امریکا، اقلیتی آزادی اور پاکستان: حقیقت تو مختلف ہے ——— فرحان کامرانی

0
  • 1.4K
    Shares

کچھ عرصہ قبل امریکا بہادر نے پاکستان کو ایک سیاہ فہرست میں ڈال دیا۔ کہا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حالات بہت برے ہیں۔ خیر امریکا بیچارے کا معاملہ پاکستان کے ساتھ تقریباً وہی ہے جو طلاق کے بعد سابق زوجین میں ہوا کرتا ہے۔ ایوب خان اور ضیاء الحق صاحب کے ادوار میں پاکستان نے امریکی کالونی کا رول بڑے زور سے اختیار کیا۔ بیچ میں بھٹو صاحب نے امریکا اور روس سے گیم کھیل کر نکلنے کی سعی تو کی مگر اپنے ہی گیم کی نذر ہو گئے۔ خیر پھر بے نظیر اور نواز شریف نے بھی امریکا کی تابعداری کی اور مشرف نے بھی غلامی۔

اب کیونکہ 2011ء کے بعد سے پاکستان نے اپنا قبلہ بدل لیا ہے اور امریکا بہادر کی جگہ چین کی طرف رخ کر لیا، پھر ’’ہم کے ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد‘‘ کے مصداق رفتہ رفتہ امریکا اور پاکستان کی باہمی بیان بازیوں میں تلخی در آ نے لگی۔

اب پرانے میاں بیویوں کو تو طلاق کے بعد ایک دوسرے میں کچھ بھاتا نہیں، کچھ پسند آتا نہیں۔ یہی حال پاکستان اور امریکا کا ہے، مگر حال ہی میں امریکا بہادر نے جو مذہبی آزادیوں کے فقدان کا الزام پاکستان پر لگایا یا پاکستان میں اقلیتوں سے ہونے والی بدسلوکی کا ماتم کیا تو یہ بات بڑی دلچسپ تھی، پھر ہمارے لبرل حضرات سامنے آ گئے اور بھارت میں اقلیتوں سے بدسلوکی کا حوالہ دیا، یعنی دھوبی پر بس نہیں چلا تو گدھے کے کان اینٹھ دیے۔

بات یہ ہے کہ اقلیت بڑی حد تک اب ایک misleading لفظ بن چکا ہے۔ راقم نے چند سال قبل ایک لبرلوں کے سرخیل ادارے کی ورکشاپ میں شرکت کی تھی جو پاکستان میں ہندوؤں اور عیسائیوں سے بدسلوکیوں کے نوحے اور ماتم پر مبنی تھی۔ راقم نے درمیان میں سوال اٹھایا کہ اگر یہ سارا تناظر من و عن تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی زیادتی تو پاکستان میں مسلمانوں میں ہی مختلف قومیتوں اور لسانی اکانیوں کے ساتھ روا ہے۔ مثلاً گلگت بلتستان کی قومی اسمبلی میں نشست ہے نہ ہی سینیٹ میں۔ سندھ میں کوٹہ سسٹم سے نوکریوں کی غیر مساوی تقسیم ہوتی ہے۔ وہاں پنجاب میں بعض فسادات میں ہلاک عیسائیوں کا ذکر تھا تو راقم نے 80ء کی دہائی میں گلگت بلتستان میں ہونے والے فسادات اور سندھ کے دیہی علاقوں سے مہاجروں اور پنجابیوں کی سندھی قوم پرستوں کے ہاتھوں مبینہ Ethnic cleansing کا حوالہ دیا۔ وہاں موجود افراد کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔

بات اتنی سی ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں جبر موجود ہے۔ یہاں پر مختلف نوع کی شناختیں محض گروہوں کی تنظیم کے ذریعہ ہیں۔ پھر جو گروہ طاقتور ہو تو یہ بعید نہیں کہ وہ کمزور پر ظلم بھی ڈھائے۔ مگر اس گروہی چپقلشوں کا سب سے کم شکار اگر کوئی ہوا ہے تو وہ ہمارے ملک کی مذہبی اقلیتیں ہیں۔ اس کی ایک آسان اور قابل فہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غیر مسلموں کی کل تعداد ہی 1 فیصد سے زیادہ نہیں۔ اس حساب سے اقلیتیں پاکستان کے ایوانوں تک بھی پہنچیں اور کئی بڑے سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہوئیں۔ ہمارے لبرل دوست روتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی رو سے کوئی غیر مسلم پاکستان کا صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ بالکل درست، اور اسلامی جمہوریہ میں ہونا بھی یہی چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان اسلامی جمہوریہ نہ ہوتا، سیکولر جمہوریہ ہوتا تو بھی جمہوریت میں تو حاکم وہی بنے گا کہ جس کی عوام میں اکثریت ہو گی تو ایسے میں یہ کیونکر ممکن تھا کہ کوئی غیر مسلم 98 فیصد مسلم آبادی کے ملک میں وزیر اعظم منتخب ہو سکے؟

ویسے اگر یہ بہت بڑا ظلم ہے تو یہ امریکا بہادر کے دوست اسرائیل کا بھی قانون ہے۔ بلکہ حال ہی میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے یہ قانون منظور کر لیا ہے کہ اسرائیلی شہریت صرف و محض یہودی مذہب و قوم کا حق ہے۔ یادش بخیر اسرائیل کے شہریوں میں بھی 20 فیصد غیر یہودی شامل ہیں جن کی بڑی تعداد مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ کچھ دروز اور کچھ عیسائی بھی شامل ہیں۔ مگر امریکا بہادر کی اس سیاہ فہرست میں اسرائیل شامل نہیں۔

پھر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ریاست نے غیر مسلموں پر کون سے ظلم ڈھائے؟ جواب میں لبرل حلقے امریکا، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے سرکاری اقدام یا امتناع قادیانیت آرڈیننس کا ذکر کر دیتے ہیں۔ بات یہ ہے جناب کہ اگر کسی تجارتی کمپنی کے نام پر بھی کوئی جعل ساز کاروبار کرے تو بھی اصل کمپنی اس کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ قادیانیت اسلام نہیں ایک اور مذہب ہے، اگر ریاست پاکستان نے اس بات کا اعلان کر دیا تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اب اسلام کی تعریف تو جناب قرآن و سنت سے ہی متعین ہو گی یا وہ بھی لبرلز احباب اور امریکا بہادر سے سیکھنی پڑے گی؟

پھر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں ناموس رسالت ﷺکے قوانین ہیں تو یہ اقلیتوں پر بڑا ظلم ہے۔ حضور سوال یہ ہے کہ یہ بات کس نے کہی کہ یہ قانون کسی خاص مذہب کے افراد کے ساتھ مخصوص ہے؟ جو بھی توہین رسالت کرے گا، چاہے وہ کسی مسلم گھرانے میں ہی پیدا کیوں نہ ہوا ہو، وہ اس قانون کے لحاظ سے مجرم ٹھہرے گا۔ مگر سوال یہ بھی تو ہے کہ کسی کو بھی کیا ضرورت ہے کسی بھی عظیم مذہبی ہستی کی شان میں گستاخی کرنے کی؟ اور نعوذ باللہ عظیم ہستیوں کی شان میں گستاخی کسی کی مذہبی آزادی کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ بات طے ہے کہ اقلیت ہونا دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی خوشگوار تجربہ کبھی نہیں رہا۔ خود امریکا میں اقلیتوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا رہا ہے اور آج تک ہوتا ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور یورپ کی تاریخ اقلیتوں کے حوالے سے کیا رہی ہے اور کیا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ تاریخی طور پر روس کا مذہبی آزادیوں کا ریکارڈ کیا ہے اور آج وہاں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے سب جانتے ہیں، پھر میانمار (برما) اور چین بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں، میانمار سے مکمل طور پر مسلم روہنگیا کو قتل عام کر کے اور گاؤں کے گاؤں جلا کر بنگال بے دخل کر دیا گیا اور چین کے سنکیانک میں مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

ان حالات میں پاکستان پر اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی یا مذہبی آزادیوں کے فقدان کا الزام لگنا ایک بھونڈا سا مذاق معلوم ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، راقم کے ایک جاننے والے جوڑے میں جب طلاق ہوئی تو بیوی نے شوہر پر الزام لگایا کہ وہ ہم جنس پرست تھا اور زنان بازاری کے ہاں بھی اس کا آنا جانا تھا، ظاہر سی بات ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ ہو نہیں سکتیں۔ مگر جب زوجین میں طلاق ہو جاتی ہے تو اس نوع کی باتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔ اس لئے امریکا بہادر کی اس سیاہ فہرست (جس سے پاکستان کو اب خارج کردیا گیا ہے) کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خود امریکی بھی ٹرمپ صاحب کے عہد میں اپنی حکومتی پالیسیوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: