہلکاروں اور ذمہ دار آفیسر کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں۔ بلاوجہ کی جعلی سکسیس سٹوری پر اصرار اور شہید معصوم مسافروں کیخلاف جھوٹے مقدمات اور ریکارڈ تیار کرنا اور انہیں مجرم بنانے کی کوشش کا عمل ان کے سر میں کامیابی کا پر نہیں لگائے گا بلکہ ان کے ادارہ کے کردار پر سوالیہ نشان لگائے گا۔

حکومت حسب توقع ابھی تک بھان متی کے کنبے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم اور وزیراعلی ناچیز کی بیان کردہ پوزیشن ر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ صوبائی وزیر راجہ بشارت اور فواد چودھری وغیرہ دوسری انتہا پر کھڑے ڈرائیور کو اسامہ بن لادن کا فرسٹ کزن اور ابوبکر البغدادی کا بھائی منوانے پر تل گئے ہیں۔

یہ واقعہ تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو ایک آئی اوپنر کے انداز میں لینا چاہئے اور ہر قیمت اور ہر صورت میں ملزمان کے انکاونٹر یعنی قتل پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے۔ جس ملزم کو آپ اپنے تمام وسائل کے باوجود پکڑ نہیں سکتے یقین کریں اسے مار کر آپ ملک و قوم کی ہرگز کوئی خدمت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ بہت سی قیمتی معلومات کو ہمیشہ کیلئے دفن کر رہے ہوتے ہیں۔

حکومتی سطح پر بھی بیسیوں کاونٹر ٹیررزم ایجنسیاں چلانا اور بنانا انتہائی احمقانہ قدم ہے۔ وقت آ گیا کہ اداروں کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت کے نقصانات کو سمجھا اور ان سے سبق لیا جائے اور ہمیشہ کیلئے اصول طے کر دیئے جائیں۔ انسانی جان کی حرمت پر کبھی کمپرومائز نہ کیا جائے۔ محض ایک یا دو ایجنسیاں اس کام پر متعین کی جائیں۔ باقی کو تحلیل یا ضم کر دیا جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: