ُپی ٹی وی کے ماہ وسال —– نعیم الرحمٰن

0
  • 41
    Shares

برصغیر کے عوام کے لیے ریل گاڑی کے بعد ریڈیو کی آمد ایک بہت بڑی اور حیران کن ایجاد تھی۔ ایک مدت تک لوگ اس عجوبہ روزگار بولتے ڈبے کو دیکھ کر متحیر رہ جاتے تھے۔ اکثر اس ڈبے کے پیچھے جھانک کریہ دیکھنے کی بھی کوشش کرتے تھے کہ اس میں بولنے والے گھُسے کیسے ہیں۔ پھرعرصہ دراز تک ریڈیو برصغیرکی ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے۔ ابتدا ہی سے شعروادب کے دنیاکے نامور لوگ ریڈیو سے وابستہ رہے۔ اور یہ زبان، تلفظ اور صدا کاری سکھانے کا اہم ترین میڈیم تھا۔ مصطفٰی علی ہمدانی نے ریڈیو پر ہی نصف شب کو اعلان کیاکہ ’’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘‘۔ پاکستان میں صبح سویرے لوگ ’کلام پاک‘ کی تلاوت کے بعد ’قرآن حکیم اور ہماری زندگی‘ کی تقاریر ذوق وشوق سے سنتے۔ ملک کے نامور علمائے کرام نے بے شمار موضوعات پر اہم تقاریرکیں اور عوام کے شعور اور علم میں اضافہ کیا۔ رات کو گھر کے تمام افراد دن بھرکے کام کاج سے نمٹ کر ریڈیو کے گرد ’اسٹوڈیو نمبر نو‘ کے ڈرامے سننے کے لیے جمع ہوجاتے۔ اکثر جشن تمثیل منعقد ہوتا تو لوگوں کو روز ڈرامہ سننے کو ملتا۔ دن میں بچے اسکول براڈ کاسٹ سے محظوظ ہونے کے ساتھ علم بھی حاصل کرتے۔ اتوار کی صبح تمام اہلِ خانہ ’حامد میاں کے ہاں‘ پہنچ جاتے۔ کمرشل سروس کے آغاز کے بعد دن میں فلمی گیت اور گیتوں بھری کہانی، اتوار کے دن پروفیسر محمد شائق علم وادب کی باتوں اور گیتوں سے آراستہ ’صبح دم دروازہ خاور کھلا‘ لے کر آجاتے۔ علی ظفر جعفری کی ’جاسوسی کہانی‘ اورنٹ کھٹ ٹائنی ٹوٹ کی شراتوں سے بھری دلچسپاں بھی لطف فراہم کرتیں۔ غرض ریڈیو نے عوام کو کئی دہائیوں تک اپنی نشریات سے مسحورکیے رکھا۔ نیوز ریڈرز شکیل احمد، انور بہزاد، وراثت مرزا، شائستہ زید، ارجمند شاہین، ثریا شہاب کی آواز میں خبریں لوگ مل جل کر سنتے۔ ہوٹلوں میں بڑے ریڈیو اس کے لیے موجود ہوتے۔

ریڈیو کے قیام اور اس کے فروغ کی کوششوں کا احوال زیڈ اے بخاری نے اپنی دلچسپ آپ بیتی ’’سرگزشت‘‘ میں بہت عمدگی سے بیان کیاہے۔ یہ آپ بیتی اب تک بار بار شائع ہوتی ہے اوریہ ہر دور کی بیسٹ سیلرز میں شامل رہی ہے۔ معروف مصنف عشرت رحمانی کی خود نوشت ’’عشرتِ فانی‘‘ بھی ریڈیو کے دورکے بارے میں ہی ہے۔ یہ کتاب کافی عرصے سے نایاب ہے۔ مزاح نگارصبیح محسن نے ریڈیو پاکستان کی یادوں کو ’’داستاں کہتے کہتے‘‘ میں تازہ کیا ہے۔ جبکہ درجنوں کتب کے مصنف قمر علی عباسی نے ریڈیوسے اپنی طویل وابستگی کو’’ 32ناٹ آؤٹ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ قمرعلی عباسی نے اپنے شگفتہ انداز اور اسلوب میں ریڈیو کے بتیس سالہ دور کا ذکر کیا۔ جمیل زبیری نے ’’آواز خزانہ‘‘ اور ڈاکٹر فیروز عالم نے ریڈیو کی زندگی کو ’’ہوا کے دوش پر‘‘ کا نام دیا۔ مشہور ادیب ابو الحسن نغمی نے ریڈیو پاکستان لاہور کی یادوں اور احباب کا ذکر اپنی دلچسپ کتاب ’’یہ لاہور ہے‘‘ میں کیا ہے۔ نغمی صاحب نے ریڈیو سے وابستہ بے شمار افراد سے قارئین کو متعارف کروایا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ریڈیو کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے ریڈیو کے بارے میں یادداشتیں تحریر کی ہیں۔ جو دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔

پاکستان میں ٹیلیویژن کی آمد انیس سو چونسٹھ میں ہوئی۔ ستر کی دہائی ختم ہونے سے پہلے ٹی وی رنگین ہوگیا۔ نئے ملینیئم میں ایک چینل سے بے شمار چینلنز ناظرین کے ذوق کی تسکین کے لیے دستیاب ہوگئے۔ ٹی وی سے وابستہ شخصیات نے بھی اس یاد نگر کو اپنی آپ بیتیوں میں بیان کیا۔ لیکن ان میں سے اکثر کتب انگریزی میں ہیں۔ اردو میں مشہور براڈ کاسٹر برہان الدین حسن نے انگریزی میں کتاب لکھی۔ جس کا ترجمہ’’پس پردہ‘‘ کے عنوان سے کیا گیا۔ جس میں ٹی وی اسکرین کے پیچھے ہونے والی کہی ان کہی کو موضوع بنایا۔ لیکن ان کی کتاب ادبی سے زیادہ سیاسی ہوگئی۔ پی ٹی وی کے دو مینجنگ ڈائریکٹرز آغا ناصر اور اختر وقار عظیم نے ٹیلیویژن کے یادوں پر اچھی کتب لکھیں۔ اور اپنے تجربات میں قارئین کو بھی شریک کیا۔ اختر وقار عظیم کی ’’ہم بھی وہاں موجود تھے‘‘ کے نام سے ٹی وی کے دور پربہت دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ تاہم برہان الدین حسن، آغا ناصر اور اختر وقار عظیم انتظامی امور سے وابستہ رہے اور انہوں نے اسی حوالے سے یادداشتیں لکھیں۔ ٹی وی نیوز کے نام سے الگ چینل کے قیام اور میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد خبروں اور حالات حاضرہ کی کہانی بھی ریکارڈ پر آنا ضروری تھا۔ اور اس اہم ضرورت کوپی ٹی وی کے سینئر پروڈیوسر عبدالخالق سرگانہ نے ’’پی ٹی وی میں ماہ وسال‘‘ کے نام سے اپنی کتاب میں پورا کیا ہے۔ ایک سو پینتالیس صفحات کی قدرے مختصر کتاب کو ایمل پبلشرز نے اپنے روایتی صوری و معنوی حسن کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب میں موجود تصاویر نے اس کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔

عرض ناشر میں شاہد اعوان کا کہنا ہے کہ

’’پی ٹی وی ایک زمانے تک ملک سے باہر پاکستان کی واحد نمائندہ آواز اور ملک میں عوام کی واحد تفریح کا ذریعہ بنارہا۔ پچھلی دہائی میں پرائیویٹ چینلز کی آمد اور شور شرابے کے ہنگام پی ٹی وی نے بھی اپنا نیوز چینل لانچ کیا اور اپنے سکڑتے کردار کو سنبھالنے کی عمدہ کوشش کی۔ پچھلی صدی کے آخرتک واحد ٹی وی چینل ہونے کی بناپرپی ٹی وی نے اپنا کردار خوب نبھایا اور غیر مسابقتی ماحول سے فائدہ بھی اٹھاتا رہا۔ سرگانہ صاحب پی ٹی وی میں خبروں اور حالات حاضرہ کے شعبے سے طویل تعلق کی بنا پرایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں ان سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ ایسے طویل تجربہ اور اعلیٰ انتظامی عہدہ تک خدمات سرانجام دینے کی بنا پر یہ کتاب لکھنا ان کے لیے فرض منصبی نہیں تو اس سے کم بھی نہیں تھا۔ ساری عمرفرض کی ادائیگی کرنے والا اس فرض سے بھی سبکدوش ہوا اور خوب ہوا۔ خبر جیسے خشک اور غیر دلچسپ موضوع کو جس طرح سرگانہ صاحب نے داستان کی شکل میں بیان کیاہے وہ ان کی انشاء پردازی کا کمال ہے۔ یہ کتاب عام قاری کے لیے دلچسپ داستان، مصنف کے دوستوں کے لیے ان کی پیشہ ورانہ سوانح، پی ٹی وی کے اربابِ اختیارکے لیے راہنمائی اور اس ادارے کے سابقین کے لیے ماضی کی حکایتِ دلپذیر ہے۔‘‘

معروف صحافی مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھاہے کہ

’’عبدالخالق سرگانہ کاپاکستان ٹیلی ویژن سے عمر بھرکا ساتھ ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی یہیں سے شروع ہوئی اور یہیں اس نے ریٹائرمنٹ کا مزہ چکھا۔ پی ٹی وی ان کی پہلی اور آخری محبت ہے۔ ایک جونئر رپورٹر کے طور پر یہاں آئے اور پھر خبری شعبے کے انتہائی اعلیٰ منصب تک پہنچے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے اندرگھاٹ گھاٹ کا پانی پیا، ایک ایک اسٹیشن پرکام کیا، ایک ایک شعبے کو جلا بخشی۔ اب انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی تفصیلات کو قلم بند کیا ہے۔ خبر کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی کارکن کی شایدیہ پہلی جسارت ہے۔ انہوں نے قلم یوں اٹھایا ہے کہ ایک دستاویزی فلم بنا ڈالی۔ دلچسپ، تحیرخیز اور حیرت انگیز۔۔ پی ٹی وی کے اندر کیا ہوتا رہا، کس کس نے اس کے ساتھ کیا کیا کچھ کیا، بہتی گنگامیں کیسے کیسے ہاتھ دھوئے اور کیسے کیسے اس کو گدلا کیا۔ پیشہ ورانہ تقاضوں پر سیاسی مصلحتیں کیسے کیسے غالب آئیں؟ نشیب و فراز کی یہ کہانی میڈیا کارکنوں کے لیے بھی دلچسپی کا سامان رکھتی ہے اور پاکستانی سیاست کے طالب علم بھی اس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘‘

مشہور صحافی اور ڈان، دی نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ایم ضیاالدین صاحب نے پیش لفظ میں ایک ایسی حقیقت کو بیان کیاہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں۔ کہتے ہیں کہ

’’پی ٹی وی کا خیال آتے ہی میرے سامنے ادارے کے ہمیشہ دو متضاد چہرے ابھرتے ہیں ایک سے میں محبت کرتاہوں اور دوسرے سے نفرت۔ پسندیدہ چہرے کے سلسلے میں میں اور اس ملک کے کروڑوں لوگوں کے سامنے پی ٹی وی کاوہ کردار ہے جس میں بہترین پروگراموں کے ذریعے پاکستان کی ثقافتی شناخت اجاگر ہوئی ہے۔ آرٹ، لٹریچر، میوزک اور ڈانس ان پروگراموں کے ذریعے عام لوگوں کے ڈرائنگ روموں تک پہنچا لیکن دوسری طرف قابل نفرت وہ حصہ ہے جس میں اچھے الفاظ میں جھوٹ بولا جاتا ہے۔ نجی شعبے میں الیکٹرانک میڈیا کے آغاز سے پہلے پرنٹ میڈیا میں میری طرح بہت سے لوگ پی ٹی وی نیوز اور کرنٹ افیئرز میں کام کرنے والے پروفیشنلز کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ جب خبروں میں صرف حکومت کے عمال کی کارروائی ہی دکھائی جائے اور یہ بتایاجائے کہ معاشرے پراُن کے بہت اچھے اثرات پڑ رہے ہیں تو انسان اس صورتِ حال پر کیا مثبت رائے رکھ سکتا ہے؟۔ میرے دوست عبدالخالق سرگانہ نے اس کتاب میں پی ٹی وی کے اسی حصے یعنی نیوز اور کرنٹ افیئرز کو موضوع بنایا ہے۔ کتاب ایک لحاظ سے اُن کی ذات اور کیریئر سے متعلق خودنوشت ہے کتاب کے بغور مطالعے سے نیوز اورکرنٹ افیئرز کے پروگراموں کی پیشہ ورانہ کمزوریوں کے بارے میں میرے خیالات کو تقویت ملی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی کے بنیادی مسئلے کو سمجھنے کے لیے اس کتاب سے مجھے بڑی مدد ملی ہے۔‘‘

دیباچہ میں عبدالخالق سرگانہ صاحب کاکہنا ہے کہ

’’نہ میری ملک کے اہم لوگوں سے کوئی گپ شپ رہی۔ بس ایک روایتی سی ملازمت کی اور خاموشی سے ریٹائر ہوگئے۔ ان حالات میں آخر کتاب لکھنے کا رسک لینے کی ضرورت کیا آن پڑی تھی؟ پی ٹی وی کے قیام کونصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران صرف ایک ڈائریکٹر نیوز برہان الدین حسن صاحب نے نیوزکے موضوع پرقلم اٹھایا تھا اور وہ بھی سولہ سال پہلے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی وی نیوز میں بتانے کو کچھ نہیں یا اس کی بہتری میں کسی کو دلچسپی نہیں یا کوئی خوف مانع ہے؟۔ برہان الدین حسن کے علاوہ دو مینجنگ ڈائریکٹرز آغا ناصر اور اختر وقار عظیم نے پی ٹی وی میں اپنے تجربات کے بارے میں کتابیں لکھیں ہیں۔ ان دونوں حضرات کا تعلق پروگرام کے شعبے سے تھا۔ اس لیے انہوں نے بجا طور پر پی ٹی وی کواسی نقطہ نظرسے دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک زمانے میں پی ٹی وی کی پہچان پروگرام ہی تھا لیکن دو ہزار دو میں پی ٹی وی نیوز کے نام سے الگ چینل کے قیام اور پرائیویٹ سیکٹر میں میڈیاکے پھیلاؤ کے بعد ضروری تھا کہ نیوز کی کہانی بھی ریکارڈ پرلائی جائے۔ میرے تینوں سینئرز نے بڑی دلچسپ کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں اُن کے بھرپور تجربے اور صلاحیتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ لیکن بوجوہ انہوں نے پی ٹی وی کے ڈھانچے، انتظامی امور اور بطور سربراہ ادارے میں اپنی انتظامی کنٹری بیوشن پر روشنی نہیں ڈالی۔ برہان الدین حسن صاحب نے بھی اندرونی صورتِ حال کا سرسری سا ذکر کیا ہے اور پھراُن کی کتاب میں قومی سیاست کا پہلو اصل موضوع پرغالب رہا ہے۔ ویسے بھی اس کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ لہٰذا نیوز کے نئے منظر نامے پر کچھ اور لکھنے کی گنجائش تھی۔ اس کے علاوہ شاید میرے ذہن میں کچھ بوجھ تھا جو میں ہلکا کرنا چاہتا تھا۔ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میرے مختصر دور میں کوئی انقلاب آگیا تھا یا اس کتاب کے ذریعے پی ٹی وی میں کوئی بنیادی تبدیلی آسکے گی لیکن میری یہ کوشش اپنے حصے کی شمع جلانا ہے تاکہ آئندہ چراغ سے چراغ جل سکیں۔‘‘

کتاب کا پہلا باب ’چند دلچسپ واقعات‘ کے نام سے ہے۔ جس میں پہلا ہی واقعہ پی ٹی وی میں خبر کو بتانے سے زیادہ چھپانے کی کس طرح کوشش ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ

’’سترہ اگست انیس سو اٹھاسی نیوز کے حساب سے ٹھنڈا دن تھا۔ ہمارے نیوز ڈائریکٹر مصلح الدین مرحوم خلاف معمول کسی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ کنٹرولر نیوز حبیب اللہ فاروقی اورچیف رپورٹر شمیم الرحمٰن نیوز روم میں انگریزی ڈیسک پر موجود تھے۔ میں خبرنامہ ڈیسک پر بیٹھا تھا وہاں میرے نہایت قریبی دوست پولیس سروس کے اعجاز ملک جو اس وقت ایس پی خوشاب تھے کا فون آیا انہوں نے پوچھا صدر ضیاالحق کہاں گئے ہوئے ہیں مجھے علم نہیں تھا۔ اعجاز ملک نے بتایا کہ وہ جہاں بھی گئے تھے ان کا جہاز کریش ہوگیا ہے اور غالباً وہ زندہ نہیں بچے۔ دراصل پنجاب کی انتظامیہ کو اس معاملے پر خاموش کر دیا گیا تھا۔ میں سناٹے میں آگیا۔ میرے اردگرد بیٹھے لوگ بھی پریشان ہوگئے۔ میں نے فاروقی صاحب سے پوچھا صدر صاحب آج کہاں گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا بہاولپور۔ میں نے کہا کہ ان کا طیارہ کریش ہوگیا ہے۔ فاروقی صاحب بھی پریشان ہوگئے۔ انہوں نے پوچھا آپ کو سورس کیا ہے۔ بتانے پروہ سنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے اے پی پی ائرپورٹ پی آئی ڈی وغیرہ کئی جگہ فون ملایا لیکن کوئی آدمی اس موضوع پر کھُل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد قائم مقام ایم ڈی فضل کمال کافون آیا انہوں نے کہاکہ صدر کا پروفائل تیار کرلیں۔ اس پرفاروقی صاحب نے کہا سرگانہ صاحب آپ کی خبر بالکل صحیح ہے۔ اُس دن خبرنامہ کا دورانیہ صرف تیرہ منٹ رہا۔ اتنے بڑے واقعے پر کوئی تبصرہ وغیرہ شامل نہیں کیا گیا۔‘‘

یہی نہیں اس انتہائی سنجیدہ واقعہ سے متعلق سرگانہ صاحب کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ایک مزاحیہ بات بھی سن لیجے۔

’’ہمارے ملتان بیورو کی ایک ٹیم کسی اور سلسلے میں اُسی علاقے بستی لال کمال کے قریب موجود تھی جہاں صدر کا جہاز گرا تھا۔ ابھی سیکیورٹی ایجنسیاں بھی نہیں پہنچی تھیں لیکن ہماری ٹیم نے اس کی کوریج نہیں کی۔ بعد میں ٹیم لیڈر اسلم غوری مرحوم کی جواب طلبی کی گئی تو انہوں نے کہاکہ انہیں اس بات کاعلم نہیں تھاکہ اُس طیارے میں صدر ضیاالحق سوار تھے بلکہ انہوں نے سمجھا کہ پی آئی اے کا کوئی عام طیارہ گرا ہے۔‘‘

اسی اسلم غوری صاحب کا ایک اور لطیفہ بھی یہیں ہوجائے وہ یہ کہ

’’یوسلاویہ کے صدرمارشل ٹیٹو بیمار تھے۔ پی ٹی وی نیوز الرٹ تھاکہ ان کے مرنے پر خصوصی خبریں ہوں گی لیکن جب واقعہ روپذیر ہوا تو پی ٹی وی پرکوئی خبرنہ تھی۔ ڈائریکٹر نیوز نے رات کی ڈیوٹی پر موجود اسلم غوری کو طلب کیا اور پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا تو انہوں نے جواباً کہا کہ جب ہمارے قائداعظم کا انتقال ہوا تھا تو یوگو سلاویہ کے ٹیلی ویژن نے کوئی خصوصی بلیٹن کیا تھا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی وی کی نیوز ٹیم نے پی آئی اے کے طیارے کے گرنے کو کوئی خبر نہیں سمجھا اور مارشل ٹیٹو کی موت پر پروگرام نہ کرنے پر انوکھا جواز پیش کردیا۔ لیکن عبدالخالق سرگانہ صاحب نے اس انتہائی غیر پیشہ ورانہ رویے اور لاپروائی کو ایک مزاحیہ بات اور لطیفے کے طور پر کتاب میں پیش کیا۔ اس سے پی ٹی وی کے سینئر اہلکاروں کی نیوز سینس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ایک مرتبہ خبرنامے میں ایسی غلطی چلی گئی جس کی شاید پی ٹی وی نیوز کی نصف صدی کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔

’’فیکس پرکہیں سے وزیر اعظم نوازشریف سے عالمی بنک کے صدرکی ملاقات کی ایک طویل خبر نیوز روم کو موصول ہوئی۔ وزیراعظم کی خبرتھی فوراً تیار کرلی گئی۔ کسی نے سورس چیک نہیں کیا اسی دوران خبرنامہ کے پروڈیوسر مجدد شیخ نے ریفرنس کاپتہ کرنے کے بعد نیوز روم کو بتایا کہ اس ملاقات کی فلم نہیں ملی جو ایک عجیب بات تھی کیونکہ وزیر اعظم کی ہرایکٹوٹی کی فلم لازمی طور پربنتی تھی اور اب بھی بنتی ہے لیکن اس پربھی کسی کے کان کھڑے نہیں ہوئے ڈائریکٹر نیوز اس وقت نیوز ڈیسک پر موجود تھے۔ لیکن بڑی تفصیلی خبر خبرنامہ میں چلی گئی۔ بعد میں علم ہوا کہ ایسی کوئی ملاقات سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی۔ عالمی بنک کے صدر کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئے تھے۔ خبرنامہ کے بعد بھونچال آگیا۔‘‘

ریڈیو پاکستان کا مشہور واقعہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کا یوم آزادی پر پیغام ان کے اصرار پر قطع و برید کے بغیر چلایا گیا تو ان کے مخصوص جملوں پر آواز خراب کردی گئی۔ پی ٹی وی پر بھی یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ انیس سو ستترکے انتخابات میں اپوزیشن کی پٹیشن پر عدالت نے پی ٹی وی کو حکم جاری کیا کہ دونوں فریقین کو برابر کا وقت دیا جائے۔ پی ٹی وی کی روایت کے مطابق وزیراعظم کے سوا کسی کی آواز استعمال نہیں کی جاتی تھی۔ اب عدالتی فیصلے کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ پی این اے کے لیڈر مفتی محمود کی آواز دینا بھی ضروری تھا۔ افسران بالا کے لیے یہ کڑوی گولی تھی۔ تاہم انہوں نے اس کا یہ حل نکالا۔ ایک جلسے میں مفتی محمود نے خطاب کیا۔ جب اُن کی آواز دینے کا وقت آیا تو سٹوڈیو میں آواز کم یا زیادہ کرنے والے آلے کو مسلسل آگے پیچھے کیا جاتا رہا۔ جس سے مفتی صاحب کی آواز یا تو بالکل نیچے چلی جاتی یا بلاسٹ ہوتی تھی۔ اس طرح عدالت کے فیصلے پر عمل بھی ہوگیا اور مفتی صاحب کی آواز بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ اس وقت مسعود نبی نور پی ٹی وی کے ایم ڈی تھے۔

بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو ملکی تاریخ کا اہم دن تھا۔ اس روز ایک فوجی ڈکٹیٹر نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کا نظم و نسق سنبھالا۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اُس دن شام کو وزیر اعظم نواز شریف نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر کے جنرل ضیاالدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ نئے آرمی چیف کی تقرری کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی اور تقریباً ساڑھے چار بجے اس کی خبر پی ٹی وی پہنچی۔ خبر فوری طور پرخصوصی بلیٹن میں نشرکی گئی۔ پھر تھوڑی دیر بعد پانچ بجے کے نیوز بلیٹن میں دوبارہ نشر ہوئی۔ اس پر دس بارہ افراد پر مشتمل فوجی دستہ میجر نثار کی قیادت میں نیوز روم پہنچ گیا اور انہوں نے یہ خبر دینے سے منع کیا۔ کچھ دیر بعد یہی خبر اور اُس کی فلم لیکر پی ٹی وی کے چیئرمین پرویز رشید اور مینجنگ ڈائریکٹر یوسف بیگ مرزا اور وزیر اعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیر جاوید ملک الیٹ فورس کے ساتھ نیوز روم آپہنچے۔ بریگیڈیر جاوید ملک نے میجر نثار کو سرینڈر کرنے کاحکم دیا اور الیٹ فورس نے اُس فوجی دستے کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ چھ بجے کے انگریزی بلیٹن میں شائستہ زید نے اس خبر کو ایک مرتبہ پھر پڑھا۔ اسی دوران غالباً آئی ایس آئی کا ایک فوجی افسر سفید کپڑوں میں نیوز روم پہنچ گیا۔ انہوں نے حکم دیاکہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا اور نہ فون پر کوئی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے پوچھا ٹرانسمیشن کہاں سے ہوتی ہے۔ کسی نے اسٹوڈیو تک انکی رہنمائی کی اور انہوں نے نشریات روکنے کا حکم دیا۔ ٹی وی نشریات سات بجے سے رات گیارہ بجے تک بند رہیں۔ یہ پی ٹی وی کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا اور جب نشریات بحال ہوئیں تو جنرل پرویز مشرف کی تقریر تک صرف ملی نغمے نشر ہوتے رہے۔ اس دوران ٹرپل ون بریگیڈ کا ایک دستہ پی ٹی وی پہنچ گیا۔ گیٹ بند تھے۔ فوجی گیٹ اور دیوار پھلانگ کر اندر آئے۔ دیوار پھلانگنے کایہ شاٹ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا۔

پی ٹی وی میں ماہ وسال میں ایسے بہت سے تاریخی اور چشم کشا واقعات درج ہیں۔ جن سے سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا اس اہم ترین الیکٹرانک میڈیا کو اپنی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا علم ہوتا ہے۔ پی ٹی وی حکام کس طرح ہر حکمران کی چاپلوسی میں ہرحد کو عبور کرتے رہے۔ یہ صرف پی ٹی وی نہیں ہمارے ملک کے ہر ادارے کا المیہ ہے۔ ہر ادارے کے اہلکار ملکی مفادات پر ہمیشہ حکمرانوں کے مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔

عبدالخالق سرگانہ صاحب کی آپ بیتی انتہائی دلچسپ ہے۔ ان کا انداز تحریر بھی عام فہم اور قابلِ مطالعہ ہے۔ اردو آپ بیتیوں کے مصنفین کے عمومی رویہ کے مطابق ’پی ٹی وی میں ماہ و سال‘ کے مصنف نے بھی اپنی قابلیت اور ہر معاملہ پر زود فہمی کو جگہ جگہ اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ سرگانہ صاحب جیسا بروقت اوردرست فیصلہ کرنے والا ان کے پورے دور میں کوئی اور نہیں تھا۔ اپنی تعلیمی اور ملازمت کے دور میں انہوں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔ ہر موقع پران کی رائے پر عمل نہیں بھی کیا گیا تب بھی وہ بعدمیں درست ثابت ہوئی۔ اگرچہ کئی واقعات اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ آپ بیتیوں کی ایک عام خامی ہے۔ کوئی بھی فرد خود نوشت میں خود کو فرشتہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر عبدالخالق سرگانہ صاحب کے آپ بیتی دلچسپ اور سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ کئی چشم کشا اور انکشاف سے بھرپور قصوں سے قاری کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ صحافت سے وابستہ افراد کے لیے بھی سرکاری ادارے میں کام کرنے کا طریقہ کارکے بارے میں کئی نئے پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔

ایمل پبلشرز عمدہ اشاعت کی روایت اس کتاب میں بھی قائم رکھی ہے۔ اپنی انفرادیت ثابت کی ہے۔


کتاب کے حصول کے لئے 5932528 0344 پر وٹس ایپ یا کال کرسکتے ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: