ٹیکس نادہندگان: جواز اور جواب ——– خرم شہزاد

0
  • 45
    Shares

ٹیکس کسی قسم کا ہو، کسی نام سے ہو، کاروبار مملکت چلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں ۔۔۔جہاں لوگ ترقی یافتہ ہوں مگر ملک غربت کی شرح سے نیچے کے ممالک میں شامل ہو، جہاں وزیر اور مشیر ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کے سوٹ زیب تن کر کے بیرون ممالک میں جاتے ہیں اور تین تین لاکھ یومیہ کے کمرے ہوٹلوں میں بک کرواتے ہیں اور مختلف عالمی اداروں سے بھیک مانگتے ہیں۔۔۔ کسی بھی عام شخص سے ٹیکس کے بارے میں بات کرنا مصیبت کو گلے لگانے جیسا ہے۔ آپ پڑھے لکھے آدمی سے لے کر ایک ان پڑھ شخص تک، کسی کاروباری سے بے روزگار تک، کسی سے بھی ٹیکس کی بات کریں تو اسے یہ بات گالی بن کر لگتی ہے لیکن اگر کوئی بڑے تحمل سے بات سن بھی لے تو اس کے پاس ٹیکس ادائیگی سے بچنے کے لیے مختلف طرح کے سوال یا جواز ہوتے ہیں۔ آئیے کچھ سوال یا جواز دیکھتے ہیں اور ان کے جواب ڈھونڈنے کو شش کرتے ہیں۔

ٹیکس کی عدم ادائیگی کے لیے پہلا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ ٹیکس فارم بہت مشکل ہوتے ہیں۔ اتنے مشکل کہ ایک پی ایچ ڈی بھی ان کو مکمل نہیں کر سکتا۔ یقین مانیں ایسا کہنے والے ننانوے فیصد لوگوں نے کبھی بھی کسی بھی طرح کا ٹیکس فارم بھرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہوتی، وہ سب سنی سنائی پر چلتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل فیس بک پر پوسٹ کاپی پیسٹ کر کے بقراط بننے کا رواج ہے، بالکل ویسے ہی عام زندگی میں بھی دوسروں کی باتیں ہم کاپی پیسٹ کرتے ہیں۔ چلیں مان لیا کہ ٹیکس فارم بہت مشکل ہیں تو کیا مشکل کا مطلب اس کام کو چھوڑ دینا ہے۔ ایک پانچویں چھٹی کلاس کا بچہ اس وجہ سے اسکول نہ جائے کہ الجبرا، جیومیٹری، کمیسٹری، فزکس، بیالوجی، عربی اور انگریزی بہت مشکل لگتے ہیں اور پھر ایک چھوڑ درجن بھر مضامین روزانہ پڑھنے ہوتے ہیں اس لیے میں اسکول نہیں جاتا۔ تو جناب آپ کو بھی مشکل ٹیکس فارم کی وجہ سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے لیے جواز نہیں دیا جا سکتا۔

ایک اور بات یہ کی جاتی ہے کہ ٹیکس فارم بھرنے کے لیے وکیل کی خدمت لینی ہوتی ہے۔ تو عرض ہے کہ ایک موچی کی دکان آپ کے جوتے کے ٹوٹنے سے چلنی ہے اور ایک مکینک کی دکان آپ کی گاڑی کے خراب ہونے سے چلنی ہے۔ ۔ ۔ تو آپ کیوں کسی کا روزگاز چھین لینا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں عام آدمی کی ذہنیت میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ وہ کسی دوسرے کے کاروبار میں ترقی کا ذریعہ نہیں بننا چاہتا۔ کسی اور کی آمدنی کا ذریعہ بنتے ہوئے اکثر لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر کوئی آپ کے کاروبار کی ترقی یا چار پیسے کمانے کا ذریعہ کیوں کر بنے۔ یہاں لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی کے خراب ٹی وی کو ٹھیک کرتے ہوئے ایک ٹانکا بھی ہم لگائیں تو اس کا معاوضہ ایک لاکھ ملنا چاہیے اور دوسرا ہماری پندرہ کنال پر کوٹھی مفت تعمیر کر دے۔ ہم کسی کو سائیکل بھی دیں تو خواہش ہو گی کہ واپسی پر ٹیونگ کرواکر، ٹائروں میں ہوا وغیرہ پوری کروا کر واپس کرئے اور اپنی باری میں گاڑی بھی لے جائیں تو ایکسیڈنٹ ہونے پر بھی دوسرا خاموش رہے۔ لازمی تو نہیں کہ آپ کسی قتل یا چوری کے کیس میں ہی اندر ہوں تو وکیل کی ضرورت پڑے، ٹیکس ادائیگی سمیت اور بہت سے معاملات میں آپ وکلا سے گاہے بگاہے قانونی معاونت لیتے رہیں تو ایک اچھے شہری کے طور پر اپنے حقوق بھی ادا کر سکتے ہیں اور اپنے فرائض سے بھی آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی ایک بہت بڑی آبادی کو بہت سے قانونی تحفظ حاصل ہوتے ہیں، بہت سی جگہ پر قانونی مراعات ان کا حق ہوتی ہیں لیکن کسی قانونی راہنمائی کی عدم موجودگی میں ہم خوامخواہ سو کلو پیاز کے ساتھ سو جوتے بھی کھا جاتے ہیں حالانکہ اگر ہمیں قانون کا پتہ ہو تو ایک پیاز کے تڑکے سے بھی کام چل سکتا ہے۔

کچھ زیادہ پڑھے لکھے لوگ ایک اور جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ ہم سارا سال مختلف ٹیکس بھی دیں، پھر ان کی رسیدیں بھی سنبھالیں اور سال کے آخر میں ریٹرن بھی فائل کرتے ہوئے اپنے ہی ٹیکس کو ثابت کریں۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ہمارے ٹیکس کو آٹو میٹک کرے اور جو ٹیکس ادا ہو وہ آٹو میٹکلی ہمارے نام کے ساتھ حکومت کے پاس اپڈیٹ بھی ہوجائے۔ اس جواز کو سنتے ہوئے جو باتیں ہمارے دل میں آتی ہیں وہ کہہ نہیں سکتے، سو مسکراہٹ پر اکتفا کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہی کہ ہمارے ملک میں ٹیکس نیٹ ورک میں رجسٹر ہی کون ہے کہ حکومت اس کے سال بھر کے ٹیکس کا ریکارڈ رکھے۔ دوسری بات کہ بہت سی جگہوں پر مجھے ذاتی طور پر دیکھنے کو ملا کہ دکاندار، شادی ہال مالک یا ایسے ہی کسی کاروباری سے آپ نے رسید کا تقاضہ کیا تو اس نے کہا جناب پکی رسید چاہیے تو قانون کے مطابق اتنے فیصد ٹیکس بھی شامل ہو گا، نہیں تو بس اتنی ادائیگی کر دیجئے۔ اور صاحب نے خاموشی سے ادائیگی کی اور چلتے بنے۔ ہم پاکستانی پکی رسید تو مانگتے ہی نہیں کیونکہ اس میں چند روپے زیادہ لگتے ہیں اور اس ادائیگی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ وہ چند سو روپے بچا کر ہم نجانے کون سی امارت کے خواب پورے کرنے کا سوچتے ہیں اور پھر سڑک پار کر کے سینما یا ہوٹل میں اس سے زیادہ خرچہ کر کے نکلتے ہیں۔

مجھے چند سال پہلے نادرہ ہیڈ کوارٹرز میں ایک ایسی بریفنگ میں شامل ہونے کا موقع ملا جہاں ایک ایسا سسٹم بنایا جارہا تھا جس میں صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھنے سے صارف کی تمام معلومات دیکھی جا سکتی تھیں کہ اس کے پاس کتنی موبائل سم ہیں اور ایک مخصوص عرصے میں کتنے کا بیلنس ان سم پر کروایا گیا ہے، گیس اور بجلی کا کنکشن اس نمبر پر لیا گیا ہے اور کس ماہ کتنا بل ادا کیا گیا ہے۔ معلوم نہیں کیوں یہ سسٹم فائلوں سے نہ نکل سکا، ہو سکتا ہے کوئی سرخ فیتہ اس فائل پر لگ گیا ہو۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں کون شخص ہے جو اپنی اصل معلومات دینے کو تیار ہے۔ حکومت کی لاکھ کوششوں کے بعد موبائل سم رجسٹریشن کا کام کسی حد تک مکمل ہوا لیکن اب بھی لاکھوں لوگوں کے پاس باپ، بھائی یا کزن کی خریدی ہوئی موبائل سم استعمال ہو رہی ہے۔ یہاں لوگ اپنی معلومات ایسے چھپاتے ہیں جیسے پینٹاگون کے دو سرکل ان کے ذاتی ملکیت ہوں۔ کوئی پوچھے کہ ملکیت میں سائیکل بھی نہیں اور ڈر میاں منشاء والے۔

آخرمیں یہ کہ اگر کوئی شخص واقعی اس نظام کو بدلنا اور اسے درست سمت میں آگے بڑھانا چاہتا ہے تو اپنی اولاد کی تربیت کرے۔ میں اپنے پڑھنے والوں سے شرط لگانے کو تیار ہوں کہ ایسے والدین پاکستان میں موجود ہی نہیں جن کا خواب ہو کہ میرا بچہ پڑھ لکھ کر ٹیکس ریفارم کے لیے کام کرے۔ ہم تو اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ بنانے میں ہی لگے ہوئے ہیں تو جناب ٹیکس نظام کیسے ٹھیک ہو گا۔ کسی بھی نظام کو ٹھیک یا بہتر کرنے کے لیے حکومت کو افرادی قوت آپ اور آپ کی اولاد سے ہی ملنی ہے۔ چڑیلیں، جن، بھوت اور فرشتے اس شعبے میں اپنی خدمات فراہم نہیں کرتے۔

حاصل گفتگو یہی ہے کہ ہم سب اپنی ذات میں چور اچکے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے داو لگائے بیٹھے ہیں، ویسے ہی حکومت اور ادارے ہم پر داو لگائے بیٹھے ہیں لیکن اگر واقعی آپ تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو سوچنا ہو گا کہ کب تک آپ سوال اور جواز لیے پھرتے رہیں گے اور کب جواب کے لیے کوشاں ہوں گے۔ یقین مانیں درستگی صرف کوشش کے بعد ہی ممکن ہے۔

(Visited 13 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: