عورت ، ماحول اور ماحولیاتی انصاف – عزیز ابن الحسن

1

برق رفتار زرائع مواصلات اور ابلاغ نے دنیا کوایک عالمی گاؤں کی صورت میں سمیٹ دیا ہے۔ اسی باہمی تعارض کے عمل میں بہت سے متصادم نظریات اور ثقافتوں کا شدید ٹکراؤ سامنے آتا ہے۔ وہی ثقافتی یلغار سبقت لے جاتی ہے جس کے مقابل دفاع کمزورہو۔ فی زمانہ تہذیبوں کے تصادم میں بچاؤ کے لئے از بس لازم ہے کہ جدید سماجی سائنس اور اسکی مبادیات کا علم ہو۔ اور سماج کے اکابرین اپنے سماج کے تقاضوں سے باخبر رہتے ہوئے سماجی نظام اور نظریات کو جدید نظریات کے تناظر میں تقابل پیش کرتے رہیں تاکہ تشریحات سامنے آتی رہیں۔

فطرت اور عورت دونوں تخلیق کی علامت ہیں۔ نیچر میں کلچر کے بیچ پڑتے ہیں اور عورت سے محبت کی کونپل پھوٹتی ہے۔ انسان کے اچھے اور صحتمند مستقبل کا انحصار انہی دو "تخلیق کاروں” کی فلاح پر ہے لہٰذا انکے حقوق کی خاص حفاظت ہونی چاہیے۔

یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عورت کو انسان سمجھ کر تمام انسانی اور سماجی حقوق ملنا چاہیئے لیکن اس کے لئے عورت کے حقوق کی جب بات کی جاتی ہے تو اسے سماجی اکائی نہیں بلکہ صنفی امتیاز کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اب جب وہ انسان ہے توانسانیت اور انسانی مسائل سے جڑے رہنا ہی بقاء کی ضمانت دیتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں عظیم مظاہر فطرت ہیں چنانچہ فطرت سے روگردانی ہی مزید مسائل جنم دیتی ہے جس کا مشاہدہ ہم جدید معاشروں میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فرد کی آزادی کا وہ مغربی تصور ہے جو مشرقی تہذیب کے لئے زہر ہلال کے مترادف ہے۔


محض صنفی اکائی کی بنیاد پر عدم تحفظ کے پرچارک تاریخی حقائق سے منکر ہیں جب دنیا کے بہت سے علاقوں میں عورت اپنے ماحول میں برتر یا متوازن مقام کی حامل رہی ہے۔ اس لئے ماحول میں عورت کی برتری کا نیا تصور بھی فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مصداق ہے۔


عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانے میں سماجی رشتوں اور ثقافتی میلانات کو بھی نظر انداز کرنا خود عورت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ کیونکہ سماجی تغیرات کی روشنی میں ثقافتی اور مذیبی اقدار کو چینلج کیا جانا بھی ماحولیات میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ جب انسانی معاشرہ فطرت کا حصہ ہونے کی حیثیت سے فطری قوانین کا اسی طور سے پاسدار ہے جس طرح دیگر تمام فطری مظاہر پابند ہیں۔ محض صنفی اکائی کی بنیاد پر عدم تحفظ کے پرچارک تاریخی حقائق سے منکر ہیں جب دنیا کے بہت سے علاقوں میں عورت اپنے ماحول میں برتر یا متوازن مقام کی حامل رہی ہے۔ اس لئے ماحول میں عورت کی برتری کا نیا تصور بھی فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مصداق ہے۔ اب ضرورت ہے کہ سماجی سائنس کو مد نظر رکھتے ہوئے مشاہدہ اور حالات کا تجزیہ ہو، تاریخ سمیت تمام سماجی علوم سے آگاہی ہو تب ہی سماجی حالات کی بہتر، متوازن مدلل تشریحات رقم کی جا سکتی ہیں۔

نئےتنقیدی مسائل میں ایکو کریٹیزم اور ایکو فیمنزم نام کی چیزیں بھی مشہور ہوئی ہیں۔ اردو میں تنقید کی یہ اقسام ہنوز نادریافتہ ہیں۔ یہ چیزیں اگر مغرب میں پہلے پیدا ہوئی ہیں تو یہ بھی تو دیکھیے کہ اوزون کی تہیں پھاڑنے، صدیوں کے یخ بستہ گلیشیئر پگھلانے اور ارض گیر گرمی بڑھانے والے ماحولیاتی آلودگی کے اسباب بھی تو وہیں کے صنعتی کارخانوں، دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کے پیدا کردہ ہیں، نا کہ ہمارے ۔ سو یہ تنقید بھی لازماً وہیں پیدا ہونی چاہیے تھی۔

ہماری روایتی شاعری اور دیگر اصناف ادب میں اگر ماحولیات کا "شعور” نہیں پایا جاتا تو اسکا سبب یہ ہے کہ یہاں وہ اسباب بھی ہی نہیں تھے۔ ہماری روایتی شاعری میں فطرت اور عناصرِ فطرت کی جو لفظیات آئی ہیں انکی اصل حیثیت علامتی ہے نہ کہ "اشیائی”۔ لہٰذا اس شاعری میں عناصرِفطرت، حسن اور محبوب سے وابستہ کسی احساس یا جذبے کو تشبیہہ، استعارہ اور علامت کا سہارا دینے کےلیے آتے ہیں یا کسی فکری مسئلے میں تقریبِ فہم کے قرینے کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے چند اہم ترین فنکاروں اور نقادوں(فراق گورکھپوری، محمد حسن عسکری، ڈاکٹر آفتاب احمد اور انتظار حسین) کو اردو میں فطرت کے عناصر(بطور شے) کی شدید کمی کا گلہ رہتا ہے۔

مولانا روم رح نے مراتب وجود کے بیان میں جمادات سے براستہ نباتات و حیونات انسان تک کے سفر کے جو مراحل گنوائے ہیں وہ دلچسپ ہیں:

آمده اول به اقلیم جماد
وز جمادی در نباتی اوفتاد
سالها اندر نباتی عمر کرد
وز جمادی یاد ناورد از نبرد
وز نباتی چون به حیوانی فتاد
نامدش حال نباتی هیچ یاد
جز همین میلی که دارد سوی آن
خاصه در وقت بهار و ضیمران

یہاں مذکور سارے مظاہر فطرت ایک علمی مسئلے کی تشریح کے طور پر آئے ہیں جیسا کہ؛

مختلف مراحل سے گزرتا مایۂ وجود انسان تک پہنچا اسی لیے انسان کو اپنے قریبی رشتے داروں یعنی سبزہ و گل سے موسم بہار میں خاص رغبت رہتی ہے۔

دل عشاق کی خبر لیـنا
پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں
فیض

البتہ سعدی نے ان نوامیس ِفطرت سے ایک اور معرفت نکالی:

ابر و باد و مه و خورشید و فلک در کارند
تا تو نانے به کف آریّ و به غفلت نخوری
ھمه از بہرِ تو سرگشته و فرمان بردار
شرط انصاف نباشد که تو فرمان نبری

کہا کہ بادل، ہوا، چاند،سورج اور آسمان سبھی اپنے کام میں دیانت داری سے اسی لیے جتے ہوے ہیں۔ اے انسان، کہ تیری روٹی روزی چلتی رہے۔ لیکن اگر تو اپنے خالق کے فرمان پر عمل پیرا نہ ہوا تو بات انصاف سے بہت دور ہوگی۔

انسان سے اسکے خالق کے فرمان کے یوں تو بہت سے پہلو ہیں مگر ہم طموضوعِ زیر بحث کے حوالے سے اسے سرِدست فطرت اور عورت کے بارے میں انسان کے حقوق سے جوڑتے ہیں۔ فطرت اور عورت دونوں راحت،زینت اور تخلیق کے نمائندے ہیں۔ عہد جدید میں ہمارے سب سے بڑے شاعر کا فرمان ہے کہ

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ایک حدیث میں عورت،خوشبو اور نماز کو سامانِ پسندیدگی کہا گیا ہے۔ فطرت کی ایک مصنوع اگر خوشبو ہے تو عورت اس خوشبو کی سب سے بڑی تجسیم ہے اور دونوں ملکر تخلیق کا اہم ترین منبع ہیں۔ لاریب ان دونوں کے حقوق کی پاسداری ہی انہیں توازن صحت اور اعتدال پر قائم رکھ سکتی ہے۔ عورت اور فطرت میں بڑی مماثلت ہے اس لیے انکی تخریب کے نتائج بھی یکساں طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

قدیم روایتی انسان، جسکی زندگی الوہی ہدایت کے مطابق حقوق اور حدود کی پاسداری میں بسر ہوتی تھی، کا فطرت کی طرف رویہ وہ تھا جو اسکا اپنی منکوحہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ اگر اس سے راحت، لذت اور احساسِ جمال پاتا تھا تو جواباً اسکے حقوق کی بھی اتنی ہی ذمہ داری لیتا تھا۔ اسکے بر عکس تحریکِ تنویر کے پروردہ جدید انسان کا فطرت کی طرف رویہ وہ ہوگیا یے جو کسی کا طوائف کی طرف ہوتا ہے: وہ اس سے لذت کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا چاہتا ہے مگر بدلے میں اسے چند سکوں کے علاوہ کچھ نہیں دینا چاہتا نا عزت نہ وقار نہ احترام۔ اسی طرح آجکا انسان فطرت کے خزانوں کا بھی آخری حد تک استحصال کر لینے کے درپے ہے مگر اسکے حقوق کی پاسداری کا کوئ احساس اسکے اندر نہیں ہے۔ نتیجتاً آج فطرت بھی انسان کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے جو طوائف معاشرے کے ساتھ کرتی ہے۔ اس اعتبار سے فطرت(ماحول) اور عورت کے باہمی تعلق کا موضوع بہت بامعنی ہے جس پر ڈاکٹر منزہ اور سونا کے فورم نے یہ تین روزہ عالمی کانفرنس منعقد کروا کر بیداری نہ صرف خواتین میں بلکہ مردوں میں بھی بیدارئ شعور کی مھم تازہ کی ہے۔

غالب نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوے کہا تھا کہ

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

تو اصل میں یہ سب ایک ہی جگہ سے آئے ہیں ان میں کوئی دوئی نہیں۔

ان پری چہرہ لوگوں اور سبزہ و گل اور ابر و ہوا میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ اس لیے کسی ستم ظریف کے گھڑے ہوئے اس فقرے کو کہ
"درختوں سے بھی اتنا ہی پیار کرو جتنا درختوں کے نیچے کرتے ہو”

اگر سنجیدہ مشورہ بھی سمجھ لیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ ماحولیاتی خرابیاں دور کرنے میں آخر درخت ہی تو ہمارے معاون ہیں اور ہوں کیوں نا، پرانے رشتے دار جو ہوئے!اگر ایسا ہوگیا تو پھر ہمارے کسی میر کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

وجہ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اسامہ بن ثالث on

    معلوم نہیں کہ اسے پڑھ کر قاری کیا سوچے گا مگر ڈاکٹر صاحب نے کمال کردیا۔ اتنے لطیف مسئلے کو بہت خوش اسلوبی ست سمجھایا۔ اور پھر اس سے مجھے ایک اور بات بھی سمجھ ائی۔ شاعر کا کردار۔۔۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: