Children Learn What They Live —- محمد یحییٰ

0
  • 17
    Shares

بچوں کی تعلیم و تربیت میں اچھے ماحول کی فراہمی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس حقیقت سے ہم آج غافل ہیں حالانکہ عرب آج سے پندرہ صدیاں قبل ہی نہ صرف اس سے بخوبی آگاہ تھے کہ بلکہ اس پر عمل پیرا بھی تھے کہ بہترین جسمانی صحت اور زبان دانی (فصاحتِ لسان) کے لئے سازگار ماحول مطلوب ہوتا ہے۔ اس غرض سے وہ اپنے بچوں کو قبائلی اور دیہی علاقوں میں بھیجا کرتے تھے۔

سازگار ماحول کسی بھی زبان کی تعلیم کے لئے یہ رہنما اصول ہے۔ آج تعلیمی نفسیات کی رو سے زبان کی تدریس کے لئے Direct Method زیادہ موثر اورکارگر ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر زبان کی بہتر تفہیم کے لئے بچوں کو دوسری زبان کی دنیا (مصنوعی ماحول) میں لے جایا جائے۔ مزید ماحول کی یہ اہمیت صرف جسمانی صحت یا زبان دانی کی حد تک نہیں ہے بلکہ بچوں کی تمام تر تربیت کا دار و مدار اسی سازگار ماحول پر ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کی صلاحیت، لیاقت، مہارت، دلچسپی اور توانائی کے مطابق ماحول فراہم کر دیا جائے تو اس کی تعلیم و تربیت کا آدھا مرحلہ وہیں طے ہو جاتا ہے۔ بچے موم کی مانند ہیں انہیں جس سانچے میں ڈھالا جائے گا بآسانی ڈھل جائیں گے۔ ہمیں جد و جہد اپنا مطلوبہ سانچہ بنانے میں کرنی پڑے گی۔ جب بہترین سانچہ یعنی اچھا ماحول تیار ہو جائے گا تو تعلیم و تربیت کا باقی ماندہ عمل بہت ہی سہل، مؤثر اور دلکش ہو جائے گا۔ جب بچہ اچھا دیکھے گا تو وہ اچھا سوچے گا اورجب ہر طرف سے Input اچھا ہی ہو گا تو انشاء اللہ العزیز Process کے بعد Output بھی اچھا ہو گا۔ غور کیا جائے تو باقاعدہ اسکول وغیرہ قائم کرنے کی بنیادی وجہ بھی بچوں کو اخلاقی، روحانی، جذباتی، ذہنی، نشو و نما کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہی ہے۔ اگر 24 گھنٹے نہ سہی کم از کم 5 گھنٹے کے لئے ایک سازگار ماحول فراہم کیا جائے جہاں بچے معاشرے کے بگاڑ، روزمرہ زندگی کے مسائل و مصائب سے مکمل الگ تھلگ ہو کر علم حاصل کریں (قطع نظر اس کے کہ آج اسکول اس خاصیت کے حامل ہیں یا نہیں!)۔

تعلیم و تربیت میں اسی ماحول کی اہمیت کے حوالے سے ایک مشہور انگریزی نظم جو Dorothy Law Nolte نے تحریر کی ہے۔ جس میں انتہائی بہترین طریقے سے بچوں کی تربیت کے بارے میں رہنمائی کی گئی ہے اور بہترین طریقہ تعلیم و تربیت کو حسین لفظوں کے خوبصورت پیرائے و سانچے میں ڈھالا گیا ہے کہ بچے جس ماحول میں رہتے ہیں، وہی کچھ سیکھتے ہیں۔ آپ بچوں کی جس انداز سے تربیت کرنا چاہتے ہیں آپ انہیں وہ ماحول مہیا کر دیں۔ اس لئے یہ کہنا بجا ہو گا کہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو اس کا والد اسے کہتا ہے بلکہ وہ سیکھتا ہے جو وہ اپنے والد کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ آسان الفاظ میں اگر یہ کہا جائے بچہ کے کردار میں تبدیلی پند و نصائح سے نہیں آتی بلکہ تبدیلی اس کے سامنے عمل کرنے سے آتی ہے (کارٹون، ڈرامے اور فلمیں اس کی بہترین عملی مثالیں ہیں)۔ نیز اگر بچہ میں کوئی خامی یا برائی پیدا ہوئی ہے تو وہ بھی لامحالہ اس کے ماحول ہی کی پیدوار ہے۔ اس اہم نکتہ کو تعلیم و تربیت کرنے والے افراد فراموش کر دیتے ہیں پھر بچوں کی غلط تربیت کی تمام تر ذمہ داری بچوں پر ڈال کر انہیں مطعون کرتے ہیں۔ عموماً ہمارا معاشرتی رویہ والد ماجد جناب ابو علی محمد رمضان صاحب کے اس مصرعہ “چلیں ہیں کعبہ پکڑے ہوئے ہیں چین کا روٹ” کے مصداق ہے۔ ہمیشہ کسی منزل پر پہنچنے کے لئے صحیح روٹ (راستہ) کا انتخاب ضروری ہے۔ تعلیم و تربیت کی شاہراہ پر گامزن ہونے کے لئے صحیح راستہ اچھا ماحول ہے جس کا انتخاب ضروری ہے۔ بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اور ماں باپ کی تعلیم و تربیت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ مثلاً جس گھر میں بچوں پر بے جا تنقید ہوتی ہے وہ بچے جب پروان چڑھیں گے تو ہر کام کو ناقدانہ پہلو ہی سے دیکھیں وہ کسی کی اچھائی کو بھی تحسین کی نگاہ سے نہ دیکھیں گے اور کلمات سپاس (تشکر) کا تو ان کے پاس سے بھی گزر نہ ہو گا۔ مزید ایک اور عیب جو ان میں نشو و نما پائے گا وہ الزام تراشی اور عیب جوئی کی عادت بد ہے (جو اس وقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے)۔ وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ بھی دوسروں پر ڈالیں گے۔ اپنی اصلاح کے بجائے الزام تراشی سے کام لے کر قیل و قال یعنی بحث و مباحثہ میں خود کو بچانے کی کوشش کریں گے جس کا بہت بڑا نقصان یہ ہو گا کہ وہ کبھی اپنی اصلاح نہ کر سکیں گے۔ کیونکہ اصلاح کے لئے اپنی غلطی تسلیم کرنا ضروری ہے الزام تراشی کرنے والا فرد کبھی بھی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ اور “پرنالہ وہیں رہے گا” کا مصداق بن جاتا ہے۔

بچوں کی اصلاح کے لئے ان کی عادات پر نظر ضرور رکھیئے۔ لیکن ان کی تضحیک، تذلیل اور تخویف نہ کی جائے۔ کیونکہ تضحیک کرنے سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے، تذلیل کرنے سے احساس جرم میں گرفتار ہو جائیں گے۔ ترہیب و تخویف ان سے بچپن کی شوخیاں چھین لے گی۔ بچے ہمہ وقت اداس اور غمگین رہیں گے۔ اداس اور غمگین رہنے کی وجہ سے ان کی جسمانی، ذہنی، معاشرتی اور جذباتی نشو و نما بری طرح متاثر ہو گی اور ان میں بہت سی خامیاں و خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔ یہ جسمانی و ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ تو زندگی کا بہت ہی نازک دور ہے، مسلسل ان منفی امور میں مبتلاء رہنے کی بنا پر دنیا سے بیزار ہو جائیں گے۔ ان کے لئے اس دنیا میں کوئی دلکشی نہ رہے گی۔ جس سے ان کی پوشیدہ صلاحیتیں پروان نہ چڑھیں گے اور معاشرہ کا ایک ناکارہ فرد ہونے کے ناطے معاشرے کے بوجھ میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

بچپن (عہد طفولیت) میں منفی طرز عمل کے بجائے بچوں پر محبت و شفقت کی نظر رکھئے اور ان کی جائز تعریف و تحسین اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ جس سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہو گی اور وہ بھی اچھے کاموں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی بن جائیں گے۔ خود بھی خوش و شاداں ہوں گے اور ان کی چہچہاہٹ سے پورا چمن خوشی سے سرشار ہو گا۔ ان کی صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں گی۔ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے معاشرے کے بوجھ میں ہاتھ بٹانے والے بن جائیں گے۔ اپنی زندگی کے مقصد یعنی مقصد حیات کی تحصیل میں ہمہ وقت سرگرم رہیں گے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے بچوں کی تربیت کس انداز سے کرنا چاہتے ہیں۔

اس انگریزی نظم کا منظوم مفہوم راقم السطور کے والد ماجد جناب ابو علی محمد رمضان صاحب نے نظم بند کیا ہے۔

(Visited 35 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: