ماضی فراموش ——- مطربہ شیخ

0
  • 188
    Shares

راشد ائیر پورٹ پر اترا تو حیرت اور خوشی سے آس پاس دیکھتا رہا۔ اسکے ملک کا چھوٹا سا ائر پورٹ اب ایک جدید انٹرنیشنل ایرپورٹ کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ بائیس سال پہلے تک یہ ایک عام سا ائر پورٹ تھا۔ بائیس سال بعد وطن لوٹنے والے نے اپنے شہر کی فضا میں کھل کر سانس لی اور طویل راستے سے گزر کر ائر پورٹ سے باہر آگیا۔ ٹیکسیوں کی قطار میں سے ایک ٹیکسی اسکی طرف بڑھی اور اس نے بیٹھ کر راستہ بتا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹونی نے آئینے میں نظر آتے اپنی دوست کے عکس کو ستائش بھری نظر سے دیکھا۔ تم ہمیشہ کی طرح ہی خوبصورت اور کم عمر نظر آرہی ہو۔ بیوٹیشن کا ہاتھ نرمی سے چہرے سے دور کرتے ہوئے وہ کھکھلائی۔ کم عمر کیسے دکھائی دوں گی اب تو بیٹی مقابلہ کررہی ہے، سترہ کی جو ہو گئی ہے۔ برابر کی چئیر پر بیٹھی اسکی بیٹی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ٹونی انکل آپ ہمیشہ ماما کی تعریف ہی کرتے ہیں۔ بھئ تمھاری ماما ہیں ہی تعریف کے قابل۔ سیل فون کی بیل بجنے پر وہ فون کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ سچ کہہ رہا تھا اپنی اس خوبصورت دوست ہی کی بدولت وہ اعتماد سے ملک کے سب سے بڑے شہر میں کئی زنانہ و مردانہ سیلونز کا مالک تھا۔ ماں بیٹی تیار ہو کر سیلون سے باہر نکل آئیں۔ ٹونی نے فون پر بات کرتے کرتے ہی انهیں الوداعی مسکراہٹ دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راستے بھر وہ حیران ہوتا رہا، شہر میں موجود طویل سڑکیں جو پہلے خالی ہوتی تھیں اب ان پر جدید گاڑیاں دوڑ رہی تھیں، اسی شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کالج و یونیورسٹی جانے کے لئے وہ پبلک بس کا کرایہ بچانے کے لئے پیدل چلا تھا، اس کو اپنا کالج اور یونیورسٹی کا دور یاد آنے لگا، شہر کی ایک مہنگی نجی یونیورسٹی میں اسے باپ نے اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھایا تھا۔ راشد نے بھی باپ کو مایوس نہیں کیا اور محنت سے پڑھائی مکمل کر کے مشرق وسطی کے ایک ملک میں نوکری حاصل کر لی تھی اور وہاں سے اتنے پیسے کما کر بھیجے تھے کہ والدین نے کرائے کا مکان چھوڑ کر ذاتی مکان بنا لیا تھا۔ چھوٹے بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے، راشد کو اپنی عمر کا دھیان آج شہر میں داخل ہو کر آیا تھا۔ چهبیس سال کی عمر میں اپنا ملک چھوڑ کر جانے والا آج پینتالیس سال کا ہو چکا تھا اور ابھی تک غیر شادی شدہ تھا، دھڑا دھڑ پیسے کمانے کے دوران شادی کرنے کا خیال بھلا کیسے آ سکتا تھا۔ گو کہ اسکی زندگی میں عورتوں کا آنا جانا لگا رہا لیکن اس نے کبھی شادی کا نہیں سوچا تھا۔ ٹیکسی اس سڑک پر آگئی جہاں اسکی یونیورسٹی کی عمارت اپنی آب و تاب سے موجود تھی۔ راشد چونکا اور مڑ کر ٹیکسی کی بیک سکرین سے عمارت کو دیکھنے لگا اسکو علینا یاد آگئی، پرکشش اور طرح دار علینا جو یونیورسٹی میں ہر دل عزیز تھی۔ وہ اسی قابل تھی کیونکہ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ پڑھائی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں آگے تهی۔ وہ اپنی شوخی اور دوستانہ رویئے کی بدولت یونیورسٹی میں ہر دل عزیز تھی۔ اساتذہ بھی اسے پسند کرتے تھے لیکن راشد کے ساتھ اسکا تعلق خصوصی تھا۔ راشد اسے پسند تو کرتا تھا لیکن اپنی کم حیثیتی کے باعث بات کرنے کی ہمت نہیں تھی لیکن یونیورسٹی کی ایک پکنک کے دوران ہونے والی بات چیت اس سنسنی پر ختم ہوئی جو ہر انسان جوانی میں محسوس کرتا ہے۔ وہ پہلی سسکی جو لذت کی انتہا پر علینا کے ہونٹوں سے نکلی، جس کو راشد نے تحیر کے ساتھ سنا، اسکے بعد وہ ایک د وسرے کے دیوانے ہو گئے۔ کئی بار یونیورسٹی کلاسسز ختم ہونے کے بعد وہ کبھی کسی دوست یا سہیلی کے اتفاقا خالی گھر میں جاپہنچتے اور اگر کبھی زیادہ دن ہو جاتے اور انکی بے چینی بڑھ جاتی تو علینا ہوٹل میں کمرہ بک کروا لیتی پہلے پہل وہ ہوٹل میں جھجھکے لیکن پھر انکا ڈر نکل گیا اور اسی طرح چار سال بیت گئے، آخری سمسٹر کے بعد علینا اپنے بھائی کے پاس بیرون ملک چلی گئ تھی اور راشد نوکری کے لئے دھکے کھا کھا کر باہر چلا گیا۔ کتنے سال گزر گئے نہ جانے علینا کیسی ہو گی، یقینا اسکی شادی ہو گئی ہو گی، کیا میں اسکو یاد ہوں گا، راشد کو خیال آیا، ٹیکسی ڈرائیور نے اسے مخاطب کیا، سر کس طرف چلوں اب، اس نے مقام کی نشاندہی کی اور ٹیکسی زن سے اسکے گھر کے سامنے پہنچ گئی۔ کرایہ ادا کر کے وہ اترا ہی تھا کہ اسکے بھائی نے گیٹ کھول دیا اور اس سے بغل گیر ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمندر کنارے شہر کی سب سے اونچی خوبصورت اور جدید عمارت کی ایک بڑی شیشے کی کھڑکی میں تاثیر کمال کھڑا سڑک کو دیکھ رہا تھا جہاں صفائی جاری تھی، یہ تاثیر کمال کا آفس تھا، شہر کے بلڈرز میں سے سب سے مضبوط اور بڑا گروپ تاثیر کمال کے والد کا تھا اور انکی وفات کے بعد اب وہ تنہا ہی اس جائیداد و کاروبار کا مالک تھا، شہر کی سڑکیں بنانے کا ٹھیکہ ان کے پاس برسوں سے تھا، تاثیر کے والد کمال صاحب شہر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق دیکھنا چاہتے تھے اور اس ضمن میں انہوں نے بہت محنت کی تھی لیکن موت نے انکو مہلت نہ دی تھی کہ وہ شہر کو اپنے خواب کی تعمیر کی صورت میں دیکھتے، تاثیر نے انکے خواب کو پورا کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی، شہر طویل پختہ ہموار سڑکوں، انڈر پاسسز، فلائی اوورز سے مزین ہو گیا تھا، تاثیر کو نت نئ گاڑیوں کا شوق تھا، اور امپورٹڈ گاڑیاں دوڑانے کے لئے دوسری دو کمپنیز کے ساتھ مل کر شہر کے اردگرد ایک ڈرائیونگ ٹریک بنایا گیا تھا، جہاں ہر مہینے وہ چند دوست اور شہر کے امراء کار ریس منعقد کیا کرتے اور اپنا شوق پورا کرتے، دو دن پہلے ہی تاثیر نے ایک نئ اسپورٹس کار منگوائی تھی اور اب وہ اسکو چلانے کے موڈ میں تھا، تیز ہوا کے باعث سمندری ریت اڑ کر سڑک کو ناہموار اور آلودہ کر چکے تھے لیکن کمپنی کے ملازمین جانفشانی سے سڑک صاف کر چکے تھے۔ صفائی مکمل ہوتے ہی تاثیر برق رفتار لفٹ سے نیچے گیراج میں آیا، ڈرائیور نے اسے دیکھتے ہی دروازہ کھولا، تاثیر نے اسکے ہاتھ سے چابی لی اور کار اسٹارٹ کر کے سڑک پر نکل آیا، واو اس نے سیٹی بجائی کار سنسان سڑک پر تیز رفتاری سے دوڑنے لگی، تاثیر نے کئ چکر ایک ہی سڑک کے لگائے، واٹساپ کی مدھر بیپ پر اس نے سیل فون دیکھا، دوسرے شہر میں موجود اسکی گرل فرینڈ تانیہ نے سمر بکنی میں اپنی سیلفی بھیجی تھی، تاثیر نے دلچسپی سے سیلفی کو زوم کیا اور مسکرایا لیکن اس وقت اسکا موڈ صرف کار ڈرائیو کرنے کا تھا، گرل فرینڈ کو ایک مختصر تعریفی میسج سے نوازنے کے بعد وہ کار کو ڈرفٹ موڈ پر چلانے لگا یہ اسکا پسندیدہ ترین عمل تھا، اسطرح کرنے سے وہ اڑتالیس سال کی عمر کے باوجود خود کو ایک ٹین ایجر محسوس کرنے لگا۔ اسی لئے تو انہوں نے اس شہر کی سڑکیں بنوائی تھیں کہ وہ اپنی مرضی سے ڈرائیو کر سکیں۔ فون کی بیل بجنے لگی، اسکی بیوی کی کال آ رہی تھی۔ اس نے رفتار آہستہ کر کے فون ریسیو کیا: “یس بے بی”۔

میں سیلون سے ہوٹل پہنچ چکی ہوں تقریب کے انتظامات دیکھنے تم کب آرہے ہو؟
بس سات بجے تک، کیا تم گھر جاو گے۔
نہیں ضرورت نہیں ہے۔
چلے جاو فریش ہو جانا۔
نہیں بے بی آئی ایم آل ریڈی فریش میں ٹیسٹ ڈرائیوکر رہا ہوں اس وقت۔
اوہ اچھا وہ ہنسی، ٹھیک ہے گو آ ہیڈ۔
وہ اسکے جنون سے واقف تھی۔ تاثیر نے ایک گھنٹے تک ہائی اوکٹین پھونکا اور پھر گاڑی کا رخ ہوٹل کی طرف موڑ دیا۔
آج شہر کے سب سے بڑے بلڈر گروپ نے ایک کاروباری بریفنگ پر تقریب رکھی ہے وہ چھوٹی کمپنیز کو ٹھیکہ دے رہے ہیں ایک نزدیکی چھوٹے شہر کی سڑکیں بنوانے کا۔

میں نے بھی اپنی طرف سے درخواست بجھوائی تھی کہ میری کمپنی تو نہیں لیکن میں ایک انجینئر ہوں مجھے چانس دیں، خوش قسمتی سے دعوت نامہ آ گیا ہے راشد کے بھائی نے اسکو بتایا، اچھا راشد نے خوشی سے کہا، ضرور جاو، آپ بھی میرے ساتھ چلیں، میں نروس ہوں بہت، آپ با رعب دکھنے لگے ہیں، شاید ہم دونوں انکو متاثر کر لیں اور ٹھیکہ حاصل کر سکیں، اپنی کمپنی بنا سکیں، میراخواب ہے اپنی بلڈر کمپنی، راشد نے شفقت سے بھائی کندھا تھپکا، اور کہا، ہم ضرور چلیں گے، آپ آرام کریں، نہیں میں بالکل تھکا ہوا نہیں تم سب کو دیکھ کر فریش ہو گیا ہوں، تم چلنے کی تیاری کرو اچھا سا سوٹ پہن لو جو میں اپنے ساتھ لایا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علینہ نے ہوٹل کی خوبصورت بالکنی میں چیئرز لگوائیں اور ویٹرز کو ہدایت کی یہاں صرف خواتین بیٹھیں گی، یہ ایک خالصتا مردانہ کاروباری تقریب تھی، لیکن علینہ نے چند قریبی سہیلیوں اور تاثیر کے دوستوں کی بیویوں کو اسلئے مدعو کیا تھا کہ وہ تاثیر کے کاروباری معاملات سے بھی با خبر رہنا چاہتی تھی، کیونکہ اکلوتا لاڈلا ہونے کی وجہ سے تاثیر بہت لاپرواہ تھا، اس سے پہلے وہ دو تین بار بھاری نقصان بھی اٹھا چکا تھا، اسلئے علینہ اپنے والد کی ہدایت پر کاروبار پر بھی نظر رکھنے لگی تھی حتی کہ آج کی تقریب کے شرکاء کے دعوت نامے بھی اسی کے صلاح مشورے پر بانٹے گئے تھے۔

تاثیر ہوٹل کے ہال میں داخل ہو گیا، علینہ اسکے قریب آئی، بہت خوبصورت لگ رہی ہو، تاثیر اسکی طرف بڑھا، انہوں میک اپ خراب نہ کرو، اس نے تاثیر کی پیش قدمی روکی، تم ہمیشہ یہی کرتی ہو، تاثیر مسکین بنا، علینہ کھکھلائی، مکاری تو تم پر ختم ہے مسٹر تاثیر، بچے کہاں ہیں، تاثیر نے پوچھا، پنکی کی سہیلیوں نے ایک گیٹ ٹو گیدر رکھی ہوئی تھی اسکو وہاں چھوڑا ہے اور بابو اپنے نانا اور ماموں کے ساتھ ہے آج۔ وہ پیار سے بیٹے کو بابو کہتی تھی، دیکھو مہمان آنا شروع ہو رہے ہیں، تمھارا احمق سکریٹری کہاں رہ گیا ابھی تو یہیں تھا، اسکو داخلی راستے پر کھڑا ہونا چاہیئے، میں اور تم یہاں بیٹھیں گے، وہ تاثیر کو لے کر ایک صوفے کی طرف بڑھی، تاثیر نے بے ڈھنگے پن سے سیکریڑی کو آواز دی، علینا نے متاسفانہ انداز میں سر ہلایا اور بیٹھ گئی، تمام مہمانوں کں کی آمد کے بعد دو تین مالکان نے اپنی کاروباری شرائط پیش کیں، کاروبار کے خواہشمند افراد کے سامنے اصول و ضوابط رکھے، اور پھر کھانا پینا اور انفرادی بات چیت کے معاملات شروع ہو گئے، علینہ اٹھ کر دوسری خواتین کے ساتھ بالکنی میں جا بیٹھی، راشد اور اسکا بھائی بھی تقریب میں پہنچ چکے تھے، لیکن بھائی مایوس نظر آ رہا تھا۔ یہ بہت بڑے لوگ ہیں، بس حکومتی ادارے کو دکھانے کے لئے ہم کو خانہ پری کے لئے بلایا گیا، راشد کے بھائی نے سرگوشی کی، راشد نے کہا نہیں ہم ضرور پراجیکٹ حاصل کر لیں گے، مسٹر تاثیر کی بیوی میری کلاس فیلو رہ چکی ہے۔ راشد موقع دیکھ کر تاثیر کمال کے قریب پہنچا، تعارف کے بعد بولا، میں اور علینہ یونیورسٹی کے کلاس فیلو اور بہت اچھے دوست رہ چکے ہیں۔ تاثیر کمال نے بھنویں اچکائیں، اچھا واقعی، جی کہاں گیئں علینہ۔ میں تو بہت خوش ہوا انکو دیکھ کر، وہ بھی یقینا مجھ سے مل کر خوش ہونگی، تاثیر نے سیکریٹری کو کہا، مادام کو بلاو، علینہ مسکراتی ہوئی انکے قریب آئی، راشد کو اسکی آنکھوں میں شناسائی کی کوئی چمک نظر نہ آئی لیکن اس نے ڈھیٹ بن کر بے تکلفی سے کہا، علینا بہت خوشی ہوئی تم کو دیکھ کر، تم کو یاد ہی ہو گا کہ ہم کتنا انجوائے کرتے تھے یونیورسٹی میں، علینا نے ذرا غور سے اسکی طرف دیکھا، اسکو یاد آگیا، چند لمحے وہ خاموش رہی اور جب بولی تو بالکل صاف آواز میں کہا، ہاں یاد آ گیا، تو تم امیر آدمی بن گئے، تم کو شوق تو نہیں تھا امیر آدمی بننے کا، راشد نے کچھ حیرانگی سے کہا، تو تم کو یہ بھی یاد ہے، ہاں سب یاد آ گیا اور کیسی چل رہی ہے زندگی، راشد نے جلدی سے کہا، مجھے ابھی بھی شوق نہیں امیر آدمی بننے کا میرے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ کام کرنے کا موقع دیجئے مسٹر تاثیر کمال، ہوں تاثیر نے ہنکارا بھرا، دیکھتے ہیں مسٹر راشد، یہ فیصلہ تو مشترکہ ہو گا، علینا واپس بالکنی میں چلی گئ، تقریب اختتام کو پہنچی، علینہ نے تاثیر کے بازو پر ہاتھ رکھا اور کہا چلو لانگ ڈرائیو لیں آج کیسی ہے تمھاری نئی محبوبہ، تاثیر خاموشی سے اسکے ساتھ چلتا ہوٹل کی پارکنگ میں آ گیا، ملازم نے کار انکے قریب لا کر روکی اور چابی حوالے کی، شاندار، علینا نے توصیفی انداز میں کہا، تاثیر نے خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ سنھبال لی، علینا نے بیٹھ کر کہا چلو نہ کیا سوچ رہے ہو، تاثیر خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا، علینا کو اسکی خاموشی سے الجھن ہونے لگی چپ کیوں ہو تاثیر۔ کوئی بات کرو، یہ تمھارا دوست تھا، کون؟ علینا نے پوچھا، یہ جو کہہ رہا تھا کہ یونیورسٹی فیلو تھے یہ وہ۔ کیا نام تھا اس ایڈیٹ کا، مجھے بھی نام نہیں یاد، اچھا اس وقت تو تم کو سب یاد آ گیا تھا، تاثیر نے ناگواری سے کہا، اخلاق بھی کوئی چیز ہوتی ہے، علینا نے بھی ترشی سے کہا، ایسے ہی کہہ دیا تھا اخلاقا ورنہ مجھے یاد بھی نہیں، اتنے سٹوڈنٹس تھے یونیورسٹی میں، سب تھوڑی یاد رہتے لیکن تمھاری دوستی تو اس مخنث ٹونی سے بھی قائم ہے۔ تم نے اسکے ساتھ اسکے سیلون کے لئے کتنا کام کیااور وہ لندن والا ڈیوڈ۔ تمھاری تو اس سے بھی دوستی تھی، ٹونی کے سیلون میں آنے والا وہ سانولا سا منحنی ماڈل وہ بھی تو تمھارا دوست تھا اور آج یہ شکل سے ہی مڈل کلاسیا دکھائی دے رہا تھا تم نے اسکو منہ لگایا ہوا تھا۔ تاثیر ماتھے پر بل ڈالے بولے جا رہا تھا۔ “کچھ شرم کرو”۔ علینا چلا اٹھی ٹونی ایک انسان بھی تو ہے مخنث ہے تو کیا ہوا، محنت کر کے اپنا مقام بنایا ہے اس نے۔ صرف اسکی حوصلہ افزائی کے لئے میں اسکے ساتھ رہی کہ وہ لوگوں کی باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو، بس اور کوئی وجہ نہیں۔ باقی رہے دوسرے تو وہ خود ہی مجھے پسند کرتے تھے، میں کسی کے ساتھ ملوث نہیں رہی نہ ہی کوئی خاص تعلق تھا میرا۔ وہ تو اس طرح تم سے بات کر رہا تھا جیسے بہت بے تکلف رہا ہو، ہاں تو بے تکلف تھے ہم لیکن، تھے۔۔ مسٹر تاثیر تھے، شادی کے بعد میں صرف تم تک ہی رہی ہوں، وفاداری کے ساتھ لیکن تم یہ تانیہ کون ہے، تم۔ کیا سمجھتے ہو، مجھے معلوم نہیں ہے کچھ بھی، سب معلوم ہے مجھے تازہ ترین واٹس ایپ تک۔ تاثیر کمال نے سڑک پر ایک موڑ نظر آتے ہی گاڑی اس پر موڑ لی۔ گھر کی طرف جانے والی سڑک نہیں ہے یہ۔ علینا نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ تاثیر کمال سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔ اب علینا شروع ہو چکی تھی اور تانیہ سے پہلے وہ غیرملکی سفارت خانے کی معمولی اہلکار، لیکن جس کی شکل اچھی ہے۔ اور تم اور تمھارے دوست اس پر نوازشیں کرتے رہے اپنا دل بھر جانے تک، تم لوگوں کو تو ہر سیکنڈ ہینڈ چیز استعمال کرنے کی عادت ہے۔ جسٹ شٹ اپ، تاثیر نے دانت پیسے۔ نہیں اب سنو اپنی بے وفائی کے قصے۔ جب بابو پیدا ہونے والا تھا۔ تو تم نے بہانے سے دارالحکومت میں جاکر رنگ رلیاں منائیں تھیں، ایڈیٹ وہ بزنس ٹرپ تھا، تم لاکھ جھوٹ بولو لیکن میرے پاس ثبوت ہے کچھ تصاویر کی صورت میں گھر چلو تم کو دکھاتی ہوں۔ تاثیر کوئی بہانہ نہیں بنا سکا، سڑک طویل ہو رہی تھی کوئی موڑ نظر نہیں آرہا تھا۔ تاثیر کو لمبی سڑک سے کوفت ہونے لگی یہ ہم کس طرف نکل آئے علینا نے بھی پوچھا۔ سویٹ ہارٹ اپنے شہر کے راستے بھول گئی ہو، ابھی دوسری سڑک پر پہنچ جائیں گے پھر گھر کی طرف چلیں گے۔ بس ختم کرو۔ میرا مقصد تم پر شک کرنا نہیں تھا، آئندہ مجھ سے بے تکے سوالات نہ کرنا۔ تانیہ کو فارغ کرو ورنہ میں پاپا سے تمھاری شکایت کرونگی۔ اوہ کم آن علینا بچوں جیسی بات نہ کرو، ہم کو اپنی باتیں اپنے تک ہی رکھنی چاہیئے۔ تم پرفیکٹ بیوی ہو۔ ایک موڑ نظر آتے ہی تاثیر نے گاڑی اس پر ڈال دی ۔ سامنے ایک اور سیدھی لیکن بہت روشن اور ہموار سڑک تھی جو انکے گھر تک جا رہی تھی۔

(Visited 40 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20