موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا —— ڈاکٹر سعدیہ بشیر

0
  • 110
    Shares

زنجیروں کا المیہ محض انسانی ذات کا ہی المیہ نہیں۔ معاشرتی تناظر میں ایسے المیے ان مٹ نقوش بن کر سانحات بن جاتے ہیں اور ایسی زنجیریں حلقہ اطاعت کی بحث بن کر جنگلوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ آپ نے سڑک کنارے باغات، گھروں عمارتوں کے احاطوں یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی گلیوں میں بھی کسی نہ کسی صورت لگے جنگلے تو ضرور دیکھے ہوں گے۔ کئی جنگلوں کے ساتھ یہ عبارت بھی لکھی جاتی ہے:
“جنگلہ پھلانگنے والے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا”۔

اس کے باوجود بہت سی جگہوں پر یہ جنگلے ٹوٹے ہوئے ملتے ہیں۔ ہم جنگلے توڑ تو سکتے ہیں. انھیں پھلانگنے کی جرات نہیں رکھتے۔ حالانکہ انسانی طاقت کے اس مظاہرے پر جنگلہ عبور کرنے والے کو تو انعام ملنا چاہیے۔ سزا تو قانون کی ان سلاخوں کو توڑنے پر ملنا چاہیے۔ ان جنگلوں کو توڑنے کے پس پردہ کہیں مجبوری اور کہیں محض شوق اور نمود کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ جنگلے روایات اور قانون کے بھی ہوتے ہیں جو کہیں کم زور اور کہیں مضبوطی سے گڑے ہیں اور “جہاں میں ہوں وہیں پر میں نہیں ہوں” کے مصداق ان کی موجودگی پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔

ہر مقام پر موجود ایسی رکاوٹیں اپنے ہونے کا جواز فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ سلاخیں پہنا کر بے گناہ اور معصوم انسانوں کو زندگی بھر قید میں رکھا جاتا ہے۔ گھروں کے اتفاق اور مکینوں کے درمیاں اٹھے سرد مہری اور غلط فہمیوں کے یہ جنگلے گرائے نہیں گرتے اور اتنے مضبوط اور طویل ہوتے ہیں کہ ان کے سائے نسلوں پر اپنا سایہ کر دیتے ہیں۔ زمین نظر ہی نہیں آتی انا کے جنگلے تنہائی اور نفرت کے خلا میں پھینک دیتے ہیں اور صورت حال یوں بن جاتی ہے:
جب دو دلوں کے بیچ میں دیوار چین ہو
اک دوسرے کی بات کا کیسے یقین ہو
کچھ اعتماد کر تو کروں گفتگو شروع
بنیاد رکھنے کے لیے کچھ تو زمین ہو (شہزادقیس)

سازشوں کے نام پر تعمیر یہ جنگلے محبت کرنے والوں، رشتوں کو ہی نہیں ملکوں، قوموں اور صوبوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے میں بھی ثانی نہیں رکھتے۔ ان جنگلوں کی سلاخوں پر لگا زہر، بصیرت و بصارت کو چاٹ لیتا ہے۔ ہم ان جنگلوں کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کے پار جانا ہی نہیں چاہتے۔

بہت سی جگہوں پر تو جنگلہ نصب کرنے کی خواہش ہر خاص و عام کے دل میں جوش لیتی محسوس ہوتی ہے اور یوں ابھرتی ہے۔ گویا: ہر خواہش پہ دم نکلے

ایسے جنگلے ان لوگوں کے منہ پر بھی لگنے چاہئیں جن کی زبان کے آگے خندق ہوتی ہے اور وہاں بھی جہاں زبان قینچی کی طرح چلتی ہے اور راہ میں آنے والے خلوص و وفا کی قدر اور سنبھال کی بجاۓ ان کو کاٹ ڈالتی ہے۔ خاص طور پر ایسے سیاسی بیان بازوں اور میڈیا اینکرز کے آگے جن کی زبان بار بار پھسل جاتی ہے اور شبیر کی آنکھ کے آگے۔ شبیر کو یہ ہی نہیں علم کہ کن باتوں اور رویوں کو اس کی توجہ درکار ہے اور وہاں بھی جہاں انسان پورے قد سے لالچ و ہوس کے ہاتھوں پھسل جاتا ہے۔ جنگلے دل پھینک لوگوں کے دل کے گرد بھی لگنے چاہئیں جہاں دل ان کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور اس کی ترسیل آسان محسوس ہوتی ہے۔ دل کی ترسیل سے کہیں اہم جذبوں اور احساس کی ترسیل ہے جس کے سامنے ہم خود ہی اپنے معیار و سٹیٹس کے جنگلے بنا لیتے ہیں۔

ہر معاشرے میں روایات اور معاشرتی خوف کے جنگلے نادیدہ ہوتے ہیں لیکن بہت مضبوط۔ در حقیقت یہ جنگلے اتنے مضبوط نہیں جتنا طاقت ور ان کو توڑنے کا خوف ہے۔ یہ خوف سانپ بن کر انسانی ذات سے لپٹا ہے۔ اس سانپ میں زہر نہیں۔ یہ تو سپیرے کی بین سن کر حرکت میں آتا ہے. یہ تماشا گری نئی نہیں روم کی تاریخ میں ایسے بہت سے سپیرے ملتے ہیں جو بین کے سر پر سانپوں سے زہر اگلواتے رہے کچھ تماشے لفظوں کی صورت خاک اڑاتے پھرتے ہیں اور کچھ آثار عجائب گھروں میں دہشت کی علامت بن کر سجے ہیں۔ تاریخ کے ایسے کرداروں کے گرد جنگلے لگاۓ جاتے تو وحشتوں کا رقص شاید کچھ مدھم پڑ جاتا۔

ہم تو وہ اندھے انتقام کے پروردہ ہیں کہ ہمیں علم ہی نہیں کہاں ان رکاوٹوں کو رکھنا ہے اور کہاں سے اٹھانا ہے۔ اس ناسمجھی کا تاوان انسانی زندگیوں کی صورت ادا کرنا پڑتا ہے اور کئی فیصلوں کی صورت میں انسان کو زندہ لاش بھی بنانے سے دل نہیں کانپتا۔ افسران، حکمران اور سائل کے درمیان اٹھے بے جا تکبر کے جنگلے کسی کی عزت نفس کو بھسم کر دیتے ہیں تو منٹو “نعرہ” جیسا بے مثال افسانہ تخلیق کرتا ہے۔ عوام کے شعور پر لگے جنگلوں کی تعمیر دھیرے دھیرے آہستگی سے کی جاتی ہے کہ حرکت و خودداری کا تصور مٹتا چلا جاتا ہے۔ قسمت پر ڈور پھینکنے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔ جھک کر اپنے زخموں کی گیرائی ماپنے سے بھی قاصر ہجوم کا ایک ہی نعرہ رہ جاتا ہے۔
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا (میر)

لگتا ہے ہم ان جنگلوں کے بوجھ تلے دفن ہو چکے ہیں۔ مصنوعی اقدار کا یہ پل عبور ہونے میں ہی نہیں آتا جس نے کبھی ان جنگلوں کو عبور کرنے کی کوشش کی اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ حواس باختگی میں قدم درست سمت پڑتے ہی نہیں۔ لگتا ہےجیسے: اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

جنگلے کا تصور عام طور پر جنگلی اور خطرناک جانوروں کے ساتھ منسلک ہے۔ ان سے بچنے کے لیے ان درندوں کو جنگلوں میں محصور رکھا جاتا ہے۔ انسانوں کو ان کی حفاظت کے مدنظر سلاخوں اور پنجروں میں قید نہیں کیا جاتا سو معاشرتی سطح پر بھی ایسے ذہنی مریضوں۔ انسانی بھیڑیوں کے گرد جنگلے لگنا چاہیئے۔ معصوم بچوں بچیوں کے گرد سکول، کالج، مدرسے، بازار اور باغات میں جنگلے لگا کر ان کو محفوظ رکھنے کی سعی نہیں کی جانا چاہیے۔ مہذب معاشرت میں درندوں کو آزاد چھوڑنا اور انسانوں کو قید کرنا تہذیب کی علامت نہیں بلکہ جاہلیت ہے۔ یہاں تو عدالت کے احاطوں، گھروں کی چار دیواریوں کے اندر درندے گھس کر انسان کی مجبوریوں کو شکار کرتے ہیں. کیا وہاں قانون کے جنگلے نہیں ہوتے؟ ہم کب یہ طے کریں گے کہ انسانوں کو آزادی کا تحفظ فراہم کرنا ہی ہماری ترقی و سلامتی کی ضمانت ہے۔ ہم جنگلے وہاں سے توڑتے ہیں جہاں دیوار ہوتی ہے اور جہاں جنگلے لگانا چاہئیں ہم راستے بنا دیتے ہیں، مصلحت، معافی اور N.R.O کے راستے۔ ایک N.R.O عوام اور حکمران کے درمیان بھی ہونا چاہیے جو عوام کی زندگی سے جبری مشقت اور ٹیکس کے بے جا جنگلے اٹھا کر ان کی سانس رواں کر دے۔ ان کو زندگی بوجھ نہیں پیار لگنے لگے۔ یہ جنگلے کھلیں گے تو ہی حقیقی خوش حالی نظر آئے گی۔ ورنہ لوگ جنگلوں سے راستے بناتے رہیں گے اور دہائی سنائی دیتی رہے گی۔

دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی
لوگوں نے مرے صحن میں رستے بنا لیے

(Visited 22 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20